پاکستان کی تاریخ حکومتوں کی تبدیلی کے حوالے سے


پاکستان کی تاریخ حکومتوں کی تبدیلی کے حوالے سے نہایت بے یقینی سے عبارت ہے۔ پاکستان ایک جمہوری ریاست ہے جس میں کبھی بھی جمہوری اقدار کو پروان نہیں چھڑنے نہیں دیا گیا۔ پاکستان میں جمہوری اقدار کے پروان نہ چڑھنے میں بڑا کردار اداروں کا اپنے آینئی تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کام کرنا ہے۔ پاکستان کے اندر جب بھی حکومتوں کی تبدیلی کا وقت آیا تو ایک بے یقینی کی فضا بن جاتی ہے۔ اس بےیقینی کی فضا کو مزید تقویت دی جاتی ہے اور یہ فریضہ حکومت سازی میں ملوث تمام اداروں کی جانب سے ادا کیا جاتا ہے۔

اگر ہم جمہوری قوتوں(سیاسی جماعتیں)کو ایک ادارہ سمجھتے ہوے آگے بڑھیں اور ان کی تاریخ کا جائز لیں اور ان کے کاموں کو پرکھنے کی کوشش کریں تو ایک سرد آہ ہماری منتظر ہوگی اور ہم انتخابات میں بڑھتے ہوے تجسّس کی گتھی بھی سلجھتی ہوی نظر آتی ہے۔ ان جمہوریتپرستں کی تاریخ سازشوں سے بھری ہوئی ہے۔

پاکستان کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی آئین سازی کا کام شروع ہو گیا جو کہ جمہوری اداروں کی ذمہ داری ٹھہرا۔ اس کو اہم ذمہ داری کو مختلف بہانوں اور تکنیکی نقطوں کی نظر کر دیا گیا۔ آئین سازی نہ ہونا پاکستان کے لیے زہر قاتل ثابت ہوا جس نے پاکستان کی وحدانیت کو ایسا زخم لگایا جس کو ہم آج تک چاٹ رہے ہیں۔ خیر 18ویں آئینی ترمیم نے مرہم کا کام کیا ہے۔ دیر آید درست آید! اس کے تاخیر میں بھی سیاسی برادری کے مفادات حائل ہوگے مزید تفصیلات کے لیے ڈاکٹر صفدر کی کتاب مسلم لیگ کا دور حکومت کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ہم دوسرے عوامل کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے۔ آئین ایک عمرانی معاہدہ ہوتا ہے جو آج کے قومی ریاست کے نظام میں ایک قانونی ریاست کا بنیادی ستون ہے۔ آئین کسی بھی ملک کے لوگوں کو اکٹھا اور مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آئین ہی لوگوں کے جان و مال، حقوق اور وسائل کی مناسب تقسیم کا ضامن ہوتا ہے۔ پاکستان کا جمہوری ادارہ (سیاسی جماعتیں، مقننہ ) اس بنیادی اور اہم فریضے کو احسن طریقے سے انجام نہیں دے سکے۔ جس سے عوام کا اعتماد جمہوری اداروں پر سے کم ہوا۔

پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد بہت سے پیچیدہ مسائل اس کی راہ تک رہے تھے۔ پاکستان کو حاصل کرنے والے لوگ انتظامی امور کا کو خاطر خواہ تجربہ نہیں رکھتے تھے۔ اسی وجہ سے وہ افسر شاہی کے آلہ کار بنتے دکھائی دیتے ہیں۔ بظاہر معمولی نظر آنے مسائل بھی گمبھیر صورت اختیار کر گئے۔ ان مسائل کو سیاستدان اچھی انتظامی سوچ اور فیصلوں سے احسن طریقے سے حل کر سکتے تھے پر ان سیاستدانوں کے ذاتی اور افسر شاہی کی من مانی آڑے آئی۔ پاکستان میں کے ہجرت کر کے آنے کو ایک کثیر تعداد تھی جس کی مثال ہمیں تاریخ میں نہیں ملتی ہے۔ ان مہاجرین کی دیکھ بھال میں بھی گڑھ بڑھ کی گئیں اور یہ دل خراش کہانیاں آج بھی تاریخ کے انمٹ صفات پر نقوش ہیں اور تاریخ کا مطالعہ کرنے والے لوگ ان کی چیخوں کو سنتے ہیں۔

اس نے بھی سیاستدانوں کی ساکھ کو خراب کیا کیوں کہ لوگوں کو تو جنت کے خواب دیکھا کر لایا گیا تھا۔ ان لوگوں کے خواب پاکستان سے وابسطہ کیے گئے جن کو تاریخ کی بے رحم آنکھوں نے چکنا چور ہوتے دیکھا۔ دوسرا اہم کام تھا لوگوں کے تحفظ مطلب کا تھا۔ اس کے حوالے سے بھی پول کھل گئی جب آپ کی نظر سے قادنیوں کے خلاف تحریک کے دوران کے واقعات گزرتے ہیں۔ رہی سہی کسر قدرتی آفات سے پوری ہو گئی۔ یہ وہ مواقع تھے جب سویلین اداروں کے اندر افسر شاہی کے ساتھ عسکری ادارے بھی آئے گئے۔ ان کو امداد اس وقت کے رائج نظام نے دی جو انگریز چھوڑ کر گیا تھا۔ انگریز نے تو یہ نظام اپنی حاکمیت کی مظلومی کے لئے بنایا تھا جس کو ہماری ہر دلعزیز افسرشاہی اور عسکری اداروں نے اپنی دھاک بٹھانے کے لئے استعمال کیا۔ اس نظام کو ہی عوام کے نفسیات پر حاوی ہونے کے لئے استعمال کیا گیا اور جو عوام طاقت کا منبع تھی اس کو ہٹو بچو سے مرعوب کیا گیا۔ اس سے بھی عوام اور سیاست دان کے درمیان فاصلہ زیادہ ہوا۔

اس دوران عسکری اداروں نے نظام کو براہ راست اپنے ہاتھ میں لے لیا جس نے پہلے سے کمزور و لاغر سیاسی اداروں کو مزید کمزور کر دیا۔ یوں سیاسی اور آئینی میدان میں پاکستان بہت کمزور ہو گیا۔ سیاست دان اور آئین جن کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے اور جو کسی بھی ریاست کی مضبوطی کی علامت ہیں کی کمزوری کی وجہ پاکستان کے دو لخت ہوا۔

اب پاکستان چار مارشل لا ء دیکھ چکا ہے جس کا ثمرہ بھی کمزور جمہوری ادارے ہیں۔ جمہوری ادارے جوکہ آئین سازی کا ذمہ دار ہیں جو ملک کو سوچ فراہم کرنے کا ذمہ دار ہیں جو ملک مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں تیاری کا ذمہ دار ہیں کو بھی ایک خاص سوچ کے تحت پروان چڑھایا گیا۔ یہ ہی وجہ کہ عوامی حکومت بھی جب جب انتخابات کے ذریعے بھی تبدیل کی گئی تو اس کو شکوک کی نظر سے دیکھا جاتا رہا ہے اور دیکھا جا بھی رہا ہے۔ اگر ماضی کے انتخابات کو جانچنے کی سطحی سی کو شش کی جائے تو غیر جمہوری طاقتوں کی بو آتی ہے۔ اس بو میں تو بیرونی طاقتوں کا تڑکا بھی مل جاتا ہے۔

2018 میں کہنے کو دوسری دفعہ جمہوری حکومت اپنی مدت پوری کر کے معاملات قانونی طریقے کے عین مطابق انتخابات کی طرف جا رہے ہیں۔ پر یہ بھی حقیقت ہے پاکستان میں آج تک کوئی بھی جمہوری وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کرسکا۔ اداروں کے درمیان اعتماد کا یہ حال ہے کہ سیاسی جماعتوں کو الیکشن کروانے والے اداروں پر اعتماد نہیں ہے۔ آپ پنجاب کے نگران وزیر اعلٰی کا مسئلہ دیکھ لیں یا ایک سیاسی جماعت کا الیکشن کمشنر کے نام پر اعتراض۔ الیکشن کمیشن کو بھی میڈیا پر آکر اپنی صفائی دینی پڑ رہی ہے۔ دوسری طرف فوجی کو بھی اپنے آپ کو صاف ثابت کرنا پڑ رہا ہے۔ عدالتیں بھی غیر جانبداری کی قسمیں کھاتی نظر آرہی ہیں۔

دوسری طرف عوام و خواص کے نفسیات پر ابھی بھی افسر شاہی اور عسکری اداروں کے اثرات واضع ہیں۔ آج میڈیا اور اخبارات بھی غیر جمہوری عناصر کی پرورش کرتے نظر آتے ہیں۔ جس کی وجہ سے عوام اپنے مسائل کا حل غیر جمہوری طاقتوں کے ہاتھ میں دیکھتے ہیں۔ ان مسائل کا حل عوام کے جمہوری طاقتوں پر اعتماد پر ہے۔ یہ اعتماد تب ہی ہوگا جب عوام کے اصل نمائندے سامنے نہیں آتے اور یہ نمائندے عوامی امنگوں کے عین مطابق معملات کو حل نہیں کرتے۔ اس کے ساتھ ان نمائندگان کو سچائی، ایمانداری اور لگن کے کڑے امتحان پر بھی اترنا ہوگا۔ اس کے بعد اداروں میں توازن قائم گیا جا سکے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں