گلی گلی میں ہے یہ پکار شہزادے کے گدھے کے کان


آؤ بچوں سنو کہانی !
ایک تھا راجہ ایک تھی رانی۔
راجہ بیٹھا  بین بجائے۔
رانی گانا گاتی جاے۔

نوکر لے کر حلوہ آیا۔
طوطے کا بھی جی للچایا۔
نوکر حلوہ کھاتا جائے۔

طوطا شور مچاتا جائے ۔
راجہ بین بجاتا جائے۔
رانی گانا گاتی جائے ۔۔۔۔

آج ناجانے کیوں کے جی میں پڑھی یہ نظم بہت یاد آ رہی ہے۔

ایسا لگتا ہے جیسے یہ نظم عمران خان، ریحام خان، سلمان احمد اور حمزہ علی عباسی کے لیے تحریر کی گئی ہو۔ ویسے ہی چار کردار ، عمران خان اس تمام معاملے سے دور چین کی بانسری بجا رہے ہیں، ریحام لطائف کی دنیا کی بے تاج ملکہ بنی اپنا گانا سنائے جا رہی ہے، سلمان احمد وفادار نوکر بنے کاندھے پہ رومال ڈالے موجود اور معصوم حمزہ طوطے کی طرح ٹائیں ٹائیں کیے جا رہا ہے۔ جوں ہی ریحام خان کی  کتاب کی خبر ٹی وی پر نشر ہوئی اس وقت سے لطیفوں کی لائن لگ گئی، کچھ لطائف تو اس قدر شاندار ہیں کہ تخلیق کار صدارتی انعام کا حقدار نظر آتا ہے۔

 اس معاملے کو  ابتدا سے ہی حمزہ نے اپنے ہاتھوں میں رکھا اور کتاب کو منظرعام پر آنے سے پہلے ہی مقبول کیا جب کہ ابھی تک کتاب میں سے کام کی کوئ بات بھی نظر سے نہیں گزری ۔  حمزہ اور اس کی ایکٹنگ کی بہت بڑی فین فالونگ ہے، اس موقع پہ بھی حمزہ کیریکٹر نبھاتے نظر آئے۔ فکر مند چہرہ ، بے حساب شکنیں ، ایک آنکھ اوپر دوسری کافی نیچے، کبھی کبھی تو پیارے افضل کے گینگسٹر والے انداز چہرے پہ چھائے نظر آتے، مختصراً یہ کہ حمزہ چھا گیا۔

جس طرح اکبر اعظم نے چن چن کے نو رتن اپنے دربار میں سجائے تھے بلکل ویسے ہی عمران خان نے ساری دنیا سے بھانڈ میراثیوں کو اپنی پارٹی میں سجایا ہے ملا دو پیازہ کا کردار ریحام  ادا کر رہی ہیں  ۔

ریٹائرڈ گٹارسٹ سلمان احمد نے پارٹی کو ” آئیٹم گرل ” کے طور پے ریحام خان کی عمران خان تک رسائی کروائی ، اب جیسا کہ فلموں میں ہوتا ہے، آئٹم گرل جتنی بھی حسین ہو پانچ  یا دس منٹ کے گانے سے آگے  اسے جگہ نہیں ملتی ۔ بیچاری ریحام بھی دس ماہ آئٹم نمبر کے طور پہ پی ٹی آئی کی دو نمبر امی رہیں اور اب وہ ایک مرتبہ پھر ہم سب کو لطائف کا جوبصورت انتخاب عطا کر چلیں۔

گزشتہ شب ہم سب پہ ریحام خان کا ایک انٹرویو نظروں سے گزرا۔ اس انٹرویو کو پڑہنے کے بعد اس بات کا یقین محکم ہو گیا کہ جتنے بھی لطائف گردش میں ہیں وہ سب اس کتاب سے ہی نکلے ہیں، مثلاً ایک جگہ ریحام خان کہتی  ہیں کہ

“بنی گالہ میں رہتے ہوئے ان کو کبھی سبزی وغیرہ منگوانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ ہمیشہ تازہ ہائبرڈ، آرگینک سبزیاں آ جاتی تھیں۔ ایک دن انہوں نے جامنی رنگ کی بند گوبھی دیکھی تو استفسار کیا یہ سب سبزیاں اور سلاد کہاں سے آتے ہیں؟ تو ان کو بتایا گیا کہ مسلم لیگ ن کے کیڈ کے سابقہ وزیر طارق فضل چوہدری کے فارم ہاوس سے آ رہی ہیں   ”

یہاں چند قابلِ اشاعت لطائف پیش کرتی چلوں،
“ عمران خان خود تو سو جاتے اور مجھے کہتے گو نواز گو کہتی رہو ”
” فردوس عاشق اعوان بغیر میک اپ کے خان صاحب سے ملنے گئیں، تو خان صاحب کہنے لگے ہاں بھائی نعیم الحق یہ مونچھیں کیوں کٹوا دیں؟”

” فارغ اوقات میں ہم لوگ آنکھ مچولی کھیلا کرتے تھے سب لوگ جلدی مل جاتے ، خان صاحب اور مراد سعید دو دو گھنٹے نہیں ملتے تھے”.

اختتام میں آپ سب کی خدمت میں حمزہ علی عباسی کے لیے ایک چھوٹی سی کہانی ۔

ایک دفعہ کا زکر ہے ، ایک  بے اولاد راجہ تھا خدا نے انہیں دنیا کی ہر نعمت سے نوازا لیکن انکے گھر کوی اولاد نہ تھی، کی برس کے انتظار کے بعد خدا نے ان کی فریاد سن لی اور ایک بیٹے سے نوازا لیکن بچے کے کان گدھے جیسے تھے اس جوڑے نے بچے کے بالوں کو بڑھا کر اسکے کان چھپا دیے لیکن ایک وقت کے بعد بالوں کی تراش خراش کی ضرورت پڑی ، اب انہیں ایک حجام کی ضرورت پڑی ، بہت سوچ بچار کے بعد انہوں نے انعام و اکرام کی لالچ دے کر حجام کو گھر بلایا اور اس وعدے پر کے وہ اس راز کو راز رکھے اور بال تراش کے چلا جائے، حجام مان گیا لیکن اس کے دل پے بوجھ ہو گیا کہ وہ کس سے کہے اس کہ جب کچھ بھی سمجھ نہ آیا تو اس نے یہ سارا ماجرا کنویں میں منہ ڈال کر کہہ دیا اور اپنے گھر چلا گیا، بس پھر کیا تھا جس گھر بھی اس کنویں سے پانی گیا سب تک وہ راز چلا گیا ، اگلے روز پورا گاؤں ایک ہی گانا گا رہا تھا۔
“گلی گلی میں ہے یہ پکار شہزادے کے گدھے کے کان”

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں