دبئی میں ماہ جون کی روشن سویر اور ممی کی بیٹی نے پیزا مانگ لیا


سحری کے بعد سونا ممی کے نصیب میں کہاں ہوتا ہے چونکہ دو ہی گھنٹوں میں بچوں کو سکول کے لیے تیار ہو کر نکلنا ہوتا ہے۔چناچہ فیملی کو سحور کروا کر فارغ ہونے لگتی ہے ممی تو بچوں کے اٹھنے اور ان کی تیاری کے اوقات ہونے لگتے ہیں۔ بیچ کا تھوڑا سا وقت کپڑے استری، کچن سمیٹنا، برتن دھلنا کے بعد نہانا جیسے کاموں میں گزر جاتے ہیں۔

آج صبح سوا چھ بجے بچوں کو اٹھانے ان کے کمرے میں گئی تونجانے جی میں کیا آئی کہ بچوں کو اٹھا کر میں ان کے کمرے سے ٹیرس پر کھلنے والا دروازے کھول کر ایک خوبصورت روشن شفیق صبح کے دیدار کو اس کی طرف کھنچتی چلی گئی۔ اگرچہ دبئی میں موسم گرما کے طویل دنوں کی صبح بھی پاکستانی صبح جیسی ٹھندی اور دھیمی نہیں ہوتی اور سوا چھ بجے ہی گرم سورج خاصا اوپر چڑھ کر اپنی چمکتی دھوپ دبئی کی گلیوں اور عمارتوں پر بکھیر چکا تھا پھر بھی دماغ میں بسے صبح کے خوبصورت تصور کا اثر تھا جو میں نے بازو کھول کر کچھ گہرے سانس لیے اور کہا

“واہ_کتنی پیاری صبح!”

شاید اس لئے بھی کہ صبح کی تازہ کرنیں جذب کئےاور ڈوبتے سورج کی نارنجی روشنی سے وٹامن ڈی نچوڑے ہفتوں اور مہینوں گزر جاتے ہیں۔ دن رات کے ممی بیوی جھمیلوں میں ہم عورتوں کا فطرت سے کلام تقریبا ختم ہو کر رہ جاتا ہے ایسے جیسے فطرت نے یہ کائنات عورت کے لئے تھوڑا ہی بنائی ہے۔ اس لئے صبح کی سیروں اور شام کی چہل قدمی پر شوہروں کا تو مکمل اختیار ہوتا ہے بس بیگمات اور ممیاں ہی چولہے،کچن اور کمروں کی ہو کر رہ جاتی ہیں۔

جب ٹھندی میٹھی صبحیں چٹختی اور مسکراتی ہیں تب ہم ممیاں کبھی بچوں کو بستر سے نکلوا کر باتھ روم میں پہنچاتی ہیں، یونیفارم بدلواتی ہیں،اور ساتھ ساتھ بھاگتی دوڑتی اپنے ان دیکھے درجن بھر ہاتھوں سے ناشتے اور لنچ باکس بھی بناتی ہیں۔میرے تین بچوں اور چہیتے میاں کے لئے سات لنچ باکس تو صرف مجھے ہی بنانے پڑتے ہیں۔۔۔ ایک ایک لنچ باکس اور ایک سنیک باکس، جن کے چار پانچ اور چھ بچے ہیں وہ نجانے کیا کرتی ہوں گی۔ ماسیوں جیسی عیاشی پاکستان میں رہنے والی ممیز کو تو ملتی ہوگی ہم ملک سے باہر رہنے والی ممیوں کو کم ہی نصیب ہوتی ہے۔ چناچہ ایک اکیلی ماں صبح کے دو تین گھنٹے دو تین لوگوں کا کام ادھر اُدھر بھاگتی پھرتی کرتی رہتی ہے اور جب یہ سب کام نمٹا کر بچوں اور میاں کو گھر سے روانہ کرتی ہے تو ساتھ ہی ساتھ صبح بھی اپنی دھیمی کرنیں سمیٹتی روانہ ہو کر تپتی دھوپ دہلیز پر پھیلا چکی ہوتی ہے۔ اسی طرح شام کو ساری فیملی کے کام، بچوں اور میاں کو ریسو کرنا،ان کے کھانے بنانا، کھلانا پلانا،سمیٹنا،دھونا دھلانا،بچوں کی فرمائشیں اور شکایتیں سننا،ان کے جھگڑے نمٹانا، میاں کی خدمتیں عروج پر ہونے کی وجہ سے شامیں بھی باہر سے ہی ہماری راہ تکتی سمٹ کر جا کر سو جاتی ہیں۔ تو ہم ماؤں کے نصیب میں آتی ہیں اکثر کڑکتی ہوئی دوپہریں یا سناٹے بھری خراٹے لیتی اندھیری راتیں۔

تو یہی وجہ تھی کہ یہ ایک عجوبہ صبح تھی جب میں نے ذرا سے لمحات کے لئے صبح کو سانسوں میں بھرنے کی اک ذرا سی عیاشی کی اور ٹیرس پر کھڑے ہو کر دو چار گہری سانسیں لئیں۔ کھلے آسماں کو دیکھا اور صبح کی کچھ نرمی کو اپنی بانہوں میں بھرا۔

زرا دو منٹ میں میں کمرے کی طرف لوٹی تو آمنہ بند آنکھوں سے انگڑائیاں لیتی دروازے کی طرف آئی اور بولی۔

“What a pleasant day!!”

میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔آمنہ۔۔!!وہ آمنہ جسے میں کہتی ہوں جاو سائیکل چلا آؤ شام میں، اتنی پیاری شام ہے تو جواب آتا ہے

” It’s so hot!”

اور فاطمہ

“It’s boring!”

ایک اکیلا محمد سائیکلنگ کا شوقین ہر وقت نیچے جانے پر تیار ہوتا ہے۔ چاہے بادل ہو،بارش ہو،آندھی ہو کہ طوفان ہو، خود پر سب سے زیادہ توجہ دینے والا محمد سب سے کم نخرے کرنے والا بچہ ہے اور وہ میری یہ ڈھیلی ڈھالی بے نیاز بچیوں کے نخرے تو دیکھو!توبہ!

تو یہ میری سستی کی ماری آمنہ جس کو نہ صبح کے سویرے میں کبھی خوبصورتی دکھائی دی نہ کبھی شام میں مُسرت٬اور آج وہ بند آنکھوں سے مجھے بتا رہی تھی کہ کتنا خوبصورت دن ہے!.

ایک ہی لمحے میں سمجھ میں آ گئی بات! ہمیشہ ان کو پیچھے سے دھکا لگا کر آگے چلانے کی کوشش میں ہم خود بھی تھک جاتے ہیں اور بچوں کو بھی بیزار کر دیتے ہیں۔ ہم خود کبھی بچوں کو آگے سے لیڈ کرنے کی کوشش نہیں کرتے ناں،ہم بچوں کو ترغیب نہیں دیتے، انسپائر نہیں کرتے، خالی خولی نصیحتیں کرتے اور علم دیتے ہیں۔ کسی بھی وجہ سے کسی بھی حالات میں وہ کام خود نہیں کرتے جو ان کو سکھانا چاہتے ہیں۔آج میری ذرا سی صبح سونگھنے کی کوشش نے اسے بتا دیا تھا کہ صبحیں اور دن خوبصورت بھی ہوتے ہیں۔

مجھے یاد آیا کہ جب فاطمہ دو تین سال کی تھی تو پیزا ہٹ میں فاطمہ پیزا کھانے پر بڑا تنگ کرتی۔ہم میاں بیوی پیزے کے شوقین اور فاطمہ ہر بات پر نو ،نو کرنے والی، کھپ ڈالنے والی،تو بالآخر ہم نے کیا کیا کہ اسکی پلیٹ میں ویجز رکھتے اور اور اسکو مکمل نظر انداز کر کے خود پیزا پر ٹوٹ پڑتے۔پھر ایک روز ہم حیران رہ گئے جب فاطمہ نے رو رو کر ہم سے 🍕 مانگا اور ہمیں احساس ہوا کہ ہم نے عرصے سے اسے 🍕 آفر ہی نہ کیا تھا۔ اسے خود ہی احساس ہوا کہ وہ جو چیز اماں ابا اتنی رغبت سے کھاتے ہیں اور مجھے نہیں دیتے یقینا سب سے مزیدار ہے۔وہ دن اور آج کا دن فاطمہ 🍕 کی ہم سے بڑھ کر شیدائی ہے۔بچے انسپریشن سے ہی سیکھتے ہیں ناں۔☝

اور ہم مائیں کیا کرتی ہیں،خود بھوکی پیاسی پیالیاں لے کر بچوں کے سامنے بیٹھ جاتی ہیں،کبھی گانے سنا سنا، کبھی جہاز اڑا اڑا،کبھی ٹی وی اور موبائل دکھا کر گھنٹوں بچوں کو کھلانے میں پاگل ہوتی رہتی ہیں۔اور اگر جوائنٹ فیملی میں ہیں تو آس پاس کے سسرالی ماحول کا دباؤ الگ جو ہر وقت ٹیڑھی آنکھ سے کہتا رہتا ہے

“بچوں کو کھلاتی نہیں اپنے کھانے کی کتنی فکر ہے!😏”

کچھ کام نپٹانے کا بھی مسلئہ ہوتا ہے کہ بچے نپٹ جائیں تو سکون سے بیٹھ کر تسلی سے کھائیں اور پھر ماؤں کے دلوں کو لگا وہ سدا بہار غم کہ “ہاے ہاے۔۔ہمارے بچے نے دو گھنٹے سے کچھ نہیں کھایا!”

کیوں نہیں ہم مائیں بچوں کو چھوڑ کر خود کھانا لیکر بیٹھ جاتیں اور مزے لے لے کر کھاتیں ۔بچے نے جہاں دو گھنٹے نہیں کھایا تو آدھا گھنٹہ مزید نہ کھائے گا تو کیا قیامت آ جائے گی۔ اس سے پہلے کہ ہم بچے میں ترغیب پیدا کریں ہم ان کو کھانا ٹھونسنے پر لگا دیتے ہیں نتیجتا بچے کھانے سے تب تک بھاگتے رہتے ہیں جب تک باہر سے،نرسری یا سکول سے ،آس پڑوس کے بچوں سے انہیں کوئ بہتر ترغیب نہ مل جاے۔

بچوں سے پہلے خود کھانا بچے کو سبق دیتا ہے کہ کھانے کو کھایا جاتا ہے مزے لے لے کر! یہ روز روز کا بکھیڑا نپٹے گا جب بچہ یہ جان لے گا کہ کھانا کس قدر ضروری اور اہم کام ہے جو اس کی ماں اتنے ذوق وشوق سے اور فرصت سے سرانجام دیتی ہے۔اور یہ منہ زبانی بتانے سے نہیں، کر کے دکھانے سے ہو گا!

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں