عمران، ریحام، شیرو اور میں۔ ۔ ۔ (8)


رات گزر گئی تھی۔ اگلے دن عمران خان نے نومی بادشاہ کو کال کی۔ آواز سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ شدید ٹینشن میں ہے۔ عمران نے زیادہ لمبی بات نہیں کی۔ صاف لگ رہا تھا کوئی انہونی ہوگئی ہے۔ نومی نے عمران خان کے بولنے کا انتظار کیا۔

عمران بولا :نومی بادشاہ ایک کام کرو۔ نومی نے کہا جی بتائیں۔ عمران بولا: تمہیں اگر ریحام خان فون کرے تو تم اس کا فون نہ اٹھانا۔ نومی بادشاہ کو اپنے خدشات پورے ہوتے نظر آئے۔ نومی بادشاہ نے پوچھا :کیوں کیا ہوا خان جی؟ عمران نے جواب دیا: نومی بادشاہ! ریحام خان نے سب میسجز پڑھ لیے ہیں جو تمہارے اور میرے درمیان ہوئے تھے کہ کیسے تمہارے دوست سے ریحام خان کی مجھ سے شادی سے پہلے کی گفتگو کے سکرین شاٹس لینے تھے۔ ریحام نے وہ سب کچھ پڑھ لیا ہے۔ وہ اب تمہیں فون کرے گی۔ تم اس کا فون نہ اٹھانا۔ نومی نے کہا کہ اس کے پاس تو ریحام خان کا فون نمبر نہیں اسے کیسے پتہ چلے گا کہ وہ ریحام کا فون ہے جو اس نے نہیں اٹھانا۔ عمران خان نے کہا وہ اسے ریحام کا فون نمبر ابھی بھیجتا ہے۔

نومی نے انتظار کرنا شروع کیا، لیکن عمران خان نے ریحام خان کا فون نمبر نومی کو نہیں بھیجا۔ نومی نے بھی عمران خان کو یاد دہانی کرانا مناسب نہ سمجھا۔ نومی نے سوچا کہ ریحام اگر فون کرے گی اور بات کی بھی تو وہ اسے سنبھال لے گا۔

اس انتظار میں بیٹھے ہوئے کہ کب عمران خان اسے ریحام خان کا فون نمبر بھیجتا ہے، نومی بادشاہ نے سوچا کہ اُس رات جب عمران خان غصے میں نومی بادشاہ کو میسجز کررہا تھا تواسے شک ہوگیا تھا کہ عمران کا فون ریحام کے ہاتھ لگ گیا ہے۔ اب وہی بات عمران خان نے فون کر کے تصدیق کر دی تھی، تاہم نومی بادشاہ کو یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ عمران اسے فون کر کے یہ کیوں کہہ رہا تھا کہ وہ ریحام کا فون نہ اٹھائے۔ عمران نے نومی کو تفصیل نہیں بتائی کہ وہ میسجزریحام خان نے پڑھ لیے تھے جس پر گھر میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا تھا، اس لیے اگر ریحام خان اس بارے بات بھی کرے تو وہ کم از کم آگے سے سوچ کر جواب تو دے سکے۔

نومی بادشاہ نے ذہن میں وہ سب میسجز یاد کرنے کی کوشش کی جو اس کے اور عمران خان کے درمیان ہوئے تھے جو اب بقول عمران خان ریحام نے پڑھ لیے تھے اور وہ اب شاید ہر اس بندے کو فون کررہی تھی جس سے عمران کی ریحام کے سکرین شاٹس یا ثبوتوں کے حوالے سے بات ہوئی تھی۔ ابھی تو یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ ریحام خان نے صرف نومی کے میسجز پڑھے تھے یا اس فون میں موجود سارا مواد پڑھ لیا تھا جو زیادہ خطرناک تھا۔

نومی کو اچھی طرح یاد تھا کہ کیسے عمران خان نے اسے بلا کر ساری صورتحال بتائی تھی، وہ بہت ڈسٹر ب تھا اور بار بار ایک ہی بات کرتا کہ نومی بادشاہ بہت بڑی غلطی ہوگئی۔ تم ہی اس معاملے میں کچھ کرسکتے ہو۔ میری زندگی کا مسئلہ ہے۔ مجھ سے بڑی بھول ہوگئی ہے۔ نومی عمران کو کہتا رہا کہ ہم لوگ تو شادیاں نبھاتے ہیں، توڑتے نہیں۔

نومی بادشاہ پر یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ عمران خان کو اس وقت ایک پکا بہانہ چاہیے تھا ریحام خان کو واپس بھیجنے کا۔ عمران خان کا خیال تھا کہ جو باتیں اب تک اسے لندن سے اپنے ایک دوست کے ذریعے پتہ چلیں وہ کافی تھیں، لیکن عمران خان کے خیال میں وہ باتیں ایسی تھیں جن کے ثبوت نہیں تھے، جس کی وجہ سے ریحام خان بڑی آسانی سے مکر گئی کہ عمران خان کو جو اطلاعات لندن میں پارٹیوں میں شرکت اور ذاتی زندگی کے بارے اس کے دوست نے بھیجی تھیں وہ غلط ہیں۔

ریحام نے عمران کے سامنے ایک بے ضرر سا اعتراف ضرور کیا کہ شادی سے پہلے صرف اپنے کزن سے گپ شپ ہوتی تھی۔ شادی کے بعد اپنے پہلے شوہر کے ساتھ۔ اس کے علاوہ کبھی کوئی مرد اس کی زندگی میں نہیں آیا۔ عمران خان یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھا کیونکہ اسے لندن کے دوست نے کچھ اور باتیں بتائی تھیں، لیکن عمران کے پاس ایسے ثبوت نہیں تھے کہ وہ ریحام کو جھوٹا ثابت کرسکتا۔

جب سے عمران خان کو یہ پتہ چلا کہ ریحام خان اس سے شادی سے پہلے اسلام آباد کی پارٹیوں میں جاتی تھی تو اسے لگا کہ یہ ثبوت کافی ہو گا۔ کسی نے بتایا اگر کوئی یہ کام کرسکتا ہے تو وہ عمران خان کا بیس سال پرانا دوست نومی بادشاہ ہے۔ عمران نے پوچھا: نومی بادشاہ کیسے یہ سب کچھ کرسکتا ہے تو بتایا گیا کہ جس گھر پارٹی میں ریحام خان جاتی تھی وہ نومی کا بھائی کی طرح تھا اور وہ نومی بادشاہ کو کبھی انکار نہیں کرے گا۔ اس پر عمران نے سب داؤ نومی بادشاہ پر ہی آزمانے کا فیصلہ کیا اور یوں نومی سے ایک طویل نشست ہوئی جس میں عمران نے کھل کر نومی سے باتیں کیں۔

عمران کو پتہ تھا نومی بادشاہ کی ایک کمزوری یہ تھی کہ وہ یاروں کا یار تھا لہٰذا عمران نے وہی کارڈ کھیلا۔ نومی مسلسل کوشش کرکے عمران کو سمجھاتا رہا بہتر ہے کہ جانے دیں، ایسی باتوں کا کیا فائدہ۔ خود نومی بادشاہ کے لیے یہ بات اتنی اچھی نہیں تھی کہ وہ پورے اسلام آباد میں راتوں کو گھومے اور ریحام خان کے خلاف کسی فون میں محفوظ میسجز کے سکرین شاٹس لے کر عمران خان کے حوالے کرے۔ تاہم عمران خان مسلسل اصرار کررہا تھا اور نومی کے لیے انکار کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا تھا۔

عمران نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ سویا ہوا ہو اور کوئی اس کا فون اٹھا کر اس میں سے کوئی چیز پڑھ لے۔ یہ بھی کبھی نہیں ہوا کہ اس کے فون سے میسجز پڑھ کر کوئی عمران خان بن کر دوسروں کو میسجز بھی کرے۔ مگر یہ انہونی ہوچکی تھی، نہ صرف اس کے سب میسجز پڑھے جاچکے تھے بلکہ بہت سا ڈیٹا جو اس کے فون میں تصویروں کی شکل میں تھا وہ بھی ریحام خان ٹرانسفر کرچکی تھی۔

عمران اور ریحام کی اس مسئلے پر شدید تکرار ہوئی۔ عمران خان اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ اب مزید گزارہ نہیں ہوسکتا تھا۔
عمران خان نے دوستوں سے مشورے شروع کر دیے کہ اب کیا کیا جائے۔ سب قریبی دوست ریحام کے اتنی جلدی سیاسی معاملات ہاتھ میں لینے سے خائف تھے، لیکن وہ عمران خان کی وجہ سے خاموش تھے۔ اب جب عمران خان نے خود ان سے مشورے کرنا شروع کیے تو اسے اندازہ ہونا شروع ہوا کہ بات تو بہت آگے جاچکی ہے۔ کسی نے ریحام خان کو ملنے والے اے ٹی ایم بینک کارڈ کی اطلاع دی تو کسی نے فلم کے نام پر لیے گئے پیسوں کا بتایا، کچھ نے کہا: وہ لاہور میں جس سیاسی لیڈر کے گھر گئی تھیں وہاں سے تحائف کے نام پر بہت کچھ ملا تھا۔

عمران کے لیے یہ سب باتیں غیرمتوقع تھیں۔ اگرچہ عمران کے گرد وہی لوگ تھے جو اکثر خرچہ چلاتے تھے لیکن اب تک ایسا نہیں ہوا تھا کہ ان سے عمران خان کے نام پر کسی نے کچھ لین دین کرنے کی کوشش کی ہو۔

عمران خان کو نومی بادشاہ کا انتظار تھا جو کیانی کے ساتھ مشن پر اسلام آباد کے ایک گھر گیا ہوا تھا۔ عمران نے نومی کو میسجز کیے کہ وہ ہر صورت رات کو جا کر اس کے لیے سکرین شاٹس لے کر آئے۔ نومی نے پھر بات ٹالنے کی کوشش کی لیکن عمران ڈٹا رہا، نہیں نومی بادشاہ آج رات نہیں تو پھر کبھی نہیں۔ نومی نے کیانی کو ساتھ لیا اور رات گئے ایف سکس تھری کی طرف نکل گیا۔

ریحام خان لندن پہنچ چکی تھی جہاں اسے پتہ چلا کہ اسے طلاق دی جاچکی ہے۔ سب دوست بنی گالہ اکٹھے تھے۔ عمران نے نومی کو دیکھ کر کہا نومی بادشاہ ریحام جاتے ہوئے دھمکی دے گئی ہے کہ وہ کسی کو نہیں چھوڑے گی۔ تم اس کی ہٹ لسٹ پر ہو۔ خیال رکھنا۔ عمران نے لندن ایک دوست کو فون کیا کہ وہ ائیرپورٹ جا کر ریحام کو سنبھالے۔ نومی مسکرا دیا۔ نومی بادشاہ کے لیے یہ بات نئی نہیں تھی۔ ساری عمر وہ خطروں سے ہی کھیلتا آیا تھا۔ نومی بادشاہ کو فلیش بیک ہوا۔ ریحام خان کی دھمکی سن کر اسے برسوں پہلے کی وہ خطرناک رات یاد آگئی جب اسے سیکرٹ ایجنسی کے لوگ ریحام خان کی دھمکی سے بھی بڑے اور سنگین الزامات پر اٹھا کر لے گئے تھے۔ وہ رات جب عمران خان کے نومی بادشاہ کی زندگی، ریپوٹیشن، گھر جائیداد تک سب کچھ خطرے میں تھا۔

بشکریہ دنیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں