کوڑے والا بچہ پڑھنا چاہتا ہے


sehrish-usman-2بھلا سا موسم تھا آتی سردیوں اور جاتی گرمیوں کا، خزاں اپنی آمد کا اعلان کر چکی تھی، شامیں خاموش اور لمبی ہونا شروع ہو چکی تھیں۔ اور خدا جانے کیا قصہ ہے کہ ہمیں ہمیشہ سے خزاں کی شامیں پسند رہیں ہیں۔ لوگوں کو بہار کی گلابی شامیں پسند ہوتیں ہیں، معتدل موسم، معطر فضاء ہر طرف پھول اور رنگ اور ایک ہم ہیں کہ بہار کی آمد ہی بوکھلائے دیتی ہے۔ البتہ خزاں کی لمبی خاموش سنہری سی شامیں ہمیشہ مسحور کرتی رہی ہیں۔ شائد لا شعور میں کہیں یہ احساس رہتا ہے کہ اس کہ بعد موسم سرما آنے والا ہے۔ لمبی راتوں والا موسم، جس میں کمرے کی کھڑکی پہ پردے گرائے ہیٹر چلائے کانوں میں کوئی مدھر دھن لگائے ہم کتابیں پڑھا کرتے ہیں، جنگ اور امن کی کتابیں، لڑائیوں کہ قصے، حکمرانوں اور بادشاہوں کی کہانیاں۔

ایسی ہی ایک سہ پہر میں کتابیں پھیلائے اسائنمنٹ بنانے میں مصروف تھی کہ ڈور بیل کی ناگوار سی آواز پر جھنجلا کر اٹھی اور بغیر پوچھے گیٹ کھول دیا. پھر احساس ہوا اماں ہمارے بارے میں صحیح کہتی ہیں کہ بنو ہمہ وقت ہوا کہ گھوڑے پر سوار مت رہا کرو۔۔ خیر اب کیا ہو سکتا تھا گیٹ کھلا تھا اور باہر ایک آٹھ نو برس سال کا نین نقشے سے پکا افغان بچہ کھڑا تھا۔ ملگجا حلیہ بلکہ اگر صاف ہی کہہ دوں تو گندے ہاتھ پاؤں___ پوچھا کیا نام ہے؟ بولا مجاہد۔ ‘مجاہد’ زیر لب دہراتے ہوئے میں اس کی سبز کانچ سی آنکھوں میں جھانکنے لگی جہاں تلخی ایام کا قصہ بہت واضح تھا۔۔ مجھے مراکبے میں جاتا دیکھ کر قدرے اونچی آواز میں بولا “باجی کوڑا_____ باجی کوڑا دے دو”۔ بے ساختہ سوال کر بیٹھی کہ کب سے آ رہے ہو؟ وہ جانے کیا سمجھا سر جھٹک کر بولا “دو سال سے باجی۔”

02جاتے جاتے عادت سے مجبور پوچھ بیٹھی “پڑھتے ہو؟” آٹھ سال کا بچہ پلٹا، سبز ٹوٹے کانچ میں نفرت اتنی واضح تھی کہ میرے لئے کھڑے رہنا مشکل ہو گیا۔ اگر وہ کچھ منٹ تک مجھے دیکھتا رہتا نا تو مجھے یقین ہے کہ اس کی نفرت کا بوجھ نہ سہار سکتی میں۔ لیکن چند لمحوں کہ بعد اس نے رخ پھیر لیا اور جب بولا تو صرف یہ کہ “باجی ٹائم کھوٹا مت کرو”۔

گویا دو سال۔۔ کسی نےسوویت یونین کے سوشل ازم سے لے کر ایکسپینڈنگ نیچر اور نجی جہاد سے لے کر کیپٹلزم تک ہر شئے لا کر جیسے سینے پہ دھر دی ہو کہ لو بنو تم لوگ کر لو جنگیں اور امن کہ معاہدے، جن کو بچانے کہ دعوے ہر شخص کرتا پھر رہا تھا وہاں آٹھ آٹھ سال کہ بچے وطن سے دور ہجرت کا درد سینے میں چھپائے کوڑے سے رزق تلاش رہے ہیں اور تم جدید جنگ کی تھیوری پڑھتے ہوئے سوچتی ہو کہ شکر خدا جو قدیم یونان میں پیدا نہ ہوئی جہاں جنگ کی کوئی اخلاقیات ہی نہ تھیں۔

کسی نے چپکے سے جیسے دل میں چٹکی بھری ہو اور کان کہ پاس سسکا ہو کہ جنگ اخلاقیات سے عاری ہوتی ہے۔

کمرے میں واپس آتے ہوئے ہر شئے سے جی اچاٹ ہو چکا تھا جیسے “مجاہد” کی آنکھوں کے ٹوٹے کانچ کا کوئی ٹکرا سینے میں پھنس گیا ہو۔

انٹرنیشنل ریلیشنز کی پام این پرکنس( Palmer & Perkins) اور چندر پرکاش کی کتابیں باقاعدہ منہ چڑاتی ہوئی محسوس ہوئیں۔۔۔ گویا ‘الائنس، کاؤنٹر الائنس، وار، کانفلیکٹ مینجمنٹ، بفر زون وغیرہ سب اس ایک جملے کی سامنے لا یعنی ہوں کہ باجی وقت کھوٹا نہ کرو۔۔۔

وقت ہی تو کھوٹا کر دیا تھا چارہ گروں نے۔۔۔ جنہیں چارہ گری سے گریز تھا۔۔۔۔

134017742_14248642470001nجو ہر کام کرنے پر تیار تھے سوائے ہمدردی کے۔ اسی ادھیڑ بن میں تھی کہ اندر کی انٹرنیشنل ریلشنز کی سٹوڈنٹ بیدار ہوئی اور دلیلوں پر دلیلیں قومی مفاد سے لے کر جنگ کی اہمیت طاقت کے توازن اور اجتماعی سیکورٹی جانے کیا کیا۔۔۔لیکن وہ ٹوٹے کانچ سی سبز آنکھیں۔۔۔اف!

وہ ﺳﺐ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺳﮯ ﭼﮩﺮﮮ، ﺗﻼِﺵ ﺭﺯﻕ ﻣﯿﮟ ﮔﻢ ہیں

ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺗﺘﻠﯽ ﭘﮑﮍﻧﯽ ﺗﮭﯽ، ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺑﺎﻏﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ

رات اور اگلے دن کی دو پہر جیسے تیسے کاٹے تیسرے پہر گیٹ کی اطلاعی گھنٹی پر گیٹ کھولا تو مجاہد اپنی زخمی آنکھوں سے گھور رہا ہو جیسے کہہ رہا ہو “ٹائم کھوٹا نہ کرو”

کیا تم پڑھو گے؟؟ میں نے جلدی سے پوچھا مبادا وہ کل کی طرح سر جھٹک کہ چلتا نہ بنے۔۔

‘نہیں’ یک لفظی جواب۔۔۔

اور کسی نے چپکے سے کہا

“لہجے سرد ہو جائیں تو پھر پگھلا نہیں کرتے”

اور مجھ پر دھن سوار تھی اس سرد لہجے کو پگھلانے کی۔۔۔بھلا یہ کوئی عمر تھی اس کی نفرتیں پالنے کی اور اگلی نفرتوں نے کیا دیا ہے سوائے لاشوں اور قبروں کے۔

اگلے تین دن اس کہ خالی ڈبوں والے شاپر میں ٹافیاں بھی جاتیں رہی اور ہم خاموش گفتگو کرتے رہے۔۔۔چوتھے دن چاکلیٹ شاپر میں نہیں ہاتھ میں تھمائی۔ معصوم بچہ جیسے اسی کا منتظر ہو بولا “مجاہد لکھنا سھکاؤ ہم کو۔”

ٹوٹل گیارہواں دن تھا۔۔۔کچی پینسل، کاپی، ربڑ، شاپنر مجاہد کے تھیلے میں اس کہ ساتھ جاتے تھے۔

بارہیویں دن گیٹ پر اس کی آنکھوں میں نفرت نہیں آشنائی دیکھی جیسے کہہ رہا ہو اتنے برے بھی نہیں تم سب۔۔

جاتے ہوئے کاپی کا صفحہ ہاتھ پہ دھر گیا کھولا پڑھا تو ٹوٹی پھوٹی لکھائی میں مٹا مٹا سا “مجاہد جان کابل” لکھا ہوا تھا اور مجھے لگا دنیا کی ساری کتابوں کہ سارے حرفوں سے معتبر یہ جملہ ہے، جس میں خود کو جاننے کے سفر پر کسی نے پہلا قدم رکھا تھا، جس میں وطن کو لوٹ جانے کی امید تھی، اپنے ویرانے آباد کرنے کا عزم تھا۔۔۔

دو ہفتوں کے داخلی جائزے کے بعد واپسی ہوئی تو پتا چلا مجاہد جا چکا تھا۔۔ جس طرح وہ اچانک آیا تھا اسی طرح غائب بھی ہو گیا تھا پر جاتے جاتے مجھے ایک بات سمجھا گیا کہ ‘محبت فاتح عالم’۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “کوڑے والا بچہ پڑھنا چاہتا ہے

  • 01-05-2016 at 6:58 pm
    Permalink

    واہ ،، کیا خوبصورت تحریر- مقصدیت اور عزم سے بھرپور-
    کالم کا نام “محبت فاتح عالم” ہوتا تو بھی بہت موزوں ہوتا-
    اللہ کرے زورِ قلم اور ذیادہ

  • 02-05-2016 at 12:47 am
    Permalink

    محبت فاتح عالم جہاد زندگانی میں یہی ۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments are closed.