گودار:العطش…. العطش


abid mirعابد میر

گوادر کا نام آتے ہی بیرونِ بلوچستان احباب کے ہاں ایک ایسے مقام کا نقشہ گھوم جاتا ہے جو اگر دوبئی نہیں، تو اس سے ملتی جلتی کوئی چیز ضرورہو گی۔ ایک زمانے میں تو اس کے دوبئی بننے کی خبریں یوں عام تھیں، جیسے افغانستان کے ثور انقلاب کے بعد پاکستان میں سرخ انقلاب کے زعم میں بقول شخصے، سرخوں نے سرحد کے اِس پار بعد از انقلاب وزارتیں تک تقسیم کر لی تھیں۔ گوادر کا نام بھی مارکیٹ میں ابھی دس پندرہ برس قبل کچھ ایسا چلا کہ لاہور، اسلام آباد سے لوگوں نے مہنگے داموں پلاٹ خرید لیے۔ ایک ریلا سا چل پڑا۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد کے پراپرٹی ڈیلر، جنھوں نے خود کبھی گوادر میں قدم نہ رکھا تھا، گوادر کی زمین کا سودا کرنے لگے۔ اس مافیا کے دکھائے سبز باغ کے ہاتھوں آدھا پاکستان لٹ چکا ہوتا، اگر یہاں بلوچ بغاوت نے سر نہ اٹھایا ہوتا۔سن دو ہزار چار میں گوادر میں تین چینی انجینئرز کا قتل وہ پہلا واقعہ تھا، جس کے ساتھ ہی پہلی بلوچ مزاحمتی تنظیم کا ظہور ہوا، اور بلوچستان ایک نا ختم ہونے والی آگ میں دھکیل دیا گیا۔
یوںحالیہ بغاوت کا آغاز جس گوادر سے ہوا،وہ گوادر مگر اس تحریک کا مرکز کبھی نہ رہا، بلکہ یہ مرکز اس کے پہلو میں واقع تربت کی طرف منتقل ہو گیا۔ شاید اس لیے بھی کہ اہل گوادر استحصال اور محکومی کے مفہوم سے ابھی آشنا ہی نہ تھے۔ وہ تو جب سے اس جغرافیے میں آئے تھے، اسی بھوک اور بدحالی میں رہ رہے تھے۔ بھوک کا اصل احساس تو شکم سیری کے بعد ہوتا ہے نا۔ یا لذیذ طعام کو دیکھ کر ہی اشتہا بڑھتی ہے۔ سو‘ایسا ہی ہوا۔ یہ تو ایک آمر کے عہد میں تیزی سے بنے کوسٹل ہائی وے نے اسی برق رفتاری کے ساتھ یہاں کے عوام کے سماجی سیاسی رویوں کو بدل ڈالا۔ لوگ زندگی کی تعیشات سے آگاہ ہوئے۔ سمندر میں گھری، مچھیروں کی اس بستی کا ایک نیا جیون دان ملا۔
یہ سادہ لوح مگر کب جانتے تھے کہ یہ مایا جال ان کی آسائشوں کے لیے نہیں، ان کے پیروں تلے زمین کھینچنے کے لیے بنا جا رہا ہے۔ تبھی تو گودار کو، دوبئی بنانے کی سعی تو ہوتی رہی، مگر عوام کے دکھوں کا کوئی مداوا نہ ہوا۔ دنیا بھر میں اس کے نام کا ڈنکا بجانے والے پورٹ کے فنکشنل ہونے تک یہاں کے عوام کو بجلی جیسی بنیادی سہولت میسر نہ آ سکی۔ وہ تو جب اہل اقتدار کو اس شہر میں اپنی کمیں گاہیں تعمیر کرنا پڑیں تو بجلی کے کھمبے اور تاریں بھی ان کے ساتھ آ گئے۔ اب جب کہ 3ایک خون ریز دہائی کے بعد اس کی اقتصادی راہداری کی بنیاد رکھی جا چکی تو پانی جیسی ایک اور بنیادی ضرورت اس شہرِ ناپرساں میں اب تک ناپید ہے۔ یہ کیا تماشا ہے کہ جس روز ملک کے وزیر اعظم اقتصادی راہداری کا سنگِ بنیاد رکھتے ہوئے گوادر کو ، اسلام آباد کے طرز پر خو دمختار بنانے کی پھلجڑی چھوڑ رہے تھے، عین اسی لمحے گوادر سے العطش، العطش کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔ گوادر میں پینے کے پانی کی نایابی ملک کے اہم ترین ذرائع ابلاغ میں اب تک ایک منٹ کی خبر کی جگہ بھی نہیں بنا سکی۔ کیا ’خبر‘ محض سانحہ گزرجانے کے بعد ہی ممکن ہے؟
گودار کا سالانہ ادبی میلہ اس انسانی آفت کی نذر ہو چکا۔ جہاں لوگ پانی کو ترس رہے ہوں وہاں کوئی کیا شعر سنے گا، ادب کی بات کرے گا۔ سوشل میڈیا پہ کسی دل جلے گوادری نے لکھا، کل گوادر میںمیرے ایک دوست کی گاڑی کے سامنے ایک عورت آئی اور صدا لگائی،”خدا کے نام پہ، پانی کی ایک بوتل دے دو۔“ اور مقامی اخبارات میں یہ خبر بھی دب کر ہی رہ گئی، جو اپنی خبریت کے باعث خصوصی اسٹوری بن سکتی تھی کہ گوادر میں ایک گھر سے چور پانی کے درجن بھر کین چوری کر کے لے گئے۔اہل اقتدار کی یہ لاپرواہی یونہی برقرار رہی تو یہ معمولی واقعات کسی بھی وقت غیر معمولی سانحے کو جنم دے سکتے ہیں۔
گودار میں سالانہ ادبی میلے کی بنیاد رکھنے والے ناصر رحیم سہرابی نے اس سارے قضیہ پہ ایک طنزیہ و طربیہ مختصر اظہاریہ لکھ بھیجا ہے۔ یہ ایک طرف کسی مقامی لکھنے والے کا مدلل اظہاریہ ہے، وہیں دوسری طرف یہ گوادریوں کی حسِ ظرافت کی مثال بھی ہے۔گوادر کے موجودہ مسئلے کی ساری تاریخ اور موجودہ کہانی، اس مختصر اظہاریے میں سمٹ آئی ہے۔۔ جسے انھوں نے ذومعنی طربیہ و طنزیہ عنوان دیا ہے؛” پانی2،بجلی2؛نئے سال کی پرانی کہانی!“
آئیے انھی کی زبانی سنتے ہیں ؛
”1958 سے قبل عمانی دور میں گوادر میں پانی کی فراہمی کنوﺅںکے ذریعے ہوتی تھی۔ پائپ لائن سے میٹھے پانی کی فراہمی کا آغاز نیپ کے دورِ حکومت میں ہوااوراس کے ساتھ ہی پہلے ’ پانی دو‘ بن گیااور پھر کچھ ہی سالوں بعد بجلی بھی ’ دو‘ہو گئی، اور ہر طرف ” پانی دو، بجلی دو “کی صدائیں گونجنے لگیں جواب تک 4رکنے میں نہیںآتیں۔
1970 کی دہائی میںگوادرکو پانی کی فراہمی کے لیے آنکاڑہ ڈیم نمبرایک بنا۔ بھٹو کے سات سالہ دور ِحکومت کے بعد جنرل ضیا نے ملک کا انتظام سنبھالا۔ قومی منظر نامہ بدلا۔ ملک میں نظامِ مصطفی ،نفاذِ اسلام اور بحالی جمہوریت کے نعرے گونجے مگرگوادر ’پانی دو ، بجلی دو‘ کے گرداب سے نہ نکل سکا۔ غیر جماعتی الیکشن ہوئے، جونیجو وزیر اعظم بنے، گوادر کو پہلا سینیٹر ملا،مگر پانی اوربجلی ’ دو‘ ہی رہے۔
1988 آیا، بے نظیر بھٹو کی سربراہی میں جمہوریت کی گاڑی چلی، گوادر فش ہاربر کاافتتاح ہوا، آنکاڑہ ڈیم نمبر دو بنا، مگر گوادر کی دیواریں ’پانی دو‘ اور’بجلی دو‘ کے نعروں سے سرخ، سبز اورسیاہ ہوتی رہیں۔ پھر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان میوزیکل چیئر کا کھیل شروع ہوا۔غلام اسحاق خان کی جگہ فاروق لغاری امپائر بنامگر کھیل میں کوئی خلل نہیںپڑا ۔ نواز شریف کی دوسری اننگز میں وفاقی اورصوبائی وزرا کی ایک ڈیزرٹ سفاری کراچی سے بذریعہ کار کچے راستوں سے ہوتی گوادرپہنچی اور کراچی ٹو گوادرکوسٹل ہائی وے کامنصوبہ زیر بحث آنا شروع ہو،ملک ایٹمی طاقت بن گےامگر گواد ر پانی اور بجلی کے آسیب سے نکل نہ پاےا ۔
1999 میں ملکی منظر نامہ پھر بدلا۔جنرل پرویز مشرف آئے اور اپنے ساتھ کیا کچھ نہیں لائے۔ میگا پراجیکٹس، مکران کوسٹل ہائی وے، گوادر ڈیپ سی پورٹ، میرانی ڈیم، وغیر ہ۔ تاریخ میںپہلی بار گوادر کے لیے مخصوص ادارے بنے ؛گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی، گوادر پورٹ اتھارٹی۔ لہڑی صاحب خود تو پیر و مرشدنہیں تھے مگر ضرور کسی پہنچے ہوئے سے گوادر کی نحوست کا توڑ معلو م کرآئے تھے۔ اور پھر ان کی سر براہی میں ڈیسالینیشن پلانٹس کا فیشن چل نکلا۔ بات گراب ہاﺅسنگ اسکیم سے شروع ہوئی اور کارواٹ تک پہنچی۔ لوہے کی چادریں بنانے والے سمندرکے پانی کومیٹھا کرنے لگے۔ ۔ خشک اوربنجر زمینوں سے سونا اُگلنے لگا۔ خواب حقیقت بننے لگے، کراچی کا دودن کا سفر آٹھ گھنٹوں میں طے ہونے لگا۔ لوگ بال بنانے اور ڈنر کھانے کراچی جانے لگے ۔ریگستانوں میں سڑکیں اور عالی شان عمارتیں بنیں اوربن کر خاک ہوئیں۔گوادر ’برانڈ نیم ‘بن گےا مگر پانی اور بجلی ” دو “کے ” د و “ رہے۔
1وقت نے پھر کروٹ لی۔ عدلیہ سر گرم ہوئی۔ بے نظیر قتل ہوئیں۔ زرداری کے بعد نواز شریف کا تیسرا دورآیا۔ بلوچستان میں پہلی بارمکران کو وزارت اعلیٰ نصیب ہوئی۔چائنا پاکستان اقتصادی راہداری کے عظیم الشان منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز ہوا اور گوادراربوں ڈالر کے اس منصوبے کے ماتھے کا جھومرٹھہرا ،لوگ چینی زبان سیکھنے کی تےاریوں میں جت گئے مگر نہ پانی ایک ہوا اور نہ ہی بجلی۔
28ستمبر 2015کو گوادر کے پاکستان بننے کی 57 ویں سال گرہ کے وقت سے ہی پانی کی ممکنہ قلت اور بارش نہ ہونے کی صورت میں پانی کے شدید بحران کی باتیں شروع ہو گئی تھیں۔ گذشتہ پانچ سالوں میںقلت آب کا ےہ دوسرا بڑا اور شدید بحران ہے۔ ان پانچ برسوں سے قبل میرانی ڈیم بن چکاتھا، سوڈ اور شادی کور ڈیم کے منصوبے شروع ہوچکے تھے، کارواٹ سمیت، بی ڈی اے، بی سی ڈی اے اور جی ڈی اے ڈیسالینیشن اور آر او پلانٹس پر کروڑوں روپے خرچ کرچکے تھے مگر پھر بھی وہ ہو کر رہا جس کے ہونے کا سب کو یقین تھا۔
بہت سال پہلے ہمارے ایک دوست نے ہمارے سدا بہار نعرے ےعنی ’پانی دو ،بجلی دو ‘کی تشریح ذرا مختلف انداز میں کی تھی؛ بجلی دو ےعنی دو عدد۔ ایک غریب غربا والی بجلی جس کاکوئی بھروسہ نہیں اور دوسر ی بجلی و ہ جس پر لوڈشیڈنگ کا اثر نہیں ہوتا۔اسی طرح پانی بھی دو، ایک وہ جس کے لیے دن گننے پڑتے ہیں، وال مین کے پیچھے بھاگنا پڑتا ہے، اور دوسرا وہ جو ٹنکیاں بھرنے کے بعد باغ بانی کے لیے استعمال ہوتا ہے ےا لان میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔
خوش قسمتی سے صورت حال تھوڑی سی تبدیل ہوئی ہے، اب ہمارے لیے پانی دو کی جگہ تین ہوچکے ہیں؛ ڈیسالینیشن پلانٹ کا پانی جو بے حدمہنگاہونے کے باوجود پینے کے قابل نہیں، ٹینکروں کا پانی جس کی کوالٹی اور سپلائی کے انتظام پر کوئی خوش نہیں اور کنوئیں ےا بورنگ کاکھارا پانی جس کے لیے کوئی کسی کا محتاج نہیں۔
ستمبر1958سے اب تک بہت کچھ بدل چکا ہے، سوائے پانی کے۔ گوادر اورگرد ونواح میں روزمرہ استعمال کا پانی تب بھی کنوﺅں کا ہوتا تھا اورآج بھی کنوئیں اور بورنگ شہر میں پانی کا سب سے بڑا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ “


Comments

FB Login Required - comments