فادرز ڈے پر ایک خوش قسمت بیٹے کا خط


ابو جان !

آپ اس دنیا سے کئی برس پیشتر رخصت ہو گئے ہیں لیکن میری یادوں، آدرشوں اور خوابوں میں آج بھی زندہ ہیں۔ آپ فرمایا کرتے تھے ’جب بادشاہ فوت ہوتے ہیں تو وہ اپنے بچوں کے لیے محلات، کھیت، گھوڑے، کشتیاں اور بہت سی دوسری دنیاوی چیزیں ورثے میں چھوڑ جاتے ہیں لیکن جب سنت، سادھو اور صوفی دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو وہ اپنے بچوں کے لیے ورثے میں اپنا علم، اپنی دانائی اور اپنی کہانیاں چھوڑ جاتے ہیں جو نسل در نسل ان کے بچوں کی زندگیوں کی تاریک راہوں میں مشعلِ راہ کا کام کرتی ہیں۔

جب میں آپ کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے آپ کی بہت سی باتیں اور کہانیاں یاد آتی ہیں جن کے آئینے میں آپ کی شخصیت اور زندگی کا فلسفہ دکھائی دیتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے آٹھویں جماعت کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا اور سکول میں اول پوزیشن حاصل کی اور آپ کے دوست مبارکباد دینے آئے تھے تو آپ نے بڑے احترام سے کہا تھا ’ میرا بیٹا خدا کی امانت اور فطرت کا تحفہ ہے۔ میں صرف اس کی دیکھ بھال کرنے والا ہوں۔ میں اس کی کامیابی کے لیے پوری طرح کوشاں ہوں۔ مجھے فخر ہے کہ اس نے اتنے اچھے نمبر لیے۔

مجھے آپ کے الفاظ کی دانائی کا اعتراف کرنے میں بہت وقت لگا اور میں نے محسوس کیا کہ آپ نہ صرف مجھ سے محبت کرتے تھے بلکہ مجھ پر فخر بھی کرتے تھے اور میری آزاد خیال شخصیت کا احترام کرتے تھے۔

جب میں دسویں جماعت میں تھا تو سکول کے صدارتی الیکشن میں حصہ لینا چاہتا تھا۔ میری مقبولیت کو دیکھتے ہوئے میرے دوست پر امید تھے کہ میں الیکشن جیت جائوں گا۔ جب میں نے آپ سے اجازت مانگی تھی اور درخواست کی تھی کہ آپ میرے نامزدگی کے کاغذات پر دستخط کر دیں تو آپ نے انکار کر دیا تھا۔ مجھے اس سے بہت دکھ ہوا تھا۔ میں نے جب پوچھا

ابا جان! آپ نے دستخط کیوں نہیں کیے؟

تو آپ نے پوچھا ’ کیا تم صدر بننا چاہتے ہو؟

جی ہاں۔ میں بننا چاہتا ہوں۔

 پھر تمہیں نااہل قرار دیا جانا چاہیے۔

آخر کیوں؟

’کیونکہ تم طاقت چاہتے ہو اور جو شخص طاقت کا خواہشمند ہو وہ اندر سے کمزور ہوتا ہے اور اس کا غلط استعمال کرتا ہے۔ طاقت آنے کے بعد بہت سے لوگ مغرور اور متکبر ہو جاتے ہیں،

میں آپ کے استدلال سے متفق تو نہ تھا لیکن احتراماٌ خاموش رہا۔

آپ نے وضاحت کی ’ لوگوں کو اپنے رہنما کو خود انتخاب کرنا چاہیے۔ ایسا رہنما جو ان کی بہتر خدمت کر سکے اور اس شخص کو اپنی انکساری کی وجہ سے وہ پیشکش ٹھکرا دینی چاہیے۔ یہی جمہوریت کی روح ہے۔ ہمیں لوگوں کی خدمت کرنا سیکھنا ہے نہ کہ حکمرانی کرنا

WE NEED TO LEARN TO SERVE NOT RULE

جب عمر بن عبدالعزیز سے کہا گیا کہ وہ خلیفہ بن جائیں اور جب امام ابو حنیفہ سے کہا گیا کہ وہ قاضی بن جائیں تو پہلے دونوں نے انکار کیا لیکن جب عوام نے اصرار کیا تو انہوں نے وہ ذمہ داری قبول کر لی۔ ،

یوں آپ نے میرے الیکشن میں نامزدگی کا کاغذات پر دستخط نہ کیے لیکن میں نے آپ کے استدلال کو نہ مانا۔ میں نے سوچا آپ بہت مثالیت پسند ہیں۔ لیکن جب برسوں بعد میں اسرائیل کے کبوتز (Kibbutz) میں گیا تو مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ وہ آپ کے فلسفے پر عمل کر رہے تھے۔ اس دن مجھے آپ کی دانائی کا احساس ہوا۔

جب مجھے میڈیکل کالج میں اس لیے داخلہ نہ ملا کہ میرے والدین مہاجر تھے اور میرے پاس پشاور کا ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ نہیں تھا تو میں نے فوج میں شرکت کرنے کی کوشش کی۔ آپ نے ایک دفعہ پھر کاغذات پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ نے فرمایا

’بیٹا ! میں نہیں چاہتا کہ آپ فوج میں جائیں،

’وہ کیوں؟ میں متجسس تھا

’کیونکہ بطورِ سپاہی آپ ایک حلف اٹھاتے ہیں کہ آپ کا کمانڈر آرڈر دے گا تو آپ گولی چلائیں گے،

’لیکن ہر سپاہی یہ حلف اٹھاتا ہے،

’ اگر کل ہماری جنگ افغانستان یا ایران سے ہو تو کیا آپ دوسرے مسلمان بھائیوں پر گولی چلائیں گے،

اس طرح آپ نے کاغزات پہ دستخط نہ کیے اور میں فوج میں نہ جا سکا۔

برسوں بعد جب میں ڈاکٹر بن گیا تو آپ نے فرمایا۔ ’بیٹا اب تم فوج میں جا سکتے ہو،

’وہ کیوں؟، میں ایک دفعہ پھر متجسس تھا

’ کیونکہ اب تم ڈاکٹر ہو اب تم زخمی فوجیوں کی جانیں بچائو گے۔ ان تم قاتل نہیں مسیحا بن جائو گے،

جن دنوں میں رات کو دیر سے گھر آتا تھا آپ سو رہے ہوتے تھے اور والدہ جاگ رہی ہوتی تھیں۔ ایک دن والدہ نے آپ کو جگائے رکھا کہ آپ مجھے نصیحت کریں۔ جب میں رات کو دیر سے آیا تو آپ مجھے ایک علیحدہ کمرے میں لے گئے اور پوچھا ’بیٹا ! کیا تم جانتے ہو وہ کون ہیں جو راتوں کو نہیں سوتے،

’نہیں میں نہیں جانتا،

’ وہ یا تو بڑے ولی اللہ ہوتے ہیں یا بہت بڑے پاپی

THEY ARE EITHER SAINTS OR SINNERS اور پھر آپ اپنے کمرے میں سونے چلے گئے۔

ابو جان ! آپ کی شخصیت میں مزاح بھی بدرجہِ اتم موجود تھا۔ جب میں نے شاعری شروع کی اور مشاعروں میں اپنی نظمیں اور غزلیں سنانی شروع کیں تو ایک دن آپ نے مجھے یہ واقعہ سنایا۔ آپ نے فرمایا

’ایک گائوں میں ایک ادھیڑ عمر آدمی رہتا تھا۔ اس کے تین لڑکے تھے۔ ایک روز وہ سڑک کے کنارے بیٹھا رو رہا تھا۔ لوگوں نے پوچھا ’تم کیوں رو رہے ہو؟،

کہنے لگا ’ میرا کوئی بیٹا نہیں بچا، سب لوگ جانتے تھے کہ اس کے تین بیٹے ہیں

’سب سے بڑے بیٹے کے ساتھ کیا ہوا؟،

’اس کی شادی ہو گئی۔ اب وہ اپنی بیوی کا ہو گیا ہے،

’ منجھلے بیٹے کو کیا ہوا؟،

’ وہ گائوں چھوڑ کر شہر چلا گیا ہے۔ وہ شہر کا ہو گیا ہے،

’ لیکن سب سے چھوٹا بیٹا۔ وہ نہ تو شہر گیا ہے اور نہ ہی اس کی شادی ہوئی ہے،

’ وہ شاعر بن گیا ہے، یہ کہہ کر وہ شخص دوبارہ رونے لگا۔

آپ یہ کہانی سنا کر مسکرائے اور کہا ’میرا ایک ہی بیٹا ہے اور وہ بھی شاعر بن گیا ہے، یہ کہانی سن کر میں بھی مسکرایا۔

اس دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے جب آپ کی ملاقات میرے دوست جاوید دانش سے ہوئی تو آپ نے کہا ’ دانش بیٹا۔۔ مجھے اندازہ ہو رہا ہے کہ سہیل کتنی گرمجوشی سے ادبی سرگرمیوں میں مصروف ہو گیا ہے، شاید اسی لیے اس نے بچے پیدا نہیں کیے اور خاندان نہیں بنایا۔ مجھے یہ بات سمجھ آ گئی ہے لیکن اس کی والدہ کو نہیں۔ وہ اب بھی دادی بننے کا خواب دیکھتی رہتی ہیں، دانش آپ کی رائے سن کر حیران ہوا تھا۔

ابو جان ! آپ ایک مذہبی انسان تھے اور میں ایک سیکولر انسان۔ ہم اپنے نظریاتی اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرتے تھے۔ آپ ہی نے مجھے سکھایا تھا کہ

WINNING HEARTS IS MORE IMPORTANT THAN WINNING ARGUMENTS

چند سال پیشتر جب میں لاہور گیا تھا اور آپ کی قبر پر حاضری دینے جا رہا تھا تو مجھے راستے میں ندا فاضلی کی نظم یاد آئی تھی اور میں لوٹ آیا تھا۔ وہ نظم حاضرِ خدمت ہے

تمہاری قبر پر میں فاتحہ پڑھنے نہیں آیا

مجھے معلوم تھا تم مر نہیں سکتے

تمہاری موت کی سچی خبر جس نے اڑائی تھی وہ جھوٹا تھا

وہ جھوٹا تھا وہ تم کب تھے کوئی سوکھا ہوا پتہ ہوا سے گر کے ٹوٹا تھا

مری آنکھیں تمہارے منظروں میں قید ہیں اب تک

میں جو بھی دیکھتا ہوں سوچتا ہوں وہ وہی ہے

جو تمہاری نیک نامی اور بدنامی کی دنیا تھی

کہیں کچھ بھی نہیں بدلا

تمہارے ہاتھ میری انگلیوں میں سانس لیتے ہیں

میں لکھنے کے لیے جب بھی قلم کاغذ اٹھاتا ہوں

تمہیں بیٹھا ہوا میں اپنی ہی کرسی پہ پاتا ہوں

بدن میں جتنا بھی میرے لہو ہے وہ

تمہاری لغزشوں ناکامیوں کے ساتھ بہتا ہے

مری آواز میں چھپ کر تمہارا ذہن رہتا ہے

مری بیماریوں میں تم مری لاچاریوں میں تم

تمہاری قبر پر جس نے تمہارا نام لکھا ہے وہ جھوٹا ہے

تمہاری قبر میں میں دفن ہوں تم مجھ میں زندہ ہو

کبھی فرصت ملے تو فاتحہ پڑھنے چلے آنا

تمہاری قبر پر میں فاتحہ پڑھنے نہیں آیا

                 آپ کا خوش قسمت بیٹا۔۔۔۔۔ خالد سہیل

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 150 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail