عارف عبدالمتین: حرفِ احتجاج سے حرفِ دعا تک


عارفؔ عبدالمتین کی ایک یک مصرعی نظم ہے

نئی نسل سے: تو مرے افکار کی راحت بھی بن ناقد بھی بن

زندگی کا ایک وہ دور تھا جب عارف عبدالمتین بائیں بازو کے ادیبوں‘ مفکروں اور دانشوروں کی صفوں میں کھڑے نظر آتے تھے .ترقی پسند تحریک کے سر گرم رکن تھے۔ مارکس‘ اینجلز‘ لینن اور مائو زے تنگ کو اپنا ہیرو مانتے تھے۔ فرسودہ روایات کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ غریبوں‘ مزدوروں اور کسانوں کے بارے میں پریشان رہتے تھے اور جابروں ‘آمروں اور ظالموں کو للکارتے تھے۔

نوجوانی کے اس دور میں ان کے لہجے میں جوش تھا‘ جلال تھا‘ احتجاج تھا‘ بغاوت تھی‘ للکار تھی۔ ان کے شعروں میں قربانی دینے کا جذبہ نمایا ں تھا۔ فرماتے ہیں

چلی جو بادِ حوادث تو دل نے تن کے کہا

یہ شاخ ٹوٹ تو سکتی ہے جھک نہیں سکتی

                            ***

تم دربار کے پروردہ ہو ہم پیکار کے رسیا ہیں

تم کیا جانو سر کٹوانا ہم کیا جانیں سر کا خم

                           ***

زہر کو امرت لکھ نہ سکیں گے ہاتھ قلم ہر چند کرو

اپنا فن ہے حسنِ صداقت فن کی امانت اپنا قلم

لیکن پھر وہ ایک نفسیاتی بحران کا شکار ہو گئے۔کچھ عرصے کے لیے اپنی تلاش میں گوشہ نشین ہو گئے۔ اپنے قلب کی گہرائیوں میں کھو گئے۔ اپنی روح کی گہرائیوں میں اتر گئے۔ اس عرصے میں

نجانے کتنے سورج غروب ہو گئے

نجانے کتنے چاند گہنا گئے

نجانے کتنے موسمِ گرما موسمِ سرما میں بدل گئے

نجانے کتنے موسمِ بہار موسمِ خزاں میں ڈھل گئے

انہوں نے نجانے کتنی راتیں جاگتے گزار دیں

لکھتے ہیں

عارف۔۔۔دیوانہ ہے۔۔۔چاند سے شب بھر باتیں کرتا رہتا ہے

اور جب وہ اپنی ذات کی دلدل سے نئی شناخت کا کنول بن کر ابھرے تو انہوں نے مذہب کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا

تصوف کو سینے سے لگایا اور اسلامیات کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی نعتوں کا مجموعہ ’بے مثال‘ شائع ہوا تو دائیں بازو کے دانشوروں نے انہیں گلے لگایا اور جدید نعت لکھنے والوں نے انہیں بہت سراہا۔

عارف عبدالمتین کی شاعری‘ شخصیت اور طرزِ زندگی میں یہ انقلاب ان کے بہت سے پرستاروں کے لیے حیران کن اور بہت سے عقیدت مندوں کے لیے پریشان کن تھا۔

ایک نفسیات کے طالب علم ہونے کے ناطے میں نے ان کے افکار کی تبدیلی کا راز جاننے کے لیے نہ صرف ان کا تفصیلی انٹرویو لیا بلکہ ان کی بیگم شہناز عارف‘ ان کے بیٹے نوروز عارف اور ان کے قریبی نعت گو دوست حفیظ تائب کا بھی انٹرویو لیا۔ میں ان انٹرویوز کی چند جھلکیاں آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔

عارف عبدالمتین کے نظریات میں تبدیلی میں ان کی طویل بیماری نے ایک اہم کردار ادا کیا۔ بیماری کی وجہ سے آہستہ آہستہ ان کی ادبی محفلوں میں شرکت‘ سیاسی کاموں میں شمولیت اور ان کے جوش‘ولولے اور جذبات کی شدت میں کمی آئی گئی اور ان کی طبیعت میں کمزوری اور نقاہت بڑھتی گئی۔ ماہرینِ نفسیات کا خیال ہے کہ کوئی بھی جسمانی یا ذہنی بیماری کوئی بھی CHRONIC ILLNESS انسان کی قوتِ مدافعت کو کم کر سکتی ہے اور نفسیاتی کمزوری کو بڑھا سکتی ہے۔ طویل بیماری کے کئی مریض ڈیپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔

جسمانی بیماری کے ساتھ ساتھ عارف عبدالمتین کو نفسیاتی بحران کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ان کی بیگم شہناز عارف نے اپنے انٹرویو میں کہا ’اپنے بیٹے عرفی کی موت کے حادثے نے انہیں نڈھال کر دیا۔ اب ان کی یہ حالت ہے کہ گھر میں گوشہ نشین ہو گئے ہیں۔ اب وہ کسی سے ملتے ملاتے نہیں‘۔ حفیظ تائب نے اپنے انٹرویو میں کہا ’ایک طرف وہ ایم اے اسلامیات کر رہے تھے اور دوسری طرف ان کی بیماری ان کو متاثر کر رہی تھی۔ دین کی قربت نے انہیں تقویت دی تھی‘۔ عارف عبدالمتین نے خود اپنی بیماری کی اہمیت کا اعتراف کیا ہے۔ فرماتے ہیں ’میں جس بیماری کا شکار ہوا وہ کسی نہ کسی شکل میں اب تک میرے ساتھ چل رہی ہے۔ اس کی شدت وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہی۔ پہلے بلڈ پریشر کی تکلیف تھی پھر دوسرے عارضے لاحق ہوئے۔ اس بیماری نے میرے دل میں خاص قسم کا گداز پیدا کیا اور جو موجود تھا اس کو بڑھایا۔ بیماری بھی ایک دین بن جاتی ہے اگر وہ حقائقِ کائنات کے سمجھنے کے ٹریک پر آپ کو ڈال دے اور آپ ان دکھوں کی بھی شناخت کرنے لگیں جو صحت کے عالم میں انسان نہیں کر پاتا۔ اس بیماری نے مجھے اندر ہی اندر AILING HUMANITY سے پیار کرنا سکھایا‘

عارف عبدالمتین کے چند دوست ایسے تھے جو انہیں مذہب اور تصوف کے مطالعے کا مشورہ دیتے تھے۔ ان میں سے ایک پروفیسر ارشد خان بھٹی تھے۔ میں نے جب شہناز عارف سے پوچھا کہ سائنس پڑھانے والے عارف عبدالتین نے اسلامیات پڑھانی کیوں شروع کر دی تو فرمانے لگیں ’اس کی وجہ ان کے دوست ارشد بھٹی تھے۔ انہوں نے انہیں ایم اے اسلامیات کا مشورہ دیا۔ وہ خود تو انگریزی ادب میں ایم اے کرنا چاہتے تھے۔‘ اسی لیے جب ہم عارف عبدالمتین کا مجموعہِ کلام ’حرفِ دعا‘ کھولتے ہیں تو پہلے صفحے پر ہی یہ نظر آتا ہے:

پروفیسر ارشد بھٹی کے نام۔۔۔جن کی ارفع شخصیت نے انتہائی غیر مرئی انداز میں میرے لبوں کے حرفِ احتجاج کو حرفِ دعا میں بدل دیا‘

حفیظ تائب فرماتے ہیں ’ جب وہ بیمار ہوئے تو ان کا زیادہ تر وقت دین کے مطالعے میں گزرا‘۔

جس دور میں عارف عبدالمتین نے اسلام اور تصوف اپنایا ان دنوں پاکستان کی ادبی اور سیاسی فضا میں بہت سی غیر معمولی تبدیلیاں آئیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے وہ لاہور کے جس علاقے میں رہتے تھے وہ بھی کرشن نگر سے اسلام پورہ بن گیا۔

جب پاکستان کے ترقی پسند ادیبوں نے شکایت کی کہ عارف عبدالمتین نے ترقی پسندی کو خیر باد کہہ دیا ہے تو عارف عبدالمتین نے اس اعتراض کا یہ جواب دیا کہ انہوں نے اسلام قبول کر کے اپنے ترقی پسند خیالات اور سوشلسٹ نظریات کے دامن کو وسیع کیا ہے

میں حرفِ دعا کا سلسلہ ہوں ۔۔۔ عالم کی نجات چاہتا ہوں

مقتول کی مغفرت کا طالب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قاتل کی طرف سے خوں بہا ہوں

میری نگاہ میں یہ بات اہم ہے کہ جب عارف عبدالمتین اسلام کے قریب آئے تو انہوں نے کسی ظلم‘ جبر یا استحصال کے حق میں کوئی مذہبی تاویل پیش نہیں کی۔ عارف عبدالمتین کا اسلام امن ‘ آشتی اور انسان دوستی کا اسلام تھا تنگ نظری اور دہشت پسندی والا اسلام نہیں تھا۔ ان کا اسلام مولویوں والا نہیں، صوفیوں والا تھا۔ اسی لیے انہیں اسلام اور سوشلزم میں کوئی تضاد نطر نہیں آیا۔ عارف عبدالمتین جب کامریڈ تھے تب بھی مزدوروں اور کسانوں‘ غریبوں اور مظلوموں کے حق میں تھے اور جب صوفی بنے تب بھی وہ جابروں‘ آمروں اور ظالموں کے خلاف تھے۔

جب عارف عبدالمتین نے سائنس کے ساتھ ساتھ ادب اور مذہب کا مطالعہ کیا تو انہوں نے ان تینوں روایتوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی اور ان پر پل تعمیر کرنے کی کوشش کی۔ ان کا خیال تھا کہ ان روایتوں کے راستے جدا سہی لیکن ان کی منزل ایک ہی ہے۔ وہ اپنے موقف کا اظٖہار اپنے انٹرویو میں ان الفاظ میں کرتے ہیں۔’میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مذہب سچائی کو وجدانی سطح پر جاننے کا‘ سائنس سچائی کو ادراک کی سطح پر CONCEIVE کرنے کا اور آرٹ اس سچائی کو جمالیاتی سطح پر پیش کرنے کا نام ہے اور وہ سچائی ایسی ہے جس کو ہر طرح کے تعصبات سے بالاتر ہو کر COMPREHEND کرنے کی ضرورت ہے۔ سائنس مذہب اور آرٹ میں حدِ فاصل قائم کرنا یا ان کو ایک دوسرے کی ضد سمجھنا درست نہیں‘

میری نگاہ میں عارف عبدالمتین نے اپنی زندگی میں جو ارتقائی سفر طے کیا تھا وہ نہایت پہلودار‘ پیچیدہ اور گھمبیر تھا، شاید اسی لیے ان کے مداحوں‘ شاگردوں اور پرستاروں میں بائیں اور دائیں دونوں بازوئوں کے ادیب شاعر اور دانشور شامل ہیں۔ ان کی شاعری کا مجموعہ ’اکلاپے دا مسافر‘ اور تنقید کی کتاب ’پرکھ پڑچول‘ اب نصاب کا حصہ بن گئے ہیں۔

یہ میری خوش بختی کہ عارف عبدالمتین میرے تایا تھے اور میرے والد عبدالباسط کے مداح تھے۔ عارف عبدالمتین مجھ سے کہا کرتے تھے ’بیٹا! آپ کے والد عمر میں مجھ سے چھوٹے لیکن دانائی می مجھ سے بڑے ہیں‘ یہ میری خوش نصیبی کہ مجھے ان دونوں بے پناہ محبت اور شفقت کرنے والی شخصیتوں سے فیض حاصل کرنے اور ان کی خدمت کرنے کا موقع ملا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 147 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail