برطانیہ میں غیر یورپی ڈاکٹروں اور نرسوں کے لیے امیگریشن قوانین میں نرمی کا فیصلہ


ڈاکٹر

این ایچ ایس انگلینڈ کے پاس فروری میں 35 ہزار نرسوں اور تقریباً دس ہزار ڈاکٹروں کی نوکریاں خالی تھیں

برطانوی حکومت یورپی یونین سے باہر کے ممالک سے تعلق رکھنے والے طبی عملے کو ملک میں کام کرنے کی اجازت دینے کے لیے امیگریشن قوانین میں نرمی کرے گی۔

امید کی جا رہی ہے کہ برطانوی ہوم آفس جمعے کو غیر ملکی ڈاکٹروں اور نرسوں کو حکومی ویزا کیپ کی فہرست سے نکالنے کی تصدیق کرے گا۔

خیال رہے کہ برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے حکومتی ’ویزا کیپ‘ اس وقت متعارف کروائی جب وہ برطانیہ کی ہوم سیکریٹری تھیں۔ حکومتی ویزا کیپ کے تحت ایک سال کے دوران 20,700 غیر ہند مند یورپی یونین ملازمین کی حد مقرر ہے۔

لیکن برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین کافی تعداد میں کارکنوں کی بھرتی کے عمل کو مشکل بناتے ہیں۔

مجوزہ تبدیلیاں ٹیئر ٹو ویزوں سے متعلق ہیں جو یورپی اقتصادی علاقے اور سوئٹزرلینڈ سے باہر کے ہنرمند افراد استعمال کرتے ہیں۔

منگل کو بتایا گیا کہ گذشتہ پانچ ماہ کے دوران یورپی اقتصادی علاقے سے باہر والے ڈاکٹروں کی برطانوی ویزا حاصل کرنے کی 2,360 درخواستیں بظاہر حکومتی کیپ کی وجہ سے مسترد کر دی گئیں۔

ساجد جاوید

BBC
برطانوی وزیرِ داخلہ ساجد جاوید نے رواں ماہ کے آغاز میں اس پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ دیا تھا

واضح رہے کہ این ایچ ایس کے حکام نے اپریل میں متنبہ کیا تھا کہ 100 انڈین ڈاکٹروں کو ویزہ دینے سے انکار کے بعد امیگریشن قوانین غیر ہنر مند ورکروں کو تلاش کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر رہے ہیں۔

این ایچ ایس انگلینڈ کے پاس فروری میں 35 ہزار نرسوں اور تقریباً دس ہزار ڈاکٹروں کی نوکریاں خالی تھیں۔

تھینک ٹینک گلوبل فیوچرز کے مطابق ایس ایچ ایس انگلینڈ کا 12.5 فیصد سٹاف غیر ملکی ہے۔ اس تعداد میں 45 فیصد اضافہ پیڈیاٹرک، کارڈیویالوجسٹ اور نیورو سرجن سمیت مخصوص شعبوں میں ہوا۔

مجوزہ تبدیلی صرف ڈاکٹروں اور نرسوں کے لیے ہی لاگو ہو گی لیکن اگر 20,700 کی مقررہ حد کو تبدیل نہ بھی کیا جائے تو دیگر صنعتوں جیسے کہ آئی ٹی اور تعلیم سے وابستہ ہزاروں غیر ملکی ملازمین کو اب ویزے ملنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

موجودہ حکومت کی پالیسی کا مقصد نیٹ امیگریشن کی تعداد کو کم کر کے ایک لاکھ تک لانا ہے۔

وزیرِ داخلہ ساجد جاوید نے رواں ماہ کے آغاز میں اس پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے بی بی سی کے اینڈریو مار کو بتایا تھا کہ انھوں نے کیپ کے ساتھ اس ’مشکل کو دیکھا‘ ہے اور وہ اسے ’نئے سرے‘ سے دیکھیں گے۔

بی بی سی کے سیاسی امور کے نامہ نگار بین رائٹ کا کہنا ہے کہ ساجد جاوید کا تازہ اقدام بریگزٹ کے بعد امیگریشن پالیسی کی نئی سمت کی نشاندہی کر سکتا ہے۔

نامہ نگار کے مطابق یہ پالیسی دوسروں کو بھی نیٹ مائیگریشن ہدف پر بحث کرنے کا حوصلہ دے گی جو کبھی بھی حاصل نہیں کیا جا سکا۔

ڈائریکٹر آف دی امیگریشن تھنک ٹینک برٹش فیوچر کی سندر کٹوالا کا کہنا ہے ’شاید یہ ایک نشانی ہے کہ ساجد جاوید امیگریشن کے حوالے سے دلیرانہ اور زیادہ لچکدار رویہ اپنانا چاہتے ہیں جس کی برطانیہ کو یورپی یونین سے نکلنے کے بعد ضرورت ہو گی۔ ‘

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4208 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp