ایک خاتون ڈاکٹر کا حالِ دل – پہلا حصہ


lubna mirza

فی زمانہ خواتین جن مسائل اور مشکلات کا شکارہیں، اس کا ادراک خود خواتین کو آہستہ آہستہ ہو رہا ہے وہ شائد اس لیے کہ کچھ تعلیم بڑھی ہے اور کچھ گھر سے باہر کام کرنے کی وجہ سے وہ دوسرے لوگوں‌ سے مل جل سکتی ہیں، بات کرسکتی ہیں۔ اس طرح‌ ان کو معلوم ہوا کہ وہ اکیلی نہیں‌ تھیں‌ بلکہ تمام دنیا کی تمام خواتین ایک ہی طرح‌ کے حالات سے گذر رہی ہیں۔ انسانی عزت نفس اور زندگی میں‌ برابری کی جدوجہد میں‌ کچھ آگے ہیں‌ اور کچھ تھوڑا پیچھے۔ ان خواتین اور مرد کالم نگاروں کے کالم پڑھ پڑھ کرایک بڑی تعداد ان حقائق سے باخبر ہو چلی ہے۔ یہ افراد یہ سمجھ چکے ہیں‌ کہ خواتین کی بھلائی میں‌ ہی تمام معاشرے کی بھلائی ہے اور اس سے سب کا فائدہ ہوگا۔ خواتین کالم نگاروں اور بلاگرز کی تحاریر کا زیدہ ترمواد ان کے مسائل اور زندگی کے اردگرد گھومتا ہے، جس میں زمانہ قبل از مسیح سے لے کر آج تک کے جدید دور کی خواتین کے مسائل کا زکر ہوتا ہے۔

یہ ایک کامن سینس بات ہے کہ جو بھی لکھتا ہے وہ اپنے خوف اوراپنے خواب ہی بیان کرتا ہے۔ اگر کہیں‌ہم پڑھیں‌ کہ ’بستر کے نیچے سے بھوت نکل کر مجھے کھائے گا اور اگر میں‌ اچھا بنا تو کینڈی کے درخت ہوں‌ گے اور چاکلیٹ کے دھارے‘ تو ہم آسانی سے سمجھ سکتے ہیں ‌کہ وہ ایک بچے نے لکھا ہے اس میں‌ کچھ حیرانی کی بات نہیں‌۔

نئی ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا کے کسانوں‌ کا قریب آدھا حصہ خواتین پر مشتمل ہے، وہ کم سپورٹ ہونے کے باوجود تھوڑی زمین پر مردوں‌ کی بنسبت زیادہ فصل اگاتی ہیں۔ خواتین اپنی آمدن کا نوے فیصد حصہ اپنی فیملی پر خرچ کرتی ہیں اور مرد اپنی آمدن کا صرف تیسرا حصہ۔ اس لیے جن خواتین کے پاس اپنے پیسے ہوں‌ان کے بچوں‌ میں‌ تعلیم حاصل کرنے اور آگے بڑھنے کے زیادہ چانسز ہوتے ہیں۔ ایک اسٹڈی میں‌یہ حساب لگایا گیا کہ اگر خواتین کو معاشی طور پر مضبوط کیا جائے تو دنیا سے بھوک کا خاتمہ ممکن ہے۔ چونکہ ہمارے ملک میں‌ خواتین میں‌ خواندگی کی شرح‌ نہایت کم ہے اس لیے یہ خواتین لکھاری لوگوں‌ کی معلومات ان موضوعات کو بڑھانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔

آئیے ایک خاتون مصنف کے ایک دن کا حال اؔن کی تحریر کے ذریعے جانتے ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ

آج بدھ کا دن ہے۔ کل ہمارے شہر میں‌ خطرناک بگولے آنے کی وارننگ تھی۔ دو سال پہلے ایک بگولہ یہاں ‌سے 3 میل کے فاصلے سے گذرا اور اس میں‌ اسکول کے 19 بچے مر گئے تھےاور اس لیے مجھے بگولوں‌ سے شدید خوف آتا ہے۔ میں‌ نے دونوں‌ بچوں‌ کو اسکول جانے سے منع کیا اور گھر آگر ریڈار دیکھتی رہی۔ جب ہمارے قریب طوفان پہنچا تو میں‌ نے اپنے شوہر اور بچوں‌ کو کہنا شروع کیا کہ شیلٹر میں‌ چلو۔ وہ سارے بے پرواہ ادھر ادھر بیٹھے تھے۔ میرے شوہر نے لاپرواہی سے کہا کہ میں‌ کیوں‌ جاؤں‌ تو میں‌ نے ان سے کہا تاکہ آپ کی زندگی بچ جائے۔ میری زندگی کیوں‌ بچ جائے؟ تو میں‌ نے بولا کہ ابھی مورگیج جو پوری نہیں‌ دی ہے اس لیے۔

مجھے پیسوں‌ کی ضرورت نہیں‌ ہے مورگیج میں اپنی تنخواہ سے دے سکتی ہوں لیکن پھر بھی میں‌ چاہتی ہوں‌ کہ میرے کالج کے سوئیٹ ہارٹ ٹھیک رہیں‌ اور زندہ رہیں۔

آج صبح صبح سنیتا کا ٹیکسٹ آگیا اور اس نے مجھے ایک گھنٹہ پہلے جگا دیا۔ بائیو بھیج دیں‌ اس نے لکھا۔ وہ تو میں‌ نے کل رات ہی بھیجی تھی لیکن اس کو نہیں‌ ملی طوفان جو آیا ہوا تھا۔ میں‌ نے اس لمحے کو دل میں‌ ایک لمحے کے لیے کوسا جب میں‌ نے نرسنگ اسٹوڈنٹس کو چلتے کلینک کے بیچ میں‌ آن لائن لیکچر دینے کی ہامی بھری تھی۔ بہرحال اب نیند تو دوبارہ نہیں آنی تھی تیار ہوکر سامان گاڑی میں‌ رکھا۔ کئی چیزیں‌ ایک ساتھ اٹھانی تھیں۔ پھر اولے گرنے کی وجہ سے گاڑیاں، گملے وغیرہ سب گیراج میں‌ تھے تو اس لئے مشکل سے گاڑی میں‌ سامان رکھا اور جب میں‌ کلینک پہنچی تو نوٹ کیا کہ کافی کا کپ نہیں ‌ہے۔ اوہ وہ تو گاڑی کے اوپر رکھا تھا۔ راستے میں‌ کہیں‌ گر گیا ہوگا۔ امید ہے کسی کے اوپر کافی نہیں‌ گری ہوگی۔

اس دن کے مریضوں ‌کو میں‌ نے ایک ہفتہ پہلے فون کرکے کہہ دیا تھا کہ آپ لوگ صبح ذرا جلدی آجائیے گا کیونکہ میری 45 منٹ کی میٹنگ ہے۔ جب یہ خاتون آئیں‌ تو بولیں‌ میں‌ متاثر ہوئی ہوں‌ کہ آپ نے مجھے فون کیا ورنہ ڈاکٹر تو فون نہیں ‌کرتے اور ویٹنگ روم میں‌ انتظار کراتے ہیں۔

سنیتا ہماری پرانی خاندانی دوست ہے۔ اس نے کافی مشکل وقت دیکھا۔ تفصیل زیادہ نہیں‌ معلوم لیکن گھریلو تشدد سے تنگ آکر اس نے طلاق لے لی اور گورنمنٹ گرانٹ لے کر اب نرسنگ اسکول میں‌ ہے۔ اس کا بیٹا اور میرے بچے برابر عمر کے ہیں۔ اس نے اگر اپنی ڈین سے بات کی کہ میری ڈاکٹر دوست لیکچر دے گی تو میں‌ منع نہیں‌ کرنا چاہتی تھی۔ اس سے اس کے کیریر پر مثبت اثر پڑے گا اور جو ساری اسٹوڈنٹس آئیں‌ گی وہ بھی کچھ ذیابیطس کے بارے میں‌ سیکھ لیں گی۔ اور یہی میں‌ نے ان کو لیکچر میں‌ بتایا بھی کہ آپ لوگ جہاں‌ بھی جائیں گے وہاں‌ آپ کے ذیابیطس کے مریض ضرور ہوں‌ گے اس لیے آپ لوگ اس ٹاپک پر اچھی طرح‌ معلومات حاصل کریں تاکہ ان کا اچھی طرح‌ خیال کرسکیں۔

شام کو گھنٹی بجی! اس وقت ہمارے گھر کون آگیا؟ دروازہ کھولا تو میرے بیٹے کا دوست تھا۔ برمی بدھ فیملی۔ وہ دونوں‌ چھوٹے سے تھے تب سے دوست ہیں۔ میرا فون اس کی گاڑی میں‌ رہ گیا تھا تو وہ لینے آیا ہوں۔ تمھارا کام ہوگیا؟ میں‌ نے اس سے پوچھا۔ دو مہینے پہلے جب اوکلاہوما میڈیکل اسوسی ایشن کی میٹنگ ہورہی تھی تو اس نے میسج بھیجا تھا کہ لیٹر آف ریکمنڈیشن لکھ دیں‌ وہ چار بجے سے پہلے جمع کرانا ہے۔ تو میں‌ نے اسی وقت لکھ کر ای میل کردیا تھا۔ فون سے ای میل کرتے ہوئے میں‌ احتیاط برت رہی تھی کہ ڈاکٹر ہیرس (اینڈوکرنالوجسٹ ایم ڈی، پی ایچ ڈی اور جے ڈی ) نہ دیکھ لیں‌ وہ میرے مینٹور ہیں‌ اور میں‌ نہیں‌ چاہتی تھی کہ وہ سمجھیں‌ کہ مجھے ان کے لیکچر میں‌ دلچسپی نہیں ہے۔

میری بیٹی فیمنسٹ کلب میں‌ ہے۔ یہ ساری لڑکیاں میڈموں‌ کی طرح‌ تاریخی اور حالیہ کتابیں‌، اخبار اور جریدے ڈسکس کرتے ہیں‌ تو مجھے ان کو دیکھ کر بلاوجہ ہی ہنسی آتی ہے۔ انہوں‌ نے سپرنٹنڈنٹ سے کہا کہ ٹیسٹ والے دن ہمیں‌ باقی دن کے لیے چھٹی کرنے دیں‌ تو اس نے منع کردیا۔ ان میں‌ سے ایک دیسی لڑکی نے پٹیشن بنا لی اور بہت سارے دستخط جمع کرلیے۔ پھر سپرنٹنڈنٹ کو منظور کرنا ہی پڑا۔ مجھے ان کی نسل سے امیدیں‌ ہیں کہ وہ دنیا کو ضرور بہتر بنا سکیں‌ گے۔ ہم لوگ بس جتنا کرسکتے تھے وہ کیا۔

میرے بیٹے نے اس کو چھیڑنے کے لیے مجھ سے پوچھا امی آپ کو پتا ہے ایک بلب تبدیل کرنے کے لیے کتنے فیمنسٹ چاہئیے ہوتے ہیں۔ پھر بولا زیرو! کیونکہ فیمنسٹ کچھ نہیں‌ کرنا جانتے۔ یہ سن کر میری بیٹی غصے میں‌ آگئی تو میں‌نے اس سے کہا کہ لوگوں ‌پر لال پیلا ہونے کا کیا فائدہ ہے۔ اس کو دیکھو۔ اماں‌ نے کالج سیونگ بنا دیا اور ابا نے لال گاڑی دلا دی۔ ہر انسان میں‌ ہمدردی خود بخود نہیں‌ آجاتی۔ جن لوگوں ‌نے خود اپنی زندگی میں‌ مسائل کا سامنا نہیں کیا ہوتا ان میں‌ سے اکثر کو یہ پتا ہی نہیں‌ ہوتا کہ پڑوس میں‌ کیا مسائل ہیں۔ آپ لوگ ریسرچ کرتے رہیں، کام بھی کریں اور ان ترقیاتی منصوبوں‌ کے لیے گرانٹس کے پیسے حاصل کریں‌ جن سے کچھ آگے بہتری ہو۔ معاشرے کی معلومات میں‌ اضافہ کریں۔ لوگوں ‌کو ایجوکیٹ کرنا ہوگا۔

جو نیلے رنگ کا بینڈ میری کلائی پر ہے وہ گھڑی نہیں ہے بلکہ فٹ بٹ ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ دن میں‌ کتنے قدم لیے، کتنے گھنٹے سوئے اور کتنی ایکسرسائز کی۔ ہماری ٹیم سے مجھے شکست ہورہی ہے۔ گول ہے کہ ایک دن میں‌ دس ہزار قدم چلو اور میں صرف سات ہزار قدم کے ساتھ‌ پیچھے رہ گئی ہوں‌۔ ٹریڈ مل پر آدھا گھنٹا واک کی۔ اینڈوکرنالوجی میں‌ ایک مہینے میں‌ 300 سے زیادہ جرنل چھپتے ہیں اور وہ میرے بس میں‌ نہیں‌ کہ سارے پڑھ سکوں‌ اس لیے جو چھوٹا پمفلٹ آتا ہے اہم اسٹڈیز کے خلاصے کا تو وہ ٹریڈ مل پر چلتے چلتے پڑھ لیتی ہوں۔ فون دیکھا تو ٹیکسٹ میسج تھے، سلام ! ایمرجنسی ہے کال کریں۔ یہ کون خاتون ہیں اور کیا ہو گیا؟ انہوں‌ نے میری ایک اور کالج کی پروفیسر دوست سے نمبر لے کر مجھے یہ میسج بھیجا۔ میں‌ نے ان کو کال بیک بھی کی اور ٹیکسٹ بھی کیا کہ آپ نائن ون ون کو کال کریں۔ ایمرجنسی میں‌ ایمرجنسی جانا چاہیے۔ پھر انہوں‌ نے واپس جواب بھیجا کہ سب خیریت ہے۔ آج میں‌ سوچ رہی تھی کہ کہیں‌ گھریلو تشدد کا کیس تو نہیں‌ تھا۔

لیکن مجھے پتا چلا کہ ان کے بیٹے نے خود کشی کی کوشش کی تھی۔ دیسی فیملیز کے امریکی بچوں‌ میں‌ خود کشی کی شرح زیادہ ہے کیونکہ لوگوں‌ کے جسموں‌ نے ہجرت کر لی لیکن دماغوں‌ نے نہیں‌۔ وہ امریکہ میں‌ رہ کر اپنے ملک یہاں‌ بسانے کی کوشش کرتے ہیں اور دو نسلوں ‌میں‌ بہت فاصلہ ہو جاتا ہے۔ انسانوں کے لیے تبدیل ہونا بہت مشکل کام ہے۔ جو لوگ خود بڑے ہو کر ہجرت کرتے ہیں ان کا تو بدلنا بہت مشکل ہے لیکن وہ اپنی اولاد کو بھی اپنے جیسا بنانا چاہتے ہیں۔ اب آج کل کے زمانے کے بچوں‌ کو ہم اپنے زمانے کے بچوں‌ کی طرح‌ کیسے بنا سکتے ہیں؟ لوگ بچوں‌ کے مسائل سمجھتے ہی نہیں۔ مجھے سمجھ نہیں‌ آتا کہ ایسا کیوں ‌ہے۔ ’رسکی شفٹ فینامنا‘ کے مطابق لوگوں نے ایک دوسرے کو یرغمال بنا لیا ہے انہیں‌ ایک دوسرے کو آزاد کردینا ہوگا اور اپنی زندگی پر زیادہ توجہ دینی ہوگی۔ کافی لوگ ہیں‌ جن کے لیے اپنے بچوں‌ کی زندگی سے زیادہ اپنا ایک امیج بنائے رکھنا زیادہ اہم ہے۔

میں‌ ثریا این فاؤنڈیشن کی غائبانہ ممبر ہوں جو گھریلو تشدد کی شکار خواتین کی مدد کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ ان کی میٹنگ لنچ کے بیچ میں‌ ہوتی تھیں‌ اور میں‌ سارا دن مریض دیکھ رہی ہوتی تھی اس لیے مجھے اس کو چھوڑنا پڑا۔ لیکن ان لوگوں‌ کو کہہ دیا ہے کہ اگر کچھ میں‌ کر سکتی ہوں‌ تو وہ بتا سکتے ہیں۔ دو سال پہلے یہاں ‌نارمن کے چھوٹے سے شہر میں‌ ایک پاکستانی فیملی کے آدمی نے اپنی بیوی کو چھرا گھونپ کر مار دیا تھا۔ اب وہ جیل میں‌ ہے۔ میں‌ نے سنا کہ وہ سنڈے اسکول میں‌اسلامی ٹیچر تھی۔

وہ ٹین ایج لڑکی پوچھنے لگی کہ ڈاکٹر آپ کے خیال میں‌ مجھے سلیپ ایپنیا کیوں‌ ہے؟ تواس کا سیدھا جواب یہ تھا کہ آپ کا وزن بہت زیادہ ہے اوپر سے تھائرائڈ بھی کافی بڑھ گیا ہے اس لیے سوتے میں‌ آپ کا سانس بار بار بند ہوجاتا ہے۔ لیکن اس طرح آپ ٹین ایج بچوں سے بات نہیں‌ کرسکتے کیونکہ اس وقت سنا ہوا ایک ایک لفظ ان کو تمام زندگی یاد رہے گا۔ اس لیے گھما پھرا کر پیار سے بتانا ہوتا ہے۔ ہمارا کام لوگوں‌ کو جج کرنا یا ان کی شخصیت کو مجروح کرنا نہیں ہے بلکہ ان کو بہتر بنانا ہے۔ جیسے قطرہ قطرہ مل کر سمندر بن جاتا ہے ویسے ہی مضبوط اور صحت مند افرد مل کر ایک مثبت معاشرہ بناتے ہیں۔

دوسرا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “ایک خاتون ڈاکٹر کا حالِ دل – پہلا حصہ

  • 30-04-2016 at 1:49 pm
    Permalink

    کتنا اچھا لکھا ہے۔ آنکھیں کھولنے والی تحریر۔ ہمیں ایسی بہت ساری تحریروں کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے اردگرد آنے والی تبدیلیوں کو سمجھ سکیں اور اپنے اپنے طور پر تبدیلی کا ساتھ دے سکیں۔ بہت بہت شکریہ۔

  • 30-04-2016 at 3:46 pm
    Permalink

    Thank you so much for this nice column.

  • 30-04-2016 at 4:06 pm
    Permalink

    بہت خوب لکھا اور حقیقت بھی یہ ہے

  • 01-05-2016 at 11:13 pm
    Permalink

    بہت عمدہ۔ ڈاکٹر لبنیٰ کی تحریر نے مجھے متاثر کیا ہے، ان کا ایک خاص تیکھا انداز ہے، کچھ بلنٹ، بہت پراعتماد اور سٹریٹ فارورڈ سا ،مگر اس میں کئیر جھلکتی ہے بہت سے لوگوں کے لئے۔ عمدہ لکھتی ہیں، ماشااللہ۔

Comments are closed.