کشمیر: نعرے سے حقیقت تک


editپاکستان پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نواز شریف حکومت پر کرپشن ، دھاندلی اور بھارت نوازی کے الزامات عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نواز شریف فوری طور پر استعفیٰ دیں۔ اگر تحقیقات میں وہ بے گناہ ثابت ہو جائیں تو دوبارہ عہدہ سنبھال سکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی قیادت میں کسی دوسرے شخص نے نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ نہیں کیا۔ بلاول اس سے پہلے بھی یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ آج کوٹلی آزاد کشمیر میں ایک عام اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کوئی نئی بات تو نہیں کی لیکن ان کا لب و لہجہ اور بچگانہ طرز خطابت یہ ظاہر کر رہا تھا کہ آصف علی زرداری اور ان کے مٹھی بھر ساتھی بلاول کو پارٹی کا اختیار دینے اور سیاسی معاملات پر سوجھ بوجھ کے ساتھ بات کرنے کی تربیت اور مشورہ دینے کی بجائے، انہیں بھٹو وراثت کی علامت بنا کر لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ یوں تو 25 برس کی عمر میں بلاول سے یہ توقع کی جانی چاہئے کہ اگر وہ واقعی اپنے نانا اور ماں کی پارٹی کو عوامی خواہشات کی نمائندہ بنانا چاہتے ہیں تو وہ فیصلے کرنے اور پارٹی کی تنظیم نو کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔

پیپلز پارٹی نے آج کوٹلی میں جو شو برپا کیا ہے، وہ شاید یہ ثابت کرنے کے لئے تھا کہ یہ پارٹی اب بھی ملک گیر پارٹی ہے اور اسے پاکستان تحریک انصاف کے مقابلے میں زیادہ اہمیت ملنی چاہئے۔ ملک کی دیگر پارٹیوں اور لیڈروں کی طرح پیپلز پارٹی بھی عمران خان کے بعد وزیراعظم نواز شریف کی عوامی رابطہ مہم سے متاثر ہو کر اس دوڑ میں شامل ہو رہی ہے۔ تاکہ 2018 کے انتخابات سے قبل ووٹروں کو اپنے ساتھ ملانے کے کام کا آغاز کیا جا سکے۔ لیکن بلاول بھٹو زرداری اور دیگر رہنماﺅں کی تقریروں سے ہرگز یہ اندازہ نہیں ہوا کہ وہ آئندہ انتخابات کے لئے کوئی ٹھوس اور جامع حکمت عملی لے کر لوگوں کے سامنے آ رہے ہیں۔ اب بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ حکومت پر نکتہ چینی اور بے بنیاد نعروں کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی پرانی کوششوں کو تازہ کیا جا رہا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری چونکہ نوجوان ہیں اور عوام کے ایک خاص طبقہ میں ان سے امیدیں بھی باندھی جا رہی ہیں، اس لئے انہیں پرجوش تقریریں کرنے کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ بلاول کے خطاب کے طریقہ کار اور اس کے پیغام میں کوئی ایسی چیز موجود نہیں تھی جس سے یہ اندازہ کیا جا سکے کہ ایک ایسا نوجوان سیاسی لیڈر لوگوں سے مخاطب ہے جو جدید دنیا کے تقاضوں کو سمجھتا ہے اور اپنی بصیرت اور معاملہ فہمی سے اس قوم و ملک کو درپیش مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے برعکس انہوں نے کسی ٹھوس پیغام کی بجائے نعروں کو بنیاد بنا کر تقریر کا آغاز اور اختتام بھی پرجوش نعروں سے ہی کیا۔ لیکن یہ نعرے اب اپنی اہمیت اور قدر و قیمت کھوتے جا رہے ہیں۔ کیونکہ انہیں اتنی بار استعمال کیا جا چکا ہے کہ لوگ ان کی اصلیت سے آگاہ ہیں۔ ملک کا نوجوان ووٹر صرف اسی صورت میں کسی پارٹی کا انتخاب کرے گا اگر وہ اصلاح احوال کا قابل عمل منصوبہ لوگوں کے سامنے لا سکے گی۔ نعروں سے شروع ہو کر انہی پر ختم ہونے والی بلاول کی تقریر نواز شریف پر الزامات سے لبریز تھی۔ اس طرح بیان میں لذت تو پیدا کی جا سکتی ہے لیکن عام لوگوں کو متاثر نہیں کیا جا سکتا، خواہ وہ دل سے پیپلز پارٹی کے ہمدرد ہی کیوں نہ ہوں۔

ملک کی کوئی بھی پارٹی چونکہ قومی سطح پر ٹھوس پروگرام پیش کرنے اور پیداوار میں اضافہ ، روزگار کی فراہمی ، غربت کے خاتمہ اور بدامنی سے تحفظ کے لئے کوئی منصوبہ پیش کرنے میں ناکام ہے، اس لئے انتخابات میں ووٹر صرف ان لوگوں کو منتخب کرتے ہیں جو کسی نہ کسی طریقے سے ان کی دسترس میں ہوں اور بوقت ضرورت ان کے کام آ سکیں۔ اسی لئے انتخابات کے نزدیک سیاسی پارٹیاں مختلف حلقوں میں ایسے لوگوں کی تلاش میں ہوتی ہیں جو اپنی رابطہ مہم اور اثر و رسوخ کی بنا پر منتخب ہونے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور امیدوار ایسی پارٹی کو تلاش کرتے ہیں جو انتخاب کے بعد زیادہ سے زیادہ ان کی خواہشات اور ضرورتوں کو پورا کر سکے۔ اس طرح ایک دوسرے کی ضرورتیں پورے کرنے کا ایسا گھناﺅنا نظام استوار ہو چکا ہے جو اگرچہ جمہوریت کے نام پر کام کر رہا ہے لیکن اس میں جمہور کی نفی کے سوا اور کوئی قابل ذکر عنصر موجود نہیں ہے۔ اسی لئے انتخابی معرکہ آرائی کا یہ نظام ملک میں کرپشن کی پرداخت اور فروغ کا سبب بنتا ہے اور اسی لئے صرف وہ سیاسی پارٹی انتخابات میں کامیاب ہو سکتی ہے جو مختلف علاقوں میں برادریوں، گروہوں اور افراد کی قوت و حیثیت کا درست اندازہ لگانے میں کامیاب رہتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اس نظام اور اس کے لوازمات کو اچھی طرح سمجھتی ہے، اسی لئے وہ انتخابات میں کامیابی حاصل کر لیتی ہے۔ دوسری پارٹیاں جب مروجہ طریقہ کار میں مسلم لیگ (ن) جیسی چالاکی اور جوڑ توڑ میں ناکامی کے بعد انتخابی نتائج میں بھی مایوس و نامراد ہوتی ہیں تو دھاندلی کا شور مچایا جاتا ہے۔ یہ شور آج بلاول بھٹو زرداری نے بھی مچایا اور دعویٰ کیا کہ وہ کسی بھی حالت میں کسی قسم کی کرپشن کو قبول نہیں کر سکتے۔

یہ دعویٰ تو ملک کا ہر لیڈر اور ہر سیاسی جماعت کرتی ہے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کے ساتھی اپنی دیانت اور ایمانداری کے قصے بیان کرتے ہلکان ہوئے جاتے ہیں۔ کل ہی ایک بیان میں نواز شریف نے دعویٰ کیا ہے کہ اس ملک میں جتنا احتساب ہمارا ہوا ہے، اتنا کسی کا نہیں ہوا۔ ایسا ہی دعویٰ بلاول کے والد آصف علی زرداری بھی کرتے ہیں جو یہ نعرہ لگاتے ہوئے یہ بھی یاد دلواتے ہیں کہ وہ بارہ برس تک کسی قصور کے بغیر قید رہے ہیں۔ ان کے خلاف کوئی مقدمہ کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس کے باوجود آصف زرداری سمیت پیپلز پارٹی کے بیشتر لیڈروں کو بدعنوانی اور کرپشن کے لاتعداد مقدمات کا سامنا ہے۔ اپوزیشن میں رہتے ہوئے وہ عدالتوں کی پیشیاں بھگتتے ہیں اور یہ امید کرتے ہیں کہ اقتدار میں آنے کے بعد ملک کا یہ ناکارہ ، بوسیدہ اور ناقص نظام ان کی تمام غلط کاریوں کو فراموش کر دے گا۔

اسی لئے نواز شریف ہوں یا بلاول، نظام کو تبدل کرنے یا اس کی اصلاح کے لئے کوئی منصوبہ سامنے لانے کا حوصلہ نہیں کرتے۔ عوام نے عمران خان سے ضرور یہ امید وابستہ کی تھی لیکن خیبر پختونخوا میں اکثریت حاصل کر کے جیسے لوگوں کو حکمرانی سونپی گئی اور تبدیلی لانے کا نعرہ لگاتے ہوئے جس طرح آزمودہ اور مشکوک لوگوں کو ساتھ ملایا گیا ہے …. اس کے بعد عوام کی یہ امید بھی دم توڑتی جارہی ہے۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ وزیراعظم اور سابقہ حکمران جس احتساب سے گزرنے کے دعوے کرتے ہیں، وہ خود ان کا زیر نگیں ہوتا ہے۔ ان لیڈروں نے کبھی خود مختار اداروں اور ضمیر کے مطابق قانون نافذ کرنے والے لوگوں سے اپنے معاملات کی چھان پھٹک نہیں کروائی۔ اس لئے الزام کے نعرے کی طرح احتساب سے گزرنے کی بات بھی ایک دھوکہ ، سراب اور نعرہ سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔

بدعنوانی کے الزامات اور شفافیت کے نعروں کے علاوہ بلاول بھٹو زرداری آج چونکہ آزاد کشمیر میں خطاب کر رہے تھے، اس لئے انہوں نے آزادی کشمیر کے آزمودہ نسخہ کو بھی آزما لیا۔ اس میں مزید شدت پیدا کرنے کے لئے نواز شریف کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا دوست اور کشمیر کاز کا دشمن قرار دیا۔ حالانکہ اس ملک کے محروم اور بدحال عوام نئی اور نوجوان قیادت سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ پرانے مسائل کے بوسیدہ اور ناکارہ حل پیش کرنے اور استعمال شدہ نعرے بلند کرنے کی بجائے مسئلہ کشمیر سمیت علاقے میں امن اور خوشحالی کے لئے نیا تصور پیش کریں گے۔ اقوام متحدہ کی ان قراردادوں کا حوالہ دینے سے اب اس خطے کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا جنہیں اب پاکستان کی سیاسی تقریروں یا گمراہ کن نصابی کتابوں کے علاوہ کہیں جگہ نہیں ملتی۔ کشمیریوں کو آزادی ملنی چاہئے لیکن یہ آزادی کشمیریوں کے طے کردہ اصولوں اور ان کی خواہشات کی بنیاد پر حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ معاملہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ سے زیادہ کشمیری عوام و بھارت اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیریوں و اسلام آباد کے درمیان کسی معاہدے یا سیاسی انتظام کی ضرورت کے بارے میں ہے۔ بھارت کی طرح پاکستان بھی اس معاملہ کو اس پہلو سے دیکھنے کی بجائے کشمیریوں میں سیاسی حمایت حاصل کرکے کسی خاص لیڈر یا جماعت کے حق میں نعرے بلند کروا تا ہے اور یہ باور کر لیا جاتا ہے کہ کشمیر پاکستان کا حق ہے اور اسے بہر صورت بھارت سے واپس لینا ہے۔ اسی قسم کے نعرے بھارت کی سیاسی پارٹیاں بلند کرتی ہیں اور نئی دہلی کے زیر انتظام کشمیر میں اپنی اپنی لابی مضبوط کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

اس رسہ کشی میں لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف آباد کشمیری عوام حقیقی آزادی کے تصور سے محروم کئے جا رہے ہیں جبکہ پاکستان اور بھارت میں آباد عوام اس تنازعہ کی بھاری قیمت حکمرانوں کی غیر ضروری اور احمقانہ جنگی تیاریوں کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔ تعلیم ، صحت اور غربت جیسے مسائل مسلسل نظر انداز ہو رہے ہیں بلکہ ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان حالات میں وہ لیڈر کشمیریوں یا پاکستانیوں کا دوست نہیں ہے جو اس صورتحال کو جوں کا توں رکھتے ہوئے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتا ہے بلکہ وہ لیڈر عوام کا حقیقی ہمدرد ثابت ہو گا جو اس سچائی کو قبول کر کے کشمیریوں کو بلاتخصیص اپنی تقدیر کا خود فیصلہ کرنے کے لئے آزاد چھوڑ دینے پر آمادہ ہو۔

کشمیریوں پر پاکستان یا بھارت کا پسندیدہ منصوبہ مسلط کرنے کی بات کرنا دراصل جمہوریت ، آزادی اور عوامی حاکمیت کے بنیادی تصور کی خلاف ورزی ہے۔ نوجوان بلاول بھی اگر اس سچائی کو سمجھنے ، ماننے اور عام کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے تو کشمیریوں کو آزادی اور پاکستانی عوام کو امن کے لئے شاید مزید ایک نسل کا انتظار کرنا پڑے گا۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “کشمیر: نعرے سے حقیقت تک

  • 01-05-2016 at 8:39 pm
    Permalink

    کسی بھی انسان کے لئیے یہ ضروری ہے کہ کوئی بھی جاب کرنے کے لئیے وہ تعلیم یافتہ اور ہنر مند ہو۔ انسان ایک سماجی جانور ہے اور کافی سارے تجربات سے یہ پتا چلتا ہے کہ اگر کوئی کھڑا ہو کر بولنے لگے تو لوگ بلاوجہ اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ یعنی انسانوں‌ کی فطرت ہے کہ ان کو لیڈر کی ضرورت ہے اور ان میں‌ سے زیادہ ترلوگ یہ لیڈر عقل سے کام لیکر نہیں‌ بناتے۔ جس موضوع پر بھی چار لوگ اکسا کر اکھٹے کئیے جاسکیں‌تو اس کا فائدہ اٹھا کرکچھ لیڈرمجمع اکھٹا کرلیتے ہیں۔ خالی تقریروں‌ سے لیڈر فالوئر ضرور اکھٹا کرسکتے ہوں‌گے لیکن ایک لیڈر کے لئیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس کے پیچھے چلنے والے اتنا ہی بلند جا پائیں‌گے جتنا وہ خود۔ اس لئیے جتنا بھی ہوسکے ان کو اپنی معلومات میں‌اضافہ بھی کرنا چاہئیے اور عالمی سطح پر تعلقات استوار کرنے چاہئیں تاکہ ان کو استعمال کرکے وہ اپنے ملک میں‌بہتری لاسکیں۔ ان کو یہ بھی سوچنا چاہئیے کہ تاریخ‌ان کو کس طرح‌یاد رکھے گی اور آنے والی دنیا پر ان کی چال سے کیا فرق پڑے گا۔ اس لئیے میں‌ یہ کہنا چاہتی ہوں‌کہ آپ اچھے پیپر لکھ رہے ہیں‌ اور جو بھی تعلیم یافتہ طبقہ ہے اس کو ڈر دب کر نہیں‌ بیٹھ جانا چاہئیے، اگنورنس سے مقابلہ جاری رکھنا چاہئیے۔

Comments are closed.