میاں صاحب کے سعودی معاہدے کی حقیقت


بعض افراد کی یہ خواہش ہے کہ ہم میاں نواز شریف کے سعودی معاہدے کے بارے میں حقیقت لکھ دیں کیونکہ اس کے بارے میں بہت سی افواہیں پھیلی ہوئی ہیں۔ مثلاً کچھ لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ ایسا کوئی معاہدہ وجود ہی نہیں رکھتا۔ تس پہ اس کی تردید کرنے والے یاد دلاتے ہیں کہ جب جنرل مشرف کے دور میں میاں صاحب واپس تشریف لائے تھے تو سعودی شہزادہ مقرن انہیں پکڑ کر واپس لے جاتے ہوئے جہاز کی سیڑھیوں پر ایک کاغذ لہرا کر دعوی کر گیا تھا کہ وہ معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہونے دے گا۔ پھر یہ بات چلی کہ جی معاہدہ دس سال کا نہیں بلکہ پانچ سال کا تھا۔ ایک جگہ سے یہ بیان آیا کہ معاہدہ ٹائپ وغیرہ تو ہوا تھا لیکن اس پر میاں صاحب نے دستخط نہیں کیے تھے۔ وغیرہ وغیرہ۔

ہم نے تمام افواہوں کا باریک بینی سے تجزیہ کیا ہے۔ مزید کچھ خبریں ہمارے نہایت ہی خفیہ اور غیر حقیقی صحافتی ذرائع نے بھی فراہم کی ہیں۔ تو ہم اصل واقعہ بیان کرتے ہیں۔

ہوا یوں کہ میاں صاحب جب ریموٹ کنٹرول کے ذریعے زمین پر بیٹھے ڈیڑھ ہزار میل دور اڑتا ہوا جہاز ہائی جیک کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو وہ پکڑے گئے اور جیل میں ڈال دیے گئے۔ کیونکہ یہ شرفا کے قاعدے کے خلاف ہے کہ وہ جہاز سے باہر بیٹھ کر جہاز اغوا کریں۔ ہمیشہ اندر سے ہی کرنا چاہیے۔

بہرحال میاں صاحب کو جنرل مشرف نے اس جرم کی بنیاد پر جیل میں ڈال دیا۔ ادھر میاں صاحب کی کوٹھڑی میں سانپ بچھو وغیرہ بھی تھے۔ ان سب کو کھانے پینے وغیرہ کی تنگی رہتی تھی اور وہ ہر وقت یہ دعا کرتے تھے کہ خدائے بزرگ و برتر ان کی مشکل آسان کرے۔

اس زمانے میں سعودی عرب میں ایک نیک دل بادشاہ حکومت کرتا تھا جو میاں صاحب کو اپنا دوست جانتا تھا۔ ایک دن وہ دربار لگائے بیٹھا تھا کہ اس نے نوٹ کیا کہ اس کے دربار میں ایک جاسوس موجود نہیں ہے جسے اس کی دن رات ہر معاملے پر نگاہ رکھنے کی وجہ سے بارگاہ شاہی سے الو کا خطاب عطا کیا گیا تھا۔ بادشاہ نہایت خفا ہوا اور اس نے الو کو پکڑ کر لانے کا حکم دیا اور اس سے پوچھا کہ وضاحت کرو کہ تم دربار سے بغیر اطلاع کے کیوں غیر حاضر تھے۔ الو نے ہاتھ جوڑ کر عرض کیا کہ اے شاہ بحر و بر و روغنِ نفت، میں آپ کے دوست میاں نواز شریف کی خبر لینے گیا تھا کہ وہ اس وقت شدید ابتلا میں مبتلا ہے اور بندی خانے میں تاڑ دیا گیا ہے۔

بادشاہ شدید غمزدہ ہوا۔ اس نے اہل دربار پر نظر ڈالی اور پوچھا کہ کوئی ہے جو ہمارے دوست میاں صاحب کو ان کی چارپائی سمیت اٹھا کر یہاں لے آئے۔ ایک شہزادہ آگے بڑھا اور اس نے کہا کہ وہ ایک برس میں میاں صاحب کو لا سکتا ہے۔ بادشاہ نے مایوسی سے سر ہلایا اور کہا کہ اتنے دن میں تو میاں صاحب خرچ ہو چکے ہوں گے۔ اب مقرن نامی شہزادہ اٹھا کہ اسے بادشاہ نے تمام جاسوسوں کا حاکم مقرر کیا تھا۔ کہنے لگا کہ عالی جاہ، آپ کا حکم ہو تو ایک دن میں نواز شریف کو آپ کے دربار میں لے آؤں۔ بادشاہ نے خوش ہو کر اجازت دی۔

اب شہزادہ مقرن بھیس بدل کر اٹک کے بندی خانے پہنچا اور اس کے نگرانوں کو ایک بیرل تیل کی رشوت دے کر میاں صاحب سے ملاقات کی سبیل پیدا کی۔ اس نے میاں صاحب کو ملک چھوڑ کر سعودی عرب جانے پر راضی کرنے کی بہت کوشش کی مگر میاں صاحب نے انکار کیا اور کہا کہ ادھر ملک عرب میں نہاری کی جگہ حمس اور چھوٹے پایوں کی جگہ اونٹ کے پائے ملیں گے جن کی نلیاں چوسنا کسی انسان کے لئے ممکن نہیں ہے خواہ وہ کتنا ہی خوش خوراک کیوں نہ ہو۔

اس پر شہزادہ مقرن نے اپنی زنبیل سے ایک ڈونگا نہاری اور تین درجن خمیری روٹیاں نکال کر میاں صاحب کے آگے رکھ دیے کہ جب تک میں دوپہر کے کھانے کا بندوبست کرتا ہوں، آپ اس سے کچھ آسرا کریں، پھر کچھ سوچتے ہیں۔ میاں صاحب نہاری اور خمیری روٹیاں کھا گئے اور مقرن کی لائی ہوئی پیڑوں والی لسی کا جگ پی کر دو گھڑی کے لئے ایک جھپکی لینے کو لیٹ گئے۔

جب وہ اٹھے تو انہوں نے خود کو ایک عالی شان قصر میں کہ اس کے مین گیٹ پر قصر سرور کا بورڈ لگا ہوا ہے، ایک پرتعیش خواب گاہ میں لیٹے ہوئے پایا۔ وہ حیران ہو ہی رہے تھے کہ شہزادہ مقرن دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا اور معذرت کرنے لگا کہ آپ کی اجازت کے بغیر آپ کو سعودی عرب لے آیا ہوں اور ساتھ گوالمنڈی سے آپ کے خاص باورچی کو بھی اٹھا لایا ہوں جو اس وقت دیگ چڑھائے بیٹھا ہے۔

میاں صاحب ناراض ہوئے۔ کہنے لگے کہ ہماری گلف میں ہی تین سٹیل ملیں اور دنیا بھر میں بے شمار اثاثے ہیں۔ اتنے زیادہ کہ نیب بھی ان کو پکڑ نہیں سکی۔ ہم کیا فقرا و مساکین ہیں جو اس طرح مفت کی روٹیاں توڑیں گے؟

شہزادہ مقرن نے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا کہ میاں صاحب، آپ نے سوچا بھی کیسے کہ آپ کو مفت میں رہ کر ہمارا احسان اٹھانا پڑے گا۔ میں کھانے کا بل لے کر آیا ہوں۔ اس پر سائن کر دیں۔ بعد میں آپ چیک آؤٹ کریں گے تو ادائیگی کر دیں۔ یہ کہہ کر اس نے ایک کاغذ میاں صاحب کے آگے کیا۔ کاغذ پر عربی میں کچھ لکھا ہوا تھا۔ میاں صاحب سمجھے کہ شہزادہ مقرن واقعی کھانے کے بل پر دستخط کروانے لایا ہے۔ اسی کے اعتبار میں دستخط کر دیے۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ کوئی معاہدہ تھا۔

تو صاحبو، یہ حقیقت تھی اس معاہدے کی۔ حافظ شیرازی نے تو محبوب کے ایک تل پر سمرقند و بخارا لٹایا تھا، میاں صاحب نہاری کے ایک ڈونگے پر لٹ گئے۔ لیکن جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ کہاں مقرن جو کبھی جاسوسوں کا حاکم تھا، ولی عہد مقرر کر دیا گیا تھا، بادشاہت کے خواب دیکھ رہا تھا، اور کہاں یکلخت ایسی ہوا چلی کہ وہ شاہ بحر و بر و روغنِ نفت کے زیر عتاب آ کر معزول ہوا اور وہ قیدی بن گیا۔ میاں صاحب کا دل دکھانے پر یہ تو ہونا ہی تھا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1009 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar