گدھوں کی ایک حکایت


یہ ان دنوں کی بات ہے جب پنجاب کے ایک دور دراز گاؤں کے چوہدری صاحب نے گاؤں کی تاریخ کا پہلا ٹریکٹر خریدا ۔ چوہدری صاحب کی دیکھا دیکھی گاؤں کے دوسرے خوشحال لوگوں نے بھی ٹریکٹر خرید لیے اور یوں تھوڑے ہی عرصے میں گاؤں کے بہت سے گدھے جو نسلوں سے باربرداری کا کام کرتے آرہے تھے اچانک بے کار ہوگیے۔ شاید گدھوں کو اس تبدیلی سے اتنی اذیت نہ ہوتی اگر گاؤں والے ان کے کھانے پینے کا خیال رکھتے مگر لوگ ٹریکٹر آنے کے بعد اپنے گدھوں کو بھول بھال گیے اور گدھے بیچارے فاقوں مرنے لگے۔ ایسے میں ایک سیانے گدھے نے اپنے ساتھیوں کو ایک دن اکٹھا کیا اور کہا کہ اگر ہم نے انسانی زیادتیوں کےخلاف کوئی قدم نہ اُٹھایا تو جلد ہی ہماری نسل کا نام ونشان مٹ جاے گا۔ یہ بات سن کر سارے گدھے بڑے پریشان ہوے۔ چونکہ پہلی بار کسی گدھے نے اپنی نسل کی بہتری کے لیے صلاح دی تھی اس لیے سب گدھے خوشی خوشی سیانے گدھے کی بات مان گیے اور اسے اختیار دے دیا کہ وہ بتاے کہ کیا کیا جاےٴ۔

ساتھیوں کی حمایت ملنے پر سیانا گدھا بہت خوش ہوا اور اس نے انہیں بتایا کہ مقصد میں کامیاب ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ سب نظم وضبط سیکھیں۔ لہذا اس نے گدھوں کی تربیت شروع کردی اور انہیں ایک خاص طرح سے مارچ کرنا اور ڈھینچک ڈھینچک کی آواز نکالنا سکھایا۔ گدھے صبح صبح خاص وقت پر ایک خالی کھیت میں جمع ہوجاتے اور سیانے گدھے کے پیچھے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونے، چلنے اور آواز ملا کر ڈھینچک ڈھینچک کرنے کی تربیت کرتے۔ کچھ ہفتوں بعد جب تمام گدھے خاص سلیقے سے چلنے اور بولنے لگے تو گاؤں والے بہت متاثر ہوےٴ۔

گاؤں والوں نے گدھوں کو ایک پارک بنا دیا تاکہ وہ وہاں پر منظم طریقے سے مارچ اور ڈھینچک ڈھینچک کی تربیت جاری رکھ سکیں۔ گدھوں کی تربیت کے وقت بہت سے والدین بچوں کو لے کر پارک آجاتے اور بیٹھ کر ان کا مارچ دیکھتے اور ڈھینچک ڈھینچک سنتے۔ پیچھے والی صفوں میں کھڑے گدھوں کے بچے اتنے پیارے تھے کہ گاؤں کے بچے بھی پچھلی قطار میں جاکر کھڑے ہوجاتے اور ان کے ساتھ مل کر ڈھینچک ڈھینچک کرتے۔ لوگ خوش تھے کہ ایک طرح سے اچھا ہی ہوا کہ ٹریکٹر آنے سے گدھے بےکار ہوگیے ورنہ ان کی اتنی اچھی صلاحتیں کبھی بھی ابھر کر سامنے نہ آتیں اور وہ ہمیشہ باربرداری جیسے فالتو کام ہی میں لگے رہتے۔ والدین اپنے بچوں کو گدھوں کی مثالیں دے کر سمجھاتے کہ ہم سے نہیں تو ان گدھوں سے ہی سلیقہ سیکھ لو۔ یہ دیکھ کر کہ ان کے مالکان روزانہ کتنی لگن سے مارچ دیکھنے آتے ہیں گدھے فخر سے بہت اتراتے۔

گاؤں والوں نے گدھوں کے لئے اعلی قسم کے چارے کا انتظام کردیا اور ملازموں کو حکم دیا کہ گدھوں کو کبھی چارے کی کمی نہ آنے پاےٴ۔ ان کے نہانے کے لئے ایک نلکا بھی لگوا دیا، گدھے صبح صبح اُٹھ کر نہاتے، پھر پارک جا کر مارچ کرتے، بعد میں دل کھول کر چارہ کھاتے اور دوپہر کو آرام کرتے۔ شام کو پھر مارچ کرتے، چارہ کھاتے اور نہا دھو کر رات بھر بے ہوش پڑے خراٹے مارتے۔ وافر چارہ ملنے سے جلد ہی وہ فربہ ہونا شروع ہوگیے۔ وہی گدھے جنہیں باربرداری کرتے کرتے اپنی ہوش نہ رہی تھی اتنی ساری سہولتیں ملنے سے ان کی شکل شباہت ہی بدل گیی۔ وہ بڑے صاف ستھرے رہتے اور گدھوں کی تاریخ میں پہلی بار وہ سر اُٹھا کر چلنے لگے۔

وہ سب دل ہی دل میں سیانے گدھے کے بہت مشکور تھے کہ اس کی عقل مندی کی وجہ سے نہ صرف ان کو وافر مقدار میں کھانا پانی ملنے لگا تھا۔ بلکہ گاؤں والے ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگے تھے۔

چونکہ سیانا گدھا مارچ کے وقت اپنے ساتھیوں کے آگے آگے ہوتا اور دل موہ لینے والے انداز سے ڈھینچک ڈھینچک کرتا لہذا وہ گاؤں بھر کے بچوں اور بڑوں میں بہت مقبول تھا سب لوگوں کو اندازہ تھا کہ گدھوں کے اندر یہ خوشگوار تبدیلی اسی کے مرہونِ منت تھی، اور وہ لگتا بھی کتنا سلجھا ہوا تھا۔ آہستہ آہستہ چلتے ہوے بڑی تمکنت کے ساتھ گدھوں کو لے کر پارک میں داخل ہوتا۔ ناپ تول کے قدم رکھتا اور کبھی بھی دوسرے گدھوں کی طرح دولتیاں نہ مارتا جو کہ اتنی ساری تربیت ملنے کے باوجود اب بھی کبھی کبھار ایک آدھ دولتی مار ہی لیتے تھے۔ مگر سیانے گدھے کو آج تک کسی نے دولتی مارتے نہیں دیکھا تھا۔ شادی کی عمر کو پہنچی ہوئی لڑکیوں کی ماییں حسرت بھری نظروں سے اس سلیقہ مند گدھے کی بلاییں لیتیں۔ جب وہ گدھوں کو ڈھینچک ڈھینچک کی تربیت دیتا تو بھی بہت ہی بھلے انداز میں آواز نکالتا۔ اس کی آواز میں ایک خاص طرح کی لوچ تھی یہی وجہ تھی کہ گاؤں کے سارے بچے گدھوں کی ڈھینچک ڈھینچک بڑے ہی شوق سے نہ صرف سنتے تھے بلکہ ان کے پیچھے پیچھے دہراتے بھی تھے۔ وہ روزانہ ماں باپ کو مجبور کرتے کہ وہ مارچ شروع ہونے سے پہلے سارے کام ختم کرکے ان کو پارک لے جاییں۔ اگر ماں باپ کو کبھی دیر ہوجاتی تو چھوٹے بچے رو رو کر برا حال کرلیتے۔ لہذا سارے گاؤں والے بہت ہی دھیان رکھتے کہ کہیں گدھوں کی ڈھینچک ڈھینچک کا وقت نکل نہ جاےٴ۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں