وعدوں کے لولی پاپ لے لو


انتخابات 2018ء کا میلہ سج چکا ہے۔ جیسے میلے میں بچے بچونگڑے نت نئے لباس پہن کے ادھر سے اُدھر پھدکتے پھرتے ہیں، ایسے ہی اُمیدواران کا جم غفیر بیتابی سے اِدھر سے اُدھر آتا جاتا دیکھا جا سکتا ہے۔ اور اوپر سے رمضان، تو افطار پارٹیوں کی لمبا سلسلہ بھی جاری ہے۔ نعرہ پارٹیاں بھی پوری طرح تیاریاں پکڑ چکی ہیں اور نت نئے نعرے بینرز پہ لکھے نظر آنے لگے ہیں۔

کہیں بیانیے پہ زور ہے، کسی جگہ تبدیلی کی پکار ہے، کہیں نظریات سینہ تانے نظر آتے ہیں تو کہیں اساسی نظریہ پوری طرح جوبن پہ ہے۔ کہیں روشن خیالی کا چورن بک رہا ہے کسی جگہ قدامت پسندی کا راگ الاپا جا رہا ہے۔ یعنی انتخابات حقیقتاً میلے کی سی صورت حال اختیار کر چکے ہیں۔ بھانت بھانت کے لوگ، طرح طرح کے وعدے، قسم قسم کی راگنیاں۔ کتنی حقیقت ہے، کتنا فسانہ، یہ ہم کئی دہائیوں سے دیکھتے بھی آ رہے ہیں سنتے بھی۔ لہذا وعدوں کے گھن چکر میں ہم خود گم ہونے کو تیار رہتے ہیں اس میں قصور سیاستدانوں کا بہر حال ہرگز نہیں ہے۔

پوری دنیا نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عقل سے عاری قرار دیا، مگر ہم نے دیکھا کہ اس نے اپنے انتخابی وعدوں میں چاہے میکسیکو بارڈر پہ دیوار کی تعمیر ہو یا پھر شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات، ایران کے ساتھ نیوکلیئر ڈیل کا خاتمہ ہو یا پھر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی نئی جہتیں اُس نے تمام انتخابی وعدے ایسے کیے کہ جنہوں نے آنے والے وقتوں میں عالمی منظر نامہ تبدیل کر دیا ہے۔

مودی نے ہندواتہ کے نام پہ ووٹ لیے، اور اپنے انتخابی وعدوں میں بھی شدت برقرار رکھی، اور اقتدار سنبھالنے کے بعد وہ پوری دنیا میں ہندواتہ کے نام پہ ہی طوفانی دورے بھی کر رہا ہے اور اپنے آپ کو انتخابی وعدوں کے مطابق ہی ڈھال بھی رکھا ہے۔ اور حالیہ میڈیا سکینڈل اس بات کی واضح دلیل ہے کہ آنے والے انتخابات میں بھی بھارتی حکومت ہندواتہ کی ترویج کو بنیادی نقطے کے طور پر رکھے گی۔ برطانوی انتخابات ہوں یا پھر چین میں کمیونسٹ پارٹی کی گرفت مزید مضبوط ہونا، پوری دنیا عالمی ایجنڈے کے تحت آگے بڑھ رہی ہے۔

اب جائزہ لیجیے پاکستان کا انتخابات دو ہزار اٹھارہ میں کوئی ایک سیاسی پارٹی بھی کنویں کے مینڈک کی سوچ سے آگے نہیں بڑھ پا رہی۔ یہاں انتخابات شروع ہوں گے کہ میں نے میٹرو بنائی میں نے پل بنائے، میں تبدیلی لایا میں نے کلچر بدلا، اور بھارت میں آنے والے انتخابات میں مودی کا ایجنڈا ہو گا کہ میں پاکستان کا پانی بند کرنے کا منصوبہ رکھتا ہوں، جس پہ عمل بھی کر رہا ہوں۔ پاکستان میں تمام سیاسی پارٹیاں دیکھ لیجیے، کوئی سیاسی پارٹی اپنی انتخابی مہم میں نہ پانی کے مسلے کا ذکر چھیڑے گی کہ جناب ہم پاکستان میں کس کس مقام پہ ڈیم بنائیں گے، ہم کیسے کالاباغ جیسے سفید ہاتھی سے جان چھڑائیں گے(یا کیسے اس کو قابل عمل بنائیں گے) اور کس طرح ہم نیلم جہلم کے نام پرعوام کی جیبوں پہ ڈاکا روکیں گے۔

نہ ہی کوئی بھی سیاسی پارٹی عالمی سطح پر پاکستان کی تنہائی کے حوالے سے کوئی لائحہ عمل دے گی کہ ہم کون سے اقدامات کریں گے کہ پاکستان عالمی برادری میں سر اٹھا سکے۔کس طرح ہم بھارتی جاسوس کا پکڑے جانا پوری دنیا میں اپنے حق میں استعمال کریں گے۔ کیا اقدامات کریں گے کہ عالمی بینک ایسے ہمارے موقف کو رد نہ کر سکے۔ اور کیسے ہم فاٹا کے خیبر پختون خواہ میں انضمام کو آنے والے وقت کی بہتری کے لیے استعمال کریں گے اور دہشت گردی کا قلع قمع کر دیں گے۔ کوئی ایک تو سیاسی پارٹی ایسی بھی ہو کہ جو کہے کہ میرے پاس یہ گیدڑ سنگھی ہے جس کی وجہ سے ہم پاکستان کو عالمی قرضوں سے چھٹکارا دلا دیں گے۔ یا ہم پاکستان کو ایسا مقام دلانے کا یہ منصوبہ رکھتے ہیں کہ ہمارے ذہین دماغوں کی قدر پوری دنیا میں ہو گی۔

لیکن سب خام خیالی ہماری ایک طرف اور انتخابات 2018 میں بھی کسی قسم کے تعمیری پروگرام یا کسی قابل عمل وعدے کے بجائے اس سال بھی انتخابی مہم میں نئی سڑکیں ہی بنانے کے وعدے کیے جائیں گے( جو ہر سال بنتی ہیں ٹوٹتی ہیں)، نئے سکول بنانے کے وعدے کیے جائیں گے( جو ہر سال ہزاروں بنتے ہیں اور ختم ہو جاتے ہیں)، نئے اسپتال بنانے کے وعدے کیے جائیں گے ( پرانے بے شک چوہوں کی آماج گاہ بن رہے ہوں)، مزدوروں کے حقوق کی بات کی جائے گی ( مزدور جو حقوق کبھی حاصل نہیں کر پائیں گے)، ملک کو ایشین ٹائیگر بنانے کا دعویٰ ہو گا ( دس سال سے سن رہے ہیں)، لوگ نوکریاں ڈھونڈنے آئیں گے بڑھک ماری جائے گی ( پاکستانی بدستور دوسرے ممالک میں تیسرے درجے کے شہری رہیں گے)، ایسے دیگر وعدے بھی پاکستانی قوم کو لالی پاپ کی صورت دیے جائیں گے۔ اور اُمیدِ حقیقی رکھی جائے گی کہ یہ لالی پاپ لیجیے اور ووٹ ہمیں دیجیے کہ ہماری نسلیں بھی اقتدار کے مزے لوٹیں اور ایسا ہوگا بھی ۔

وعدوں کے یہ لالی پاپ دیے جاتے رہے ہیں، دیے جاتے رہیں گے۔ سیاستدان تبدیل نہیں ہوں گے، کہ ہم تبدیل نہیں ہو رہے۔ وعدوں کی سچائی پہ بات نہیں ہو گی، کہ ہم سچائی پہ خود ووٹ نہیں دیتے۔ اور بولی لگتی رہے گی پھیری والے کی، وعدوں کے لولی پاپ لے لو۔ وعدوں کے لولی پاپ لے لو۔ اور ہم بھاگے بھاگے اپنی طاقت اپنے ہاتھوں سے ان کو دے کے یہ لالی پاپ لے لیں گے۔ بدلیں گے ہم تو بدلیں گے، وہ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں