غیر مسلم اکثریت والے ملک میں عید


پہلے یہ کہنا ضروری ہے اگر کوئی شخص مرنے کے بعد کی زندگی پر یقین رکھتا ہے، دوزخ کے خوف یا بہشت کے لالچ میں سہی عبادت کرتا ہے تو آپ کا کیا بگاڑتا ہے؟ آپ اس کو اپنی سائنسی سوچ کو مان لینے کی خاطر دبانے کی روش کیوں اختیار کر لیتے ہیں اور اس سے بلاوجہ آپ کے اپنے خیالات منوانے کی تگ و دو میں کیوں کرنے لگتے ہیں۔ ایسا کرنے سے آپ خود ایک طرح کے کٹر مذہبی شخص بن رہے ہوتے ہیں جو کسی کو اپنے عقیدے کی ” دعوت ” دینا اپنے عقیدے کا جزو خیال کرتا ہے۔ پھر اگر آپ کسی کے عقیدے یا مذہبی اعمال پر معترض ہو رہے ہوں گے تو اس شخص کے بنیادی انسانی حق کی مخالفت کر رہے ہوں گے۔ یہ وضاحت کرنے کے پیچھے مذہب سے متعلق مضامین پر مذہب مخالف یا مذہب سے متعلق تعصب کے حامل افراد کا ردعمل پیش نظر ہے۔

اگر آپ کو کہا جائے کہ دو بجے صبح نماز فجر ادا کرنے کا وقت ہے، اسے بھی پڑھنا ہے اور پھر ماسکو کی مسجد میں جہاں نماز عید ادا کی جانی ہے، وہاں ساڑھے چھ بجے پہنچ جانا چاہیے تاکہ مسجد کے اندر نشست ملنا ممکن ہو تو آپ کو لا محالہ صبح پانچ بجے بیدار ہونا ہوگا۔ اگر آپ ایک بجے سونے کے عادی ہوں، جو آج کے زمانے میں معمول کی عادت ہے تو آپ نماز پڑھ کر ہی سوئیں گے۔ نیند بھی کونسی روشنی گل کرتے ہی آ جاتی ہے۔ اس میں بھی پندرہ بیس منٹ لگتے ہیں۔ یوں جمعہ کے روز 8 بجے صبح عید کی نماز پڑھنے کے لیے کوئی پونے تین گھنٹے ہی سو سکا تھا۔

جواد حسب وعدہ گاڑی میں چھ بجے نیچے پہنچ چکا تھا۔ میں آٹھویں منزل کے اپارٹمنٹ سے اترتے ہوئے، اس کے لیے بادام اور کشمش والی ٹھنڈی سویاں ساتھ لے گیا تاکہ وہ گاڑی میں کھا نہ سکے تو چکھ ضرور لے۔ اگر سویاں کھانے کے لیے اپارٹمنٹ میں بلاتا تو ہمیں مسجد پہنچنے میں دیر ہو سکتی تھی اور ہمیں جواد کی خواہش کے مطابق مسجد کے ہال میں نشست نہ مل سکتی۔ چنانچہ اس نے دو چار چمچ ہی لیے اور گاڑی بڑھا دی۔ اس کے بقول وہ رات پل بھر نہیں سو سکا تھا۔ نیند جیسے اس سے روٹھ گئی تھی۔

گاڑی مسجد سے دور پارک کی۔ چلتے ہوئے مسجد پہنچے تو نہ صرف اندر سے بھری ہوئی تھی بلکہ مسجد کا احاطہ بھی عبادت گذار افراد سے بھر چکا تھا۔ ہم پھر بھی مسجد میں داخل ہو گئے۔ ایک طرف کی گیلری میں بیٹھنے کو زینہ چڑھے مگر گیلری میں تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی، سامنے والی گیلری پہ نظر ڈالی، دوسرے زینے سے وہاں جانا بے سود لگا۔ سیڑھیاں اترنے کو مڑے تو جواد نے کہا کہ چلیں ہال میں ہی اگلی قطاروں میں چلتے ہیں، کسی نہ کسی طرح جگہ بنا لیں گے۔

لوگوں کو پھلانگتے ہوئے محراب کے سامنے تیسری قطار تک پہنچ ہی گئے۔ محراب کے سامنے پہلی اور دوسری قطار کی قریب دس دس نشستوں پر سٹیل کے ڈنڈوں اور ان سے نکلتی پٹیوں سے، جس طرح ہوائی اڈوں پر راستے روکنے کے لیے لگی ہوتی ہیں، نمازیوں کو بیٹھنے سے روکا ہوا تھا۔ ایک موذن، تین آئمہ، عارضی طور پر آئے ایک مفتی، دو چار ان کے مہمان سہی مگر بیس کے لیے جگہ روکنا، کچھ عجیب سا تھا۔ مجھے تیسری قطار میں دو آدمیوں کے درمیان جگہ مل گئی اور جواد اسی قطار میں دور ایک ستون کی اوٹ میں بیٹھ گیا، جہاں نماز پڑھا جانا ممکن نہیں تھا۔ میری اگلی صف میں لوگوں کے درمیان جگہ خالی تھی۔ میں نے جواد کو اشارے سے بتایا تو وہ اٹھا اور آ کر دوسری قطار میں بیٹھ گیا۔

مسجد کے دو چار مستقل نمازی ہیں جو غالباً مسجد کے نزدیک رہتے ہیں یا مسجد سے جاتے ہی نہیں۔ اتنے معمر بھی نہیں مگر پہلی صف میں اپنا موبائل یا کوئی اور چیز رکھ کر خود ممبر سے کمر کی ٹیک لگا کر ذکر کرتے رہتے ہیں، ان میں سے ایک اٹھا اور اس نے سٹیل کے ڈنڈے سمیٹ دیے۔ ، سات بجے موذن آکے دوسری صف کے خالی حصے کے درمیان محراب کے سامنے بیٹھ گیا اور فرشی مائیک پر ” اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الٰہ الاللہ ہو واللہ ہو اکبر، اللہ اکبر ولا اللہ الحمد“ کا ذکر کروانے لگا، مسجد گونجنے لگی۔

پونے آٹھ بجے چھوٹے امام نے موذن کی جگہ لے کر ذکر کروانا جاری رکھا۔ بڑے امام صاحب درمیانے امام اور مفتی کے ساتھ، محراب کے پہلو میں اوٹ کیے گئے ایک مخصوص دروازے سے عین آٹھ بجے داخل ہوئے تو ہلچل ہوئی اور سب اگلی صفوں میں جا بیٹھنے لگے، مجھے بھی دوسری صف میں جگہ مل گئی۔ مولانا جنہیں یہاں نام کے ساتھ حضرت کا سابقہ لگا کے بولا جاتا ہے، نے مختصر خطاب کے بعد نماز عید پڑھائی اور خطبہ دیا۔ بعد میں ایک بار پھر تین بار اللہ اکبر اللہ اکبر لا الٰہ الاللہ واللہ اکبر، اللہ اکبر ولاللہ الحمد کا ذکر کیا گیا اور دعا منگوائی گئی۔ عید گلے ملنے کو جواد کے علاوہ تھا بھی کون۔ اس سے گلے ملا تو اس نے کہا مولانا حضرات سے مل لیتے ہیں، اس دوران لوگ رسم مصافحہ میں مولاناؤں سے ہاتھ ملانا شروع ہو گئے تھے۔ میں نے پاکستانیوں کی طرح بڑے امام کو گلے لگا لیا، وہ خندہ پیشانی سے ملے مگر درمیانے اور چھوٹے امام کو گلے ملنے میں تساہل رہا۔ خیر ہم رسم مصافحہ کے بعد گول دائرے میں کھڑے ہونے کی بجائے مسجد سے باہر نکل گئے۔

میں نے جواد سے کہا کہ حسب روایت میترو نوو کزنتسکایا کے سامنے ”آدم و حوا فوارے“ کے نزدیک پاکستانی اکٹھے ہوں گے، وہاں چلتے ہیں۔ اس بار مسجد سے میترو تک کے ایک ڈیڑھ فرلانگ کی سڑک کے دو رویہ مختلف سٹال لگائے گئے تھے، جہاں اشیاء بک رہی تھیں۔ یاد دلاتا چلوں کہ ماسکو بلکہ روس میں کوئی بھی اجتماع ہو، چاہے نماز جمعہ کا مذہبی اجتماع ہی کیوں نہ ہو، کے لیے ”خصوصی مظاہرہ“ کی درخواست دے کر اجازت لینا ہوتی ہے۔ پولیس خاص حفاظتی اقدامات کرتی ہے۔ ادھر ادھر کے راستے بند کیے جاتے ہیں۔ ایک یا دو راستوں پر عارضی واک تھرو گیٹس ایستادہ کرکے، ان میں سے گزر کر تلاشی دے کر داخل ہونا ہوتا ہے۔ چونکہ عید نماز کا اجتماع بڑا تھا، اس لیے پولیس کے علاوہ خصوصی پولیس ”اومون“ اور ”روس گارڈز“ کے ایک ایک دو دو دستے بھی متعین تھے۔ سٹالز لگانے کی اجازت لی گئی ہوگی ورنہ تو نہ لگانے دیے جاتے۔

فوارے پر آٹھ دس پاکستانی موجود تھے۔ ان میں روس میں پاکستان کمیونٹی کے صدر ملک شہباز بھی تھے۔ سب ایک دوسرے سے عید ملے۔ اول تو ریستوران کیفے کھلتے ہی لیٹ ہیں دوسرے اتنے بڑے اجتماع کے پیش نظر جنہوں نے کھولنے تھے وہ بھی نہیں کھولے۔ خیر ڈھونڈ ڈھانڈ کر ایک کیفے کھلا ملا جہاں ملک صاحب نے سب کو کافی پلائی۔ جواد کو دفتر جانا تھا، باقی لوگ بھی کام کرنے والے تھے۔ میں ہی پنشنر تھا۔ بارہ بجے نماز جمعہ کے لیے دوبارہ مسجد پہنچنا تھا اس لیے میں گھر جانے کی بجائے کسی کے ہاں عید ملنے چلا گیا، بچوں کو عیدی دی۔ سموسے کھائے اور شورپہ لیا اور ایک بار پھر مسجد کی راہ لی۔

مسجد میں تیسری صف میں جگہ خالی تھی جہاں بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر میں جواد کا فون آ گیا تو اسے کہا چلے آؤ جگہ خالی ہے۔ میری نظر اگلی صف میں لوگوں کے درمیان تھوڑی سی خالی جگہ پر تھی۔ جونہی جواد پہنچا اسے اپنی جگہ دے کر میں اگلی صف میں منتقل ہو گیا۔ جواد کے پہنچنے سے پہلے پچھلی صفوں سے ایک گروہ پہلے ہی پھر سے ذکر شروع کروا چکا تھا۔ کوئی 35 منٹ بعد جب مخصوص دروازے سے آئمہ داخل ہوئے تو لوگوں نے ذکر کرنا بند کیا۔ مولانا نے ابتدائی خطاب میں بتایا کہ آج صرف ہماری مسجد، اس کے احاطے اور ملحقہ بند کی گئی سڑک پر تیس ہزار لوگوں نے عید کی نماز پڑھی۔ مجھے یہ تعداد کچھ زیادہ لگی، پندرہ سولہ ہزار لوگ تھے شاید۔

نماز کے بعد جواد کو دفتر جانا تھا۔ میرا گھر اسی طرف تھا چنانچہ جواد مجھے گھر چھوڑ آیا۔ سونے کی کوشش کی مگر لوگ چونکہ سوشل میڈیا پر مبارک دے رہے تھے، ان کو خیر مبارک لکھتا رہا۔ اس طرح اس بار جواد کی بجائے میری آنکھ نہ لگ سکی۔ دل میں آس تھی کہ پاکستان میں اقرباء کو معلوم ہے کہ آج ماسکو میں عید ہے شاید بیٹے، بھائی یا کسی بھتیجے کا مبارک باد کہنے کو فون آئے مگر مجال ہے کسی نے تکلیف کی ہو۔ پہلے جواز ہوتا تھا کہ فون مہنگا ہے اب تو کوئی پیسہ نہیں لگتا مگر اغیار کی طرح ” میسیج“ لکھ کر جان چھڑا لی جاتی ہے۔
بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤن گھنی ہوتی ہے
کیا عجب چیز غریب الوطنی ہوتی ہے

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں