سپریم کورٹ کے فیصلے نے شیخ رشید احمد کی صالحیت کا پردہ چاک کر دیا


منگل کی شام ضمنی کاز لسٹ جاری ہوئی اور یہ معلوم ہوا کہ بدھ کی صبح ”فرزند راولپنڈی‘‘ کی اہلیت کے خلاف دائر درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا جائے گا تو دل دھک دھک کرنے لگا۔ نہ جانے کیوں یہ خواہش تھی کہ متذکرہ بالا فیصلہ ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیا جاتا۔ اگرچہ کورٹ رپورٹرز پورے وثوق کیساتھ بتا رہے تھے کہ شیخ رشید کو صادق و امین قرار دیدیا جائے گا لیکن پھر بھی اندیشہ ہائے دور دراز نے دل و دماغ میں اگر مگر کا راگ چھیڑ رکھا تھا۔ درخواست گزار نے دعویٰ کیا تھا کہ شیخ رشید نے ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں خریدے گئے گھر کی مالیت دو کروڑ دو لاکھ روپے ظاہر کی جبکہ اس گھر کی بکنگ شروع ہی 4کروڑ 80لاکھ سے ہوتی ہے۔

شواہد کیساتھ عدالت کو بتایا گیا کہ سرکاری کاغذات کے مطابق شیخ رشید 1081کنال زرعی اراضی کے مالک ہیں مگر اپنے کاغذات نامزدگی میں انہوں نے 968کنال 17مرلہ زرعی زمین ظاہر کی۔ ستم بالائے ستم یہ کہ شیخ رشید کے وکیل نے عدالت میں یہ دونوں باتیں درست تسلیم کر لیں اور یہ عذرپیش کیا کہ ان کے موکل سے غلطی ہو گئی مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ خائن اور بددیانت ہیں۔ چونکہ ماضی میںکیے گئے کئی فیصلوں میں سپریم کورٹ انتہائی معمولی نوعیت کی نان ڈکلیئریشن یا مس ڈکلیئریشن کو بنیاد بنا کر ارکان پارلیمنٹ کو نا اہل قرار دے چکی ہے اور پھر یہ اصول بھی طے کر دیا گیا ہے کہ غلطی ارادی ہو یا غیر ارادی، دانستہ ہو یا غیر دانستہ، اس پر آئین کے آرٹیکل 62ون ایف کے تحت نا اہلی ضرور ہو گی۔

جس دن یہ فیصلہ محفوظ ہوا، تین رُکنی بنچ کے سربراہ جسٹس عظمت سعید شیخ نے یہ ریمارکس دے کر پریشان کر دیا کہ اگر پانامہ کے تاریخی فیصلے میں وضعکیے گئے کڑے معیار کو مد نظر رکھا جائے تو پھر نا اہلی بنتی ہے اور ساتھ ہی یہ کہہ کر امید کا دریچہ بھی کھول دیا کہ فرق یہ ہے کہ اس کیس میں ملزم نے غلطی تسلیم کی ہے۔ چونکہ جسٹس عظمت سعید شیخ پانامہ بنچ کا بھی حصہ تھے اس لئے یہ وسوسے جان نہیں چھوڑ رہے تھے کہ کہیں اس فیصلے کی تاریخی حیثیت برقرار رکھنے کے لئے شیخ رشیداحمد کی قربانی سے پہلے قربانی نہ ہو جائے۔ اس لئے ایک انجانا سا خوف تھا کہ کہیں توازن برقرار رکھنے کی غرض سے ”پنڈی بوائے ‘‘پر بھی نا اہلی کا ہتھوڑا نہ برس جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ گھن کیساتھ گندم بھی پس جائے اور جہانگیر ترین کی طرح ہر دلعزیز شیخ رشید بھی زندگی بھر کے لئے نا اہل قرار دیدیئے جائیں۔

ویسے سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ آنے سے پہلے بہت کم لوگ اس حقیقت سے واقف تھے کہ شیخ رشید جیسا صالح، نیک اور متقی سیاستدان چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل سکتا۔ ہمیں تو آج معلوم ہوا کہ شیخ جی بظاہر جتنے باتونی، شوخ اور چنچل دکھائی دیتے ہیں، اس کے برعکس حقیقی زندگی میں بہت سنجیدہ، کم گو، عبادت گزار اور تہجد گزار ہیں۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے یہ ہوا کہ علامہ شیخ رشید احمد کی شخصیت سے متعلق زہد و تقویٰ کا وہ پہلو آشکار ہو گیا جو انہوں نے اب تک ریاکاری کے خوف سے دانستہ ہم سب سے چھپا رکھا تھا۔ اس لئے مجھے موقع کی مناسبت سے خواجہ بختیار کاکیؒ کے سانحہ ارتحال سے متعلق ایک حکایت یاد آگئی۔ اعلیٰ حضرت نے دنیا سے پردہ فرمایا تو ان کی نماز جنازہ پڑھانے کے لئے اس وقت کے جید ترین علمائے کرام موجود تھے مگر جب ان کی وصیت پڑھی گئی تو تمام اصحاب پیچھے ہٹ گئے۔

حضرت بختیار کاکیؒ نے وصیت کی تھی کی میری نماز جنازہ وہ پڑھائے جو چار شرائط پر پورا اترتا ہو۔ پہلی شرط یہ تھی کہ اس نے زندگی بھر تمام نمازیں تکبیر اولیٰ کیساتھ پڑھی ہوں۔ دوسری شرط یہ تھی کہ اس نے کبھی تہجد کی نماز قضا نہ کی ہو۔ تیسری شرط یہ تھی کہ اس نے کبھی کسی غیر محرم عورت پر نظر نہ ڈالی ہو۔ چوتھی اور آخری شرط یہ تھی کہ نماز جنازہ پڑھانے والے شخص نے کبھی عصر کی سنتیں ترک نہ کی ہوں۔ یہ وصیت سن کر سب کو سانپ سونگھ گیا۔ کچھ دیر بعد ایک شخص نہایت خاموشی سے آگے بڑھا اور مصلے پر کھڑا ہونے کے بعد کہنے لگا :”حضرت بختیار کاکی ؒ خود تو چلے گئے مگر دوسروں کا پردہ فاش کر گئے ‘‘بتایا جاتا ہے کہ نماز جنازہ پڑھانے والے یہ صاحب وقت کے بادشاہ سلطان شمس الدین التمش تھے۔ خدا جانے یہ روایت سچی ہے یا جھوٹی مگر میرا خیال ہے کہ اس فیصلے کے ذریعے شیخ رشید احمد کی صالحیت کا پردہ فاش کر دیا ہے۔ لیکن اس پر ہمیں ہرگز ملال نہیں۔

آج وارفتگی کی جو کیفیت طاری ہے اور اس کالم میںجس انداز سے شیخ رشید احمد کے محاسن اور اوصاف بیان کیےگئے ہیں اس پر شاید آپ کو مذاق سوجھ رہا ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ میں واقعی شیخ جی کی تر دامنی کا قائل ہو گیا ہوں اور اس بات پر ایمان لے آیا ہوں کہ وہ دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں۔ آپ ایک لمحے کے لئے یہ فرض کرکے تو دیکھیں کہ اگر شیخ رشید سیاسی منظر نامے سے آؤٹ ہو جاتے تو کیا ہوتا؟ آئے روز حکومت جانے کی خوشخبریاں کون سناتا؟ مارچ میں ڈبل مارچ اور قربانی سے پہلے قربانی جیسے دلاسے کون دیتا؟ ہم اہل صحافت کی تو دکان ہی بند ہو جاتی۔

خدانخواستہ شیخ رشید نا اہل ہو جاتے تو ہمارے نیوز چینلز کا نشریاتی پیٹ کیسے بھرتا؟ کیا یہ سہولت کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم ہے کہ جب کسی اینکر کو کوئی چٹ پٹا موضوع سجھائی نہیں دیتا یا پھر شو کی ریٹنگ بڑھانے کا راستہ دکھائی نہیں دیتا تو وہ مائیک تھامے لال حویلی چلا جاتا ہے اور شیخ رشید کا ون آن ون انٹرویو لے کر واپس آتا ہے۔ ذرا تصور کریں کہ شیخ جی نا اہل ہو جاتے تو کیا ہوتا؟ گرما گرم ٹاک شوز کی ریٹنگ دھڑام سے نیچے آجاتی، میڈیا کی رونقیں ماند پڑ جاتیں اور عوا م کی اکثریت بھی شغل میلے سے محروم ہو جاتی۔ اور ہاں وہ لوگ جو جمہوریت کے عشق میں مبتلا ہیں، کئی روز سے پوچھتے پھرتے ہیں کہ جنرل(ر) پرویز مشرف کیساتھ کیا ہو گا؟ اگر وہ واپس آگیا تو کیا قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی ہو گی، ان کی خدمت میں عرض ہے کہ زمینی حقائق کو مد نظر رکھیں۔ شیخ رشید احمد کا تو آپ کچھ بگاڑ نہیں سکے، راؤ انوار تو آپ سے سنبھالا نہیں جاتا اور چلے ہیں جنرل (ر)پرویز مشرف کا محاسبہ کرنے۔ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔ اس لئے ہم عوام تو محض یہی کہنے پر اکتفا کر سکتے ہیں ”شکریہ سپریم کورٹ‘‘
بشکریہ جنگ۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں