پانامہ سکینڈل اور ہمارے سیانے


muhammad umairانٹرنیشنل کنسورشیئم آف انویسٹیگیٹو جرنلسٹ (ICIJ) والے بھی ہمارے بارے میں کیا سوچتے ہوں گے۔ پاکستانی قوم نے ان کو”وخت“ میں ڈال دیا ہے۔ یقینا صحافیوں کا یہ گروہ ایک ہاتھ سر پر رکھ کر بیٹھا ہوگا،منہ میں پنسل دبائی ہوگی سامنے میز پر چائے کے کپ ٹھنڈے ہورہے ہونگے اور آپس میں باتیں کرتے یہ صحافی کہہ رہے ہونگے کہ یہ پاکستانی بھی کیا قوم ہیں؟ایسی ایسی توجیح بیان کرتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے،چاروں مغز کھا کر بندہ ایسی سوچ نہیں سوچتا جیسی پاکستانی سوچتے ہیں۔ دیگر تمام ممالک نے آف شور کمپنیوں کے انکشاف کے بعد اپنے وزرائے اعظم، صدور اور وزراء سے استعفے لئیے اور پاکستانی ہم سے وضاحتیں مانگ رہے ہیں،مصدقہ خبر کی تصدیق کرنے چل پڑے ہیں۔ جو حال قوم کا ہے وہی حال پاکستان میڈیا کا ہے جس کا جو دل چاہ رہا ہے ویسی وضاحت چلا رہا ہے، کیونکہ (ICIJ) والوں کا کون سا کوئی بندہ پیمرا میں بیٹھا ہے کہ چینل بند ہونے کا ڈر ہوگا،سو جو چاہے خبر چلاو اور جو چاہو تردید

کیونکہ فکر نہ فاقہ…  عیش کر کاکا، والا معاملہ ہے۔

ہمارے سیانوں نے اس پانامہ سکینڈل کے معاملے کو اتنا الجھا دیا ہے کہ ڈور کا سرا دکھائی نہیں دے رہا۔ دراصل ہمارے سیانوں کا وہ معاملہ ہے کہ زیادہ میٹھا زہر ہوجاتا ہے اسی طرح ہمارے سیانے اتنے سیانے ہوگئے ہیں کہ ان کی باتوں پر عمل کرنا نقصان سے خالی نہیں رہا۔ گاوں میں کتے نے ایک شخص کا کان کاٹ لیا تو گاوں کے لوگوں نے اس سے پوچھا کہ کان کیسے کٹا؟ تو بولا کہ گاوں کے سیانے نے کہا تھا کہ جب کتے کا سامنا ہو تو فوری بیٹھ جانا کتا نہیں کاٹے گا بس اسی بات پر عمل کرتے ہوئے بیٹھا اور کتا کان کاٹ کر لے گیا۔ پانامہ سکینڈل کو ہمارے سیانوں نے کمیسٹری کا دوری جدول(Periodic Table)بنا دیا ہے، جو پڑھنے اور سننے سے مزید الجھتا جارہا ہے ایک پوائنٹ یاد ہوتا ہے تو سیانے نیا پوائنٹ ایجاد کرلیتے ہیں نئے کو یاد کرنے کے چکر میں پرانا بھول جاتا ہے۔

پانامہ سکینڈل میں تو بس یہ کہا گیا تھا کہ وزیراعظم نواز کے دونوں بیٹوں حسن نواز،حسین نواز اور بیٹی مریم نواز کی آف شور کمپنیاں ہیں۔ آف شور کمپنی ہونا قانونی اعتبار سے کوئی غلط کام نہیں ،مگر اخلاقی لہذا سے یقینا ان پر سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ اس کے بعد معاملہ تھا کہ ان آف شور کمپنیوں کو بنانے کے لئے بیرون ملک پیسہ کس طرح منتقل ہوا؟ شریف خاندان کو صرف اس سادہ سوال کا جواب دینا تھا۔ مگر نواز شریف کے اردگرد موجود سیانوں نے پہلے اسے یہود ونصاری کی سازش قراردیا، تاہم جب یہود و نصاری ممالک کے وزرائے اعظم نے پانامہ سکینڈل پر استعفی دینے شروع کئیے تو سیانوں نے کہا کہ نہیں نہیں یہ فوج کی سازش ہے، پھر کہا گیا کہ یہ سی پیک کے خلاف سازش ہے کسی نے کہا جموریت کے خلاف سازش ہے۔ الغرض میاں صاحب کو ہر سیانے نے اپنے تجربے سے یہ ثابت کردیا کہ میاں صاحب نے یا ان کی اولاد نے کچھ غلط نہیں کیا اور یہ کارروائی شریکوں نے ڈالی ہے۔

پھر کسی نے میاں صاحب کو مشورہ دیا اس سازش کا دندان شکن اور منہ توڑ جواب دینے کے لئے میاں جی بھی عمران خان کی طرح جلسے کریں اور میاں صاحب نے بھی اس سیانے کے پیچھے لگ کر کان کٹوانے کےلئے جلسے کرنے شروع کردئیے یہ سوچے سمجھے بغیر کہ ان جلسوں کا کیا فائدہ ہو گا؟ میاں صاحب کی اولاد پر تو پہلے سے ہی الزام ہے کہ عوامی پیسہ چوری کرکے بیرون ملک کمپنیاں بنائی گئیں تو اب عوامی پیسے سے جلسے کر کے کسی طرح سے اس عوامی پیسے کی چوری کے داغ کو دھویا جائے گا؟ جمہوریت کی تاریخ میں 200 سیٹوں سے زائد مینڈیٹ والی واحد پاکستان حکومت ہے جس کو جلسوں کے ذریعے ثابت کرنا پڑرہا ہے کہ وہ مقبول ترین جماعت ہے۔ میاں صاحب جس طرح ججز کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جج نہیں بولتے ان کے فیصلے بولتے ہیں اسی طرح حکومت کے جلسے نہیں اس کی کارکردگی بولتی ہے۔ کیونکہ جلسہ تو ایک ماہ قبل بنی پارٹی بھی کرلیتی ہے مگرلوگوں کی فلاح کے لئے کچھ نہیں کرسکتی۔ پانامہ سکینڈل کا معاملہ آپ اور آپ کے وزیر جتنا بھی الجھا لیں اس کو شیطانی قوت کی چال قرار دے لیں مگر آپ کو اس کا حساب دینا ہوگا۔ جلسے جلوس اخبارات اور ٹی وی میں اشتہارات سے جان چھوٹنے والی نہیں۔ حساب آپ خود دیں گے یا کوئی آپ سے حساب لے یہ فیصلہ ابھی آپ کے ہاتھ میں ہے، اس لئیے اس وقت کی قدر کریں اور جلسہ جلسہ جلوس جلوس کھیلنے کی بجائے خود کو احتساب کے لئے پیش کریں۔ ایسا کمیشن بنائیں جو صرف آپ کو ہی نہیں بلکہ اپوزیشن کی تمام پارٹیز کو منظور ہو۔ احتساب سے سرخرو ہوکر آپ کا حق ہوگا کہ آپ اپوزیشن کا احتساب کریں۔ جلسہ جلسہ جلوس جلوس کھیلنا اپوزیشن کا کام ہے آپ کا کام کارکردگی دکھانا ہے آپ کارکردگی دکھائیں اپ کی کارکردگی بولیں گی تو جلسے جلوس والے خود ہی ناکام ہوجائیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments