مغالطوں اورمشوروں کے بعد۔۔۔ ایک مناجات


farhan khaled‘زندگی میں کچھ زخم ایسے ہوتے ھیں جو تنہائی میں روح کو آھستہ آھستہ گھن کی طرح چاٹتے رہتے ھیں’۔ ایرانی ادیب صادق ہدایت نے اپنے شہرہ آفاق ناول ‘بوف کور’ کا آغار انہی جملوں سے کیا تھا۔

ہمارے معاشرے کے کچھ ناسور بھی ہمیں اسی طرح چاٹ رہے ہیں۔

مغالطوں اور مشوروں کی ایک طویل بحث کے بعد ہمیں اس چیز کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ ‘دوسرا’ بھی موجود ہے۔ اپنے عقیدے اور علم کی سچائی کے اصرار کی بجائے ہمیں زیادہ سے زیادہ دوسرے کو سننا اور سمجھنا پڑے گا۔ یوں ہم میں میانہ روی اور برداشت کا مادہ بڑھے گا۔ ‘ہم’ کا دائرہ وسیع ہوگا۔ یہاں تک کہ کثرت پسندی کا کلچر ہماری تخلیقی اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کا باعث بنے گا۔ ورنہ تو ہم تقسیم در تقسیم کے اس منحوس چکر میں ایک دن خود کو بھی کافر سمجھ کر مار ڈالیں گے۔ کہ حق و باطل کے معرکے کا سب سے بڑا مقام تو انسانی نفس ہی ہے۔

‘ہم کچھ نہیں جانتے’، یہاں سے شروعات ہو سکتی ہے۔ تب ہمارے ذہنوں میں سوال اٹھیں گے، مکالمہ ہوگا۔ زہرہلاہل کو ہم قند کہنے سے باز آئیں گے۔ ہو سکتا ہے یہ زہر بھی ہمیں ہی پینا پڑے۔ مگر سچائی کو جاننا ضروری ہے۔ ابن رشد کے مطابق سچائی دوگونہ ہے۔ مذھب اور فلسفہ ایک ہی حقیقت کے دو رخ ہیں۔ مذھب اگر سچائی ہے، تو فلسفہ ایک دوسری سچائی ہے۔ اور ایک سچائی، دوسری سچائی کو جھٹلا نہیں سکتی۔ ایسے میں جو تضادات ہیں، وہ فروعی ہیں، زیب داستاں کے لئے گھڑے گئے ہیں۔ تشکیک، کفر نہیں۔ یہ آپ کو ایک سچائی سے دوسری سچائی تک لے جا سکتی ہے۔ اور مختلف سچائیوں کے درمیان توازن قائم کر کے یقین کو پالش کرتی ہے۔ عقل کا کام آزاد مشاہدہ و تفکر سے علم کا حصول ہے۔ علم، جو بقول فرانسس بیکن، طاقت ہے۔ اس طاقت کو بروے کار لاکرانسان دنیا سے بھوک، افلاس اور توہم کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ دوسری طرف عقیدہ روئے زمین پر انسانی وجود کو قابل برداشت بناتا ہے۔ مگر عقیدہ فطری اور با رضا ہونا چاہیے، جبری اور کریہہ نہیں۔

آج کا علم آئندہ کل کی جہالت ہو سکتا ہے۔ علم ایک بہتا دریا ہے۔ جہالت کی بنیاد پر ہم دانائی کے مینار کھڑے نہیں کر سکتے۔ وقت کے ساتھ تہذیب کی اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے۔ ورنہ ہمارا علم ایک جوہڑ کی مانند سڑاند چھوڑتا ہے۔ ایسے میں تہذیبوں کا تصادم ناگزیر ہو جاتا ہے۔ شناخت کا بحران اگرچہ موجود ہے۔ ایسے میں ٹکراؤ کی بجائے تسلیم کی خو ڈالی جائے۔ کچھ سیکھا جائے، کچھ کر کے دکھایا جائے۔ سقراط کی طرح اپنے ذات کے خلاف ‘میں نہیں جانتا’، ‘میں نہیں جانتا’ کا کلمہ جہاد بلند کیا جائے۔

