اگر یہی بلیک بیری والا دعوی کوئی مرد کرتا تو؟


انتخابات کے موسم میں پاکستان میں مخالفین پر کیچڑ اچھالنا ایک عام سی روایت ہے مگر اب تو انتخابات کے بغیر بھی عام طور پر ہی گالم گلوچ، ہاتھا پائی، الزامات، بہتان وغیرہ سیاست کا حصہ بن چکے ہیں۔ ایک معروف سیاستدان جو عنقریب بڑی ذمہ داریاں اٹھاتے نظر آرہے ہیں، ان کی سابقہ زوجہ کی کتاب جس کے بارے میں سالوں سے خبر آ رہی تھی کہ آئے گی، آئے گی بلآخر پری ہیٹڈ اوون میں رکھ دی گئی ہے اور گرما گرم موسم کی مناسبت سے پیش کی جائے گی۔ پہلے بھی مخالفین کتب کا سہارا لے چکے، پہلے بھی سابقہ زوجین صفحے کالے کر چکے مگر اس کتاب کی کیا ایسی بات ہے کہ آنے سے پہلے ہی محفلوں میں موضوع بن گئی۔ پتہ چلا کہ صرف سابق شوہر ہی نہیں، اس کے دوست، احباب، رشتہ دار، اولاد، کتا، چپل، ورزش، ماضی، مستقبل سب ہی غیض و غضب کی زد میں آ گیا ہے۔

کس نے کیا لکھا، کیوں لکھا، کس کے بارے لکھا یہ میرا موضوع نہیں۔ میرا موضوع یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج کل ایک نیا فیشن جنم لے رہا ہے جو بحیثیت ایک خاتون میرے لیے بڑی تکلیف کا باعث ہے۔ یہ فیشن ہے “بے چاری عورت”۔۔۔ ایک روتی دھوتی، متاثرہ، مظلوم اور دہائیاں دیتی عورت ہی ہمدردی کی مستحق کیوں قرار پاتی ہے؟ یا یہ شہرت کا ایک شارٹ کٹ بھی بنتا جا رہا ہے؟ ایک مضبوط، کامیاب اور با شعور خاتون معاشرے کی آنکھ کا تنکا ہوتی ہے۔ اس کے کردار، خاندان، پرورش، ذرائع آمدن، طرز زندگی اور خیالات پر انگلی اٹھانے کے بعد کیچڑ اچھالنا ضروری ہے۔ مگر یہ منہ بسورتی، انکشافات کرتی، الزام لگاتی، بیچاری عورت ایک پسندیدہ موضوع ہے۔ وہ کہیں بھی کھڑی ہو جائے اور کسی کے بارے میں کچھ بھی کہہ دے تو وہ فیمنزم یا وومن امپاورمنٹ کے نعرے لگاتے ہوئے ایک رول ماڈل کا کھوکھلا درجہ حاصل کر جائے گی جس کی میعاد آپکے موبائل کے بیلنس کی میعاد ختم ہونے سے بھی پہلے ختم ہو گی کیونکہ تب تک ایک نئی بے چاری کو تیار کیا جا رہا ہو گا؟

 میرے قارئین میں سے بہت سوں کو اعتراض ہو گا مگر میرا ذاتی نظریہ ہے عورت، مرد اور مخنث کی برابری۔ اگر عورت ہے تو بس میں سیٹ کی حقدار کیسے؟ اگر عورت ہے تو لائن میں لگے چار مردوں سے پہلے کیسے بل بھروا سکتی ہے؟ اگر عورت ہے تو آفس سے جلدی چھٹی کیوں؟ عورت ہے اس لیے نائٹ شفٹ نہیں؟ عورت ہے اس لیے بے چاری ہی ہو گی۔ کیوں؟ برابری چاہیئے تو برابر بنیں۔ مضبوطی مانگنے سے نہیں بننے سے حاصل ہو گی۔ یہی دعوی اگر مرد کرے کہ تکیے میں دفن بلیک بیری نکال کر میسج میں نے پڑھے اور اسکرین شاٹ محفوظ کیے؟ اگر یہی مطالبہ مرد کا ہوتا کہ اپنے کتے کو کمرے سے نکالیں مہمان آیا ہے؟ اگر یہ مرد کہتا کہ جی ایک بلیک بیری کا ڈیٹا ہے میرے پاس اور وہ کتاب کا حصہ ہے؟ خواتین کے حقوق، انسانوں کے حقوق، جانوروں کے حقوق اور پرائویسی کے حقوق کا مورچہ لیے جانے کتنے علمبردار اکھٹے ہو جاتے، ہیش ٹیگ ابھی نومولود ہی ہوتا مگر ٹاپ پہ آجاتا اور شام سات بجتے ہی پوری قوت سے چلاتے اینکر حضرات تین، تین غیر متعلقہ افرد سے نجی اور عائلی زندگی کے حقوق و آزادی پر لیکچر لے رہے ہوتے۔ جب حقوق دونوں کے برابر ہیں تو ان کی پامالی بھی برابر کی ہے۔ چوری بہرحال چوری ہے چاہے وہ بغیر اجازت کسی کا موبائل لے جانا ہو یا کسی کے موبائل میں موجود پیغامات چھپ چھپ کر پڑھنا۔

اس ہفتے کے بڑے مسائل میں سے ایک بہت بڑا قومی مسئلہ حجاب کا بھی بنا۔ دراصل جب ہم خبر پڑھتے ہیں کہ فلاں فلاں مغربی ملک میں حجاب پر پابندی لگا دی ھئی تو ہم برابری اور مذہبی آزادی کے وعظ داغ دیتے ہیں۔ بات جب اپنے ہی اسلامی ملک کی آتی ہے تو کہیں ہمیں کسی کا مغربی لباس برداشت نہیں ہوتا تو کہیں کسی کا حجاب۔ ‏مختلف معاشروں کی خواتین کے وقار اور انفرادی حیثیت کو لے کر مختلف روایات اور ثقافتی پہناوے ہوتے ہیں۔ کسی کو بھی حجاب، عبایہ، جینز، اسکرٹ یا دوپٹے کا مذاق اڑانے کا حق نہیں ہے۔ جس قدر پست ذہنیت کا مظاہرہ اس ہفتے نام نہاد روشن خیال افراد کی جانب سے کیا گیا اس نے تو جنونی مولوی ذہنیت کو قریب قریب پیچھے چھوڑ دیا۔

خواتین کو ان کے حال پر چھوڑیں اور اپنے کام سے کام رکھیں۔ اندرون سندھ جانے کا اب تک اتفاق نہیں ہوا مگر سول اسپتال اور ایس آئی یو ٹی کے باہر اندرون سندھ سے آئے مرد و خواتین کی ایک کثیر تعداد ہر وقت موجود ہوتی ہے۔ ‏آپ نے کبھی اندرون سندھ کی ہندو خواتین کو دیکھا ہے؟ وہ گھونگٹ لٹکا کر غیر مردوں سے اپنا پردہ کرتی ہیں کیونکہ یہ وہاں کی روایت ہے۔ کیا زبردستی ان کا چہرہ دیکھنا یا ان پر جملے کسنا آپکی پست ذہنیت نہ ہو گی؟ جس طرح زبردستی کا پردہ کروانا قابل تنقید ہے ٹھیک اسی طرح کسی خاتون کی مرضی کے بر خلاف اس سے حجاب نہ اوڑھنے یا سر اور چہرہ کھولنے کا مطالبہ کرنا، جملے کسنا اور مذاق اڑانا بھی انتہائی قابل شرم بات ہے۔

روشن خیالی ایک لیبل نہیں بلکہ ایک ذہنیت، ایک روئیے کا نام ہے جس میں ہر طرح کے افراد کو، اپنی مرضی تھوپے بغیر، ان کی اپنی مرضی کے مطابق قبول کیا جاتا ہے۔ آپ کسی پر اپنے عقائد اور نظریہ جبرا مسلط نہیں کرتے اور نہ کسی کے اختلاف رائے کو انا کا مسئلہ بناتے ہیں۔ یہ برداشت اور قبولیت کا سبق ہے۔ خواتین ایک بہت مہذب موضوع ہو سکتا ہے مگر یہ صرف اس وقت ممکن ہے جب مرد و خواتین مل کر بے چاری، شو پیس اور پنچنگ بیگ والی کیفیت کے بجائے خواتین کے لئے کوئی نیا مقام، نئی منزل کا تعین کریں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں