صحافی ہشیار باش: یہ صحافت نہیں ہے


usman ghazi

بھارتی نژاد جیسنتھا سلڈنہا 2012 کے دسمبر میں لندن کے کنگ ایڈورڈ اسپتال میں اس وقت نرس کے فرائض انجام دے رہی تھی، جب شہزادی کیٹ کے یہاں بچے کی ولادت ہونے والی تھی۔ دسمبر کی چار تاریخ کو آسٹریلوی ایف ایم چینل ٹوڈے کے میزبانوں میل گریگ اور مائک کرسچن نے برطانوی شہزادہ چارلس اور ملکہ الزبتھ کی آواز بنا کر کنگ ایڈورڈ اسپتال میں شہزادی کی صحت کے حوالے سے پرانک کال کردی۔ یہ کال جیسنتھا سلڈنہا نے موصول کی اور آگے ٹرانسفر کردی۔

بعد ازاں نام نہاد صحافت کا یہ عظیم کارنامہ رائل فیملی پرانک کے نام سے ٹوئیٹر کا ٹرینڈ بنا مگر کہانی تو ابھی شروع ہوئی تھی۔

دسمبر کی 7تاریخ کو جیسنتھا سلڈنہا اپنے فلیٹ میں مردہ پائی گئی، اس نے خودکشی کرلی تھی اور خودکشی سے پہلے آخری خط میں اس نے اپنی موت کا ذمہ دار اس جعلی کال کو قرار دیا تھا۔

اس واقعے پر دنیا بھر میں زبردست احتجاج ہوا، اشتہاری اداروں نے ایف ایم ٹوڈے کو اشتہار دینا بند کردیے، میزبانوں میل گریگ اور مائک کرسچن کو ادارے نے بلیک لسٹ کردیا، ان کا پروگرام بھی بند کردیا گیا۔

صحافت میں کچھ جعلی نہیں ہوتا، اسٹنگ آپریشن کا صحافت سے کوئی تعلق نہیں ہے، انڈرکور جرنلزم کو پوری دنیا میں غیراخلاقی سمجھا جاتا ہے، اینکر پرسن اور صحافی میں فرق ہوتا ہے، صحافت کا تعلق قلم سے ہے، تھوبڑے سے نہیں۔

خبر اوراطلاع میں فرق ہوتا ہے، وہ لوگ صحافی نہیں ہیں، جنہیں ’خبریں‘ پہنچائی جاتی ہیں، صحافی کا کام حکومت گرانا نہیں ہے، صحافی مذہب کو نافذ کرنے کے لیے فیلڈ میں نہیں ہوتا، صحافی کا کام صرف اطلاع کو تحقیق کے بعد خبر کی شکل دینا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ درست صحافت نہ ہونے کا کیا نقصان ہے؟
سقوط ڈھاکا کی ایک وجہ یکطرفہ اور جانب دار خبریں تھیں!

جی ہاں!
بنگال میں کوئی ایک اخبار ایسا نہیں تھا، جو بنگالیوں کی بے چینی کو شائع کرتا، ہر خبر عوامی لیگ کے خلاف شائع ہوتی تھی، ہر خبر میں بنگالی لیڈروں کی توہین ہوتی تھی اور ہر خبر میں بتایا جاتا تھا کہ بنگالیوں کو مکمل حقوق مل رہے ہیں، کسی کی حق تلفی نہیں ہورہی ہے۔

اس زبردست جبر کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام آپے سے باہر ہوگئے اور انہوں نے اپنی ہی تخلیق پاکستان کے خلاف نعرے بلند کرنے شروع کر دیے۔
اطلاع سے تبدیلی آتی ہے اور اگر اطلاع غلط ہو تو صاحب، انتشار پھیل جاتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “صحافی ہشیار باش: یہ صحافت نہیں ہے

  • 02-05-2016 at 4:25 pm
    Permalink

    پاکستان جیسے قانون سے عاری ملک میں اسٹنگ آپریشنز نعمت خداوندی سے کم نہیں… البتہ ان کا معیار گرنا نہیں چاہیے

    یہاں فراڈ اور جرائم پیشہ لوگ اداروں سے زیادہ صحافیوں سے ڈرتے ہیں
    یہ ڈر ہی نعمت ہے

  • 02-05-2016 at 6:43 pm
    Permalink

    خوب!
    اور آج پاکستان کا کوئی اخبار بلوچستان کی حقیقی بے چینی بتانے کو تیار نہیں ۔۔۔۔ “اطلاع”، “مخبروں” کے نرغے میں ہے۔۔۔

Comments are closed.