پانی زندگی ہے ۔زندگی بچائیں اپنے لیے ، آئندہ نسلوں کے لیے اور انسانی بقاء کے لیے


 پانی زندگی ہے ۔زندگی بچائیں اپنے لیے ، آئندہ نسلوں کے لیے  اور  انسانی بقاء کے لیے

ایک انسان بغیر کچھ کھائے 21 دن تک زندہ رہ سکتا ہے ،بغیر کچھ پیے  زیادہ سے زیادہ تین دن تک زندہ رہ سکتاہے جبکہ آکسیجن کے بغیر ایک منٹ بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔  ہمارے اردگرد موجود پودے، درخت ، باغات اور کھیت آکسیجن کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں جو  وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ  کم ہو رہے ہیں بلکہ ہم اپنے ہاتھوں سے خود تباہ کر رہے ہیں ۔ درختوں ،  پودوں ،باغات اور کھیتوں  کے خاتمے، زرعی زمین پر  آبادکاری کیوجہ سے زرعی زمین میں بہت تیزی سے  کمی  آئی ،یوں  ہوا میں گرد اور گندگی کا تناسب خطرناک حد تک بڑھ گیا ہےجس کی وجہ سے ہمیں صاف ہو اتک میسر نہیں ہے۔تیزی کے ساتھ بڑھتی ہوئی انسانی آبادی کے ساتھ ساتھ  ہو ا میں بڑھتے ہوئے اسی گندگی کے تناسب ، درختوں ، پودوں  کی ہریالی اور  زرعی زمین میں تیزی سے کمی کی وجہ سے بارشوں میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے ۔

درختوں کی موجودگی گرمی کی شدت کم کرنے، ماحول کو آلودہ  ہونے سے بچانے ، طوفانوں کی شدت کم کرنے ، بارشیں لانے اور زیرزمین پانی کا ذخیرہ  بڑھانے کا سب سے اہم ذریعہ ہے ،جن کو ہم بڑی بے دردی کے ساتھ کاٹ ر ہے ہیں ۔ آج سے 10،15 برس قبل تقریباً ہر دوسرے گھر میں درخت ہوتا تھا جبکہ موجودہ صورتحال میں لوگوں کے گھر وں میں  درختوں کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔ بارشیں  زیر زمین  پانی کے ذخیرہ کو بڑھانے کا دوسرا  سب سے بڑا ذریعہ ہیں جو کہ  درختوں کی کمی کی وجہ سے بہت کم ہو چکی ہیں۔ اسی طرح سے ہمارے شہری علاقوں میں گھروں کے فرش اور چھتوں کے پختہ ہونے ، گلیوں اور سڑکوں کے پکےہونے کی وجہ سےتھوڑی بہت ہونے والی بارشوں کے پانی کی ایک ایک بوند زمین کے نیچے پہنچے بغیر ہی ضائع ہو جاتا ہے  ۔ اس کے بعد زیر زمین پانی کے ذخیرہ کو بڑھانے کا بڑا ذریعہ دریا اور نہریں ہوتی ہیں جو کہ بھارت کی جانب سے پانی کی بندش کے بعد دریاؤں کے خشک ہونے سے   یہ ذریعہ تقریباختم ہو چکا ہے۔   جبکہ  پانی کا بے جا اور بے تحاشہ  ضیاع کی وجہ سے ہم پانی کے خاتمے اور قحط کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

زیر زمین پانی کی سطح بھی خطرناک حد تک نیچے جاچکی ہے۔ آج سے 20، 25 سال قبل جہاں 50 فٹ گہرائی سے پینے کا صاف اور بہترین پانی نکل آتا تھا  ، اب وہی پانی 300 فٹ  کی گہرائی میں بھی میسر نہیں ہے۔کچھ عرصہ قبل  عالمی اداروں کی جانب سے پاکستان میں پانی کی بدتر صورتحال پر ایک رپورٹ جاری کی گئی ، جس کے مطابق اگر اسی طرح سے پانی کو ضائع کرنے کا تسلسل جاری رہا تو  آئندہ کچھ عرصہ میں پورے پاکستان بالخصوص بڑے شہروں میں سے پانی کا خاتمہ ہو جائے گا۔

پانی کی اسی طرح کی شدید کمی کا شکار موجودہ وقت میں جنوبی پنجاب، بلوچستان کے علاقے  اور سندھ میں تھر کے علاقے ہیں جہاں صورتحال یہ ہے کہ بارش کے جمع شدہ پانی میں سے ایک طرف  جانور پانی پی رہے ہوتے ہیں ،دوسری جانب انسان پینے کے لیے اپنے برتنوں میں بھر رہے ہوتے ہیں۔ یہاں پر یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سال سردیوں اور بہار کے موسم میں بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے جہاں تربیلا اور منگلا  ڈیم (جو کہ پاکستان میں پانی کا سب سے بڑا ذخیرہ ہیں)  میں پانی خطرناک  حد تک کم ہوا ہے وہیں پنجاب کے بیشتر علاقوں میں اس سال خریف کی فصل کی کاشت تقریباً 50 فیصد کم ہوگئی ہے جو پاکستان کے زرعی مستقبل پر ایک سوالیہ نشان ہے ۔ یاد رہے کہ پاکستان کی معیشت میں سب سے بڑا حصہ زراعت کا ہے۔

پانی کے خاتمہ کی سب سے تازہ ترین مثال جنوبی افریقہ  کے ساحلی شہر کیپ ٹاؤن  کی ہے جہاں عالمی اداروں کی جانب سے چند سال قبل پانی کے خاتمہ کی وارننگ جاری کی گئی تھی اور اب وہاں سے پانی کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے(پڑھے لکھے اور انٹرنیٹ سے واقفیت رکھنے والے حضرات یوٹیوب سے اس شہر سے متعلق میڈیا رپورٹس اور ڈاکیومینٹریز دیکھ سکتےہیں)

جس حساب سے ہمارے ہاں روزانہ کی بنیاد پر پانی کو ضائع کیا جا رہا ہے اگر یہی صورتحال رہی تو آئندہ چند سالوں میں ہمارا حال  اس سے بھی بدترہو گا کیونکہ جنوبی افریقہ میں تو پھر بھی  حکومت عوام کی پرواہ کرتی اور عوام بھی بحیثیت عوام  کچھ اقدامات اٹھاتی ہے  اور حکومت دوسرے شہروں سے ٹینکرز کے ذریعے پانی فراہم کر رہی ہے  لیکن  یہاں پاکستان میں صورتحال کو بہتر طریقے سے کنٹرول کرنا تو  دور کی بات ہے  ،یہاں (خاکم بدہن ) صرف افراتفری اور خانہ جنگی کا سماں ہی ہو سکتا ہے ۔ لہٰذا ، خدارا پانی کو ضائع  کرنے اور ہونے سے  بچانے کی از حد ممکن کوشش کریں۔

آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ہم روزانہ کی بنیاد پر اتنا پانی ضائع کر رہے ہوتے ہیں کہ جتنے پانی سے قحط زدہ علاقوں کے لوگوں کی کئی دنوں کی ضروریات بطریق احسن پور ی ہو سکتی ہیں ۔

ہم درج ذیل کاموں کو سر انجام دے کراور احتیاطی تدابیر اپنا کر پانی کا  بچاؤ اور بہترین استعمال  یقینی بنا سکتے ہیں۔

1۔ اپنے گھروں میں موجود صحن ، احاطے  یا  کچی جگہ پر درخت اور پودے لگائیں، کچی جگہ دستیاب نہ ہونے کی صورت میں مختلف اقسام کے پودوں کے گملے ضرور رکھیں۔

2۔ اپنی موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں (بشمول کاروں اور رکشوں) کو پانی سے دھونے کے بجائے کپڑے سے صاف کریں۔

3۔ سڑکوں اور گلیوں میں پانی کے چھڑکاؤ سے اجتناب کریں۔

4۔ نہاتے وقت پانی کو ضائع ہونے سے بچائیں اور ضرورت سے زیادہ نہ بہائیں۔

5۔ گھروں اور ہوٹلوں میں برتن اور کپڑے دھوتے وقت بھی پانی کے غیر ضروری  طور پر ضائع ہونے سے روکیں۔

6۔ گھروں کی صفائی کے دوران حتیٰ الامکان کوشش کریں کہ پانی ضائع نہ ہو۔

7۔ مکانون کی تعمیر کے دوران پانی کے غیر ضروری استعمال کو ترک کر دیں کیونکہ اس ذریعے سے بھی بہت سا پانی ضائع ہو جاتا ہے۔

نوٹ:-  ہم (پڑھے لکھے حضرات ) اپنے معاشرے میں موجود برائیوں اور حکمرانوں کی خامیوں کا تذکرہ تو دن رات بڑے زور و شور سے کرتے ہیں لیکن کیا  کبھی ہم نے سوچا ہے  کہ ہم نے اپنی تعلیم وشعور کے ذریعے معاشرے کی مثبت تعمیر میں اپنا کیا کردار اد اکیا ہے؟      
  چیں !کیونکہ  ذر ا  نہیں پورا سو

شکوہ ءظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا

 اپنے حصے کی کوئی  شمع  جلاتے  جاتے

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
غلام علی کی دیگر تحریریں
غلام علی کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں