شکریئے کے منتظر عوام


ammar masoodجنرل راحیل شریف کے حالیہ اقدامات ساری قوم کے لیئے فخر و انبساط کا باعث ہیں۔ ان اقدامات نے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ مقدس گائے کوئی نہیں ہے۔ احتساب سب کے لیئے ہے۔ کرپشن کی اب اجازت نہیں ہے۔ لوٹا ہو ا مال برآمد بھی کروایا جا سکتا ہے۔ لوگوں کو پہلی دفعہ احساس ہوا کہ اس ملک میں انصاف بھی ہو سکتا ہے۔ عدل کی تلوار کسی پر بھی وار کر سکتی ہے۔ عہدے، رینک، سماجی حیثیت سے ماورا انصاف کا کٹہرا ہے۔ جہاں سب ایک ہیں۔ لوگ چاروں دانگ تحسین کے ڈونگرے بجا رہے ہیں۔ زمین آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں۔ شکریئے کے پیغامات بھیج رہے ہیں۔ پاک فوج پر فخر کا پیغام دے رہے ہیں۔ اس لاجواب ادارے کی عظمت کو سلام پیش کر رہے ہیں۔ لوگ اس لئے خوش ہیں کہ یہ مسرت ان کو پہلے میسر نہیں آئی تھی۔ لوگ بے خبر تھے، دھند میں رہتے تھے۔ اس ایک اقدام سے انہیں روشنی ملی ہے زندگی ملی ہے۔ بہتری کا احساس ہوا ہے۔ ترقی کی امید ملی ہے۔ انصاف سے شناسائی ہوئی ہے۔ فرد کے اختیار کی رہنمائی ہوئی ہے

احتساب سب کا ہونا چاہیے۔ حکومت ہو یا اپوزیشن، بیوروکریٹ ہو یا بزنس مین،وزیر اعظم ہو یا لیڈر آف دی اپوزیشن۔ بے لوث احتساب میں اس قوم کی ترقی پوشیدہ ہے ۔ بے خوف عدل میں ہی میں اس ملک کا مستقبل دمک رہا ہے۔ حکومت کے کسی فرد کی کرپشن ثابت ہو تو اس کو سزا ملنی چاہیے۔ سیاستدان سے صرف الیکشن کا ووٹ احتساب نہ کرے۔ ان کے اثاثوں کی تفصیلات بھی عوام کے اختیار میں ہوں ۔ بیوروکریٹ صرف سفید فائلوں کو سرمئی کر کے ریٹائر نہ ہو جائیں ان کو بھی بے خوف عدل کا خوف ہو۔ بزنس مین امپورٹ ایکسپورٹ کے نام پر جو چاہیں کریں اس کی اجازت نہ ہو۔ چند بدنام این جی اوز کے نام پر ملک کی بدنامی نہ ہو۔ سماجی کارکن چندے کی مد میں گھپلے نہ کریں اس کا بھی احتساب ہو۔ ٹیکس چور پس زنداں ہو۔ ملکی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کی گرفتاری ہو۔ ایسا ہو جائے تو اس ملک کو ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ غربت مٹ سکتی ہے۔ افلاس ختم ہو سکتا ہے۔ تعلیم عام ہو سکتی ہے۔ صحت عامہ بہتر ہو سکتی ہے۔ انفرا سٹرکچر بن سکتا ہے۔ لوڈ شیڈنگ ختم ہو سکتی ہے۔ گیس کے ذخائر دریافت کیئے جا سکتے ہیں۔ بے روزگاروں کو ملازمتیں مل سکتی ہیں۔ پاکستان دنیا کی نظروں میں معتبر ہو سکتا ہے۔

چند لوگ جو یہ اعتراض کر رہے ہیں کہ جن افسران کو برطرف کیا گیا ہے انکی پنشن اور میڈیکل کیوں قائم رکھی گئی ہے۔ ایسے احباب سے درخواست ہے احتساب، انقلاب نہیں ہوتا۔ ایک جادو کی چھڑی سے نہیں ہوتا۔ شفافیت کے اس عمل سے گزرنے کے لیئے نسلیں درکار ہوتی ہیں۔ زمانے لگ جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے اہم قدم پہلا قدم ہوتا ہے۔ یہ قدم جنرل راحیل شریف نے اٹھا لیا ہے۔ یہی راستہ متعین کرے گا۔ یہی منزل کی طرف لیئے لے جائے گا۔ اب جو سوال ہے کہ پہلے وزیر اعظم کا احتساب ہو یا دو سو لوگوں کا۔ سب کرپٹ پکڑے جائیں یا تفتیش کیا دھبہ کسی ایک در پر لگایا جائے ۔ یہ فروعی بات ہے۔ احتساب سب کا ہونا چاہیے اور جلد ہونا چاہیے۔ جیسے گھر سے

آپ نے آغاز کیا ہے اس ی طرح سب کو اپنے گھر صاف کرنے پڑیں گے۔ پاک فوج کے سربراہ کی حیثیت سے آپ نے آغاز کر دیا ہے او راب دیگر شعبہ جات میں بھی آپ سے اسی انصاف کی توقع ہے۔

انصاف کے حوالے سے چند معروضات پیش کرنے کی جسارت چاہتا ہوں۔ سو، دو سو کڑور کا ٹیکہ اس ملک میں قومی خزانے کو لگتا ہی رہا ہے۔ قیام پاکستان کے وقت سے الاٹمنٹوں میں جو گھپلا ہوا ہے اسی سے اس کام کا آغاز ہوا ہے۔ حکومتیں آتی گئیں ذاتی خزانے بھرتے گئے۔ داد دیجئے اس ملک کو اور اس کے عوام کو جو اب تک نظریہ پاکستان پر قائم ہیں۔ جو اب بھی بہتری کے خواہشمند ہیں۔ جو اب بھی روشن مستقبل کے لیئے پر امید ہیں۔ جو اب بھی ووٹ ڈال کر جمہوریت کی ثمرات دیکھنے کے لیئے فٹ پاتھ پر بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ لوگ اور یہ ملک بڑا حوصلہ مند ہے۔ ایسے جھٹکے برداشت کرنے کی اب اسے عادت ہو گئی ہے۔ کروڑں، اربوں کے ہندسے اب پریشان نہیں کرتے۔ اب اس ملک کے عوام کا حوصلہ دکھ اور غم میں بھی قائم رہتا ہے۔

جناب والا آپ سے بس اتنی درخواست ہے کہ جب آپ نے یہ احتسابی عمل شروع کر ہی دیا ہے تو ایک نظر ان طالع آزماوں کی طرف بھی ڈال دیجئے۔ جو ہر چند سالوں کے بعد ایوان حکومت میں چڑھ دوڑتے ہیں۔ عوام کے ووٹوں کو اپنے بھاری بوٹوں تلے روند ڈالتے ہیں۔ آئین کا مذاق اڑاتے ہیں۔ قانون کواپنی باندی کی طرح سمجھتے ہیں۔ لوگوں کے ووٹ کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ رائے عامہ کی تضحیک کرتے ہیں۔ عوام کو اپنی مرضی سے لگام دیتے ہیں۔ کرپشن اس وجہ سے پنپتی ہے۔ جھوٹے اور چھوٹے سیاستدان یہاں سے جنم لیتے ہیں۔ فیکٹریاں، شوگر ملیں، فارن اکاونٹ اور آف شور کمپنیاں ان سیاسی طور پر کمزور اور اقتدار کے بھوکے طالع آزماوں کی وجہ سے جنم لیتے ہیں۔

جناب اعلی جب آپ اس مشن پر نکلے ہی ہیں تو ایک نظر ان دانشوروں پر بھی ڈالیں جو ملک میں جمہوریت کے خلاف فوج کو اکساتے ہیں۔ جو چند ٹکوں کی نوکری کے لیئے ملک کو بیچ ڈالتے ہیں۔ لوگوں کے ووٹ لینے والوں کو، جمہوریت کا نام لینے والوں کو اس حد تک گراتے ہیں کہ سیاستدان اور ملک دوبارہ اپنے قدموں پر برسوں کھڑے نہیں ہو پاتے۔ پھرجب دوبارہ اس ملک میں ووٹ کا شور پڑتا ہے تو پھر کرپشن کا زور بڑھتا ہے۔ فیکٹریاں اور شوگر ملیں سیاستدانوں کی ہی لگتی ہیں۔ مگر اس غلاضت کو صرف وقت ہی صاف کر سکتا ہے۔ عوام کا ووٹ ہی نیک و بد میں چھلنی کا کام کر سکتا ہے۔ اس چھلنی کو موقع ضرور دیجئے۔

حضور عالی وقار جب آپ نے اس مقصد سے کرپشن کے خلاف جہاد کا آغاز کر ہی لیا تو ایک نگاہ دھرنے کے منصوبہ سازوں پر بھی ڈال لیجیے ۔ جمہوری حکومتوں کو کمزور کرنے کی روایت کو بھی توڑ ڈالیئے۔ موقع پرستوں اور طالع آزماوں کو قلع قمع بھی کر ڈالیئے۔ دورن خانہ سازشوں کو منہ توڑ جواب دیجئے۔ سیاستدانوں کو رزیل سمجھنے والوں کو سمجھائیے۔

چیف جسٹس درست کہتے ہیں جمہوریت لولی لنگڑی سہی مگر یہی حل ہے ۔ اس سے بہتری ہوگی اسی سے ترقی ہو گی۔ یہ آخری رستہ ہے۔ اس ملک نے بہت دکھ دیکھا ہے۔ اس وطن نے کرپشن کے بہت زخم سہے ہیں۔ مفاد پرستوں نے جی بھر کر اس ارض پاک کو لوٹا ہے۔ اب اس کی درست سمت متعن کیجئے۔ جمہوریت کی گاڑی کو ٹوٹی پھوٹی پٹڑی پر چلنے میں مدد کیجئے۔ شکریہ راحیل شریف کہنے کا اصل موقع دیجئے۔


Comments

FB Login Required - comments

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 42 posts and counting.See all posts by ammar