قاتل، قانون اور ای سی ایل کی بے حیائی


محسن نقوی صاحب نے ایک بار کہا تھا “مجھے اب قتل ہونا ہے۔ مگر قاتل نہیں ملتا” اور پھر یوں ہوا کہ محسن نقوی کو قتل کر دیا گیا۔ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل پر یقین رکھنے والے اور جا بجا ریاست مدینہ قائم کرنے کے بلند بانگ دعوے کرنے والے ایک شخص نے قانون کو گذشتہ روز یوں جوتے کی نوک پر رکھا اور پاوں کی ٹھوکر سے ریاست کے قانون کو ہی اپنے راستے ہٹا دیا۔

ریاست مدینہ کا تصور پیش کرنے والے خان نے ریاست کے قانون کو اس وقت خاک میں ملا دیا جب سفر مدینہ کےلئے وہ اپنے اس دوست کو مدینہ لے جانا چاہتے تھے جن کے خلاف کئی کیسز ہیں اور نیب کومطلوب ہیں۔ یہ ہیں سید ذوالفقار بخاری۔ زلفی بخاری کے نام سے شہرت پانے والے یہ حضرت امیر کبیر ہونے کے ساتھ ساتھ عمران خان کے دوست بھی ہیں۔ زلفی بخاری ریحام خان کی شادی اور بعدازاں طلاق کے معاملے میں خبروں کی زینت رہے اور باقاعدہ طلاق اناونس ہونے سے ایک دن پہلے جب ریحام خان لندن کے ہوٹل میں پریس کانفرنس کرنے جارہی تھیں تو یہ زلفی بخاری ہی تھے جنہوں نے خان و دیگر کے احکامات پر ریحام کو اس پریس کانفرنس سے روکا تھا۔ زلفی بخاری اسی دوستی کی وجہ سے وہ عمران خان کے ساتھ عازم حجاز ہوئے لیکن ائر پورٹ پہنچنے پر سفر حجاز اور ان کے بیچ ای سی ایل ڈالا گیا ان کا اپنا نام ہی آ گیا۔ لیکن آپ نے سنا تو ہے ” اے خان تا خان ہوندین” خان کا ائرپورٹ پر تین گھنٹے کا دھرنا کام دکھا گیا اور وہ اپنے اس قریبی دوست کا نام ای سی ایل سے نکلوا کر ان کو سر زمین مقدس اپنے ساتھ لے گئے۔ دو روز بعد نگران وزیراعظم کی بھی آنکھ کھل گئی اور اس معاملے پر نوٹس لے لیا۔

ایک طرف مقدمات کی زد پر سابق وزیراعظم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کےلئے تیاریاں کی جا رہی ہیں تو دوسری جانب جن کے نام پہلے سے ای سی ایل میں موجود ہیں ان کے نام سفارشوں پر نکالے جا رہے ہیں۔ کیا ہی ڈارمہ ہے یہ ای سی ایل؟

دوسری جانب راولپنڈی میں بدمعاش، بے لگام اور بگڑے ہوئے شخص نے جواں سال ٹریفک وارڈن کی دوران ڈیوٹی جان لے لی۔ غلط پارکنگ پر روکنے کی وجہ سے ٹریف وارڈن شاہد سرور کو ایک شخص نے روزہ کی حالت میں گولی مار دی۔ جوان سول اسپتال میں دم توڑ گیا۔ راجہ رائید نامی ملزم نے انتہائی سفاکی سے سرعام نوجوان کو گولی مار کر شہید کر دیا

یہ دو مختلف واقعات ہیں جو کہ راولپنڈی میں ہوئے۔ نور خان ائر بیس سے کمیٹی چوک تک سفر کرتے لا قانونیت یا قانون سے کھلواڑ کے یہ واقعات نہ صرف دل دوز ہیں بلکہ عام شہر سے کپتان تک کی شخصیت پر سوالیہ نشان ہیں؟ قانون کے ساتھ کھیلتا پاکستان۔

یہاں قانون کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے۔ چور۔ ڈاکو اور لٹیرے سرعام پھرتے ہیں۔ غریب اپنی عزت بچاتے بچاتے جان دے بیٹھتے ہیں۔ قال دندناتے پھرتے ہیں۔ قانون پر عملدرآمد کروانے والے ایڈمنسٹریشن چلانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ بیٹیوں کی عزت تاراج کرنے والے بے شمار جبکہ سزا تاحال کسی کو نہ مل پائی۔ اب ایسے حالات میں ملک میں بد امنی۔ انتشار پیدا نہ ہوگا تو اور کیا ہوگا؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

وقار حیدر

وقارحیدر سما نیوز، اسلام آباد میں اسائمنٹ ایڈیٹر کے فرائض ادا کر رہے ہیں

waqar-haider has 17 posts and counting.See all posts by waqar-haider