پاکستانی روپیہ بھارتی اٹھنی کے برابر

رجنیش کمار - نامہ نگار بی بی سی، دلی


کرسنی

Getty Images
پاکستانی روپے کی قدر میں کمی ہو رہی ہے

انتخابات سے پہلے پاکستان شدید معاشی بحران کی سمت جاتا نظرآ رہا ہے۔

پاکستانی کرنسی کی قدر میں کمی رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ جمعرات کے روز ایک امریکی ڈالر کی قیمت 118 پاکستانی روپے سات پیسے تھی۔

اگر ڈالر کی کسوٹی پر بھارت سے پاکستانی روپے کا موازنہ کیا جائے تو بھارت کی اٹھننی پاکستان کے ایک روپے کے برابر ہو گئی ہے۔

کرنسی

Getty Images
پاکستانی روپے کی قیمت انڈین روپے کے مقابلے آدھی ہو گئی ہے

ایک ڈالر کی قیمت 67 بھارتی روپے ہے۔

پاکستان کا سینٹرل بینک گزشتہ سات ماہ میں تین مرتبہ روپے کی قدر میں کمی کر چکا ہے لیکن ابھی تک اس کا اثر دکھائی نہیں دے رہا۔

خبر رساں ادارے روائٹرز کے مطابق پاکستانی سینٹرل بینک بیلنس آف پیمنٹ کے بحران سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس کا کوئی اثر نظر نہیں آ رہا۔

عید سے پہلے پاکستان کی معاشی بدحالی لوگوں کو مایوس کرنے والی ہے۔

کرنسی

Getty Images
پاکستان کا سینٹرل بینک گزشتہ سات ماہ میں تین مرتبہ روپے کی قدر میں کمی کر چکا ہے

پاکستان میں 25 جولائی کو عام انتخابات ہونے والے ہیں اور اس سے پہلے کمزور معاشی حالت کسی بھی ملک کے مستقبل کے لیے باعثِ تشویش ہوتی ہے۔

روپے کی قدر میں بھاری کمی سے یہ بات واضح ہے کہ تقریباً تیو سو ارب ڈالر کی پاکستانی معیشت شدید بحران سے گزر رہی ہے۔

پاکستان نے غیر ملکی زرِ مبادلہ میں مسلسل کمی اور کرنٹ اکاؤنٹ میں مسلسل گھاٹا پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے اور اسے ایک بار پھر عالمی مانیٹرِنگ فنڈ کے پاس جانا پڑ سکتا ہے۔

مزدور

Getty Images
عید سے پہلے پاکستان کی معاشی بدحالی لوگوں کو مایوس کرنے والی ہے

پاکستان اگر آئی ایم ایف کے پاس جاتا ہے تو یہ پانچ سال میں دوسری مرتبہ ہوگا۔اس سے پہلے پاکستان 2013 میں آئی ایم ایف کے پاس جا چکا ہے۔

روپے کی قدر میں کمی کے بارے میں سٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ یہ بازار میں اتھل پتھل کا نتیجہ ہے اور ہم حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

پاکستان میں نیشنل انٹسی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اقتصادی ماہر اشفاق حسن خان نے خبر رساں ادارے روائٹرز سے کہا ہے کہ ابھی پاکستان میں عبوری حکومت ہے اور الیکشن کے وقت وہ آئی ایم ایف جانے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

مزدور

Getty Images
پاکستان کے پاس غیر ملکی زر مبادلہ کی کمی ہے

خان کا کہنا ہے تھا کہ پاکستان کی عبوری حکومت کو خود فیصلہ لینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے تحت برآمدات کو بڑھانے اور درآمدات کو کم کرنے کی ضرورت ہے لیکن حکومت مناسب اقدامات نہیں کر رہی۔

خِان کا کہنا ہے کہ اگر ہم سوچتے ہیں کہ روپے کی قدر میں کمی سے بیلنس آف پیمنٹ کے بحران کو ختم کیا جا سکتا ہے تو اس کے سنگین نتائیج ہو سکتے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ الیکشن میں اس بات پر زور دے رہی ہے کہ اگر ملک کی معیشت کو پٹری پر لانا ہے تو اسے پھر سے اقتدار میں لانا ہوگا۔

پاکستانی روپے

Getty Images
اب ڈالر کی قیمت سٹیٹ بینک نہیں بازار طےکرتا ہے

اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کا غیر ملکی زرہ مبادلہ اتنا کم ہو چکا ہے کہ صرف دو ماہ کی درآمدات میں ہی ختم ہو جائے گا۔

دسمبر سے اب تک پاکستانی روپے کی قدر میں 14 فیصد کمی آئی ہے۔

پاکستان کے اقتصادی ماہر قیصر بنگالی کہتے ہیں ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے دو اسباب ہیں پہلی تو یہ کہ پاکستان کی درآمدات کی قیمت برآمدات سے دو گنا زیادہ ہے۔ ہم اگر سو ڈالر کی برآمدات کر رہے ہیں تو دو سو ڈالر کی درآمد کر رہے ہیں اتنا فرق ہے تو اس کا اثر تو پڑے گا ہی۔

دوسرا یہ کہ گزشتہ پندرہ سالوں میں پاکستان میں جو نجنکاری ہوئی ہے اس میں ڈالر تو آیا ہے لیکن آمدنی وہ اپنے ملک بھیج رہے ہیں۔ مطلب یہ کہ ڈالر ملک سے باہر زیادہ جا رہا ہے اندر کم آرہا ہے۔

پاکستانی روپے

Getty Images
لوگ روپے کے لیے ڈالر فروخت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں

ڈالر کی مانگ زیادہ ہے اور جس چیز کی مانگ زیادہ ہو وہ مہنگی ہوجاتی ہے۔

قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ اب وہ زمانہ نہیں رہا جب ڈالر کی قیمت سٹیٹ بینک طے کرتا تھا اب یہ قیمت بازار طے کرتا ہے۔ جب حکومت کو لگتا ہے کہ ڈالر مہنگا ہو رہا ہے تو وہ اپنے ڈالر بازار میں فروخت کرنا شروع کر دیتی ہے تاکہ قیمت پر قابو پایا جا سکے۔

پاکستان بہت سی چیزیں باہر سے منگواتا ہے جیسے پیٹرولیم ، تیل اور انڈسٹریل سازو سامان وغیرہ یہی وجہ ہے کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے اسے نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے ۔ چین ہمیشہ پاکستان کو قرضہ نہیں دیگا اور آئی ایم ایف سے قرضہ لینا بھی آسان نہیں ہے۔ پہلے پاکستان آئی ایم ایف کے پاس دس سے بارہ سال میں جاتا تھا لیکن اب پانچ سال میں ہی جا رہا ہے۔

پاکستان کی ایکسحینج کمپنیوں کا کہنا ہے کہ عام لوگ ڈالر نہیں بیچ رہے صرف ضرورت مند لوگ ہی مجبوری میں ڈالر کے عوض پاکستانی روپے خرید رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ پہلی عید ہے جب روپے کو کوئی نہیں پوچھ رہا۔

اس سے پہلے یہ ہوتا رپا ہے کہ بیرونی ممالک میں رہنے والے پاکستانی رمضان کے مہینے میں خرچ کے لیے اپنے عزیزوں کو رقم بھیجتے تھے۔ اور بازار میں رونق رہتی تھی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5323 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp