مولانا فضل الرحمان کے چیک اپ کی ویڈیو


adnan-khan-kakar-mukalima-3

سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ سا ہے برپا۔ مولانا فضل الرحمان کی طبیعت ناساز ہوئی اور تو ان کو چیک اپ کے لیے پمز ہسپتال جانا پڑا۔ وی آئی پی روم میں وہ گئے، جہاں کہ ظاہر ہے سیکیورٹی بھی اچھی ہو گی۔ پیٹ میں درد کی شکایت پر ان کا چیک اپ کیا گیا۔ ہمارے علم کے مطابق مولانا گزشتہ دس سال سے ذیابیطس کے مرض میں بھی مبتلا ہیں۔ ایک میڈیکل آفیسر نے اپنے سینئیرز سے چھپ کر مولانا کے چیک اپ کی ویڈیو بنائی اور وہ انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی۔

مولانا سے خار کھانے والوں نے اس پر ایسے اودھم مچایا جیسے ان کا اپنا پیٹ نہیں ہے، یا پھر اس میں کبھِی درد نہیں ہوا۔ مولانا کی شخصیت کا مضحکہ اڑانے کی کوشش کی گئی لیکن الٹا ان کے حق میں ہمدردی کی لہر ہی پیدا ہوئی۔ لیکن بہرحال یہی ہوا کہ ان لوگوں کے اپنے پیٹ ننگے ہو گئے جو کہ اپنے لیڈران کی نجی زندگی کو مقدس قرار دیتے ہیں اور یہ نہیں مانتے کہ ایک مریض اور طبیب کا رشتہ ایک نجی ترین معاملہ تصور کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر، وکیل اور عالم دین سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے کلائنٹ کی معلومات کو پبلک کر دے گا۔ یہ مکمل اعتماد کا معاملہ ہوا کرتا ہے اور ان حضرات کی ساکھ اسی پر منحصر ہوتی ہے کہ وہ رازداری کا کتنا خیال رکھتے ہیں۔ معائنے کے دوران ویڈیو بنانے اور عوام میں پھیلانے کے اس فعل کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

مذہبی سیاسی جماعتوں کی فکر سے ہمیں لاکھ اختلاف سہی، لیکن مولانا فضل الرحمان وہ بامروت سیاستدان ہیں جن کی عزت تمام تر سیاسی اختلاف کے باوجود کرنی پڑتی ہے۔ اخلاق، شیریں بیانی، معاملہ فہمی اور جذباتیت سے دوری مولانا کا وہ وصف ہیں جو انہیں باقی سیاستدانوں سے ممتاز کرتے ہیں۔ ان کی جماعت سے تعلق رکھنے والے چند لوگ اسلامی نظریاتی کونسل میں ہر مہینے دو تین چاند چڑھانے سے باز نہیں آتے ہیں، ان کے طالبانی دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف ویسے تحریک نہ دیکھ کر بھی افسوس ہوتا ہے جیسی وہ تحفظ نسواں بل کے خلاف چلاتے ہیں، مگر نقائص سے مکمل طور پر پاک شخصیت صرف انبیا ہی کی ہو سکتی ہے، عام انسانوں کی نہیں۔ جو سیاستدان موجود ہیں، مولانا شخصی طور پر ان میں قابل احترام مقام رکھتے ہیں۔

fazal-ur-rehman2

میڈیکل آفیسر کا فعل قابل مذمت سہی، لیکن صاحب ہم مذمت بھی اپنے ہی رنگ میں کرنے کے عادی ہیں۔ اس لیے غور و فکر کرنے پر جو خیالات ذہن میں ابھرے ہیں، آپ سے ان کے بارے میں مشورہ کرنا ضروری ہے۔

ہم یہ سوچ سوچ کر ہلکان ہو رہے ہیں کہ ان ڈاکٹر صاحب نے تعلیم کہاں پائی تھی؟ غالباً انہوں نے اپنی پوری ذاتی اور پروفیشنل زندگی میں پہلی مرتبہ کسی شخص کے پیٹ لگا ہوا دیکھا تھا۔ انہیں یہ جان کر حیرت ہوئی ہو گی کہ کسی انسان کے پیٹ بھی لگا ہوا ہوتا ہے، سو میڈیکل سائنس میں تہلکہ برپا کر دینے کی خاطر انہوں نے اپنی اس دریافت کو عام کرنا مناسب جانا۔ لیکن جناب، ڈاکٹروں کو تو انسانی اعضا کے متعلق خوب پڑھایا جاتا ہے، پھر ان کو حیرت کیوں ہوئی؟ یہی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ ڈاکٹر صاحب بچپن سے ہی پیٹ درد کی شکایت کر کے سکول کالج جانے سے انکاری ہو کر چھٹی مار لینے کے عادی ہوں گے، اسی سبب سے وہ ان اسباق کو پڑھنے سے محروم رہے جن میں پیٹ کے بارے میں پڑھایا گیا ہو گا۔

یا ممکن ہے کہ وہ سیاسی ذہن رکھتے ہوں۔ بہت سے نوجوان عمران خان کے دیوانے ہیں اور ممکن ہے کہ ننھے ڈاکٹر صاحب بھی اسی گروہ میں شامل ہوں۔ عمران خان صاحب جس طرح سے مولانا فضل الرحمان صاحب کے بارے میں گل افشانی کرتے ہیں، اس کو دیکھتے ہوئے ان ڈاکٹر صاحب نے بھی یہ سوچا ہو کہ چلو آج مولانا کا پیٹ کھول دیا جائے اور پھر خوب مضحکہ اڑایا جائے کہ ہمارے سیاسی مخالفین کے اتنے بڑے بڑے پیٹ ہیں۔ مگر ڈاکٹر صاحب، کیا آپ نے یہ سوچا کہ کل کلاں آپ کے کسی محبوب لیڈر کے کسی گرنے اٹھنے کے بعد ان کے جسم کا سی ٹی سکین وغیرہ کر لیا گیا، اور کوئی اگر ڈاکٹر سر کے اندر کی تصویر اسی طرح اپ لوڈ کر دے تو کیا غضب نہیں ہو جائے گا؟ چلو آپ کا الزام ہم نے مان لیا کہ مولانا کے پیٹ میں ڈیزل، حلوہ، مٹھائی، کچھ بھی بھرا ہوا ہے، مگر صاحب، ایک بھرا ہوا بڑا سا پیٹ بہرحال ایک بڑے سے خالی سر سے بہتر ہی نظر آتا ہے۔

یہ بھی شکر کرنا چاہیے کہ یہ میڈیکل آفیسر صاحب پیٹ کے مسائل کے وارڈ میں تعینات ہیں۔ خدانخواستہ اگر یہ کسی دوسرے شعبے میں ہوتے تو پھر پتہ نہیں کس کس عضو کے چیک اپ کی ویڈیو اپ لوڈ کیا کرتے۔ انسانی جسم میں اعضا تو بہت سے ہوتے ہیں۔ مثلاً اگر انہوں نے آنکھ میں ہی سپیشلائز کرنے کا سوچ لیا تو کل کلاں کہیں وہ اپنے کسی محبوب لیڈر کی آنکھ ہی نکال کر قوم کو دکھانے کے لیے پیش کرنے کا نہ سوچ لیں کہ دیکھو میرے ہم وطنو، یہ ہوتا ہے دیدہ بینا۔ یا کسی مریض پر اگر اس کے سیاسی مخالفین منشیات استعمال کرنے کا الزام لگا دیں تو وہ جھٹ اس کی میڈیکل رپورٹیں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ نہ کر دے کہ دیکھو لوگو، میرا مریض ولایتی بھنگ نہیں پیتا ہے، یہ بس خدا داد صلاحیت ہی ہے کہ وہ ایسی بہکی بہکی سی باتیں کرتا ہے۔

ایک گمان یہ بھی ہے کہ ہمارے یہ ڈاکٹر صاحب ٹی وی زیادہ دیکھتے ہوں گے۔ جب ٹی وی پر وہ ڈاکٹروں کو اینکر بنے دیکھتے ہوں گے تو ان کے دل میں بھی ارمان جاگے ہوں گے کہ ان مشہور ڈاکٹر اینکروں کی طرح ہم بھی مشہور ہوں۔ بخدا وہ واقعی مشہور ہو چکے ہیں اور وجہ شہرت وہی ہے جو کہ ان مشہور ڈاکٹر اینکروں کی بیان کی جاتی ہے، یعنی چول مارنے میں منٹ نہیں لگاتے ہیں۔

سو ڈاکٹر صاحب، میڈیکل فیلڈ میں تو اب شاید آپ کے لیے نوکری کی گنجائش نہ رہے، لیکن پاکستانی الیکٹرانک میڈیا میں آپ کے لیے کافی امکانات دکھائی دے رہے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 328 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

7 thoughts on “مولانا فضل الرحمان کے چیک اپ کی ویڈیو

  • 01-05-2016 at 3:09 pm
    Permalink

    Well done Adnan khan Kakar ! It is a crime if a doctor or any hospital employee shares patient’s information with others. Leave apart the video , a doctor is not supposed to talk to his close family about a patient . It tells how sick this doctor is ! In 80s Marhoom Gen Zia included Isalmic studies and Pakistan studies as compulsory subjects in MBBS. Our medical students need to learn professional ethics ………

  • 01-05-2016 at 6:16 pm
    Permalink

    No, such unethical behavior by a medical professional is unacceptable and must be discouraged. . –

  • 01-05-2016 at 8:24 pm
    Permalink

    یہی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ ڈاکٹر صاحب بچپن سے ہی پیٹ درد کی شکایت کر کے سکول کالج جانے سے انکاری ہو کر چھٹی مار لینے کے عادی ہوں گے، اسی سبب سے وہ ان اسباق کو پڑھنے سے محروم رہے جن میں پیٹ کے بارے میں پڑھایا گیا ہو گا۔
    haha! Fire or reprimand this doctor
    Make laws to protect patient privacy like the HIPPA
    The HIPAA Privacy regulations require health care providers and organizations, as well as their business associates, develop and follow procedures that ensure the confidentiality and security of protected health information (PHI) when it is transferred, received, handled, or shared. This applies to all forms of PHI, including paper, oral, and electronic, etc. Furthermore, only the minimum health information necessary to conduct business is to be used or shared. LM

  • 01-05-2016 at 10:14 pm
    Permalink

    عدنان کاکڑصاحب دل خوش ھوتا ھے جب آپ جیسے سچے لوگوں کی تحریر پڑھنےکو ملتی ھے کیونکہ یہاں تو پڑے بڑے صحافی برائے فروخت ھیں۔میرا جمعیت سے تعلق نہیں ھے لیکن انسانیت،اخلاق اور تہذیب بھی کوئی شے ھوتی ھے جس سے یہ وڈیو اپ لوڈ کرنے والا خالی ھے۔بہرحل آپ نے ہماری زبردست رہنمائی کی ھے۔

  • 02-05-2016 at 3:02 pm
    Permalink

    great

Comments are closed.