باتیں آصف نورانی سے۔۔۔


 Asif_Noorani1قیامِ پاکستان کو 3 سال مکمل ہو چکے تھے لیکن ابھی بھی پاکستان سے ہندوستان، اورہندوستان سے پاکستان ہجرت کا سلسلہ جاری تھا۔ یہ ذکرستمبر 1950ء کا ہے جب بمبئی سے بحری بیڑے ”سابر متی“ کے ذریعے ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا خاندان اپنا پڑاﺅ کراچی آ کر ڈالتا ہے اور کچھ عرصے کے بعد غمِ روزگار کے سلسلے میں لاہور منتقل ہوجاتا ہے۔ لیکن حوادثِ زمانہ سے متاثر یہ خاندان جلد ہی روشنیوں کے شہر کراچی واپس آ جاتا ہے۔ اس خاندان میں 3 لڑکے بھی تھے جن کو اُس زمانے کے بہترین اسکول سینٹ پال بوائز اسکول میں داخل کروانے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ ان لڑکوں میں سے ایک بچہ جس کا نام آصف نورانی تھا”ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات “کے مصداق اُس کے جوہر زمانہ طالب علمی میں ہی آہستہ آہستہ کھلنے لگے جب انہوں نے انگریزی زبان میں طبع آزمائی کا آغاز کیا۔

ایک عشرہ گزرا، اور 1960ء میں آصف نورانی نے ایک آرٹیکلSinging In The Bathroom  لکھا اور اس وقت کے معروف انگریزی اخبار ”مارننگ نیوز“ کو بھیج دیا اور پھر ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب ان کا یہ مضمون نہ صرف چھپ گیا بلکہ اس کا معاوضہ 20 روپے بھی ان کو موصول ہوا۔ انہی 20 روپوں سے آصف نورانی نے 3 کتابیں خرید یں۔ والدین کے لئے تحفہ بھی لیا۔ ”کیفے جارج“ پر اپنے دوستوں کی چکن پیٹز اور چائے سے دعوت کی اور بذریعہ رکشہ ناظم آباد تک اپنے گھر کا سفر طے کیا۔ اس کے علاوہ اپنے چھوٹے بھائیوں کو چار چار آنے بھی پیش کئے۔ اور یوں آصف نورانی کا قلم کے ساتھ جو رشتہ اُستوار ہوا وہ آج نصف صدی گذرنے کے بعد بھی قائم ہے۔ وقت گذرتا گیا اور آصف کالج جا پہنچے اور بطور فری لانسر ”مارننگ نیوز“ اور” ڈان“ کے لئے خامہ فرسائی بھی کرتے رہے۔ اسی دوران ایک فلمی جریدے ” ایسٹرن فلم “ کے مالکان سے رابطہ ہوا۔ اور اس جریدے سے بطور اسسٹنت ایڈیٹر منسلک ہوگئے اور اس میں فلمی معلومات پر مشتمل ایک معلوماتی سلسلہ Q and A کا قلمی نام Yours Impishly کے نام سے آغاز کیا جو جلد ہی ان کی شناخت بن گیا۔ ایک اور عشرہ گذرا اور 1970ءمیں انگریزی ادب میں ماسٹرز کرنے کے بعد بطور استاد ایس ایم کالج سے منسلک ہو گئے اور یوں مصروفیات کے باعث ”ایسٹرن فلم “ کومناسب وقت نہ دینے کے باعث اسے چھوڑنا پڑا۔ لیکن لکھنا چونکہ ان کی گُھٹی میں پڑا تھا سو روزنامہ ”ڈان“ کے ساتھ بطور فری لانسر منسلک رہے اور دوسری جانب ادویات بنانے والی کمپنی GLAXO کے ساتھ شعئبہ مارکیٹنگ میں کل وقتی نوکری کا سلسلہ بھی جاری رکھا اس کے ساتھ ساتھ اس زمانے میں نئے جاری ہونے والے ہفتہ وار اخبارDawn Overseas  کے ساتھ بطور سرکولیشن مینیجر بھی منسلک ہو گئے اور دوبارہ اپنے پسندیدہ میدان میں واپس آگئے۔

sajjad with asif pic 1 1993ءسے 2006ءتک ڈان گروپ کے اخبار Star Weeklyکے ایڈیٹر رہے اس دوران انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان سے موسیقی کے ساز اور فوک کہانیوں پر مشتمل لاتعداد سیریز کے اسکرپٹ لکھے اور مختلف ٹی وی شوز میں بطور مہمان یا ماہر کے بھی شرکت کی۔ آج کل وہ DAWN.COM کے لئے بلاگ بھی لکھتے ہیں۔ آصف نورانی گذشتہ آٹھ عشروں سے قلم کی دنیا سے منسلک ہیں۔ اس دوران انہوں نے کچھ کتب بھی تصنیف کیں اور ان کی پہلی کتاب ہندوستانی پبلشرRoli Books نے شائع کی جو دراصل معروف بھارتی صحافی اور کالم نگار کلدیپ نئیر کے ساتھ مل کر انہوں نے لکھی۔ اس کتاب کا نام تھا Tales Of Two Cities۔ اسی کتاب میں آصف نورانی نے ہجرت کے حوالے سے اپنے ذاتی خیالات، مشاہدات، ہندوستانی اور پاکستانی عوام کے تعلقات اور بمبئی سے کراچی ہجرت کا احوال قلمبند کیا جب کہ کلدیپ نئیر نے پاکستان سے ہندوستان ہجرت کے وقت کے مشاہدات اورذاتی خیالات کوسیالکوٹ سے دہلی تک کے عنوان سے قلمبند کیا۔ پھر کراچی کے ایک پبلشر کی درخواست پر انہوں نے معروف کرکٹر شاہد آفری پر ایک کتابBoom Boom Shahid Afridi  لکھی جس کی اب تک 2 ہزار سے زائد کاپیاں فروخت چکی ہیں۔ پھر انہوں نے شہنشاہِ غزل مہدی حسن پر ایک کتاب لکھی The Man And His Music جس کی اب تک ساڑھے 3 ہزار کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔

آصف نورانی اب تک ہندوستان اور پاکستان سے تعلق رکھنے والی تقریباَ تمام ہی معروف فلمی، سیاسی اور دیگر شخصیات کے انٹرویو کر چکے ہیں۔ اُس شام جب میں نے اسلام آباد میں مارگلہ کے دامن میں مارگلہ کے ہم نام ہوٹل کے ایک پرسکون کمرے میں آصف نورانی سے غیر رسمی گفتگو کا آغاز کیا اور ان سے معروف فلمی شخصیات سے ان کی ابتدائی ملاقاتوں کا احوال جاننا چاہا تو وہ فرطِ جذبات سے مغلوب ہو کر کہنے لگے کہ موسیقارِ اعظم ”نوشاد“ سے ملاقات میری زندگی کا یادگار AkhriStationواقعہ ہے۔ وہ لکھنوی تہذیب کی نمائندہ شخصیت اور انتہائی ملنسار اور حقیقی معنوں میں ایک Legend  تھے۔ آصف نورانی کا کہنا تھا کہ انہوں نے بہت سی فلمی شخصیات اور نامور فلمی ستاروں کے انٹرویوز کئے اور کئی ایک سے ان کے ذاتی تعلقات اور دوستانہ مراسم بھی رہے۔ وہ بتا رہے تھے کہ معروف موسیقار آنجہانی او پی نئیر سے ان کے تعلقات باپ بیٹے کے تعلقات جیسے تھے اور وہ ان سے بذریعہ فون مسلسل رابطے میں رہتے تھے۔ اسی طرح شبانہ اعظمی اور جاوید اختر سے بھی ان کے ذاتی مراسم رہے۔ ”تمھاری امرتا“ فیم فیروز خان کا شمار بھی ان کے دوستوں میں ہوتا ہے۔ کیفی اعظمی، گلزار، دیو آنند، دلیپ کمار اور طلعت محمود سے بھی ان کی نشستیں رہیں۔ ہاں جس بات کا انہیں انتہائی قلق ہے وہ یہ کہ وہ معروف شہنائی نواز اُستاد بسمِ اللہ خان، کلاسیکی موسیقار ولایت خان، بھیم سین جوشی، اداکارہ مدھو بالا، مینا کماری، نرگس، گلوکارہ لتامنگیشر، شاعر شکیل بدایونی اور دیگر عظیم شخصیات سے ملاقات نہ کر پائے۔ پھر بنگلہ دیشی نوبل انعام یافتہ معاشیات دان محمد یونس کے دو مرتبہ انٹرویو کرنے کو بھی وہ یادگار تجربہ گردانتے ہیں اور ان کا آخری انٹرویو محمد یونس کو نوبل انعام ملنے کے اعلان سے صرف ایک ہفتہ قبل کیا۔ وہ بتا رہے تھے کہ پاکستان میں فلمسٹار شبنم کا پہلا انٹرویو انہوں نے اس زمانے میں کیا جب شبنم اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز فلم ”چندا“ اور ” تلاش “ سے کر رہی تھیں۔ اسی طرح وہ وحید مراد، صبیحہ خانم اور سنتوش کمار، درپن اور نئیر سلطانہ، ڈائریکٹر پرویز ملک، موسیقار سہیل رعنا، رونا لیلیٰ، احمد رشدی، اقبال بانو، قتیل شفائی، احمد ندیم قاسمی اور دیگر شخصیات سے کئے گئے انٹرویو کو یادگار واقعات سمجھتے ہیں۔ پھر شہنشاہِ غزل مہدی حسن پر کتاب لکھنے کو بھی ایک یادگار تجربہ قرار دیتے ہیں۔ گلوکارہ نیرہ نور سے ان کے خاندانی مراسم اُس وقت سے ہیں جب 1976ءمیں نیرہ نورمقبولیت حاصل کر رہی تھیں اور اس زمانے میں ان کا البم Nayara Sings Faiz تازہ تازہ ریلیز ہوا تھا۔ پھر کرکٹ کی کمنٹری کے بے تاج بادشاہ عمر قریشی سے کئے گئے انٹرویو کو وہ ایک یادگار واقعہ قرار دیتے ہیں۔ اپنے دورہء امریکہ کے دوران انہیں معروف سرود نواز علی اکبر خان صاحب کا ان کی رہائش گاہ واقع سان رافیل کیلی فورنیا میں انٹرویو کرنے کا موقع ملا۔ اسی دن انہوں نے معروف بانسری نواز جی ایس سچدیو اور معروف طبلہ نواز ذاکر حسین کا بھی انٹرویو کیا۔ ذاکرحسین سے کی گئی گفتگو کو وہ بہت مزے دار اور دلچسپ قرار دیتے ہیں آئیے آصف نورانی سے باقاعدہ گفتگو کا آغاز کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

س۔ آصف نورانی صاحب ذرا ماضی کے جھروکوں میں جھانکیے اور ہمیں بتائے کہ جب سن پچاس اور ساٹھ کے عشروں میں جب صرف ریڈیو پاکستان ہی نشریاتی ابلاغ کا واحد ذریعہ تھا تو اس زمانے میں عوامی تفریح کے لئے ریڈیو پاکستان کا کیا کردار تھا اور آج کے زمانے سے اُس زمانے کا آپ کیسے موازنہ کریں گے؟

dev anandج۔ بہت شکریہ، میری بھی خوش نصیبی ہے کہ ریڈیو پاکستان کے لیے جسے ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں اور ہمارے دلوں کے قریب ہے میں کچھ ریکارڈ کرواﺅں۔ بہت عرصے کے بعد۔ پہلے بچوں کے پروگرام میں حصہ لیتے تھے۔ پھر یونیورسٹی میگزین میں حصہ لیتے تھے اور ڈسکشن پروگرام میں بھی حصہ لیا۔ تو بات آپ نے پوچھی پہلے زمانے کی تو پہلے تو میں ایک بات آپ کو بتا دوں کہ پرانے زمانے کی اپنی خوبیاں ہوتی ہیں اگر کوئی یہ کہے کہ وہ زمانہ بہت اچھا تھا۔ ٹھیک ہے وہ بھی اچھا تھا اور کچھ باتیں اِس زمانے کی بھی بہت اچھی ہیں۔ مثلاَ اِس زمانے میں ذرائع مواصلات بہت آسان ہو گئے ہیں بہت سہل ہو گئے ہیں ۔ اُس وقت تو مثلاَ کہیں اگر فون کرنے جانا ہوتا تھا تو دور جاتے تھے کسی کی خوشامد کرتے تھے کہ اس کے گھر میں فون لگا ہوا ہے یا کسی دفتر میں جاتے تھے۔ اِکا دُکا کوئی پبلک کال آفس ہوتا تھا جو اکثر خراب رہتا تھا۔ تو اس لحاظ سے تو آج کا دور انٹرنیٹ اور ای میل کا دور ہے اوراس سب نے زندگی کو سہل بنا دیا ہے اور کاموں میں بھی آسانی پیدا ہو گئی ہے مثلاَ ایک زمانے میں، میں ایک کوئز تیار کیا کرتا تھا تو ایک ہفتہ لگ جاتا تھا۔ اور تمام کتابوں کو کھنگالنا پڑتا تھا لیکن اب تو یہ اتنا آسان ہو گیا ہے کہ گوگل کر لیجئے۔ یا کسی اور سائٹ پر آپ کو ساری معلومات فراہم ہوجائیں گی کہ جس کا کم سے کم میں تو اندازہ نہیں کر سکتا۔ اب بات ہوئی پرانے زمانے کی تو پرانے زمانے میں ظاہر ہے ٹیلی ویژن تو نہیں آیا تھا جب ہم چھوٹے تھے تو اس زمانے میں سینما اور ریڈیو دو ذرائع اظہار تھے۔۔ علاوہ پرنٹ میڈیم کے یعنی اخبار اور رسالوں کے تو ریڈیو تو ہم سنا کرتے تھے اورمجھے یاد ہے کہ ریڈیو پاکستان کا پروگرام ” سٹوڈیو نمبر 9 “ اتوار کو ہم جہاں کراچی میں رہتے تھے ناظم آباد میں وہاں پر ” سٹوڈیو نمبر 9 “ کا یہ حال تھا کہ آپ گلی کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک چلے جائیں اور آپ کوئی مکالمہ مِس نہیں کر سکتے تھے۔ اس لئے کہ ہر گھر میں ریڈیوچل رہا ہوتا تھا والیم بھی زیادہ ہوتا تھا اور گھر بھی قریب قریب ہوتے تھے تو آپ کوئی مکالمہ مِس نہیں کر سکتے تھے۔

س۔ وہ زمانہ فلمی دنیا کا بھی تو سنہری دور کہلاتا ہے نا؟

Dilip-Kumar ج۔ ہاں اُس زمانے کو سینما کا گولڈن پیریڈ تو کہتے تھے کم سے کم فلمی موسیقی کی حد تک واقعی گولڈن پیریڈ تھا فلموں کا مزاج جو تھا پہلے تو رومانی ہوتا تھا ہر فلم میں ہیرو، ہیروئن عموماَ مل جایا کرتے تھے اور ولن جو تھا وہ آخر میں بھاگ جاتا تھا یا قتل ہو جاتا تھا تو یہ ایک طرح سے اسٹیریو ٹائپ تھی۔ بہت کم فلمیں ایسی تھیں جیسے” مدر انڈیا“ تھی یا ہمارے سیف الدین سیف صاحب نے ”کرتار سنگھ“ بنائی تھی یا سرور بارہ بنکوی نے مشرقی پاکستان میں ”آخری اسٹیشن“ بنائی تھی اور بہت کم فلمیں عام ڈگر سے ہٹ کر تھیں۔ ”مدر انڈیا“ بھی ان میں سے ایک تھی۔ اب فلمیں زیادہ حقیقت سے قریب ہو گئی ہیں زیادہ Realistic ہوتی جا رہی ہیں۔ تو ظاہر ہے جب Realisticہوتی ہیں تو آپ کسی ٹانگے والے یا رکشہ ڈرائیور کو دکھائیں تو وہ غالب کی غزل تو نہیں گا سکتا نہ فیض کی کوئی نظم سنا سکتا ہے تو وہ تو اپنے انداز سے گاتے تھے جو مہمل محسوس ہوتا ہے پڑھے لکھے لوگوں کو لیکن یہ حقیقت سے قریب ہے اور ہر دور کی اپنی موسیقی ہوتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میرے ایک بزرگ تھے جو خاص ٹھیٹھ کلاسیکی موسیقی سنا کرتے تھے ایک فلم میں انہوں نے راگ مالکونس گاتے ہوئے محمد رفیع کو فلم ” بیجو باورا“ میں ” من تڑپت ہری درشن کو آج“ جب سنا تو انہوں نے مجھے بلا کر کہا کہ آج میں نے تمھارے محمد رفیع کے سارے گانے بخش دئیے۔ تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کے لئے یہ چیز بہت اہم تھی کلاسیکی موسیقی تو اور ساتھ ساتھ اچھی شاعری بھی آج کل فلم کو Realistic بنانے کے لئے اور اس کو زیادہ مقبول بنانے کے لئے کلاسیکی موسیقی سے پرہیز کیا جاتا ہے۔

س۔ آپ کی دورہء ہندوستان کے دوران کئے اہم اور معروف فلمی شخصیات کے ساتھ بھی تو نشستیں رہیں تو کچھ اس کی بھی روداد ہو جائے ؟

I K Gujralج۔ موسیقارِ اعظم نوشاد صاحب سے تو میری ایک ہی ملاقات رہی اور بہت ہی تہذیب یافتہ پایا ان کو اور میرے ایک ماموں تھے وہ بمبئی میں رہتے تھے۔ مرحوم نوشاد صاحب پر اتنے عاشق تھے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کا نام بھی نوشاد رکھ لیا تھا۔ بات ہوئی او پی نیر صاحب کی۔۔ ایک ہمارے دوست تھے سلطان ارشد تو ان کے گھر پر میں بھی ٹھہرا تھا۔ نیئر صاحب بھی ٹھہرے ہوئے تھے۔ نیر صاحب چوتھی مرتبہ اپنی بیوی سے جھگڑا کر کے گھر چھوڑ کر نکل گئے تھے اور تہیہ کر لیا تھا کہ اب واپس نہیں جاﺅں گا تو وہ گئے سلطان ارشد جو PIA کمپنی کے مینیجر تھے بمبئی میں اور موسیقی کے بارے میں بہت معلومات رکھتے تھے۔ ان کے گھر آ کر او پی نئیر صاحب نے رہنا شروع کر دیا۔ اتفاق سے میں بھی وہاں گیا ہوا تھا تو نیر صاحب سے میری بات چیت ہوئی اور ایک باپ بیٹے والا رشتہ پیدا ہو گیا تھا۔ باوجود اس کے کہ وہ لاہور کی پیدائش تھے میں بمبئی کی پیدائش تھا باوجود اس کے کہ وہ مجھ سے بہت بڑے تھے اور کم سے کم بیس سے پچیس سال بڑے ہوں گے اور یہ کہ وہ ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے اور میں مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا لیکن ہم بہت قریب رہے اور جس زمانے میں ان کا انٹرویو کیا تو اس وقت وہ 80 سال سے زیادہ کے تھے یاد داشت ان کی ذرا ساتھ نہیں دے رہی تھی تو اکثر میں جب پوچھتا تھا مثلاً میں نے ان سے پوچھا کہ ”دیوانہ ہوا بادل کشمیر کی گلی کا “ کیا اس میں ستار کاInterlude Piece جو ہے وہ رئیس خان نے بجایا تھا تو وہ کہتے تھے کہ بھئی وہ مجھے تو یاد نہیں تو میں ان کو پھر اپنے پاس سے CD نکال کر سنواتا تو کہتے کہ کہ ہاں بالکل رئیس خان نے ہی بجایا ہے پھر انٹرویو کے دوران ان سے جب سوالات کئے تو ان کو جواب یاد نہیں آ رہے تھے تو میں نے کہا کہ نیئر صاحب سوال میری طرف سے یہ ہو گا اور آپ کی طرف سے اگر یہ جواب ہو تو کیسا ہو کہنے لگے بالکل صحیح ہے تو اس کے چند منٹ کے بعد انہوں نے ہمارے میزبان سلطان ارشد سے کہا کہ جناب میں کیا بتاﺅں سوال بھی یہ خود ہی کرتے ہیں اور جواب بھی یہ خود ہی دیتے ہیں اب میں کروں تو کیا کروں کیونکہ دونوں صحیح ہوتے ہیں تو بہر حال اس کے بعد یہ ہوا کہ جب سوال جواب کا سلسلہ ختم ہوا میں یہاں آ گیا اور میں نے چھاپ کر بھیج دیا انٹرویو تو پڑھنے کے بعد وہ کہنے لگے ارشد صاحب اس سے اچھا تو کسی نے بھی میرا انٹرویو ہی نہیں کیا تھا تو ارشد صاحب نے کہا کہ جناب یہ انٹرویو تو اُنہوں نے اپنا کیا تھا آپ سے سوال بھی کرتے تھے اور آپ ہی کی طرف سے جواب بھی دیتے تھے تو کیا بات تھی بڑے اچھے لوگ تھے کچھ لوگ۔ جیسے گلزار صاحب بہت پیاری شخصیت ہیں۔ جاوید اختر بہت ہی دلچسپ شخصیت ہیں۔ ان سب سے تعلق رہا لیکن اگر نہیں مل سکا میں تو مجھے افسوس ہے اس بات کا کہ میں مدھو بالا سے نہ مل سکا میں جب پران نیول سے انٹرویو کر رہا تھا تو میں نے کہا کہ بھئی آپ کی کتاب میں ایک گانے والی کا ذکر ہے طمنچہ جان۔۔ تو آپ ان پر عاشق تھے تو بانوے سال کے آدمی وہ ذرا شرما گئے۔۔ تو میں نے کہا کہ آپ ملے ان سے کیونکہ وہ تقسیم کے وقت پاکستان جب بنا تو لاہور سے ہجرت کر کے ہندوستان چلے گئے تھے۔ کہنے لگے ہاں میں پچاس سال بعد ملا ان سے۔ تو میں نے کہا کہ کیا دیکھا کہنے لگے رنگ و روغن، رنگ و روپ ماشاءاللہ ویسے ہی تھا تو میں نے کہا ابھی آپ گئے تھے ان سے ملنے کے لئے۔ تو کہنے لگے ان کا تو انتقال ہو گیا۔ تو میں نے کہا قبر پر کم سے کم پھول ہی چڑھا دیتے۔ تو پھر انہوں نے کہا کہ وہ تو مجھ سے دس سال بڑی تھیں۔ تو میں نے کہا کہ اگر دس سال بڑی تھیں تو کون سا کمال تھا۔ مدھو بالا تو مجھ سے پندرہ suraiya6سال بڑی تھیں اور آپ تو کم سے کم خوش قسمت تھے آپ طمنچہ جان سے ملاقات بھی کرتے رہے۔ میں تو کبھی بھی مدھو بالا سے نہیں ملا تو خیر وہ ہنس پڑے وہ بھی لاہور کے رہنے والے ہیں اور لاہور کو بہت قریب سے د یکھا ہے اور بہت چاہتے ہیں لاہور کو۔ اسی طرح دیو آنند کے ساتھ جو ایک ملاقات ہوئی اور ان کا انٹرویو کیا تو میرا طریقہ یہ ہے کہ اگر بات کسی سے اگلوانی ہو تو پہلے سیدھا سادھا سہل سوالات کریں جب ایکLevel Of Understanding پیدا ہو جائے، آپس میں پھر انٹرویو دینے والے کو کچھ مجھ پر بھروسہ ہوجاتا ہے تو میں مشکل سوال کرتا ہوں۔ تودیو آنندسے باتوں باتوں میں، میں نے کہا صا حب یہ ثریا کا آپ کا کیا معاملہ تھا تو ایک دم ان کے منہ سے نکلا کہ آصف صاحب میں آپ کو یہ بتا دوں کہ زندگی میں صرف ایک ہی عورت کے لئے رویا تھا اور وہ تھیں ثریا۔ میں نے کہا اچھا کیا اس میں ہندو مسلم کا معاملہ تھا جو علیحدگی ہو گئی، تو کہنے لگے کہ بس اب میں نے روانی میں پہلے آپ کو بتا دیا تھا۔ اب میں آپ کو نہیں بتاﺅں گا کیونکہ آپ لکھ دیں گے تو دیو آنند سے بات چیت ہوئی۔ طلعت محمود سے بھی موسیقی کے متعلق گفتگو ہوئی۔ لیکن وہ بیچارے اُس وقت زوال پر تھے تو ہر ایک کو اُس کا ذمہ دار ٹھہراتے تھے لیکن بات یہ تھی کہ اُن کی آواز میں ایک لرزش جو ایک زمانے میں ان کی خوبی تھی کچھ بہت زیادہ ہو گئی تھی جو ظاہر ہے ان کی خامی بن گئی۔ اور ہاں دلیپ کمار صاحب سے کئی مر تبہ ملاقاتیں ہوئیں مزے کی باتیں ہوئیں اب میں کیا کیا بات یاد کروں؟ لیکن انٹرویو کرنے کا کبھی موقع نہیں ملا۔ ایک دفعہ یہ ہوا کہ جب پہلی دفعہ میں انجمنِ اسلام نام کا ایک اسکو ل ہے جو بمبئی کا علی گڑھ سمجھا جاتا ہے تو اس کے لئے نوشاد صاحب منا ڈے اوردلیپ کمار اور دیگر فلمی شخصیات پیسے جمع کرنے کے لئے ایک کنسرٹ کر رہی تھیں تو جب دلیپ کمار صاحب آئے اور ہم سے ملاقات ہوئی تو باوجود اس کے کہ میں” ایسٹرن فلمز“ کا ایڈیٹر تھا میں ان کو دیکھ کران کا Fan ہو گیا اور بھول گیا کہ میں ایک صحافی ہوں جیب سے میں نے دس روپے کا بادامی رنگ کا جو نوٹ ہوتا تھا وہ نکالا اور اس پر میں نے ان کے دستخط لئے۔، تو کہنے لگے آپ کا نوٹ بڑا خوبصورت ہے۔ میں نے کہا نوٹ؟ ہمارا تو ملک بھی بڑا خوبصورت ہے۔ تو مسکراتے ہوئے کہنے لگے آپ نے ہمارا ملک ہندوستان دیکھا؟ میں نے کہا جی ہاں۔ میں دلی گیا میں لکھنؤ گیا۔ میں حیدر آباد گیا تو شرارت بھری مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگے آپ نے ہمارا کشمیر دیکھا؟ تو میں نے کہا وہ تو ہمارا ہے آپ نے اس کو اینٹھ لیا ہے اب کیا کیا جائے؟ تو بڑے زور سے انہو ں نے بھی قہقہہ مارا میں نے بھی۔ اور ارد گرد کے سب لوگ ہنس پڑے تو یہ ایک بات جو مجھے یاد آتی ہے ۔

س۔ پاکیستانی فلمی شخصیات سے بھی تو آپ کی بہت نشستیں رہیں؟

2 (1)ج۔ دیکھئے جو لاہور Based تھے جیسے صبیحہ خانم، سنتوش کمار، نیئر سلطانہ ان سے اِکا دُکا ہی کبھی ملاقاتیں ہوئیں لیکن وحید مراد سے بہت ملاقاتیں رہیں کیونکہ وہ بھی اُسی یونیورسٹی کے پڑھے ہوئے تھے جہاں میں نے تعلیم حاصل کی لیکن وہ مجھ سے بہت سنیئر تھے اور ”ایسٹرن فلم اسٹوڈیوز“ میں ان کا دفتر تھا اور”ایسٹرن فلم میگزین“ کا دفتر بھی وہاں تھا تو وحید مراد کے ساتھ اکثر ملاقاتیں رہتی تھیں ان کو بھی موسیقی سے بہت دلچسپی تھی مجھے بھی موسیقی سے بہت دلچسپی تھی۔ لیکن ان سے زیادہ میری دوستی تھی سہیل رعنا اور خاص طور پر ان کے ہدائت کار پرویز ملک کے ساتھ تو یہ چند لوگ تھے جن سے میرے تعلقات رہے اور کچھ پرانے لوگ جو باہر سے آئے تھے۔ ہندوستان سے جیسے شاہنواز تھے ان سے رہی گلوکار احمد رشدی سے ملاقاتیں رہیں ان کے لاہور منتقل ہونے سے پہلے

س۔ آپ نے بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے معروف بینکار محمد یونس کے متعدد انٹرویوز کئے تو کیا یہ انٹرویوز ان کو نوبل انعام ملنے سے پہلے کئے یا بعد میں؟

ج۔ نہیں ایک بڑے مزے کی بات یہ تھی کہ محمد یونس سے میں نے تین مرتبہ انٹرویو کیا۔ آخری دفعہ جب انٹرویو کیا تھا تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو ابھی تک نوبل پرائز نہیں ملا تو مسکرا کے کہنے لگے کہ بھئی شائد مجھے محنت اور کرنا پڑے گی اور ٹھیک ایک ہفتے بعد ان کونوبل پرائز ملا تو خیر ان کو اتنے پیغامات ملے ہوں گے کہ وہ جواب نہیں دے پا رہے ہوں گے تو اس میں میرا بھی پیغام تھا۔ اور میں نے کہا دیکھئے ایک ہفتے پہلے میں نے آپ سے کہا تھا اگر ایک سال پہلے کہا ہوتا تو شائد اور جلدی مل جاتا تو خیر ان کے کسی دوست نے مجھے کہا کہ انہوں نے پڑھا اور وہ محض مسکرا دئیے لیکن بنگلہ دیش میں محمد یونس کے علاوہ ایک سبحان صاحب ہیں جو BRAC نام کا ایک ادارہ چلاتے ہیں ان کے ادارے کی کارکردگی کا بھی دنیا بھر میں جواب نہیں ہے۔

Muhammad Yunusس۔ پاکستان میں کرکٹ کے میدان میں ریڈیو پاکستان سے انگریزی زبان میں کمنٹری کا بے تاج بادشاہ عمر قریشی کو کہا جاتا ہے آپ نے عمر قریشی کا ایک یادگار انٹرویو کیا تھا اُ س حوالے سے کوئی یادگار تذکرہ؟

ج۔ عمر قریشی صاحب کا اور جمشید مارکر صاحب کا میں خود بھی بہت مداح تھا تو عمر قریشی صاحب کا جب میں انٹرویو کرنے کے لئے گیا تو کہنے لگے دیکھئے بالکل آدھا گھنٹہ میرے پاس ہے بس اُسی میں بات ہو گی اور نہ تم کہیں فون کرو گے اس زمانے میں سیل فون تو نہیں تھے لیکن یہ کہ نہ تو تم فون کرو گے اور نہ کہیں جاﺅ گے ایک ساتھ لگ کر کر لیں گے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔ انہوں نے پرانے زمانے کی کرکٹ کی Pentangulars کی اور Quadrangulars کی بہت معلومات مجھے فراہم کی لیکن اس کے بعد یہ ہوا کہ میں نے کہا کہ اگر آپ یہ پابندی مجھ پر لگاتے ہیں تو یہ آپ پر بھی پابندی عائد ہونی چاہیئے۔ کہنے لگے بالکل صحیح ہے اگر کوئی فون بھی آیا تو میں نہیں اٹھاﺅں گا تو بات چیت جب شروع ہوئی اور عین جب کلائمکس پر تھی تو ایک دروازہ کھلا اور ایک منا سا بچہ Toddlers جسے انگریزی میں کہتے ہیں ہلکے ہلکے قدم اٹھا کر اندر آیا تو عمر قریشی فوراً اپنی سیٹ سے اٹھے اور اس بچے کو اپنی گود میں لے لیا اور اپنے سے چمٹا لیا اور پھر ان کویہ احساس ہوا کہ انہوں نے تو یہ شرط عائد کی تھی کہ کوئی Disturbance نہیں ہو گی اور انہوں نے اپنے نو اسے یا پوتے کو گود میں اس طرح سے اٹھا لیا اور Interuption ہو گئی۔ بیچ میں خلل پڑ گیا تو بہت ہی جھینپ کر انہوں نے کہا ایک آدھ Expection تو ہو جاتا ہے۔

س۔ آپ نے اپنے طویل کیرئیر کے دوران لاتعداد پاکستانی اور ہندوستانی شخصیات کے انٹرویوز کئے، کن شخصیات کے انٹرویوز کر کے لطف اُٹھایا اور کن شخصیات کے انٹرویوز کے دوران مزا نہیں آیا؟

ج۔ بھئی مزے آئے۔ آنجہانی آئی۔ کے گجرال صاحب کے۔ جو لاہور کے رہنے والے تھے اورہندوستان کے وزیرِاعظم تھے اور یہاں سےDeligation گیا تھا دلی سارک Omar Quereshiکانفرنس میں شرکت کے لئے۔ تو پاکستانی صحافیوں کو انہوں نے ہندوستانی وزیرِاعظم کے ساتھ بٹھا دیا اور دوسری ٹیبل پر سری لنکن اور ادھر ادھر کے لوگ تھے۔ تو اردو میں بات چل نکلی اور ہر ایک پاکستانی کہنے لگا کہ ہم لوگ آپ کا انٹرویو کرنا چاہتے ہیں۔ تو انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں چپ تھا تو کہنے لگے کہ کیوں آپ مجھے اس قابل نہیں سمجھتے کہ میرا انٹرویو کریں۔ یہ ہندوستان کے وزیراعظم مجھے کہہ رہے تھے تو میں نے کہا کیوں؟َ میں اس لئے نہیں بول رہا کہ میری دال نہیں گلے گی۔ کہنے لگے پکا کر تو دیکھئے تو اس کے بعد انہوں نے مجھ سے اور سب سے پوچھا کہ تم کس چیز پر انٹرویو کرنا چاہتے ہو۔ کسی نے کہا کہ ہم کشمیر کی بات کریں گے کسی نے کہا کہ پانی کی بات کریں گے۔ کسی نے کچھ سب سیاسی۔ تو میری طرف دیکھ کہنے لگے آپ؟ تو میں نے کہا کہ میں تو فیض صاحب کی بات کروں گا۔ تو انہوں نے پون کمار ورما جو ان کے پریس سیکرٹری تھے ان سے کہا پون دیکھو کسی اور کا انٹرویو ہو نہ ہو لیکن یہ صاحب جو ہیں ان کو میں انٹرویو ضرور دوں گا اور پھر انہوں نے فیض صاحب پر بڑی مزے مزے کی باتیں بتائیں اور ان سے گفتگو کر کے بہت لطف آیا۔ ذاکر حسین طبلہ نواز سے بات کر کے بہت خوشی ہوئی، عمر قریشی سے بہت مزا آیا۔ سنیل گواسکر سے بہت مزا آیا اور سوال یہ کہ کس سے مزا نہیں آیا تو کچھ بیچاری نئی نئی اداکارائیں تھیں جو کہ ایک اور پیشے سے اُٹھ کر فلموں میں آ گئی تھیں۔ تو وہ تو بات بھی کرنا نہیں جانتی تھیں لہٰذا ان کے ساتھ بات کرنے میں لطف نہیں آیا ان سے تو یہ اسی قسم کے سوال ہو سکتا تھا کہ آپ کا فیورٹ پھول کون سا ہے؟ پھل کون سا ہے؟ اور رنگ کون سا ہے؟

س۔ آپ کی اصل شناخت تو فلمی شخصیات کے انٹرویور کی ہے تو آپ کھیل کے میدان میں کیسے جا پہنچے اور شاہد آفریدی کی زندگی پر ایک کتاب لکھ ڈالی حالانکہ اُن سے زیادہ معروف اور کارکردگی کے لحاظ سے اور بھی کھلاڑی موجود ہیں؟

naushadج۔ اصل میں وہ میرے پبلشر جو تھے وہ یہاں امپورٹر تھے میری کتاب کے جو ہندوستان میں شائع ہوئی تھی میری کلدیپ نیئر کے ساتھ۔ اور انہیں کتابیں بیچنے کا بڑا فن آتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کتاب لکھئے میں نے کہا کس پر۔ کہنے لگے شاہد آفریدی پر لکھ ڈالئے۔ وہ اس وقت عروج پر تھے جب وہ کھیلتے تھے توان کے حریفوں کے چھکے چھوٹ جاتے تھے اس زمانے میں۔ تو میں نے کہا دیکھئے میں تو کرکٹ پر لکھتا نہیں ہوں۔ تو کہنے لگے کہ آپ کرکٹ دیکھتے تو بہت شوق سے ہیں اور آپ کو لکھنا بھی آتا ہے۔ تو کھیل کھیل میں ہنسی مذاق میں وہ کتاب ہوگئی اور لیکن مجھے جو لطف آیا وہ سب سے زیادہ مہدی حسن پر لکھنے کا اور مجھے اس بات کا بہت اطمینان ہے اور بہت خوشی ہے کہ مہدی صاحب کے جیتے جی میں نے وہ کتاب مکمل کر لی اور کتاب انہوں نے دیکھی اور وہ بول نہیں سکتے تھے لیکن ان کے منہ سے صرف ایک آواز نکلی اور وہ تھی۔۔ اخاہ۔۔ شکریہ۔۔۔

 


Comments

FB Login Required - comments

سجاد پرویز

سجاد پرویز ریڈیو پاکستان میں نیوز ایڈیٹر ہیں۔ ان سےcajjadparvez@gmail.com پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

sajjadpervaiz has 14 posts and counting.See all posts by sajjadpervaiz

One thought on “باتیں آصف نورانی سے۔۔۔

  • 03-05-2016 at 11:22 am
    Permalink

    good one,,, nice to read about Asif sahab,,

Comments are closed.