خیبر پختونخواہ اور تبدیلی والی سرکار


shanila ammarمئی 2013 کے انتخابات کے بعد ایک امید سی بندھ گئی تھی کہ چلو خیبر پختوںخواہ کے عوام کی برسوں بعد سنی گئی۔ ایک ایسا لیڈر جو پورے ملک پر حکمرانی کرنے کا خواہش مند تھا اور جس کو دعوی تھا کہ وہ اقتدار میں آکر ایک نیا پاکستان بنائے گا،اب نیا پاکستان تو نہیں لیکن نیا خیبر پختوںخواہ تو بن ہی جائے گا۔ خیبرپختونخواہ سے دیرینہ تعلق کی وجہ سے خوشی دیدنی تھی کہ میرے صوبے کی سنی گئی ایک مسیحا آ ہی گیا۔ لیکن افسوس صد افسوس حسرت ہی رہی اور بےچارے عوام جو اتنی مصبیتوں اور رکاوٹوں کے باوجود ووٹ ڈال کرآئے تھے ترستے ہی رہے۔

عمران خان نے جس کی سیاست کا مرکز ہمیشہ سے کرپشن،انصاف، مظلوم عوام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ رہا ہے ان سب کو بھلا کر ساری توجہ صرف ایک ارب درخت لگانے پر لگا دی ہے۔ یہ بھی ضروری کام ہے لیکن عوام سے پوچھ تو لیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ تبدیلی والی سرکار کی حکومت سے پہلے کیا کرپشن کے کارنامے کم تھے جو انہوں نے اُن کا بھی ریکارڈ توڑنے کی کوشیش شروع کردی ہیں۔ قومی وطن پارٹی کو پہلے کرپشن کا الزام لگا کر نکالا پھر ان کو انصاف لانڈری سے دھلا کر واپس اتحادی بنا لیا۔ ضیاء اللہ کو نیب نے معدنیات کی اسمگلنگ پر گرفتار کیا جنہوں نے اس کرپشن میں وزیراعلی کے شامل ہونے کا بھی انکشاف کیا۔ لیکن اس سے پہلے کے یہ بیل منڈھے چڑھتی احتساب بل میں ہی ترمیم کر دی گئی جس کی وجہ سے احتساب کمیشن کے چیئرمین استعفی دے کر گھر چلے گئے۔ چیئرمین صاحب کا کہنا تھا کہ یہ ترمیم چند من پسند لوگوں کو بچانے کے لئے کی گئی۔ حال ہی میں خیبر بنک کے ایم ڈی کی جانب سے اخبار میں ایک اشتہار آیا جس میں وزیرخزانہ پر الزام ہے کہ انہوں نے میرٹ کی دھجیاں بکھیر دی۔ لیکن وزیر اعلی کی اعلی ظرفی دیکھیں کہ بجائے وزیر کی بازپرس کرنے کے ایم ڈی سے ہی استعفی کا مطالبہ کردیا۔ اس کو کہتے ہیں انصاف کا بول بالا ہونا کہ سکندر شیرپائو کی سربراہی میں تحقیق کے لئے ایک کمیٹی بنا دی گئی ہے جی وہی سنکدر شیرپائو جن کو کرپشن پر حکومت سے نکالا تھا۔

 سستےانصاف کی فراہمی ہمیشہ سے تحریک انصاف کا نعرہ رہا ہے پارٹی کا نام بھی اسی نسبت سے ہے۔ خیبر پختوںخواہ کی عوام تو جس طرح اس کے لئے ترس رہے ہیں وہ ایک الگ داستان ہے۔ ستم تو یہ ہے کہ ان کی حکومت میں قتل ہونے والے ان کے وزیر اسراراللہ گنڈا پور کی روح بھی اسی کے لئے ترس رہی ہے کہ کبھی تو میرے قاتلوں کو سزا ملے گئی۔ تعلیم کا حال یہ ہے کہ بجٹ ہر سال بغیر خرچ کئے ہی بینکوں میں پڑا رہ جاتا ہے جس کے اوپر ملنے والے منافع کو فخر سے بتا کر کہاجاتا ہے کہ ہمارا مالیاتی ریکارڈ اتنا اچھا رہا کہ ہم کو وفاق کی طرف سے انعام ملا ہے۔ خیبرپختوںخواہ کے وزیر تعلیم نے صوبائی اسمبلی کے اندرببانگ دہل یہ اعتراف کیا ہے کہ ہمارے دور حکومت میں ایک بھی کالج نہیں بنا۔ صحت کا احوال تو تعلیم سے بھی برا ہے بجٹ تو خیرخرچ ہوتا ہی نہیں اس کے ساتھ ساتھ حل یہ نکالا کہ صحت کی سہولیات کوہی مہنگا کردو نہ لوگ ہسپتال میں آئیں گے اور نہ ان کو سہولیات فراہم کرنی پڑے گی۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ وہ موضوع ہے جس پر عمران خان بلاتکان کئی گھنٹے تک بات کر سکتے ہیں ۔ ان کے پاس لمبے لمبے فلسفے اور منصوبے ہوتے ہیں۔ لیکن حکومت ملنے کے بعد سب ایک دم سے اڑن چھو ہوگئے ہیں۔ انتخابات سے پہلے عمران خان ہمیشہ مذاکرات کی بات کرتے تھے ان کو لگتا تھا کہ اس مسئلے کو صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد اپنی اس فلاسفی کو انہوں نے لاگو کرنے کے چکر میں بہت سے لوگ شہید کروائے اور آخر کار یہ ماننے پڑا کہ اس مسئلے کا حل آپریشن ہے اگر پہلے ہی اس پر کام کو شروع کردیتے تو کئی قیمتی جانیں بچ جاتی۔ ڈرون حملے بھی ان کا ایک پسندیدہ موضوع ہے جب کچھ کرنے کو نہ ہو تو ڈرون کے خلاف دھرنا دے دو۔ تبدیلی والی سرکاری کے جیالوں نے ڈرون حملوں کو رکوانے کے لئے نیٹو کی سپلائی بند کرنے کی غرض سے دھرنا دے دیا۔ ڈرون کے حملے تو نہ رکے لیکن بہت سے ٹرانسپورٹروں کا دھڑن تختہ ہوگیا۔

خیبرپختونخواہ کے مظلوم عوام اکثر یہ سوچتے ہوں گے کہ ان سے کیا قصور ہو گیا ہے کہ جس کی سزا ختم ہونے میں نہیں آرہی۔ پچھلے سال جب بارشیں ہوئیں تو وزیراعلی جانی نقصانوں پر افسوس کرنے اور لوگوں کے مالی نقصانوں کا ازالہ کرنے کی بجائےاسلام آباد میں خٹک ڈانس کرتے رہے۔ اس دفعہ کی بارشوں میں چترال اور کوہستان میں ہونے والے نقصان کے لئے جب وہاں تشریف لے گئے تو زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے نمک چھڑکتے رہے۔ ان کا خیال تھا کہ لوگوں نے یہاں گھر کیوں بنائے ہیں۔ ان سے گزارش ہے کہ اگر آپ کو اس پر اعتراض ہے تو ان کے لئے وزیراعلی ہائوس خالی کردیں۔ اور تواور ایک جیالے لیڈر نے ٹی وی کے پروگرام میں یہ تک کہہ دیا کہ یہ بارشیں اور ان سے ہونے والا نقصان اللہ کا عذاب ہے۔ اب پتا نہیں یہ عذاب وزیراعلی ہائوس اور بنی گالہ میں کیوں نہیں ہوتا۔ آخر میں عمران خان سے گزارش ہے اورتو آپ اگلے ڈھائی سالوں میں کچھ نہیں کرسکیں گئے کیونکہ ایک ارب درخت لگانے سے ہی فرصت نہیں ملے گی تو کم ازکم ایک کام تو کردیں۔ فاٹا کے جو عوام آپریشن کی وجہ سے بے گھر ہوئے ہیں ان کے لئے بھی کچھ چندہ اکھٹا کرکے گھر بنوا دیں۔ کچھ حق تو ان عوام کا ادا ہوجائے گا جنہوں نے آپ کو ووٹ دینے کی غلطی کرہی لی تھی۔

 


Comments

FB Login Required - comments