پیر، میر، سردار اور بھوتار کسی کے نہیں ہوتے


میرا تعلق اس بد نصیب نسل سے ہے جن کے بچپن کو ضیا نامی آسیب کی دہشت چاٹ گئی۔ غالباً یہ 1977ء یا 1978ء کا زما نہ تھا۔ اسکولوں میں منادی ہوچکی تھی کہ تمام لڑکیاں سروں پہ اسکارف باندھ کر یا چادریں لپیٹ کر آئیں۔ بڑی سراسیمگی کا عالم تھا۔ چادر کون اوڑھے گا؟ میں اسکول کی ایک طالبہ اس احمقانہ، ظالمانہ اور اچانک ٹوٹنے والی افتاد پر دل گرفتہ تھی۔ بہت کچھ پراسرار لگنے لگا تھا۔ اچانک ٹیچرز کے روپ بدل گئے تھے۔ اخبارات کے صفحات پر سفیدی پھری ہوئی ہوتی تھی۔ خوف ہر جا کنڈلی مارے بیٹھا تھا۔ سرشام گھروں کے باہر کرسیاں رکھ کر ہمارے گھر اورپڑوس کے بزرگ اور جوان بیٹھا کرتے تھے اور بی بی سی سے نشر ہونے والی خبریں اور سیربین سنتے تھے۔جناب رضا علی عابدی اور مارک ٹلی کو ہر خاص و عام جاننے لگا تھا ۔ پاکستان ٹیلی وژن سے عوام کا اعتماد اٹھ چکا تھا۔

اس عہد کی ایک تکلیف دہ یاد، وہ سرگوشیاں ہیں جو ایک ڈراؤنی رات میں ، میرے والدین کے درمیان ہوئیں، جو یقیناً انہوں نے مجھے سویا ہوا سمجھ کر کیں۔

ابا امی سے کہہ رہے تھے: ” اگر پولیس مجھے پکڑ کر لے جائے تو لڑکوں سے کہنا کہ بھٹو کی تصویر اور پی پی کا جھنڈا چھت سے ہرگز نہ اُتاریں۔ “

”اللہ خیر….کیا ایسا ہوسکتا ہے…. “ امی کی آواز سے خوف ظاہر تھا۔

”ہاں ….بھٹو کے چاہنے والوں کو جیلوں میں ڈال رہے ہیں….آج فلاں پیر ابن فلاں کے پاس کچہری کے لئے گیا تھا۔ ادھر ادھر کی باتیں کر کے مجھےکہنے لگا…. اوپر سے حکم ہے کہ کہیں پیپلزپارٹی کا پرچم نظر نہ آئے اور تمہارے گھر کے اوپر پرچم اور بھٹو کی تصویر دونوں لگے ہیں۔“

’’پھر‘‘ …. امی کی آواز میں خوف نمایاں تھا۔

میں نے کہہ دیا کہ پیر صاحب!یہ تصویر اور پرچم تو میرے مرنے کےبعد بھی میری اولاد لگائے رکھے گی۔

’’ وہ جو پی پی کے وزیر تھے، ان سے بات کریں “…. امی نے ایک اور پیر صاحب کا نام لیا۔

’’وہ سب وزیر’’بھاڑیا‘‘ (میرے پاس اس لفظ کا متبادل، اردو زبان میں دستیاب نہیں) ہو گئے ہیں۔ بھٹو کی بیوی اور بیٹی کو تنہا کردیا ہے۔ سب مل گئے ہیں اس ظالم آمر کے ساتھ…. ایک بات دھیان سے سنو….اگر پولیس مجھے جیل لے جائے تو بچیوں کو اسکول جانے سے روک دینا۔ اس بدبخت پیر نے باتوں باتوں میں کہا کہ مارشل لاء بہت سخت ہے۔ یہ تصویر اور جھنڈا اُتار دو۔ تمہاری تو چھوٹی چھوٹی بچیاں بھی ہیں کچھ ان کا ہی خیال کرو…. عقلمندی سے کام لو۔ “

’’یا اللہ ! مگر وہ تو خود پیپلزپارٹی میں تھا….“ امی نے سہمی ہوئی آواز میں پوچھا۔

’’یہ بے ضمیر صرف کرسی اور حکومت کے ساتھ ہوتے ہیں….“ ابا نے جواب دیا۔

میں بستر میں دبکی….دہشت ذدہ سی ان اجنبی اور ڈراؤنے جملوں کا مطلب سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔

میرے ہی شہر کے وہ پیر صاحب آج کل پھرپیپلزپارٹی میں ہیں، ان کے مریدوں کی تعداد لاکھوں میں ہوچکی ہے۔ ان کے کاروبار میں بھی ترقی ہو گئی ہے…. اب وہ ہندو بھائیوں کی معصوم بچیوں کو مشرف بہ اسلام کرتے ہیں۔

اس ساری دہشت اور خوف کا انعام، شاید بغاوت کا وہ بیج تھا جو اس رات انجانے میں، میرے ذہن میں بو دیا گیا تھا۔

’’یہ پیر، میر، سردار اور بھوتار کسی کے نہیں ہوتے۔‘‘

مجھے یاد ہے ہمارے گھر میں ہتھیار کے نام پر ایک کلہاڑی ہوتی تھی، جس کا پھل کبھی چمکدار نہیں رہا تھا۔

ابا جی کو معمولی وقفے سے دو بار جیل بھیجا گیا۔ امی بھائیوں کے ہاتھوں چپاتیاں اور سالن بنا کر بھیجا کرتی تھیں، معلوم نہیں ابا تک وہ کھانا پہنچتا تھا یا نہیں مگر میری پردہ دار ماں، میری دونوں بہنوں کے ساتھ مارشل لاء کے خلاف نکالے گئے عورتوں کے جلوسوں میں برابر شامل ہوتی رہی ۔ ہمارے گھر کی چھت میں پی پی کا زخمی جھنڈا پھڑپھڑاتا رہا۔ قائدِعوام کی تصویر پہ لگا بلب رات کو جلادیا جاتا۔ ہمارا گھر پہچان بن گیا تھا ذوالفقار علی بھٹو سے اٹل محبت کی۔

ابا جیل سے چھوٹ کر آئے۔ قہاری مارشل لاء بدستور تھا۔ آمر، بھٹو کی قبر تیار کرچکا تھا۔ مگر تھا تو آمر ہی ….دنیا کے ہر جابر اور آمر کی طرح بے وقوف۔ ایتھنز کے دانا و بینا مفکر سقراط کو زہر پینے کا حکم دینے والوں کی طرح وہ بھی تاریخ کے سبق سے نا آشنا تھا۔ نہیں جانتا تھا فانی وجود سے چھٹکا را پا کر قبر سے کیسے راج کیا جاتا ہے۔ ابا کی زندگی میں میرے ایک بھائی نے ایک دن غالباً کسی دوسری سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر انتخابات لڑنے کی…. میرے غیور اور شاندار باپ کا ایک جملہ مجھے ساری عمر نہیں بھولے گا، ’’بھٹو کے خون سے غداری مت کرنا۔‘‘

1977ء سے لے کر گیارہ سالہ ضیائی مارشل لاء دورکی بھیانک یادوں میں….قذافی اسٹیڈیم میں لی گئی بیگم نصرت صاحبہ کی زخمی حالت میں لی گئی تصویر…. بھٹو کی پنکی اور جیلوں کی صعوبتیں… شاہ نواز بھٹو کا پر اسرار قتل، ٹارچرقلعوں کے آتش کدوں میں پیپلز پارٹی کے نوجوانوں کے جسموں، ذہنوں اور روحوں پر کیا گیا بھیانک تشدد ، آدھی راتوں کو گھروں پہ چھاپے، ان گنت کارکنوں کے گھر وں میں بچھے جوان لاشے…. اور چاروں اور موت کا سا سناٹا…. شامل ہیں۔…کانا دجال اپنی ہیبت سے ذہنوں اور سوچوں پہ تازیانے برساتا، قلم پہ پہرے، اور زبانوں پہ قفل لگاتا جاتا تھا۔مگر ایک بنیادی بات، جو ہر بات اور خبر پر حاوی تھی، وہ یہ تھی کہ بھٹو کا نام لینا جرم تھا۔

طبقاتی نظام کی بربریت کی پہلی سمجھ مجھے میکسم گورکی کی ’’ماں‘‘ سے پہلے، لفظ ’’بھٹو‘‘ نے دی۔ معلوم ہوا کہ ہر دولتمند، جاگیردار، رئیس،سرمایہ دار، بزنس ٹائیکون اس لفظ سے نفرت کرتا ہے اور ہر غریب، مسکین،ٹھیلے والا، مزدور، کسان، محبت۔ نہتے، بے بس، کمزور، پسے ہوئے طبقات اور مفلوک الحال عوام کا بھٹو…. حیرت انگیز دیو مالائی کردار تھا…. زمیں پر ایسے کردار صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ جیل گیا تودیوانوں نے جیلیں بھر دیں۔ دارورسن کو بڑھا تو عاشقوں نے ، عین عبادت سمجھ کر، پھانسی کے پھندے چوم کرگلے میں ڈالے ۔ ۔ وقت کے آمر نے اسے شہید کیا تو پروانوں نے خود کو نذر آتش کر دیا ۔ ۔ اس کا نا م لینا جرم ٹہرا تو با ضمیر ماؤں کی کوکھ سے جنمے ہوئے جوانوں نے اپنی ننگی پیٹھوں پر کوڑے کھاتے ہوئے ضیا ملعون کو جئے بھٹو کے نعرہ مستانہ کے ساتھ للکارا ….وہ حسین، وہ ذہین، وہ فطین بھٹو جو دنیا میں آیا ہی عوام کا محبوب بننے کے لئے تھا۔ جس کو عوام نے ٹوٹ کر چاہا اور جس نے عوام کو۔ پھانسیاں، کوڑے، ٹارچر سیل …. عوام کے اس جذبہ ءجنون کو نہ کچل سکے۔

 کتنا وقت گزرگیا۔ کیسے بہہ گیا…. بچے جوان اور جوان بوڑھے ہونا شروع ہوگئے مگر عشقِ بھٹو پختہ تر ہوتا چلا گیا۔1986ء …. میں گویا ، پاکستان میں زندگی لوٹ آئی تھی۔ اباجی اور امی داتا دربار منت کی دیگ پکانے گئے تھے ۔ آخر ….بھٹو دی بیٹی آئی سی۔

مجھے ،تا زندگی وہ وقت نہیں بھولے گا جب سفید براق دوپٹہ اوڑھے گہرے سبز لباس میں بھٹو کی بیٹی پاکستان کی وزیراعظم بننے کا حلف لے رہی تھی ۔عجیب سر خوشی کے عالم میں، آنکھوں میں نمی لئے ہم سب ٹیلیویژن کے ارد گرد بیٹھے تھے۔ امی باورچی خانے سے ٹی وی دیکھتے ہوئے سویّاں بنا رہی تھیں، گو یا عید ہو…. بی بی کے حلف اُٹھاتے ہی ہال میں لگنے والے جئے بھٹو کے فلک شگاف نعرے نے جیسےکلیجے پہ تیز دھار خنجر سے وار کیا ہو۔میں نے اپنے بہادر باپ کو پہلی بار یوں بلک کر روتے ہوئے دیکھا۔ جس بھٹو کی تصویر کو ٹی وی پر دکھانا جرم تھا ، جس کی آواز سننا ممنوع تھا۔ اس بھٹو کی بیٹی آج بھٹو کے منصب پر فائز ہونے جا رہی تھی، اس بدنصیب دھرتی کا مقدر بدلنے کو۔ سسکیوں اور آہوں کو تھمنے میں وقت لگا ۔

 بی بی کی شہادت پر ، جب عوامی ری ایکشن کی جنوں خیزی بہت کچھ بہا کر لے جانا چاہتی تھی۔ بڑے تدبر اور فراست سے ”پاکستان کھپے “ کا نعرہ لگا کے آصف علی زرداری صاحب نےمایوس اور دل گرفتہ قوم کو  حوصلہ دیا اور اس عظیم غم کو طا قت میں بدلنے کی جانب ایک با وقار قدم بڑھایا۔ عوام نے اس نعرے کو دل و جان سے لگایا اور تمام سیاسی جوڑ توڑ کو وقت کی نزاکت اور مصلحت پسندی کی بنیاد پر قبول کیا۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں