چاند کی باتیں


چاند رات کی آمد آمد ہے۔ سوچا کچھ چاند رات کی باتیں کرتے ہیں۔ پاکستان میں عام طور پر عید کی چھٹیوں کےاعلان کے ساتھ ہی یہ بھی اعلان کیا جاتا ہے کہ تین دن لوڈ شیڈ نگ نہیں ہو گی۔ عوام پتہ نہیں ایک دوسرے کو عید کی مبارک دیتے ہیں یا بجلی نہ جانے کی۔

انتیسویں روزے کو پوپلزئی سرمے کی تلاش شروع ہو جاتی ہے۔ سنا ہے مارکیٹ میں پوپل زئی آئی ڈراپس بھی لانچ ہو چکے ہیں جو شرطیہ انتیس کا چاند دکھانے کے دعویدار ہیں۔ اگر پوپل زئی مسجد سے عید کا چاند بہ آسانی نظر آ جاتا ہے تو مفتی منیب بھی وہیں جا کر چاند کیوں نہیں دیکھ لیتے۔ کیا پاکستان اتنا بڑا ہے کہ یہاں مختلف ٹائم زون ہیں اور ایک ٹائم زون کا چاند پہلے نظر آتا ہے اور دوسرے کا بعد میں۔

اب تو لگتا ہے کہ کینیڈا میں بھی لوگ ان آئی ڈراپس سے مستفید ہو رہے ہیں تب ہی بلڈنگ کے ایک ہی فلور پر ایک گھرانہ عید کی سویاں کھا رہا ہوتا ہے جب کہ دوسرا سحری کے پراٹھے۔ اکثر لوگ جب عید کی دعوت پر احباب کو مد عو کرتے ہیں تو آنے والے مہمان افطار کر کے میزبان کو نیکیاں کمانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

ہر سال مفتی منیب الرحمان بڑے طمطراق سے چاند کا اعلان کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب تک ان کی رپورٹ ختم ہوتی ہے لوگ چاند رات کی شاپنگ کرنے بازار پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ یہ ان کی انا ؤ نسمنٹ کے دوران پٹی چلنے سے ہوتا ہے۔ پٹی چلانے والے بھائی کچھ تو خیال کرو، آپ تو روز پٹی پڑھاتے ہیں ایک دن تو مفتی منیب الرحمان کو بھی موقع دینا چاہیے۔

ملا نصر الدین کو ایک بار شہر کے لوگوں نے زبردستی خطاب کرنے کو بلایا۔ جب وہ منبر پر چڑھے تو انہوں نے محسوس کیا کہ سامعین اپنی ہی باتوں میں لگے ہیں اور ان کی تقریر میں دلچسپی نہیں لے رہے۔ سو انہوں نے دریافت کیا ”کیا آپ لوگ جانتے ہیں میں کیا کہنے جا رہا ہوں؟ “ سامعین نے جواب دیا ”نہیں“۔ یہ سن کر انہوں نے اعلان کیا کہ ”مجھے ایسے لوگوں سے بات کرنے کی کوئی خوا ہش نہیں جنھیں یہی نہیں پتہ میں کیا کہنے جا رہا ہوں ” اور یہ کہہ کر وہ چلتے بنے۔ لوگ پشیمان ہو ئے اور انھیں اگلے روز پھر بلا لیا۔ اگلے روز جب انہوں نے اپنا وہی سوال دہرایا تو لوگوں نے جھٹ جواب دیا ”ہاں“۔

ملا نصر الدین بولے ”اچھا چوں کہ آپ لوگ پہلے ہی جانتے ہیں کہ میں کیا کہنے جا رہا ہوں تو میں آپ کا مزید وقت ضا ئع نہیں کروں گا ” اور پھر چلتے بنے۔

اب لوگ واقعی مضطرب ہو گئے انہوں نے ایک اور کوشش کرنے کا فیصلہ کیا اور اگلے ہفتے پھر ملا صاحب کو خطا ب کرنے کے لئے بلا لیا۔ اس بار پھر انہوں نے وہی سوال دہرایا ”کیا آپ کو معلوم ہے میں کیا کہنے جا رہا ہوں؟ “ اس بار لوگ پہلے سے تیار تھے لہٰذا نصف مجمع نے کہا ”ہاں“ اور بقیہ نصف مجمع بولا ”نہیں“۔ یہ سن کر ملا یوں گویا ہوئے ”نصف مجمع جو جانتا ہے میں کیا کہنے جا رہا ہوں، بقیہ نصف کو بتا دے جو نہیں جانتا میں کیا کہنے جا رہا ہوں۔ “ اور چلتے بنے۔ ہماری مفتی منیب الرحمان سے درخواست ہے کہ اس بار یہ حکایت پڑھ کر تشریف لائیں۔ سب کی مشکل آسان ہو جائے گی۔

کچھ لوگ چاند آسمان کے بجا ئے ہمسایوں کی چھت پر تلاش کر رہے ہوتے ہیں ایسے میں اگر چاند کے والد یا بھائی صاحب بھی وارد ہو جائیں تو چاند کے ساتھ ساتھ تارے بھی دیکھنے کی نوبت آ سکی ہے۔

خواتین چاند رات کا آغاز اپنے ٹیلر سے مغز ماری سے کرتی ہیں جو تین مہینے پہلے سے دیے ہوئے کپڑے چاند رات کو ایسے دیتے ہیں گویا عیدی دے رہے ہوں۔ خاوند حضرات اپنی بیویوں کو بیو ٹی پارلر ڈراپ کرنے نکل پڑتے ہیں مجبوری ہے بیو ٹی پارلر کا خرچہ برداشت کرنا تو بلا شبہ مشکل ہوتا ہے پر بیوی پارلر نہ جائے تو بیوی کو برداشت کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ ویسے تو کچھ لوگ بیوی کو پیار سے چاند بھی کہتے ہیں لیکن چاند تو رات کو آ کر صبح واپس چلا جاتا ہے، شاید یہ لوگ ابھی تک خود کو غیر شادی شدہ سمجھ رہے ہوتے ہیں ورنہ بیوی کو چاند نہیں کچھ اور کہتے۔

چاند رات گزارنا سب سے زیادہ بچوں کے لئے مشکل ہوتا ہے جو بار بار اٹھ کر اپنے کپڑے دیکھتے ہیں اور لڑکیاں ہیں تو اپنی مہندی دیکھتی ہیں۔ لڑکوں کو چاہیے چاند رات کی آوارہ گردی میں لڑکیوں سے دور رہیں ان کے ہاتھوں پر جو مہندی لگی ہوتی ہے وہ ڈیزائن آپ پر چھاپ دیا تو عید کے روز منہ چھپاتے پھریں گے۔
حبیب جالب نے کہا تھا

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چا ند یہاں نہ نکلا کر
ہماری چاند سے درخواست ہے حبیب جالب کی بات پر کان نہ دھرے بہت سے دل کی آنکھوں سے چاند رات کے چاند کا انتظار کر رہے ہیں۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں