رمضان، عید اور رشوت خور پولیس اہلکار


قانون نافذ کرنے والے ادارے پاکستان کے وہ ادارے ہیں جن کو آئین پاکستان نے حق دیا ہے وہ پاکستان کی سرزمین پر قانون نافذ کریں۔ پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے یوں تو بہت سے ادارے شامل ہیں۔ لیکن ان اداروں میں ایک ادارہ پولیس کا بھی ہے۔ اس کا کام عوام کی جان مال کی حفاظت کرنا ہے اس میں بھی کوئی شک نہیں کیا جا سکتا پولیس والے اپنا فرض نبھاتے ہوئے شہید ہو جاتے ہیں۔ پولیس والوں کی قربانیوں کو ہم فرموش نہیں کر سکتے۔ ایسے واقعات بھی دیکھنے کو مل جاتے ہیں جب ہم اپنی پولیس پر فخر ماسوس کرتے ہیں۔ لیکن ا س کے ساتھ ساتھ  عوام پر ظلم ستم کرنے کو بھی  دیکھنے کو ملتا ہے، چاہے وہ احتجاج کرنے والے لوگوں پر سیدھی گولیاں برسائی جائیں، یا کسی بے گناہ کو مقابلہ میں مارا جائے، یا انصاف مانگنے والے ہی سے اپنی جیب گرم کی جائے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جاتی لیکن کچھ ماہ کے لیے برترف کر دیا جاتا ہے۔ کچھ ماہ بعد ان کو بحال کر دیا جاتا ہے۔ پولیس کا نعرہ ہی جب خدمت اور حفاظت کا ہے، لیکن پولیس کو دیکھتے ہی لٹنے کا خوف پیدا ہو جاتا ہے۔ پولیس کی وردی تو تبدیل کی گئی لیکن ان کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، پولیس والوں کو مہنگی گاڑیاں تو دی گئی  لیکن پھر بھی یہ ہیں کہ اپنی عادتوں سے باز نہیں آتے۔ رمضان شریف کو سارے مہینوں پر فضیلت حاصل ہے۔

جہاں ایک نیکی کرنے کا ثواب ستر گناہ زیادہ ملتا ہے، وہاں گناہ بھی اتنا زیادہ ہی ملتا ہے۔ لیکن ہمارے پولیس والوں کو شاید اس کا پتہ نہیں ہے یا پھر خوف خدا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے کا ڈر تک نہیں ہے ان لوگوں میں، رمضان شریف کے مہینے میں بھی ان لوگوں کی حرکتوں سے عوام بچ نہیں سکی۔ روزانہ کی بنیاد پر شام کے وقت ریڑھی والوں سے افتاری کا سامان فری میں حاصل کرنا اسے بھتہ خوری کہہ  لیں یا جگا ٹیکس  کیا اس افتاری سے ان کو روزے کا ثواب ملے گا نہیں کبھی بھی نہیں سارا دن بھوکا اور پیسا رہنے کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ اس مقدس  مہینے میں بھی ان کی حرام کھانے کی عادت نہیں چھوٹی۔

دس سال کا بچہ ریڑھی لگا کر محنت مزدوری کر رہا ہے رزق حلال کما رہا ہے۔ ان کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ وہ بچے کو معاف تک نہیں کرتے جب بچہ ان کو اپنی جانب آتے دیکھتا تو کہتا ہے وہ دیکھو حرام خور آگئے۔ اس سے زیادہ ان کی تذلیل کیا ہوگئی۔

خیر سارے پولیس والے بھی ایک جیسے نہیں ہوتے، جہاں برے لوگ ہوتے ہیں وہاں اچھے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہوتی۔  رمضان شریف تو ختم ہونے والا ہے اب عید کی آمد آمد ہے اور پولیس والے جگہ جگہ ناکے لگا کر عید ی وصول کرنے میں مشغول ہیں۔ یہ سلسلہ تو پورا سال چلتا رہتا ہے لیکن ان دنوں میں کچھ زیادہ ہی کمائی ہو جاتی ہے۔ زیادہ تر ان کا نشانہ پردیسی لوگ ہوتے ہیں جو عید کی چھٹیوں پر اپنے گھر واپس جا رہے ہوتے ہیں۔ ناکوں پر پولیس اہلکاروں کے جو ہتھے چڑھ گیا عیدی لیے بغیر اس کی خلاصی ممکن ہی نہیں۔   کیوں کہ گھر واپس جانے والوں کے پاس ٹائم کی کمی ہوتی ہے اس وجہ سے وہ ان کو منہ مانگے پیسے دینے پر مجبور ہوتے ہیں۔

عام دنوں میں پولیس کے نشانے پر مزدورطبقہ، نوجوان لڑکے، ڈاڑھی والے حضرات ہوتے ہیں۔ مزدور جب شام ہو مزدوری ختم کرنے کے بعد اپنی اجرت لے کر گھر جا رہا ہوتا ہے  چوروں سے زیادہ ڈر اسے پولیس کا ہوتا ہے   ۔ اس کے علاوہ بوٹ سوٹ والے لوگوں سے پولیس والے اکثر کنارہ کشی کرتے ہیں کہیں کے دینے پڑ جائیں گے۔ ہمارے حکوت کو چاہیے کہ وہ اس بارے میں کوئی ٹھوس پالیسی بنائے جس سے پولیس والے اپنے نعرے کو باخوبی انجام دے سکیں۔ پولیس والوں کو بھی چاہیے سو، پچاس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا اپنی آخرت خراب کرنے سے بہتر ہے انسان بھوکا مر جائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی آخرت کی فکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں