مساجد کی سیاست: المیہ ہی المیہ ہے


Aamir-Hazarvi

فیض اللہ خان نے دکھتی رگوں پہ ہاتھ ہی نہیں بلکہ پاؤں بھی رکھا ہے دل پرسکون کو ایک بار پھر مضطرب کر دیا ہے بھولی بسری داستان تازہ کردی۔ دل کے نہاں خانوں میں گرد سے لپٹا سانحہ صاف کر دیا ایک ایسا موضوع جس پہ میں نے نہ لکھنے کا عزم کیا ہوا تھا اسے لکھنے پہ مجبور کر دیا۔ ۔ اداسی سی چھائی ہے۔

اپنوں سے ملنے والے زخم بڑی دیر تک اور بڑے دور تک ساتھ چلتے ہیں۔ جی چاہتا ہے بوجھ اتار دوں غم ہلکا کر دوں خود پہ جو بیتی اسے زیرقلم لے آؤں۔ آخر کب تک بعض باتیں دل کے قبرستان میں مردہ پڑی رہیں گی؟ یادوں کی بارات چلی آئی ہے۔ لیجئے آپ بھی پڑھ لیں۔ فیض اللہ خان نے کراچی کی مسجدوں پہ قبضے کا تذکرہ چھیڑا اور کہا اپنے اپنوں کے دشمن بن گئےہیں۔ ۔ ایک ہی مسلک کے راہی مسجدوں پہ قبضہ کرنے کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ فیض اللہ خان صحافی ہیں اور صحافی خبروں پہ تبصرے کرتے ہیں۔ اندر سے ہوکر آئیں تو تصویر اس سے بھی بھیانک ہے ہم لوگ کہتے ہیں کہ یہودی سازشیں کرتے ہیں۔ کرتے ہونگے لیکن مولویوں کی سازش کیا ہے؟

صرف اتنی کہ مسجدوں پہ قبضہ کیسے کرنا ہے؟ کسی مدرس کے خلاف جال بن کے اسے کس طرح مدرسے جواب دلوانا ہے۔ مسلک پرستوں کا محبوب ترین مشغلہ یہ ہے کہ کیسے مسجد پہ قبضہ کر کے اپنے بندے کو منبر پہ بٹھایا جائے۔ یہ سب چیزیں میرے ساتھ ہو گزری ہیں بڑی تکیلفیں سہہ چکا ہوں فتوؤں کے دریا عبور کرچکا ہوں۔ ۔ایک وقت تھا جب میں سپاہ صحابہ کا سرگرم کارکن تھا جوشیلے انداز کی وجہ سے طلباء اور اپنے حلقے میں مشہور ہو گیا تھا رفتہ رفتہ شہید بننے کا شوق چرایا لیکن کتابوں کے مطالعہ اور دوسروں سے میل ملاپ نے جلد ہی جماعتوں سے دور کر دیا سپاہ صحابہ چھوڑنے کے بعد کسی جماعت میں جانے کو جی نہیں چاہا۔

خامسہ کے سال امامت شروع کر دی۔ اور سابعہ کے سال جمعہ پڑھانا بھی شروع کر دیا جلد ہی لوگوں کا حلقہ بن گیا دور دراز سے لوگ سننے آتے بدقسمتی کہ میرے مقتدیوں میں چند دانے سپاہ صحابہ والوں کے بھی تھے مسجد میں سپاہ صحابہ کے لوگوں کا آنا جانا شروع ہو گیا کارکن اپنی قیادت کو مسجد بلاتے اور ساتھ ساتھ مجھ پہ بھی تبلیغ جاری رکھتے کہ جناب آپ سپاہ میں آجائیں اسٹیج آپ کا منتظر ہے ہمیں خوشی ہوگی لیکن میں ہربار چکمہ دے جاتا سپاہ صحابہ کی ایک ذمہ دار شخصیت نے بھی سپاہ میں شمولیت کی دعوت دی لیکن معذرت کر لی۔

اور پھر جمعیت کے میرے استاد محترم نے مجھے جمعیت یوسی ڈھوڈیال کا امیربننے کو کہا۔ میں نے وہاں بھی معذرت کردی ان معذرتوں کے باوجود ایک کام ہمیشہ کیا کہ جمعیت کا الیکشن میں بھرپور ساتھ دیا اس مرتبہ بلدیاتی الیکشن میں میرے دو مقتدی جمعیت کے مخالف تھے ایک نون لیگ کا اور دوسرا پی ٹی آئی کا لیکن ساتھ جمعیت کا دیا اور ساتھ بھی ایسا نہیں کہ چوری چھپے بلکہ سرعام ساتھ دیا بھرپورمہم چلائی اور آخری وقت تک کام کیا اور اللہ کے فضل سے جمعیت کا امیدوار جیتا بھی۔ اسی طرح مفتی کفایت اللہ کے مقابلے میں جو بندہ کھڑا ہوا اسکے بجائے مفتی صاحب کا ساتھ دیا اور مہم چلائی۔ یہ قصور تھے کہ سپاہ کے کارکن اور انکی مقامی قیادت مجھ سے ناراض ہوگئی۔ میرے خلاف پوری قوت سے مہم چلائی گئی مجھے شیعہ تک کہا گیا اگر میں ایک جمعہ کو نہ ہوتا تو فوراسپاہ کا بندہ آجاتااور منبرپہ بیٹھ جاتا رمضان کے مہینے میں ایک بار اتنا فساد کروایا گیا کہ الامان والحفیظ۔ مانسہرہ سے چند لوگ لڑنے کے لیے مسجد بلوائے گئے یہ سارے کام برداشت کرتا رہا اور مجھے بتایا جاتا کہ آپ کے خلاف یہ یہ مہم چلی ہوئی ہے اتنے مہینوں بعد آپ سے مسجدخالی کروا دی جائے گی میں مسکرا کے خاموش ہو جاتا جب کچھ نہ بن سکا تو دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں کہ مسجد چھوڑ دو ورنہ انجام برا ہوگا میں نے اگنور کیا لیکن بات آگے بڑھ چکی تھی میری قوت برداشت جواب دے چکی تھی۔

میرے پاس دو راستے تھے کہ اس معاملے کو میڈیا میں اٹھاؤں اور سرکاری سطح پہ لوگوں کو کہوں کہ اس معاملے کو دیکھیں دوسرا راستہ یہ تھا کہ خاموشی سے کنارہ کر لوں معاملہ اللہ کی ذات پہ چھوڑ دوں میں نے دوسرے راستے کو ترجیح دی جمعہ پڑھایا اور جمعہ پڑھانے کے بعد کہہ دیا کہ آج سے راہیں جدا محبت کرنے والوں کا بھی شکریہ اور نفرت کرنے والوں بھی شکریہ۔ ۔اس کے بعد مسجد کے متولی نے مسجد لکھ کے جمعیت کے میرے ایک استاد محترم کو دے دی سپاہ والوں کے ہاتھ بھی کچھ نہیں آیا لیکن اپنی حرکات نہیں چھوڑیں۔

آپ یہ نہ سمجھیں کہ ایک جماعت ایسی ہےنہیں جناب سبھی کا یہی حال ہے آپ معاشرے میں دیکھیں جمعیت والا سپاہ والے کے خلاف سازش کر رہا ہوگا اور سپاہ والا جمعیت کے خلاف بریلوی دیوبندی کے خلاف اور دیوبندی بریلوی کے خلاف اسی طرح اہلحدیث اپنے مخالف کے خلاف۔ جہاں سبھی ایک ہی جماعت کے ہونگے وہاں ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کریں گے۔

اور یہی حال اکثرمدارس کا بھی ہے مدارس میں بھی گروپ بندیاں ہیں میرے ایک لائق محنتی دوست کے خلاف سازش کرکے اسے مدرسے سے نکلوایا گیا اور وہ بھی سال کے شروع میں۔ اب وہ پورا سال کیا کرے اس پہ مہتم اور ان لوگوں نے نہیں سوچنا جو یہ کام کررہے ہیں۔ ۔میں تو اکثر کہتا رہتا ہوں کہ مسجدیں مذہبی بینکوں اور جماعتی دفتروں کاروپ اختیار کرتی جا رہی ہیں ریاست کو کوئی پالیسی بنانی چاہیے۔ اکھاڑ بچھاڑ کی روش تب ہی ختم ہو سکتی ہے۔ تمام مسجدیں اوقاف کے انڈر ہونی چاہیں اپنی مرضی سے کوئی بھی مسجد نہ بنائے۔ ریاست کی اجازت سے مسجد بھی بننی چاہیے اور امام کا تقرر بھی ریاست کو کرنا چاہیے ریاست جب غافل ہوتی ہے تو گروہ اپنی من مانیاں کرتے ہیں۔ مسلک کی بنیاد پہ تقسیم بہت ہوچکی ہے اور خون بھی بہت بہہ چکا ہے۔ اب اس کھیل کو بند ہونا چاہیے۔ ایک بات تو بھول ہی گیاکہ اوقاف میں امامت خطابت کے فرائض سرانجام دینے والے ریٹائرڈ ہونے کے بعد بھی مسجدوں پہ قبضہ کیے بیٹھے ہیں المیہ ہی المیہ ہے کس کس کا رونا روؤں؟ کہاں کہاں آنسو بہاؤں؟ کچھ سمجھ نہیں آتا بہتر ہوتا کہ فیض اللہ خان مٹی پاؤ پالیسی پہ عمل کرتے ہوئے آنکھیں بند رکھتے۔

زلف جاناں کے قصے چھیڑتے لب ورخسار لالہ رنگ وبو کی باتیں کرتے تتلیوں کے پھولوں سے بوسے لینے کے تذکرے کرتے لیکن یہ درد چھیڑ بیٹھے خود بھی گالیاں سنیں گے اور مجھے بھی سنوائیں گے چلو کوئی گل نہیں یاری میں چلتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “مساجد کی سیاست: المیہ ہی المیہ ہے

  • 30-04-2016 at 5:50 pm
    Permalink

    ریاست کی اجازت سے مسجد بھی بننی چاہیے اور امام کا تقرر بھی ریاست کو کرنا چاہی

  • 01-05-2016 at 4:02 pm
    Permalink

    ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہاہا ہا ہا ہا ہا ہا ہوہو ہوپوہوہو ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہاہا ہا ہا ہا ہا ہا ہوہو ہوپوہوہو پوہوہو
    بھائیو ہنسی نہیں رک رہی۔ لوگوں کے اخلاق سدھارنے والے کس مقام پر ہیں
    پوہوہو پوہوہو ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا

Comments are closed.