غیرت کے پسماندہ سماجی تصورات


tahir mujtabaغیرت کے نام پر قتل کی خبریں یوں تو ہر روز ہی اخبار کا حصہ ہوتی ہیں لیکن کچھ خبریں مختلف وجوہات کیوجہ سے زیادہ ہائی لائٹ ہو جاتی ہیں۔ پچھلے چند دنوں میں بھی کچھ ایسی ہی خبریں ہیں جن میں ایک تو کراچی میں بھائی کا اپنی بہن کو چاقوؤں سے تڑپا تڑپا کر قتل کر کے گھر سے باہر پھینک دینے، اپنے اقدام پر فخر کرنے اور غیرت مند باپ کے اسے معاف کر دینے والی خبر شامل ہے۔ ایک خبر ایبٹ آباد کی ہے جہاں جمعہ کو عصمت دری کے بعد ایک مزدور کی بیٹی کو زندہ جلایا گیا۔ ایک اور خبر کے بعد پنجاب کے وزیر قانون کی دانشمندانہ موشگافیاں سننے کو ملیں۔

غیرت کے فرسودہ نظریات معاشرتی ناسور ہیں جو صدیوں سے اپنی مرضی اور چوائس سے جینے کا حق تو دور کی بات، خواتین کے زندہ رہنے کے حق کا بھی استحصال کر رہے ہیں۔ انکی وجہ سے خاندان اپنی رضاکارانہ اکائی کے معنی کھو دیتا ہے۔ غیرت پر مردانہ بالادستی کی وجہ سے خواتین کو اپنی خواہشات، جذبات اور احساسات کچلنا پڑتے ہیں اور آزاد مرضی اور فریڈم آف چوائس کے حق کے تحت زندگی گزارنے میں انہیں اپنے ہی والد، بھائی اور خاوند سے خطرات لاحق ہو جاتے ہیں اور خاندان میں ہی عدم تحفظ کے احساس سے دوچار کرتے ہیں۔

بھائی کے قتل کرنے پر باپ معاف کر دے اور اس ”غیرت مند“ قاتل بیٹے پر فخر کرے اور قتل کی ذمہ داری بھی مقتول پر ہی عائد ہو، ایسی صورت میں خاندان کے ادارے کی استحصالی شکل کے علاوہ کیا اہمیت رہ جاتی ہے جس کی بنیادوں میں محبت، شفقت، اپنائیت اور الفت کے جذبات، تحفظ کا احساس، بیرونی خطرات سے مقابلہ، پرخلوص اور باہمی تعاون کے بیج شامل ہونے چاہییں۔ سو، خاندان کے ادارے کی بنیادوں کو گھریلو تشدد، اور غیرت کے نام پر قتل کو روکنے اور خواتین کے حقوق کیلئے بنائے جانے والے قوانین کی بجائے اس قسم کے نابرابری کے تصورات سے خطرہ لاحق ہے۔

شرمین عبید چنائے نے معاشرے کا یہی چہرہ اپنی ڈاکومنٹری میں دکھایا تھا جس پر ہمارے ”غیرت مندوں“ نے جوش میں اسے مغلظات، سازشی تھیوریوں، الزامات اور گالیوں سے نوازا مگر اس نے تو پاکستان کا نام روشن کرنے والے حیات خان اور لڑکی کو زندہ جلانے والوں پر ڈاکومنٹری بنائی تھی۔ جب ترجیحات میں غیرت کے نام پر بے غیرتی کی بجائے ڈاکومنٹری کے ذریعے چہرہ دکھانے سے ملکوں کی بدنامی زیادہ محسوس ہوتی ہو تو پھر غیرت کے نام پر قتل یونہی جاری رہیں گے۔ اخبار کی یک کالمی سرخیوں میں خبریں لگتی رہیں گی اور ویسے تو تمام ایسے سانحات ہی وحشت انگیز ہوتے ہیں لیکن جس میں بربریت قدرے زیادہ ہوئی، وہ چند ماہ بعد خبروں اور موضوعات بحث کی صورت میں ہائی لائٹ ہوتا رہے گا۔

عدالتی نظام اور ریاست سے مستقبل قریب میں کوئی امید نہیں اور غیرت کے نام پر قتل انہی خاندانوں اور علاقوں میں ہوتے ہیں جہاں پسماندہ اقدار یہ اقدام اٹھانے والے کو ہیرو اور ”اصلی مرد“ بناتی ہیں اور کوئی اقدام نہ اٹھانے کی صورت میں مردانگی پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ زندگی گزارنے کی آزاد مرضی کے حق کو سماجی سطح پر تسلیم کیے جانے کی بجائے جب تک غیرت کے تصورات اور ان سے جڑی اقدار کو معاشرے میں کسی سطح پر بھی اہمیت حاصل ہے، یہ نام نہاد غیرت مندی نہیں رکے گی۔ ایسی سماجی اقدار کا دفاع اس استحصال کی قیمت پر نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی سماجی اقدار کے نام پر ملزمان کو تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “غیرت کے پسماندہ سماجی تصورات

  • 01-05-2016 at 8:18 pm
    Permalink

    We will need to educate and empower girls to bring change. Thank you for writing this paper. LM

  • 03-05-2016 at 5:13 pm
    Permalink

    khooob likha, zor e qalam aur xeada

  • 04-05-2016 at 8:43 pm
    Permalink

    Wah…100% true

Comments are closed.