راجا سعید کی غزل: قرات کا نیا انداز


غزل کی تنقید ہمارے یہاں دو طرح سے رائج رہی ہے۔ ایک تو یہ کہ چند بیانات قائم کر کے ان کے مطابق اشعار کی مثالیں درج کر لیں اور ایک اچھا خاصا مضمون تیار ہو گیا۔ دوسری صورت روایتی تنقید کی ہے جس میں لفظ کی صورت، تذکیر و تانیث، فصیح، غیر فصیح اور زبان کے درست استعمال تک محدود رہتی ہے۔ شاید مجلسی تنقید میں بھی یہی ترکیبیں لڑائی جاتی ہیں۔ جب ایک شعر بے عیب ہو، وہاں شاعر اگر مخالف دھڑے کا ہے تو مجلسی ناقدین نے اس کے لیے بھی چند اصطلاحیں گھڑ رکھی ہیں۔ جیسے؛ ”ایک آنچ کی کمی“، ”جذبے کی شدت نہ ہونا“ اور ”تخلیقی عدم وفور“، وغیرہ۔

اچھا ان اصطلاحات کا تعلق لفظ سے ہے یا کلی تخلیق سے، یہ بھی علم نہیں ہو پاتا۔ اگر مجلس میں کوئی پڑھا لکھا آدمی موجود ہے یا شاعر خود بہت دبنگ آدمی ہے، تو پھر اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟ ہاں، یاد آیا، بہت اچھے کی اصطلاح آزما کر جان چھڑائی جا سکتی ہے۔ مجلسی تنقید میں کبھی شعر کے معنوی محاسن سننے کو ملے نہ کبھی صنائع بدائع کا ذکر ہوا۔ لیکن جب سے نظم کا چلن عام ہوا ہے کچھ احباب نے تفہیم اور اس کے پیمانوں پر توجہ مرکوز رکھی ہوئی ہے، جس سے کسی بھی متن کے متعدد در وا ہونے لگے ہیں۔ شعر پوری نظم کے پیمانے پر رکھ کر تولا جانے لگا ہے۔ موجود میں غیاب کو ابھارنے کی کوششوں سے تنقید میں رنگا رنگی پیدا ہوئی ہے اور قاری اس تنقید کو تخلیقی تنقید سمجھ کر پڑھنے بھی لگا ہے اور اسی رو میں ہمارے فراموش کردہ ناقدین بھی دھیان میں آنے لگے۔ گویا تنقید اور تخلیق متوازی اور برابری کی سطح پر آ گئے ہیں۔

غزل کی تنقید میں بعض دفعہ پوری غزل زیرِ بحث نہیں آتی، اس کی وجہ طوالت کا خوف ہوتا ہے۔ لیکن بعض ناقدین نے پوری پوری غزل کے تجزیاتی مطالعے پیش کیے ہیں۔ ظفر اقبال نے اپنے ایک کالم میں، ایک غزل کو نظم کی طرح پڑھنے کا تجربہ کیا، جو کئی لوگوں نے پسند کیا اور تمام اشعار کو معنوی طور پر اس طرح جوڑا کہ پوری غزل نظمیت کا مظاہرہ کرنے لگی۔ ہر ناقد یا قاری کا کسی بھی ادبی متن کو پڑھنے کا اپنا انداز ہے اور قاری کے اپنے محسوسات بھی معنی آفرینی میں شامل ہوجاتے ہیں۔

شاعر اپنی تخلیق کو ناٹک بنا لیتا ہے، ڈراما رائیٹر اپنے افکار کا اظہار اپنے کرداروں کے ذریعے کرتا ہے۔ کردار مکالمے کے موقع محل کے مطابق اونچی دھیمی، غصے بھری، تند، شایستہ، نرم ملائم یا سخت آواز میں اظہار کرتے ہیں۔ اسی طرح شاعر یہی کام الفاظ سے کرتا ہے۔ لیکن الفاظ میں نہاں افکار و خیالات سننا ہر آدمی کے بس کا کام نہیں ہے۔ اس کے لیے وہ کئی طریق و تراکیب آزما سکتا ہے اور شعر کے متون میں مخفی بیش تر مفاہیم تک رسائی پا سکتا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کسی بھی فن پارے کی کلی تفہیم ممکن نہیں ہے لیکن قاری شعر کو سمجھنے کے لیے خود بھی پیمانے مرتب کر سکتا ہے۔ مثلا میں بہت دنوں سے اشعار کو اوقاف کی علامتوں سے، ان کے مختلف مفاہیم سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
”اس کی آنکھ بتا سکتی ہے‘‘، میں راجا سعید نے خود جس طرح توقف کی یہ علامتیں دی ہیں، ضروری نہیں کہ قاری ان علامتوں پر اکتفا کر کے، اشعار سے معاملہ کرے۔ ذیل کے شعر پر غور کرتا ہوں:
دیکھے میں نے لوگ عجب
دل پتھر، پیشانی ریت
یہ شعر بظاہر بہت سادہ ہے اور سادہ مفہوم کا حامل ہے لیکن جب اس کے مفاہیم پر غور کریں تو سادگی منہا ہو جاتی ہے اور ایک پے چیدگی باقی رہ جاتی ہے۔

کچھ قارئین ایسے بھی ہیں جن کے نزدیک یہ شعر کسی خاص قدر کا حامل نہ ہو، کیوں کہ اس شعر میں انھیں کوئی چونکا دینے والی بات نظر نہ آئے گی، لیکن یہ شعر ہے بہت پے چیدہ۔ اس شعر میں شاعر نے صنعتِ تضاد کا خوب صورت استعمال کیا ہے۔ یعنی پتھر بطور ٹھوس شے کے اور ریت بطور زرات یا غیر ٹھوس چیز کے طور پر۔ عجیب لوگ سے مراد خلافِ معمول نظر آنے والے لوگ، جن میں کوئی اشتراک نہ ہو، جو ایک دوسرے سے سراسر مختلف ہوں۔ جن کے ساتھ کوئی اختصاص منسوب ہو، شاعر کے نزدیک پتھر دل اور وہ لوگ عجیب ہیں، جن کی پیشانیاں ریت ہیں۔ ریت جو بکھرتی ہے جسے قیام نہیں ہے۔ لیکن جب میں خود سے پہلے مصرِع کے اختتام پر کولن لگاتا ہوں، تو دوسرا مصرع، پہلے مصرِع کی تفصیل بن جاتا ہے اور دوسرے مصرِع میں، میں خود سے دل، پتھر، اور پیشانی کے بعد کومے لگاتا ہوں، تو میرے تصور میں چار مختلف اشخاص کا روپ لہرانے لگتا ہے۔

دل بھی، پتھر بھی، پیشانی بھی اور ریت بھی زندہ لوگوں کا روپ دھار لیتے ہیں۔ یعنی ان کی پرسونیفکیشن ہو جاتی ہے۔ دل سے مراد ایک ایسا شخص جو سراپا دل ہے اور ہمہ وقت دل کی ہی سنتا ہے اور محبت میں مبتلا رہتا ہے۔ یہاں اہل دل اور عشاق کے تمام انسلاکات وضاحت کے طور پر پیش کیے جا سکتے ہیں۔ پتھر سے مراد، وہ شخص جو پتھر مزاج ہے، یعنی اردو شاعری میں پتھر سے جو انسلاکات منسوب ہیں، وہ سب یہاں بیان کیے جا سکتے ہیں۔ جیسے کٹھور ظالم، بے حس، خاموش، ستم گر، بے وفا وغیرہ۔

احمد ندیم قاسمی کی نظم ’’ریت سے بت نہ بنا اے مرے اچھے فن کار‘‘ کی پوری تفہیم بھی اسی ذیل میں درج کی جا سکتی ہے۔ تیسرا وہ شخص جو کھلی پیشانی کا حامل ہے، پیشانی سے مراد وہ شخص ہے جو کشادہ اور کھلی ڈلی پیشانی رکھتا ہے۔ کھلی پیشانیوں والے لوگ بہت ملن سار اور سخی ہوتے ہیں۔ ان میں عبادت گزاری زیادہ ہوتی ہے۔ اس سے مراد ایسا شخص بھی لے سکتے ہیں جو ہمہ وقت عبادات میں مصروف ہے۔ کیا اس سے ذہن ان مذہبی متون اور اساطیر کی طرف کی طرف نہیں جاتا، جن میں کہا گیا ہے ملائک جو مسلسل سجدوں میں ہیں، وہ صرف سجدے میں رہتے ہیں۔

چوتھا ریت قسم کا شخص ہے، ہم یہاں ریت سے منسوب تمام تلاذمے اس کی تفہیم میں بروئے کار لا سکتے ہیں۔ ایسا شخص جو بانجھ اور بنجر ہے، جس سے کسی بھی قسم کی تخلیق کی امید نہیں ہے، جس سے کسی بھی قسم کے فائدے کی امید نہیں باندھی جا سکتی ہے ۔ شاعر نے جن دو عجیب لوگوں کا ذکر کیا ہے کیا میرے بیان کردہ لوگ زیادہ عجیب نظر نہیں آنے لگے۔ میں ان چاروں کے مفاہیم میں مذید اضافے بھی کر سکتا ہوں اور آپ خود بھی اس ذیل میں کئی قسم کے مفاہیم پیدا کر سکتے ہیں۔ میں نے یہ مفاہیم محض اوقاف کی علامتوں سے پیدا کیے ہیں۔ آپ ان میں صنائع بدائع اور دیگر محاسن پیدا کر کے بھی نئے مفاہیم پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر دوسرے مصرِع میں دل اور پتھر کے بعد کومے لگاتا ہوں، تو اب تین اشیا پہلے مصرِع کی تفصیل بن جاتی ہیں۔ یعنی دل، پتھر اور پیشانی ریت۔ یہاں پیشانی ریت سے مراد پیشانی کی ریت ہے یا ریت اسمِ صفت کے طور پیشانی کی ریت جیسی کیفیت کو ظاہر کر رہی ہے۔ میں یہاں ایک اور شعر کی مثال پیش کرتاہوں:
سوچ سفر پر جب جانا
آنکھوں میں بھر لانی ریت

اس شعر میں شاعر نے خود سے کوئی علامت نہیں لگائی ہے۔ یوں ہم سب کے لیے میدان کھلا چھوڑ دیا ہے۔ ہم خود اس میں کئی قسم کی علامتیں لگا کر اپنے طور پر اس کی تفہیم کر سکتے ہیں۔ شاعر کے نزدیک ’’سوچنا‘‘ سفر جیسا ہے اور سفر وسیلہ ظفر کہا گیا ہے، لیکن یہاں سفر ایسا ہے جس کا حاصل بجز ریت کے کچھ نہیں ہے۔

ریت اور آنکھ کی تکلیف سے تو سب واقف ہیں۔ اس شعر میں شاعر کے نزدیک دونوں امصارع بہت ہم وار بیان ہیں اور اپنی کیفیت کا احوال ہے۔ اس لیے اس نے کوئی وقفے کی علامت نہیں لگائی۔ میں سوچ کے بعد فجائیہ کی علامت لگاتا ہوں، اب یہاں شاعر کا اپنی کیفیت کا احوال نہیں رہتا ہے، بل کہ کسی اور سے خطاب ہو جاتا ہے اور سوچ پر زور پڑتا ہے۔ یہ کسی سے خطاب بن جاتا ہے جسے پورا زور دے کر باور کرایا جا رہا ہے، کہ اس شخص کے بارے میں سوچو جو سفر کرتا ہے، لیکن اسے کچھ بجز تکلیف کے اور کچھ نہیں ملتا ہے۔

اب یہاں سفر سوچ کا نہیں ہے بل کہ حقیقی سفر ٹریولنگ ہے یا سیاحت ہے جس کا حاصل وصول آنکھوں میں بھری ریت ہے۔ یعنی رائیگاں سفر ہے ۔ ایک اور مفہوم یہ بھی ہے کہ شاعر صحرا کے سفر کی طرف اشارہ کرتا ہے اور ایسا صحرا جو اجاڑ بیابان اور کسی قسم کے اور منظر سے سراسر پاک ہے۔ یا یہ کہ شاعر کسی سے یہ کَہ رہا ہے جب بھی سوچ سفر پر جانا یعنی سوچنے اور تصور کا عمل شروع کرنا تو اس سے واپسی آنکھ میں ریت بھر کے لانا۔ ریت کو صحرا، بانجھ پن رائیگانی، بنجر پن اور کسی تکلیف دہ چیز کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔

میرے نزدیک ایک فن پارے کی فہم کے لاکھوں طریق ہیں جن تک شاید ہی کبھی رسائی ہو سکے۔ میر انیس کے یہاں کچھ ایسی صنعتیں بھی ہیں جن کو ابھی تک کوئی نام نہیں دیا گیا ہے لیکن وہ معنوی تفہیم میں بہت کفایت کرتی ہیں۔ مزید چند مثالیں پیش کرتا ہوں، جن کے ساتھ، اوقاف کی علامتیں برت کے مختلف مفاہیم پیدا کیے جا سکتے ہیں:
عکس زندہ تھا آئنے میں کہیں
کرچیوں سے لہو نکل آیا

دونوں امصارع کے آگے سوالیہ نشان لگا دیں تو یہ بیان شاعر کا نہیں رہتا ہے، بل کہ کسی بھی شخص کی یہ حیرت بن جاتا ہے۔ آئنے میں قید جسم نہایت لطیف اساطیری اشارہ بھی ہے۔ اس شعر میں لف و نشر کا لطف اپنی جگہ ہے لیکن دوسرے مصرِع کے آگے سوالیہ نشان لگانے سے مکالمے کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے؛ ایک کردار پہلا مصرِع دُہراتا ہے اور جواب میں دوسرا کردار سوالیہ انداز میں زندہ جسم کی مناسبت سے لہو نکلنے کا پوچھتا ہے۔ پہلے مصرِع کے آگے استعجابیہ کی علامت لگانے سے شدید حیرت کا اظہار ہوتا ہے۔ اور یہ کسی حد تک درست بھی ہے کہ آئنے میں عکس کے بجائے زندہ جسم تھا اور آئنہ ٹوٹنے سے وہ جسم بھی کرچیوں میں بٹ گیا اور خون نکلنے کا عمل شروع ہوا۔

چڑیا رستہ بھول گئی تھی
ایک شکاری دیکھ رہا تھا
اس شعرمیں پہلے مصرِع کے آگے کولن لگائیں تو دوسرا مصرع تفصیل بن جاتا ہے اور ایک کہانی مرتب کرتا ہے اگر دوسرے مصرِع کے اختتام پر سوالیہ نشان لگائیں تو مختلف مفاہیم قائم ہوتے ہیں۔ دوسرے مصرِع کے اختتام پر سوالیہ نشان لگانے سے مکالمے کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ ایک شخص کا بیان اور دوسرے کا سوال بن جاتا ہے۔ چڑیا کا رستا بھولنا عام بات ہے لیکن شکاری کا دیکھنا کہ چڑیا رستا بھول گئی ہے، بہت سے سوالات مذید تشریح کے طور پر پیدا کرتا ہے۔ کیا شکاری نے اس کا شکار کیا جب کہ بھولے بھٹکے اور معصوم لوگوں کا شکار نہیں کیا جاتا ہے، بل کہ انھیں منزل تک پہنچایا جاتا ہے۔ اصل تو یہاں شکاری کا ردِ عمل جاننا ہے کہ وہ کیا تھا۔

استعارے سفر کے آتے ہیں
یا اشارے سحر کے آتے ہیں
اس شعر میں، یا کے بعد کوما لگائیں تو متبادل کے معانی پیدا ہوتے ہیں یا یہ چیز یا وہ چیز۔ اگر کوما نہ لگائیں تو ”یا“ کا معنی ”کَہ“ کا بنتا ہے، استعارے سفر کے آنا یوں ہے۔ جیسے سحر ہونے کا اشارہ ہو۔

رونقیں دیکھ کر نہیں لگتا
شہر میں کوئی سانحہ ہوا ہے
اس شعر میں پہلے مصرِع کے آخر میں سوالیہ نشان لگا کر پڑھیں، تو معانی بالکل ا لٹ ہو جاتے ہیں۔ کوئی سانحہ نہیں ہوا کی جگہ کوئی سانحہ ہوا ہے۔ شاعر کا مدعا تو یہی ہے کہ شہر میں ایسی رونق اور چہل پہل ہے کہ ایسا ہر گز محسوس نہیں ہوتا کہ یہاں سانحہ ہو چکا ہے۔ پہلے مصرِع کے آخر میں اگر ہم سوالیہ نشان لگا دیں تو مفہوم کچھ یوں ہوگا: ”کیا رونقیں دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کہ شہر میں کوئی سانحہ ہو چکا ہے“۔ یہاں لفظ رونقیں اب بھاگ دوڑ، تیزی پھرتی کے معنوں میں محسوس ہوتا ہے یا ایسی رونقیں جو بجھی بجھی ہیں جن میں شادمانی یا خوشی نہیں ہے۔ یا یہ سانحے کے بعد کی افراتفری اور غم کی رونقیں ہیں۔ قرات کا یہ انداز سراسر قاری کی اپنی مرضی، اپنے انداز اور مزاج کے مطابق ہوتا ہے۔ اشعار کی وضاحت میں، بعض اوقات قاری کے اپنے جذبے، اپنا نقدِ علم بھی قاری کی رضا کے بغیر خوابیدہ طور پر شامل ہو جاتا ہے۔

میں ہوں، مری تلاش ہے، سورج سفر کا ہے
تم ہو، تمھاری یاد ہے، سایہ شجر کا ہے
اس شعر میں شاعر نے لف و نشر کے اہتمام کے ساتھ شعر کہا ہے۔ میں ہوں کے مقابل تم ہو، مری تلاش ہے کے مقابل تمھاری یاد ہے اور سورج سفر کا ہے کے مقابل سایہ شجر کا ہے۔ اس شعرکے مصرع اول کے اختتام پرکولن لگاتا ہوں تو دوسرا مصرع پہلے مصرِع کی تفصیل بن جاتا ہے۔ ایک معانی تو یہ ہوئے:
میں جس تلاش اور جست جو میں ہوں، وہ اس سورج جیسی ہے جو دن رات جلتا ہے اور سفر میں رہتاہے۔

یہاں شاعر اپنی تکلیف کا احوال بیان کر رہا ہے اور سفر میں تمھاری یاد شجر کے سائے کی طرح ہے۔ کولن ہم تقابل کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں، اس لیے یہ معانی بھی ہو سکتے ہیں:
’’میں“ بطور شخص اور ”تم‘‘ بطور شخص تقابل ہے۔ میں، میری تلاش؛ سورج کے سفر جیسی ہے۔ ’’سورج سفر کا ہے‘‘ سے، مراد میں اور مری تلاش کی مثال، دن جیسی ہے؛ جو سب پر عیاں ہوتا ہے جس کے سفر طلوع و غروب کو سب دیکھ سکتے ہیں۔ دوسری طرف تم ہو اور تمھاری یاد، یعنی تیرا بذاتِ خود سوچنے کا عمل تیرے لیے پیڑ کے سائے جیسا پر سکون اور راحت بخش ہے۔ اگر مصرع اول کے آخر پر سیمی کولن لگاتا ہوں تو ’’سورج سفر کا ہے‘‘ کی دوسرا مصرع وضاحت بن جاتا ہے۔ یعنی سورج سفر کا ’’تم، تمھاری یاد، اور شجر کا سایہ مل کر بنتے ہیں۔ شاعر کے لیے یہ راحت کا سامان بن جاتے ہیں۔ یہاں اب ’’سایہ شجر‘‘ کا ایک الگ چیز بن گیا ہے ۔ پہلے اس کا ربط ’’تمھاری یاد ‘‘ سے تھا۔ یاد جو سایہ شجر کی طرح راحت بخش تھی۔ یہ کچھ ایسے ہے:
’’سورج سفر کا ہے‘‘ تم ہو، ’’سورج سفر کا ہے‘‘ تمھاری یاد ہے، ’’سورج سفر کا ہے‘‘ سایہ شجر کا ہے۔

نامکمل ہوں میں سعید اب تک
کوئی مجھ سے جدا کھڑا ہوا ہے
یہ شعر بہت سادہ ہے، لیکن جب اس کے ساتھ مختلف علامتیں لگاتے ہیں تو اس کے کئی مفاہیم قائم ہوتے ہیں۔ پہلے مصرِع کے اختتام پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں، تو دوسرا مصرع خود بخود استعجابیہ ہو جاتا ہے۔ ایک دوسرا شخص بھی ہے جسے شاعر کی ذات میں ضم ہو کے اکائی بن جاتا تو شاعر مکمل ہو جاتا۔ یہاں تو دوئی آگئی ہے اور یہ کیسے ممکن ہے یہ استعجاب شعر کا حاصل ہے۔ اگر کولن لگاتے ہیں تو دوسرا مصرع پہلے کی تفصیل یا تقابل اور شاعر کا بیان بن جاتا ہے۔ میں اس لیے نامکمل ہوں کہ کوئی مجھ سے جدا ہے۔ وہ جو جدا ہے وہ شاعر کا محبوب، ہم زاد، منفی یا مثبت، اچھا یا برا، نیک یا بد اور شاعر کا سایا تک ہو سکتا ہے۔ یہ شیطان اور رحمان کی بحث بھی ہو سکتی ہے۔ مسٹر ہائیڈ اینڈ جیکال کا مسٹر ہائیڈ یاد آجاتا ہے یا نفسیات میں دُہری شخصیت کا تصور ذہن میں آتا ہے، جس میں ایک شخص کا منفی کردار اس پر غالب آجاتا ہے۔ غالب نے بھی شاید اسی لیے کہا تھا:
ہے آدمی بجائے خود اک محشرِ خیال
ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو

جب خلوت میں جلوت کا منظر بننے لگے تو یہ دُہری شخصیت کا قصہ بھی ہو سکتا ہے۔ تھامس ہائیڈ کی تاریخِ مذہب کی بنیاد خیر اور شر کی ثنویت پر ہے۔ زرتشت اسی کو یزداں اور اہرمن کہتا ہے جسے شاعر، بطور شخص کے ایک اور شخص کو خود سے الگ دیکھ رہا ہے۔

آپ رموز اوقاف کی مدد سے جہاں تحریر سنوارتے ہیں، وہاں اس سے کسی نہ کسی طرح کی نئی تفاہیم بھی کرسکتے ہیں۔ یہ کام جگسا پزل جیسا ہے جسے حل کرکے ہر بچہ، بالغ، جوان، مرد و زن خوشی اور مسرت حاصل کرتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے، راجا سعید کے ہاں ایسے بہت سے اشعار ہیں جو انھی خواص کے حامل ہیں اور انھیں ممتاز کرتے ہیں۔ میں دعا پر مضمون کا اختتام کرتا ہوں، کہ خداوند متعال انھیں اپنے حبیب و اہلِ بیت کے صدقے مزید رسوخ دے۔ آمین!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

توقیر عباس کی دیگر تحریریں
توقیر عباس کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں