ڈاکٹر عاصم کیس میں ثبوت غائب ہونے کا انکشاف


dr asimڈاکٹرعاصم کیس میں لیاری گینگ واراورالقاعدہ دہشت گردوں کے علاج ومعالجے کے بلوں کی کاپیاں غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
ایک نجی ٹی وی چینل کے مطابق دہشت گردوں کو سہولت فراہم کرنے کے حوالے سے ڈاکٹر عاصم کے خلاف کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہوئی۔ اس موقع پر رینجرز کے لاءآفیسر نے دہشت گردوں سے متعلق دستاویزات عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ضیاءالدین ہسپتال پر چھاپے کے دوران ہم نے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ اور القاعدہ کے دہشت گردوں متعدد ملزمان کے علاج کے بلوں کی کاپیاں برآمد کی تھیں۔لاءآفیسر نے بتایا کہ ہسپتال پر چھاپے کے دوران لیاری گینگ وار کے دہشت گردوں کے علاج کے 47، القاعدہ دہشت گردوں کے 4 اور ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے علاج کے 9 بل برآمد ہوئے تھے۔
رینجرز حکام کے مطابق سابق تفتیشی افسر بہت ایمانداری سے کیس کو آگے لے کر چلے لیکن موجودہ تفتیشی افسر نے دہشت گردوں کے بلوں کی کاپیاں غائب کردی ہیں، یہ کاپیاں کیس پراپرٹی کا حصہ اور اہم ثبوت کے طور پر سیل کی گئی تھیں، ان بلوں کی کاپیاں اب بھی ضیاءالدین ہسپتال میں موجود ہیں، اگر عدالت چاہے تو بلوں کی کاپیاں منگوائی جا سکتی ہیں۔
دوسری جانب کیس کے تفتیشی افسر نے رینجرز کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میری ایمانداری کی وجہ سے مجھے بہترین پولیس افسر کا ایوارڈ بھی دیا گیا اور میں بیرون ملک بھی خدمات دے چکا ہوں، رینجرز کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔


Comments

FB Login Required - comments