کیا ماضی تبدیل ہو سکتا ہے؟ حال ہمیشہ ماضی میں خرد برد ہی کرتا رہا ہے۔ ہم کسی بھی وقت اپنے ہیرو اور ولن بدل سکتے ہیں۔ ماضی کو مزاروں سے نکال کر ہمیں اس کو عقل و فہم کی روشنی میں جانچنا پڑے گا۔ ماضی شاید بدل نہیں سکتا، مگر ماضی کے بارے میں ہمارا نقطہ نظر بدل کر ہمارے مستقبل کو تبدیل کر سکتا ہے۔

مطالعہ بہت ضروری ہے۔ کتاب ہمیں ایک غار سے نکال کر انسانی تخیل کے کرشموں اور فطرت کے رازوں سےروشناس کرا سکتی ہے۔ پھر جب ہمارا ذہن زمین کا چکر لگا کر واپس پہنچے گا تو خلا کے لامختتم سفر پر روانہ ہوجائے گا۔ ایسے میں ہم اپنا غار ایک طرف، اپنی زمین اور اپنے نظام شمسی کو بھی بھول جائیں گے۔

نظریاتی حکومت ایک خواب ہے۔ مگر عموما یہ سراب ہی ثابت ہوئی ہے۔ بنیادی طور پر تو انسان کو تعلیم، صحت، امن، خوشحالی، انصاف، میرٹ اور قانون کی حکمرانی چاہیے ہوتی ہے۔ اگر ہم کیچڑ میں لتھڑے ہوں تو ہمیں ستاروں کو پکڑنے کی بات نہیں کرنی چاہیے۔ ایسے میں بقول عتیق رحیمی (افغانی ادیب) خدشہ یہ ہوتا ہے کہ انسان خدا، تاریخ، ضمیر اور عقیدوں کے نام پر اپنے مکر اور جرائم کا جواز پیش کرتا رہتا ہے اور عوام اسی بھوک، افلاس، بدامنی، کرپشن اور میرٹ کے قتل کا شکار رہتے ہیں۔

مطلق العنانیت ہمارے معاشروں کا خاصہ رہی ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے کبھی فرد کی اہمیت کو سمجھا ہی نہیں۔ اپنے زور بازو پر بھروسہ کرنے کی بجائے ہم تو اپنے ہی پر جلاتے رہے۔ مطلق العنانیت کے بارے میں چیک ادیب میلان کنڈیرا لکھتا ہے کہ یہ ایک جہنم ہی نہیں، بلکہ فردوس بریں کا خواب بھی ہے۔ جنت کے حکمران باغ عدن کے ساتھ مخالفین کے لئے ایک چھوٹا سا تشدد کدہ بھی تعمیر کر لیتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تشدد کدہ ملحقہ باغ عدن سے بھی زیادہ بڑا ہو جاتا ہے۔ تاریخ ہمیں جس باغ عدن کا پتہ دیتی ہے، کتنے افسوس کی بات ہے، وہیں ایک تشدد کدہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔

ایسے میں ہمارا مغالطوں سے باہر آجانا اور حقیقی دنیا کی فکر کرنا از حد ضروری ہے۔ ایٹم موجود ہے یا نہیں اس بحث میں پڑے بغیر ہمیں اس ایٹمی مواد کی فکر کرنی چاہیے، جو زمین کو سینکڑوں دفعہ تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ابھی انسان اتنا فہیم ہے کہ دو شہر تباہ ہونے کی صورت میں چار تباہ کرنے کی بات نہیں کرتا۔ مگرسائنس کا مسلہ یہ ہے کہ اس کے فارمولے کافر اور مومن کے لئے ایک سے ہیں!

ایک لکھنے والے کا کام سچائی کی تبلیغ کرنا نہیں ہے، بلکہ سچائی کو تلاش کرنا ہے۔ (میلان کنڈیرا)

آئیے، اپنی کم علمی کو تسلیم کریں۔ سوال کرنا سیکھیں۔ مکالمہ کریں۔ اور سچائی کی تلاش جاری رکھیں۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “مغالطوں اورمشوروں کے بعد۔۔۔ ایک مناجات

  • 02-05-2016 at 12:56 am
    Permalink

    بہت خوب لکھا ہے۔

  • 02-05-2016 at 9:16 am
    Permalink

    شکریہ، مجیب صاحب.

Comments are closed.