سیاسی آتشدان میں کارکنوں کی راکھ اور ہاتھ تاپتے سیاستدان


الیکشن سر پر ہے، گویا قیامت آنے کو ہے!
سیاستدان جیتنے سے پہلے جیت کے نشے سے سرشار ہیں اور ان کے جانثار مداح ان ہی کی اس لذت سے مدہوش ہوکر ایک دوسرے کی مائیں بہنیں گالیوں کی صورت نوچ کھا رہے ہیں۔
مگر قیامت سے پہلے ایک قیامت ہے جو مختلف پارٹیوں کے کارکنوں پر گزر رہی ہے۔

ان کی حالت میلے میں کھوچکے اس بچے کی سی ہے جو میلے کے بے پناہ ہجوم میں اس ہاتھ کو ڈھونڈتا پھررہا ہوتا ہے، جسے تھامے وہ میلے میں داخل ہوا تھا اور اب وہ ہاتھ اس کے ہاتھ سے جدا ہوچکا ہے۔

آجکل کے سیاسی میلے میں پریشان و مایوس پھرتے سیاسی کارکنوں کو دیکھتی ہوں تو وہ دو گمنام سیاسی کارکن یاد آتے ہیں، جن سے بہت برس پہلے چند ملاقاتیں ہوئی تھیں۔
جن پر کئی طرح کے الزامات کی بنیاد پر برسوں سے وارنٹ نکلے ہوئے تھے، جس کی وجہ سے ایک طویل عرصے سے وہ روپوش تھے۔

ان میں سے ایک کے بازوؤں اور رخسار پر جسمانی ٹارچر کے زخم اپنا گہرا نشان چھوڑ چکے تھے۔ سنا تھا کہ اس کی پیٹھ پر ضیاء دور کے کوڑوں کے نشان بھی ہیں۔ اور اب اس کے چہرے پر سختی پنجے گاڑے بیٹھی تھی، جیسے کسی بھی زخم کی اس کی نگاہ میں کوئی وقعت نہ ہو!

اس کے برعکس دوسرے کے چہرے سے عجیب سی یاسیت جھلکتی تھی، جیسے برسوں کی بھوکی پیاسی پیدل مسافت کے بعد اب تھک کر چوُر ہوچکا ہو!
بدرنگ ہوچکے بوسیدہ کپڑے اور پھٹے پرانے پشاوری جوتے بھی گویا اس کی تھکن کی عکاسی کررہے ہوتے تھے۔
مگر دونوں کی آنکھوں میں بھرے رت جگوں کا اضطراب ایک سا تھا، جیسے زمانے گزرے، دونوں نیند بھر سوئے نہیں!

میں نے جب کہا کہ گھر کیوں نہیں چلے جاتے؟ تو کہا کہ کئی برس گزر چکے ہیں گھر کو دیکھے ہوئے۔ والدین نے اپنے باقی بچوں کی بقا کی خاطر کہہ دیا ہے کہ خود کو ہمارے لیے مرا ہوا سمجھو اور ہماری طرف نہ آؤ۔

میں نے کہا پولیس کے آگے سرینڈر کردو۔
جواب میں ایک نے اپنے بازوؤں پر لگے زخموں کے نشان دکھا کر کہا کہ یہ دیکھ رہی ہیں آپ! یہ وردی والوں کی دین ہیں۔

وہ دونوں کم عمری میں ضیاء دور کی آمریت کے خلاف جمہوریت کے خواب لیے آگ کے دریا میں اترے تھے۔
میری جن دنوں ان سے ملاقات ہوئی تھی، ان دنوں ن لیگ اور پی پی پی باری باری کی حکومت والے پہل دوج کے کھیل میں پھنسی ہوئی تھیں۔
مگر ان دو کارکنوں کا تعلق مرتضیٰ بھٹو گروپ سے تھا جو مشترکہ طور پر، ریاست سمیت سب کا ناپسندیدہ گروپ تھا۔
اگرچہ مرتضیٰ بھٹو بھی اپنے گھر کے سامنے بیچ چوراہے پر مارا جا چکا تھا مگر ان دو کارکنوں کے اوپر نکلے ہوئے وارنٹ جوں کے توں تھے۔

اب انہیں سوِل سوسائٹی کے ایسے افراد کی تلاش تھی جو ان کی ضمانت دے کر ان کی جان چھڑا سکیں اور انہیں ایک نارمل زندگی کی طرف لوٹنے میں مدد دے سکیں۔
جن چند لوگوں سے انہوں نے رجوع کیا تھا، ان میں سے ایک میں بھی تھی۔
میں نے پوچھا کہ اب تمہارے سروں پر دستِ شفقت کس کا ہے؟
ایکدم سے بولے، ممی کا۔
ممی کون؟ میں نے پوچھا

دونوں میں سے وہ ایک، جس کے چہرے پر یاسیت ٹھہری رہتی تھی، ایکدم سے جذباتی سا ہوگیا۔
جذبات سے لرزتی آواز میں بولا۔ ہماری ممی۔ میر مرتضیٰ کی ممی۔ بیگم نصرت بھٹو۔ ہم سب انہیں ممی کہتے ہیں نا۔ وہ بھی ہمیں بیٹا کہتی ہیں۔
ان دنوں سب جانتے تھے کہ بیگم بھٹو کی جسمانی اور ذہنی صحت مرتضیٰ بھٹو کی کربناک موت کے بعد نارمل پوزیشن میں نہیں ہے۔

میں نے حیران ہوکر پوچھا کہ بیگم بھٹو اس پوزیشن میں ہیں کہ تم لوگوں کی سرپرستی کرسکیں؟
چہرے اور بازوؤں پر زخموں کے نشان والا ورکر ہونٹ بھینچے چپ بیٹھا رہا، جیسے اسطرح کی جذباتی باتوں سے وہ خود کو دور رکھتا ہو!
مگر دوسرا اور بھی جذباتی ہوگیا۔

آنکھوں میں اترتی نمی کے ساتھ بولا۔ جب کبھی وہ 70 کلفٹن میں ہوتی ہیں نا تو ہم چھپ کر کسی طرح ان تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہ کرسی پر بیٹھی ہوتی ہیں اور ہم میر مرتضیٰ صاحب کے کچھ ورکرز انہیں گھیر کر زمین پر بیٹھ جاتے ہیں۔ ان کی ٹانگوں سے لپٹ جاتے ہیں۔ ان کے گھٹنوں پر سر رکھ دیتے ہیں۔ وہ ہمارے سروں پر ہاتھ پھیرتی جاتی ہیں اور روتی جاتی ہیں۔ ہم بھی ان کے گھٹنوں پر سر رکھے رو رہے ہوتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ مجھے تم سے اپنے بیٹے کی خوشبو آتی ہے۔

یہ بتاتے ہوئے اور روتے روتے وہ ہنس دیا اور کہنے لگا۔ ہم ممی کے قریب بھی ایسے ہی میلے کچیلے اور پسینے کی بدبو والی حالت میں بیٹھتے ہیں، جیسے ابھی آپ کے سامنے ہیں۔
اس دوران بھی زخموں کے نشانوں والا کارکن بدستور ہونٹ بھینچے چپ بیٹھا رہا۔

نصرت بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کے دربدر ہوچکے سیاسی کارکنوں کے بیچ کی وہ منظرکشی سنتے ہوئے میرے ذہن میں برسوں پر محیط وہ پورا منظر گھوم گیا جس میں، میں نے شعور کی ذرا سی آنکھ کھول کر بیگم بھٹو کو خاتون اوّل کے روپ میں دیکھا تھا۔

نفیس ساڑھی میں ملبوس ایرانی چہرے والی سرو قد بیگم بھٹو کو جب پہلی بار سامنے سے لیاری کے ایک تعلیمی پروگرام میں دیکھا تھا، تب بھی وہ خاتونِ اوّل ہی تھیں۔
انہوں نے ہی لیاری جیسے پسماندہ علاقے کے اسٹیج پر اسکولوں کے بیچ تقریری مقابلہ رکھوایا تھا۔
میں اپنے اسکول کی طرف سے شریک ہوئی تھی۔ موضوع تھا۔ بچوں کے علاوہ ماں کو بھی پڑھنے کے لیے اسکول جانا چاہیے یا نہیں؟

ان دنوں تعلیمِ بالغان پر کام ہورہا تھا اور یہ اس وقت کا ایک بہت بڑا موضوع ہوتا تھا۔ مگر میری عمر کے لیے حیرتوں کا زمانہ تھا ابھی۔
اس جلسہ نما پروگرام میں، جسے لیاری کی عورتوں کا ہجوم سننے آیا تھا، بیگم بھٹو کو اپنی پہلی نگاہ میں، میں نے چاروں طرف سے لیاری کی غریب اور بوسیدہ لباس میں ملبوس، پسینے میں شرابور عورتوں کے بیچ گھرا ہوا دیکھا تھا۔
وہ سب کے گلے لگ رہی تھیں اور کسی کو بھی خود سے دور نہیں کررہی تھیں۔
ہم کم عمر اور کم عقل لڑکیاں یہ دیکھ کر کھسرپھسر کے ساتھ آپس میں ہنسے جا رہی تھیں کہ توبہ کیسے ان میلی عورتوں سے لپٹ رہی ہیں بیگم بھٹو!

پھر وہ وقت بھی آیا جب ضیاء دور کی تصویروں میں، ہم نے انہیں پولیس کی لاٹھیاں کھاتے ہوئے، پھٹے سر کے ساتھ لہولہان دیکھا اور پھر وہ وقت جب ٹیلی ویژن اسکرین پر مرتضیٰ بھٹو کی موت پر بے بس اور اشکبار دیکھا۔

اور اب اس وقت، جب میر مرتضیٰ بھٹو کا دربدر ہوچکا ورکر آنسو بھری آنکھوں سے بیگم بھٹو کا ذکر ممی کہہ کر کررہا تھا، میرا ذہن پہلی بار ایک گمنام سیاسی کارکن اور اس کے لیڈر کے بیچ کے ایک نئے رشتے سے یوں متعارف ہوا کہ بعد میں سندھی کہانی کار کی حیثیت سے میری اپنی کئی کہانیوں میں یھی گمنام سیاسی کارکن میری انسپریشن بنے رہے۔

اور اس کے ساتھ سیاست کے الاؤ میں اپنی کُل متاعِ حیات جھونک کر خالی ہاتھ و تہی دامن بیٹھا ہوا لیڈر اور اس کے گرد گھیرا ڈالے بیٹھے اس کے بےمراد سیاسی کارکن، اب اختتامِ سفر پر ایک دوسرے پر سر رکھے روتے ہوئے!

لیڈر اور کارکن کے آنسوؤں کا امتزاج ہی سیاست کو حقوق العباد جیسی عبادت بناتا ہے۔ یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں لیڈر، چاہے عورت ہو یا مرد، ممی یا ماں بن جاتا ہے۔
جب ہم یہ گفتگو کررہے تھے، اس دوران بھی چہرے پر سختی لیے بیٹھا مرتضیٰ بھٹو کا دربدر ہوچکا سیاسی کارکن بدستور ہونٹ بھینچے چپ بیٹھا رہا۔

میں نے بیگم بھٹو کی بات کرتے کارکن کو مخاطب کرکے کہا۔
شیخ ایاز نے کہیں کچھ ایسا لکھا ہے کہ۔ ۔ ۔ سیاسی کارکن آتشدان میں جلتی لکڑیوں کی مانند ہوتے ہیں، جن کی تپش پر، سیاستدان اپنے ہاتھ سینکتے ہیں۔
اچانک وہ چپ بیٹھا کارکن اپنی جگہ سے اٹھا اور اس نے اپنی ڈائری یہ کہہ کر میرے آگے کھول دی۔ مجھے یہ بات اس پر لکھ کر دیں۔
میں نے اس کی ڈائری پر اضافی لفظوں کے ساتھ لکھ دیا کہ۔ سیاسی کارکن آتشدان میں جلتی لکڑیوں کی مانند ہوتے ہیں، جن پر سیاستدان سیاست کی سرد راتوں میں اپنے ہاتھ سینکتے ہیں۔ مگر جل چکی لکڑیوں کی راکھ ان کے کسی کام کی نہیں رہتی۔

میرے لکھے الفاظ اپنی ڈائری میں پڑھتے ہوئے اس نے میری طرف دیکھ کر سر ہلاتے ہوئے کہا۔ بلکل سچ کہا ہے۔ بلکل سچ کہا ہے۔
ساتھ ہی اس کے چہرے پر برسوں سے ٹھہری سختی جیسے پگھل پگھل کر آنسوؤں کی نمی بن کر آنکھوں میں اتر رہی تھی اور وہ کہے جا رہا تھا
بلک سچ کہا۔ بلکل سچ کہا۔ ایسا ہی ہے۔ ایسا ہی ہے۔
ان دونوں کی ضمانت کے سلسلے میں مجھے بیگم بھٹو سے ملنے کی ضرورت تھی۔ کسی کی وساطت سے وقت لے کر میں 70 کلفٹن میں پہلی بار داخل ہوئی۔

گیٹ سے ایک عام اور سادہ سا ملازم مجھے اندر کی طرف لے گیا۔ اس کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے میں گھر کے درودیوار کو عجائب خانے میں گھومتے حیرت زدہ بچے کی طرح دیکھتی جارہی تھی۔
70 کلفٹن کے نام سے مشہور اس گھر کو ہمیشہ باہر سے دیکھا تھا۔ بچپن سے اس گھر کا جاہ و جلال سنا تھا۔ بینظیر کی یاداشت میں بھی اس گھر کا ذکر پڑھا تھا کہ بچپن میں اس گھر کے لان میں کھیلتے ہوئے مرتضیٰ اسکاؤٹس کا کیمپ لگایا کرتا تھا۔ اور وہ وقت بھی پڑھا جب ضیاء دور میں فوجی سپاہی بندوقیں تانے اس گھر میں ہر طرف پھیل گئے تھے اور بینظیر نے ان سے چیخ کر کہا کہ تم یہ سب بھٹو کے گھر میں کررہے ہو! اس بھٹو کے گھر میں جس نے تمہیں بھارت کی قید سے آزاد کروایا! تو انہوں نے بے اختیار حیرت سے کہا کہ اچھا! یہ بھٹو کا گھر ہے! ہمیں تو یہ نہیں بتایا گیا تھا۔

یوں اس گھر کا عروج و زوال سنا بھی اور پڑھا بھی۔
مگر اب بھٹو کے والد کا تعمیر کروایا ہوا وہ وسیع و عریض گھر بہت ہی پرانا ہوچکا تھا۔ زرد رنگ ہوچکی دیواروں کو پتہ نہیں کب سے رنگا نہیں گیا تھا! لان میں پتہ نہیں کب سے اسکاؤٹس کا کیمپ اکھڑ چکا تھا اور پھول کھلنا بند ہوچکے تھے!
ملازم نے مجھے راہداری نما لمبے برآمدے میں بٹھایا اور خود اندر اطلاع کرنے چلا گیا۔

انتظار کی بوریت کے ساتھ میں نے زمین پر بچھے بوسیدہ اور بدرنگ ہوچکے قالین پر ہلکا سا پیر مارا تو دھول کا ایک بگولہ سا میری طرف اٹھ آیا۔ میں پیر روک کر درودیوار کو دیکھنے لگ گئی۔ دیواروں پر آویزاں تصویروں کے فریم گردنیں ڈھلکائے ٹیڑھے میڑھے ہوئے لٹک رہے تھے۔ جیسے سیاسی کارکنوں کی طرح ان سے بھی وہ ہاتھ بچھڑ چکے ہوں، جنہیں تھام کر وہ اس گھر کے میلے میں داخل ہوئے تھے!

اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے میں نے سیاہ و سفید رنگ تصویروں کو غور سے دیکھا۔ انگنت لوگ، انگنت چہرے!
ایک پورا زمانہ تھا جو گزر چکا تھا۔ کئی لوگ تھے جنہیں منظر سے ہٹا دیا گیا تھا۔ کسی کو خرید کر اور کسی کو دھونس دھمکی کے ساتھ۔ کچھ زمین تلے جا سوئے تھے اور کچھ چہرے ابھی بھی باقی تھے جو گر گر کر پھر اٹھ رہے تھے اور پھر سے لڑ رہے تھے۔ بہت سے اب خود ہی خود کو ٹھیلوں پر رکھے ہر طرح کے بازار میں فروخت کرتے پھر رہے تھے۔ مگر 70 کلفٹن کی ان تصویروں میں سب ہی چہرے بھٹو کے گرد گھیرا ڈالے کھڑے تھے۔

شریر بچے کے سے تجسس کے ساتھ میں نے گردن گھما کر اپنے پیچھے ہال نما کمرے کے کھلے دروازے سے ذرا سا اندر کو جھانکا۔
خالی سنسان ہال کی دیواروں سے لگے رکھے سادہ اور بوسیدہ ہوچکے قطار در قطار صوفے، جن پر بیٹھنے والے لاتعداد لوگ اچانک اٹھ کر منظر سے اوجھل ہوچکے تھے۔
سوچا کہ یہاں یقیناﹰ پارٹی میٹنگس ہوتی ہوں گی! صوفے تو بھرے ہی ہوتے ہوں گے مگر زمین پر بھی تل دھرنے کی جگہ نہ ہوتی ہوگی!
مگر اب فضا میں ٹھہری دھول سرسراتی پھر رہی تھی اور خالی جگہوں کو پُر کرنے کی ناکام کوشش کررہی تھی۔

ملازم بہت دیر بعد پانی کے گلاس کے ساتھ لوٹا۔ بولا ممی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ دوائی کھا کر آپ کا انتظار کرتے کرتے سوچکی ہیں۔ ہم جگا نہیں سکتے۔ آپ کل آجائیں۔
مگر میں پھر جا نہ سکی۔
اس کے کچھ عرصے بعد پی ٹی وی کے لیے ایک لانگ پلے ” اب میرا انتظار کر“ میں بے وفا وقت کے ہاتھوں لُٹ چکے بہادر شاہ ظفر کے کردار کو لکھتے ہوئے میرا قلم بےاختیار یہ ڈائیلاگ لکھ رہا تھا۔
حق۔ جو آج ہے وہ کل نہیں ہے۔ جو کل تھا۔ وہ کہیں نہیں ہے۔ جو بھی کچھ ہے۔ سب فانی ہے۔ سب فانی ہے۔

آج بیگم کلثوم نواز کو دیکھتے ہوئے مجھے بے اختیار ان دو سیاسی کارکنوں کی ممی، بیگم بھٹو یاد آجاتی ہیں۔
بنی گالہ کے باہر پارٹی کے لیے اپنے خون پسینے کی محنت کا حساب مانگتے ورکرز کا احتجاج دیکھ کر مجھے مرتضیٰ بھٹو کے وہ دو دربدر ہوچکے کارکن یاد آجاتے ہیں۔

اور ابھی کل ہی جب بینظیر بھٹو کی بہت ہی پرانی ایک کارکن نے فون پر مجھے روتے ہوئے کہا کہ بس! ہمارا دور ختم ہوا؟ عمر دے دی بی بی کے لیے۔ چودہ برس کی عمر میں، میں جیل گئی تھی۔ آمریت کی سختیاں سہیں۔ دھکے کھائے۔ بی بی مجھے اپنے قریب بٹھاتی تھیں مگر آج دور کھڑے ہونے والوں میں شمار ہوتا ہے میرا۔

میں نے پیار سے تسلی دیتے ہوئے کہا۔ کہ یہ ہی نظامِ قدرت ہے میری جان! فصل بوتا کوئی ہے۔ کاٹتا کوئی اور ہے۔ خرچ کوئی اور کرتا ہے۔ یہ منظر یونہی بدلتا رہے گا۔ خون پسینہ بہانے والے آتشدانوں میں جل جل کر یونہی راکھ ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔

دراصل جسے ہم عروج کہتے ہیں، وہ زوال کی ابتدا ہوتی۔ جسے ہم بلندی کہتے ہیں وہ نیچے کو لڑھکنے کی اونچائی ہوتی ہے۔
70 کلفٹن ہو یا بلاول ہاؤس
جاتی امرا ہو یا بنی گالہ
سب ہی عمارتوں میں بچھے قالینوں سے آخر میں دھول کے بگولے اٹھنے ہیں
میلے کے تنبو اکھڑ جانے کے بعد بھی گر کچھ رہ جانے کے قابل ہے تو وہ ہے لیڈر کا ضمیر اور انصاف۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 75 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah