یوٹرن اور حکومت وقت کی غلط حکمت عملی


husnain jamal (3) لاہور میں درجہ حرارت آج 44 درجے سینٹی گریڈ رہا۔ کہہ لیجیے کہ باقاعدہ گرمی کا پہلا دن آج تھا۔ نواب شاہ میں 47 درجے تھا، گویا جہاں جہاں سے سیاست میں ایندھن فراہم کیا جا رہا ہے، وہاں وہاں درجہ حرارت بلند سطح پر ہے۔ لاڑکانہ کو دیکھیے تو وہاں 42 درجے ہے۔ اپوزیشن اور موسم، دونوں کے تیور آگ برسانے والے ہیں۔ کوئی پہلے ہی کباب سیخ ہو چکا ہے، کوئی ایک پہلو جلنے پر دوسرا پہلو بدل رہا ہے۔ وہی نحوست بھری فضا قائم ہے جو ہم لوگ بچپن میں دیکھا کرتےتھے۔ ایک لیڈر دوسرے کو للکار رہا ہے، دوسرا پہلے کو اور تیسرے کو، اور تیسرا پھر انہی دونوں کو۔ اپنا پلڑا بھاری کرنے کے لیے فوج کی طرف بھی للچائی نظروں سے دیکھا جا رہا ہے۔

خورشید شاہ کہتے ہیں نوازشریف کے استعفی کے لیے سڑکوں پر بھی نکلنا پڑا تو نکلیں گے، بلاول فرمائش کر رہے ہیں کہ بس ہم اب کچھ نہیں جانتے استعفی دیا جائے، عمران خان تو کب سے یہ راگ الاپ رہے ہیں، آج لاہور میں ہونے والا جلسہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ خان صاحب ایک حالیہ بیان میں واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ وزیر اعظم اپوزیشن کو بھلے منا لیں، ہم نے کوئی جواب نہیں ماننا اور استعفی تک ہماری تحریک جاری رہے گی۔ باقی کے بیان میں بھی ایک اہم نکتہ ہے، اس کی طرف دوبارہ آئیں گے، پہلے اس پر بات ہو جائے۔

عمران خان دوٹوک بات کرتے ہیں اور ہر معاملے میں ان کا غیر لچک دار بیان بعد میں انہیں مشہور زمانہ یو ٹرن لینے پر مجبور کرتا ہے۔ حالیہ سندھ کے دورے کی بات کیجیے جو پچھلے جلسے میں بتایا گیا تھا کہ کرپشن کے خلاف ایک اہم سنگ میل ہوگا، وہ بھی پیپلز پارٹی سے یک جہتی کے طور پر منسوخ کر دیا گیا (گویا پورا دورہ بلاول کے ایک بیان کی مار تھا)، پینتیس پنکچروں کی مثال لے لیجیے، انہوں نے دوٹوک کہا کہ اس الزام سے متعلق تمام ثبوت جوڈیشل کمیشن کے آگے پیش کیے جائیں گے، آج تک نہ ہو سکے۔ اسی کمشن میں یہ درخواست پیش کی گئی تھی کہ عمران خان کو بھی گواہی کے لیے بلایا جائے، وقت آنے پر وہ بھی واپس لے لی گئی۔ دھرنے کے معاملے میں بھی یہی ہوا، استعفی کا مطالبہ، شفاف انتخابات کا مطالبہ، سب کچھ پس پشت ڈال دیا گیا بلکہ عین دھرنے کے دنوں میں دیگر ذاتی معاملات پروان چڑھتے رہے جو آج سوچنے پر کمٹمنٹ کی کمزوری کے علاوہ اور کچھ نہیں دکھائی دیتے۔ پارٹی کے انتخابات منصفانہ کرانے کا اعلان کیا گیا، اس میں بھی ناکامی ہوئی۔ جسٹس وجیہ الدین کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ایک الگ قصہ ہے، جانے دیجیے، یہاں ہم صرف یو ٹرن پر بات کر رہے ہیں۔ فرض کیجیے نواز شریف استعفی نہیں دیتے، پھر کیا ہو گا؟ کیا آپ ایک اور دھرنا دئیے بیٹھے رہیں گے یا اسی طرح دہشت گردی کا واضح خطرہ ہونے کے باوجود جلسے پر جلسہ کر کے لوگوں کو خوار کرتے رہیں گے؟

بالفرض استعفی دے دیا جاتا ہے تو بھی آپ کو سوائے ذاتی انا میں اضافے کے مزید کیا حاصل ہو گا، سمجھ نہیں آتا۔ حکومت نواز لیگ کی ہی رہے گی، کوئی اور وزیر اعظم آ جائے گا۔ فیصلہ ساز شریف برادران ہی ہوں گے اور اگلے الیکشن میں ہمدردی کا ووٹ بھی نواز شریف لے جائیں گے۔ دیکھیے ابھی الیکشن میں بہت وقت ہے، یہی آخری دو ڈھائی سال ہوتے ہیں جب ہر برسر اقتدار جماعت پورے زوروشور سے ترقیاتی کام کرواتی ہے، وہ نواز لیگ بھی کروائے گی، تو ایسے وقت میں کہ جب آپ اپنے زیر حکومت صوبے میں جانے کا نام بھی نہ لیں اور احتجاج احتجاج کھیلتے رہیں، جب کہ باقی جگہ ترقیاتی کام زوروں پر ہوں، تو یقین جانیے آپ کا ووٹ ایک ایک کر کے کم ہوتا جائے گا جسے آپ اگلے الیکشن میں پھر دھاندلی کہیں گے اور اس دائرے میں پھنستے چلے جائیں گے۔ بات سمیٹتے ہوئے بس اتنا کہنا مقصود ہے کہ سیاست میں ضد کی جگہ نہیں ہوتی، سیاست نام ہی لچک کا ہے، بیان دیتے ہوئے اگر محتاط رہئیے گا تو بعد میں کم از کم یو ٹرن لینے کے الزامات کا سامنا نہیں ہو گا۔

دوسرا اہم نکتہ عمران خان کا یہ بیان ہے کہ “میاں صاحب کو یہ احساس ہونا چاہئیے کہ بادشاہت نہیں جمہوریت ہے، ان کی حرکتیں ثابت کر رہی ہیں کہ کرپشن کے الزامات درست ہیں۔”

پانامہ لیکس اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا جتنا اسے بنا دیا گیا۔ وہی پرانی باتیں تھیں، وہی سو بار کے لگائے ہوئے الزامات تھے جنہیں ہزاروں بار جھٹلایا جا چکا تھا اور لوگ بھول بھال چکے تھے۔ ہوا کیا کہ ولایت سے خبر آئی تو لوگوں نے انہیں دوبارہ سیریس لینا شروع کر دیا، خوب ہنگامہ کیا اور وزیر اعظم سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کر دیا۔ یہاں تک بھی رہتا تو کام بالکل ٹھیک تھا۔ تمام معاملات روٹین کے چل رہے تھے، مسئلہ تب ہوا جب وزیر اعظم نے اسے سنجیدگی سے لے لیا۔

قوم سے اوپر تلے دو خطاب کیے، بہت معصومیت سے اس بات کا یقین دلایا کہ بھئی قصور ہمارا نہیں ہے، یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، لوگوں نے پھیلائی ہیں، ان کا یقین نہ کیا جائے۔ پھر اس کے بعد باقاعدہ کمیشن کی تعیناتی کے لئے خط لکھنے کا اعلان کیا اور معاملہ خراب ہونا شروع ہو گیا۔ جس جج کو معاملہ نمٹانے کا کہا جاتا وہ وہی پتلی گلی سے نکل جاتا۔ اس بیچ اپوزیشن کا شور بڑھتا چلا گیا۔ پھر وزیر اعظم باہر چلے گئے، پھر آئے پھر خطاب ہوا، پھر جب سرکاری خچ پر اخباروں میں اشتہار دیئے گئے اور اگلے دن ان کی تردید آئی تو معاملہ مزید بگڑ گیا۔

سیکھنے والوں کے لیے صدر زرداری کے دور حکومت میں بڑی نشانیاں تھیں۔ جس پرسکون طریقے سے انہوں نے اپنا وقت نکالا، وزرا کی قربانیاں پیش کیں، تمام الزامات کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکالتے رہے، اگر اس کا عشر عشیر بھی سیکھ لیا جاتا تو آج اس صورت حال کا منہ نہ دیکھنا پڑتا۔ وزیر اعلی جو آج بلاول کو للکار رہے ہیں، وہ دور یاد کر لیں جب زرداری کو گلیوں میں گھسیٹنے کی بات کرتے تھے، یا پنکھے لیے مینار پاکستان پر کچہری لگاتے تھے۔ اس وقت کی حکومت یہ سب کچھ ایسے برداشت کر گئی جیسے کوئی اعلی ترین گاڑی اپنے شاک ابزاربرز کی مدد سے ٹیڑھے میڑھے رستے کاٹتی چلی جاتی ہے۔ آج کل کی بات کیجیے تو لگتا ہے جیسے حکومت ایک تانگے پر سوار ہے، نیچے ایک دو انچ کا پتھر بھی آتا ہے تو سفر بھول کر تمام لوگ تانگہ روک لیتے ہیں اور نیچے جھانکنا شروع ہو جاتے ہیں۔

چائے کی پیالی میں اٹھایا گیا یہ طوفان کب کا تھم چکا ہوتا اگر حکومت وقت اسے سرسری طور پر لیتی۔ فی الحال نوے کا عشرہ اپنے آپ کو دہرا رہا ہے، جمہوریت پسند دم سادھے بیٹھے ہیں کہ تینوں فریقین کی کوئی ایک بھی لغزش بالاخر روٹی کا ٹکڑا منصف کے پیٹ میں لے جا سکتی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 150 posts and counting.See all posts by husnain

One thought on “یوٹرن اور حکومت وقت کی غلط حکمت عملی

  • 02-05-2016 at 12:47 pm
    Permalink

    Dear Hasnain brother,
    can’t believe it has been written by you
    PM’s resignation has a large symbolic value. even if the decision makers are still sharif brothers
    ?Imran khan’s rigid stance history makes him a failure for future? what logic

Comments are closed.