سعودی اتحادی افواج کا یمن کی حدیدہ بندرگاہ پر حملہ


سعودی افواج

EPA
سعودی عرب کی قیادت والی افواج حدیدہ کے باہر کسی بھی حملے کے لیے تعینات ہیں

یمن کی اہم بندرگاہ حدیدہ پر سعودی عرب کی اتحادی افواج نے حملہ کر دیا ہے۔ یہ بندرگاہ یمن میں انسانی بنیادوں پر فراہم کیے جانے والے سامان کے داخلے کا اہم مرکز ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ حملہ انخلا کے لیے دی جانے والی حتمیٰ ڈیڈلائن کو حوثی باغیوں کی جانب سے نظر انداز کیے جانے کے بعد کیا گيا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق حوثی باغیوں کے ٹھکانوں کو فضا اور سمندر دونوں جانب سے بموں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

امدادی ایجنسیوں نے شہر پر حملہ کیے جانے کی صورت میں قیامت خیز تباہی کے لیے خبردار کیا ہے جس میں ڈھائی لاکھ جانیں تلف ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سعودی اتحاد کی ناکہ بندی،’یمن کو بدترین قحط کا سامنا‘

سعودی دارالحکومت پر حوثی باغیوں کا میزائل حملہ ’ناکام‘

اس جنگ زدہ ملک میں 70 لاکھ سے زیادہ افراد امداد کے طور پر فراہم کی جانے والی خوراک پر منحصرانحصار کرتے ہیں۔

سعودی نیوز نیٹ ورک ‘العربیہ’ نے خبر دی ہے کہ حدیدہ کو ‘آزاد کرانے’ کا کام شروع ہو چکا ہے جس میں وسیع پیمانے پر کیے جانے والے زمینی حملے کو فضائیہ اور بحریہ کا تعاون اور پشت پناہی حاصل ہے۔ شہر کے مضافات میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

صدر منصور ہادی کی یمنی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ باغیوں کو پسپا کرنے کے تمام سیاسی ذرائع ختم ہو چکے ہیں۔

سعودی عرب کی سربراہی میں منصور ہادی کی حمایت کرنے والی اتحادی فوج میں شامل متحدہ عرب امارات نے اس سے قبل حوثی باغیوں کو انخلا کے لیے حتمی الٹی میٹم دیا تھا کہ یا تو وہ واپس ہو جائیں یا پھر حملے کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔

متحدہ عرب امارات کے نائب وزیر خارجہ انور قرقاش نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سے قبل 48 گھنٹوں کی سابقہ ڈیڈلائن کے ختم ہونے کے بعد سفارتی کوششیں کرتے کرتے اتحادیوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اتحادی چاہتے تھے کہ بندرگاہ کا کنٹرول اقوام متحدہ سنبھالے لیکن اگر حوثی انخلا سے انکار کرتے ہیں تو اس صورت میں وہ فوجی کارروائی کے لیے بھی تیار تھے۔

یمن کی خانہ جنگی میں گذشتہ تین برسوں میں دس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں جسے اقوام متحدہ نے دنیا کی ‘خراب ترین انسانی تباہی’ کہا ہے۔

سعودی عرب کی قیادت میں کئی ممالک کی فوج نے مارچ سنہ 2015 میں یمن کے تنازعے میں اس وقت مداخلت کی جب صدر ہادی کی وفادار فورسز حوثی تحریک کے خلاف برسرپیکار تھیں۔

خیال رہے کہ حوثی یمن کی زیدی شیعہ مسلم اقلیت ہیں۔

نقشہ

BBC
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4930 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp