ایک خاتون ڈاکٹر کا حالِ دل – دوسرا حصہ


lubna mirzaپہلا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔۔۔

پھر وہی روز کے دن کی طرح‌ کا ایک دن۔ تین مہینہ سے انتظار کرتے مریض اپنے اپنے مسائل لے کر جواب کے منتظر۔ بیچ میں‌ مستقل انٹرپشن۔ نرس پریکٹیشنر میرے دروازے کے باہر کھڑی تھی۔ اس مریض کی بلڈ شوگر دیکھیں‌ اور اے ون سی۔ میں‌ نے دیکھا تو واقعی وہ دونوں‌ ساتھ میں‌ فٹ نہیں‌ہوتے تھے۔ اے ون سی کے 9% ہونے کے ساتھ بلڈ شوگر 150 اوسط کیسے ہوسکتی ہیں۔ کیا انہیں‌ پولی سائیتھیمیا ہے؟ نہیں‌۔ کیا ان کا گلوکو میٹر درست کام نہیں‌کر رہا؟ پتہ نہیں۔ اچھا سی جی ایم استعمال کرو۔ وہ ہر 5 منٹ میں‌ شوگر چیک کرے گا اور کچھ پتا چلے گا کہ کیا ہو رہا ہے۔ اگر یہ دو نرسیں‌نہ ہوتیں‌تو ہم اتنا ذیابیطس کا لوڈ برداشت نہیں ‌کرسکتے تھے کیونکہ مریض ‌بے انتہا ہیں۔ ان سے پہلے جس کو ٹرین کیا تھا اس نے زیادہ پیسے کمانے کے لیے جاب چھوڑ کر اپنا ذیابیطس سینٹر کھول لیا۔ ہسپتال کو اسے زیادہ پیسے دینے چاہئیں تھے کینکہ وہ اچھا کام کرتی تھی۔ زیادہ سوچنے کے لیے ٹائم نہیں‌ ہوتا۔ لنچ ٹائم میں‌ بریک روم میں‌ میکسیکن فوڈ رکھا ہوا دیکھا۔ اف اب ڈرگ ریپ فری لنچ لائے ہیں ، اب لیکچر بھی سننا پڑے گا کہ کیوں‌ ان کی دوا باقی دواؤں ‌سے بہتر ہے۔ ’میں‌ آپ کے لیے کیا کرسکتی ہوں؟‘ اس سوٹڈ بندے سے میں‌ نے پوچھا تو وہ بولا کہ میں‌ سلیپ سینٹر سے آیا ہوں‌ وہ آپ کی تعریف کرتے ہیں‌ کہ نوٹس اچھے ہیں‌ اور آپ کو آج کچھ نیا نہیں‌ بتانا ہے۔ میں ‌نے سکھ کا ایک سانس لیا اور باقی کا لنچ اٹھا کر اپنے آفس میں‌ لے گئی۔

ہراساں‌ کوئی نہیں کرتا ہے۔ جب آپ خود سب سے اوپر باس بن جائیں‌ تو کون ہراساں کرے گا؟ دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ امریکہ میں‌ ہراسگی کے خلاف قوانین اور قاعدے ہیں‌۔ بہرحال جو بھی ہے اس کی وجہ سے ہم ٹھیک سے اپنا کام کرسکتے ہیں۔ انیٹا ہل اور ان کے جیسی خواتین کا نہایت شکریہ جنہوں‌ نے امریکی پدرانہ معاشرے میں‌ ہراسگی کے خلاف آواز اٹھائی اور ان کی وجہ سے کام کی جگہوں‌ پر یہ قوانین ترتیب دیے گئے۔ اس لیے ماحول صاف ستھرا ہے۔

ابھی دو تین مریض رہتے تھے تو زلیخا آگئی وہ میری‌ ایرانی اسٹوڈنٹ ہے اور آجکل ہم لوگ نیا پیپر لکھ رہے ہیں‌۔ اس کا پہلا اینڈوکرائن کا پیپر جرنل میں‌ چھپ گیا۔ وہ انسولینوما پر تھا۔ یہ بیماری ایک ملین میں‌ سے ایک انسان کو ہوتی ہے۔ جب ہم نے اس بیماری کی ایک مریضہ کو پہچانا اور اس کا کامیاب علاج کیا اور وہ ٹھیک ہوگئیں تو میں نے مشورہ دیا تھا کہ اس پر کیس رپورٹ لکھو۔ ریزیڈنسی حاصل کرنا بہت مقابلے کا کام بن چکا ہے اور اگر آپ کے پیپر چھپے ہوں‌ تو آسانی ہوگی۔ سارے دھکے کھانے کی وجہ سے مجھے اپنے جونئیرز سے ہمدردی ہے اور میں‌ یہی چاہتی ہوں کہ وہ بھی اپنی زندگی میں‌ کامیاب ہوں ‌اور آگے جا کر بعد میں‌ آنے والے اسٹوڈنٹس کی رہنمائی کریں۔ اب میں‌ اس کی دوسرے پیپر میں‌مدد کررہی ہوں۔

گھر آکر بھنڈیاں پکائیں۔ اور میرے شوہر نے برتن دھو کر ڈش واشر میں ‌لگا دیے۔ ہم لوگ فارسی سیکھ رہے ہیں۔ کھانے کے دوران کمپیوٹر چل رہا تھا میں‌ نے کہا کہ پلیز اس کو بند کردیں‌ میرا دماغ دہی ہوچکا ہے۔ کہنے لگے ہاں ‌میرا بھی اور بند کردیا۔ آپ نے آج کتنے مریض دیکھے؟ میں‌ نے پوچھا پھر ہم نے سکون سے کھانا کھایا۔ ہم ایک نیوکلیر فیملی ہیں۔ سب رشتہ دار دور رہتے ہیں۔ ہم کیا کھائیں، کیا پکائیں اور اپنے گھر اور بچوں ‌کو کیسے چلائیں یہ ہمارا نجی معاملہ ہے اور اس میں‌ کسی کو کچھ بولنے کا ویسے ہی حق نہیں۔ ہماری زندگی میں‌ سکون ہے۔ رشتہ دار سب کے ہوتے ہیں۔ وہ جتنے بھی بڑے ہوں ‌اپنے گھر میں‌ ہوں گے۔ آپ اپنے گھر میں‌ خود بڑے ہیں۔

میرے بھی ہیں‌ ایسے ایک انکل۔ میں‌ نے کبھی ان کو اپنے گھر نہیں‌بلایا۔ میرے خیال میں‌ ان کا دماغ بچپن میں‌ مڈل چائلڈ ہونے کی وجہ سے کھسک گیا۔ ان کو ’سوڈولوجیا فینٹاسٹکا‘ ہے۔ یہ بیماری ان افراد کو ہوتی ہے جن میں‌ کوئی ٹیلنٹ نہیں‌ ہوتا اور وہ لوگوں‌ کی توجہ حاصل کرنے کے لیے رائی کا پہاڑ بنا کر پیش کرتے ہیں‌ اور مستقل گاسپ کرتے ہیں۔ آپ فکر مت کریں‌، مڑتے ہی آپ کے گھر والوں‌ کو آپ کے لیے چار باتیں‌ کہیں ‌گے۔ اگر آپ کو یہ بیماری ہے تو ضرور کاونسلر دیکھیں کیونکہ اس رویے سے آپ خود اپنے عزیز اور رشتہ داروں کی زندگی خراب کریں‌ گے۔ اس سے آپ دنیا کو ایک بہتر جگہ کبھی نہیں‌ بنا سکیں گے۔ لوگوں‌ کو ان کی حدود میں‌ رکھنا ضروری ہے ورنہ آپ ایک ایسا گھر نہیں بنا سکیں‌ گے جس میں‌ کل کی دنیا کے لیے نئی نسل کی مناسب پرورش کریں۔ بچے دونوں‌ ہوم ورک کررہے‌ہیں۔ مچھلیوں‌ کو کھانا ڈال دیا۔ بلی کا موڈ سخت خراب ہے آج کوئی لفٹ نہیں۔ کل کے لیکچر کی سلائڈز دوبارہ دہرائیں۔ پھر انٹرنیٹ۔ ایک نہایت مفید اور بروقت آرٹیکل ’ہیں‌ سخت بہت آج کی خاتون کے حالات‘ نظر سے گذرا جس سے انسانوں‌ کی زندگی بہتر کی جاسکتی ہے تو سوچا اس کی تو دوسری قسط ضرور بننی چاہیے اس لیے سندھ میں‌ ایک اصلی مریضہ کی بتائی ہوئی کہانی نیچے لکھی ہے۔

میں چار پانچ دن وہاں رہی تھی چلڈرن ہاسپٹل میں۔ پہلے تو مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ وہاں کیا ہورہا ہے پھر لوگ باتیں کرتے تھے کہ زینب گئی زینب گئی۔ میں تو اپنے پوتے کی پریشانی میں تھی جو 20 دن کا بچہ تھا اور اس کو پیشاب نہیں آتا تھا، پھر اس کی سرجری ہوئی جو کامیاب نہیں ہوئی اور تیسرے دن اس کا انتقال ہوگیا۔ لڑکی وہ گاؤں کی تھی جو وہاں قریب ہے ۔ تو پھر یہ باتیں کرتے تھے ایسے۔ ایک دن ایک نرس آئی اور سارے بچوں کو چیک کر کے گئی۔ بچوں کو ٹیکے لگائے، جس کی پٹی کرنی ہو ان کی پٹی کی ۔ اگلے دن زینب آئی اور اس نے سارے بچوں کو چیک کیا ، جس کو ٹیکے لگنے تھے اس کو ٹیکے لگائے، جس کی پٹی کرنا ہو اس کی پٹی کی۔ وہ بہت اچھی نرس تھی ۔ بات بہت اچھی کرتی تھی، شکل بھی اچھی تھی، قد تھوڑا چھوٹا تھا، جیسے نرسیں سفید کپڑے پہنتی ہیں ویسے وہ بھی پہنتی تھی۔ڈاکٹر کا نام بتاؤں؟ نام اس کا عبداللہ تھا۔ ذات کا پتا نہیں ہے لیکن نام یہ تھا۔ پھر رات جو ہوئی تو پتا نہیں بچوں کو نشے کی دوا دے گئے یا کیا ، سب بچے سو گئے۔ ان کی نانیاں اور دادیاں بھی سو گئیں۔ سب سو گئے بیٹا۔ میں اپنے پوتے کو گود میں لے کر بیٹھی رہی ساری رات۔

ڈاکٹر عبداللہ آیا تو اس نے آکر کمبل دور کیا اور کہا کہ بچے کو سلاتی کیوں نہیں ہو، بیٹھی کیوں ہو؟ پھر میرا پوتا میری گود میں تھا تو اس کو اس نے اٹھا کر الٹا کردیا کہ ایسے سلاؤ تاکہ پیشاب آئے تو باہر جائے اند ر نہیں اور یہ کہ تم لوگوں کو نیند نہیں آتی؟ میں نے کہا کہ اس بچے کی آواز تک نہیں نکلتی اس لیے گود میں سلایا ہے تاکہ اگر وہ روئے تو مجھے آواز آئے۔ پھر وہ میرے اوپر کمبل واپس ڈال کر واپس چلا گیا۔ بس پھر بیٹی نرسوں کا آنا جانا تھا۔ میں نے تو پھر کمبل نہیں ہٹایا کیونکہ پھر ڈاکٹروں کا رعب بھی ہوتا ہے۔ میں ساری رات پھر بھی نہیں سوئی۔ وہاں سبھی کہتے تھے ، خالہ ، آنٹی ! آپ کو نیند نہیں آتی۔ اب بچہ بیمار ہو تو ماں کو کیسے نیند آئے۔ صبح ہوئی تو سارے جو مرد تھے وہ سارے ہنس رہے تھے کہ زینب حلال ہوگئی۔ میں پریشان ہوگئی کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں کہ زینب حلال ہوگئی اور اس کا کیا مطلب ہے؟ تو عبداللہ ڈاکٹر تھا جس نے اس لڑکی کی عزت لوٹی۔ بس بیٹی وہاں نرسوں کے ساتھ بہت برا سلوک کرتے ہیں ۔ وہاں نرسوں کی کوئی عزت نہیں ہے۔ تو یہ مجھے معلوم ہوا ادھر ادھر سے کہ دو دوسری نرسیں تھیں جو لمبی اور کالی تھیں ، وہ زینب کو لے کر آئیں اور ڈاکٹر کے کمرے میں چھوڑ کو چلی گئیں۔ وہ دیر سے نکلی کمرے سےاور روتی جارہی تھی بیچاری، اور صبح کو چلی گئی ہاسپٹل سے۔ اپنے شہر واپس۔ پھر ان بچوں کی بھی کوئی دیکھ بھال نہیں کررہا تھا، ٹائم سے بھی نہیں آرہا تھا بچوں کو دیکھنے کے لیے۔ اور میرا پوتا بیچارہ وہاں فوت ہوگیا تھا ہاسپٹل میں۔ زینب صبح میں گئی اور ہم شام میں۔

اب دیر ہوچکی ہے۔ مجھے سونا چاہئیے۔ کل ایک اور دن ہو گا بھاگم بھاگ!

ابھی یہ کمپیوٹر بند ہی کرنے والی تھی کہ فیس بک پر ٹنگ ٹنگ ہونے لگی۔ دیکھا تو ہماری پرانی سیکرٹری تھی۔ میرے بھائی کو دیکھ لیں اس کو تھائرائڈ کا پرابلم ہے۔ شیڈول بالکل بک ہے لیکن کچھ جان پہچان کی وجہ سے اور کچھ اس کی تکلیف کا سن کر میں نے اس کو لکھا کہ یہ ٹیسٹ کرا کے پرسوں آفس بھیج دو میں‌ دوسرے مریضوں‌ کے درمیان دیکھنے کی کوشش کروں‌ گی۔ اس شہر میں‌ کل دو ہی اینڈوکرنالوجسٹ ہیں‌ ایک میں‌ اور ایک میرے ویت نامی پارٹنر۔ اب یہ لوگ کہاں‌ جائیں گے؟اس لیے اگر آپ لوگ کیریر ڈھونڈ رہے ہیں تو ذیابیطس اور ہارمون کی بیماریوں‌ میں‌ کچھ سیکھیے۔ ہم بڈھے ہو کر مر جائیں‌ گے ان لوگوں‌ کے مسائل کون سمجھے گا اور حل کرے گا؟

ایک 70 سال کی خاتون کو دیکھا جو کمر میں درد کی شکایت کررہی تھیں۔ آپ کو کب سے یہ درد ہے؟ مجھے یہ درد بچپن سے ہے۔ ہمارے والد مجھے اور میرے بھائی کو ہمارے کچھ حرکت کرنے پر کمر میں مکے مارتے تھے۔ ہماری امی اگر کہتی تھیں کہ بچوں کو مت مارو تو وہ کہتے تھے کہ میں ان کو ڈسپلن کر رہا ہوں تاکہ ان کو کچھ تمیز آئے، بس میری کمر میں تب سے ہمیشہ کے لیے تکلیف ہے، میں سو نہیں سکتی ہوں اور بغیر دوا کے میرا گزارہ نہیں۔ اور آپ کا بھائی؟ وہ بھی ایسے ہی ہے۔ وہ اور اس کی بیوی کروز پر گئے ہوئے تھے چھٹی منانے تو وہاں کچھ زیادہ چل لینے سے اس کی ایسی حالت ہوگئی کہ کھڑا نہیں ہوسکتا تھا۔ پھر اس کی بیوی اس کو ہر جگہ وہیل چئیر میں لے کر گئی۔ میں یہ سوچے بغیر نہیں رہ سکی کہ آج کی دنیا کے انسان گذرے ہوئے انسانوں کے گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ اور آج جو ہم کررہے ہیں اس کی فصل ہماری آنے والی نسلیں کاٹیں گی۔

لیکچر کے آخر میں‌ ڈین نے کہا کہ ہماری یونیورسٹی آپ کا شکریہ ادا کرتی ہے کہ آپ نے وقت نکالا اور ہمارے اسٹوڈنٹس کو پڑھایا اس لیے ہم آپ کو سرٹیفکٹ دے رہے ہیں۔ اس بات کی میں‌ توقع نہیں‌ کررہی تھی۔ سرٹیفکٹ لے کر وہ جو چھوٹا سا ایک مینار بن گیا ہے سرٹیفکٹوں‌ کا اس کے اوپر رکھ دیا۔ یہ بات ایک لمبے سفر کے مسافر کو کہیں راستے میں‌ سمجھ آہی جاتی ہے کہ کاغذ کے سرٹیفکٹ کچھ نہیں ‌ہوتے اور اصلی خزانہ دماغ میں‌ ہوتا ہے۔

خزانے کی قدر سمجھنے اور اس کو اسپیس دینے میں‌ معاشرے کا ایک اہم کردار ہے۔ اگر وہ نہیں‌ ہوگا تو کچھ تعمیر نہیں‌ ہوسکے گی۔

واقعی سچ ہی ہے کہ ہیں سخت بہت آج کی خاتون کے حالات!


Comments

FB Login Required - comments