نواب آف کالا باغ کو ان کے بیٹے نے گولی کیوں ماری؟


پنجاب کا وہ سب سے طاقتور گورنرجس کانام سن کر ہر کوئی کانپ اٹھتا تھا مگروہ اپنے ہی بیٹے کے ہاتھوں عبرت کا نشاں بن گیا تھا

کہا جاتا ہے کہ 26 نومبر 1967ء کو وہ اپنے کمرہ میں مردہ پائے گئے ۔وہ ایوب خان کی حکومت کے ایک اہم ستون تھے۔ ذاتی زندگی میں ایک ایماندار‘ کھرے اور سادہ مزاج انسان تھے‘ مگر ان کی انتظامیہ پر گرفت اتنی ہی سخت تھی‘ وہ پرانے فیوڈل لارڈز کا ایک مثالی نمونہ تھے۔ان کا قتل غیر معمولی تھا لیکن اس پر اسرار کے پردے ڈال دئےے گئے لیکن سابق صدر فیلڈ مارشل ایوب خان نے اپنی ڈائری میں اس واقعہ کا یوں ذکر کیا ہے کہ ” جنرل موسیٰ نے دوپہر میں فون پر بتایا کہ نواب کالا باغ کو انکے بیٹے اسد نے گولی مار کر ہلاک کردیا۔ کہا جاتا ہے کہ نواب کی اپنے بیٹے سے سخت تکرار ہوگئی اور نواب نے اسد پر دو فائر کئے جن سے اسکا بازو زخمی ہوگیا۔ اسد نے جواب میں پانچ فائر کئے اور نواب کالا باغ موقع پر جاں بحق ہوگئے۔ نواب کی موت المناک ہے لیکن اپنے جاگیردارانہ پس منظر کے سبب وہ عدم برداشت اور حاکمانہ رویئے کا شکار ہوگئے“

ملک امیر محمد خان آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ تھے ۔ مغربی پاکستان کے گورنر بننے سے پہلے پی آئی ڈی سی اور خوراک و زراعت کمیشن کے چیئرمین رہ چکے تھے۔ یکم جون 1960ء کو انہوں نے مغربی پاکستان کے گورنر کا عہدہ سنبھالا۔ اس عہدے پر وہ 18ستمبر 1966ء تک فائز رہے۔ 1962ء اور 1965ء کے انتخابات میں ایوب خان کی کامیابی میں انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کے رعب اور دبدبے کا یہ عالم تھا کہ وہ خود مسلم لیگ کے رکن نہیں تھے لیکن کسی بھی نشست کے لیے مسلم لیگ کا ٹکٹ ان کی مرضی کے بغیر جاری نہیں ہوسکتا تھا۔ گورنری سے مستعفی ہونے کے بعد وہ اپنی جاگیر پر واپس چلے گئے جہاں 26 نومبر 1967ء کو انہیں قتل کردیا گیا۔ اس قتل کا الزام ان کے بیٹے ملک اسد پر لگایا گیا مگر اس الزام کو ثابت نہ کیا جاسکا۔نواب آف کالا باغ کی میت کو جس کسمپرسی سے دفن کیا گیا وہ عبرت کا نشان تھا کیونکہ وہ شخص جس کا رعب اور دبدبہ پورے مغربی پاکستان پر چلتا تھا‘ اس کے جنازے میں گنتی کے صرف چند افراد موجود تھے۔

نواب آف کالا باغ کی موت ایوب خان کی سیاست اور اقتدارکا بھی آخری کیل ثابت ہوئی۔بیان کیا جاتا ہے کہ پینسٹھ کی جنگ کے بعد جب بھٹو اور ایوب خان میں معاہدہ تاشقند پراختلاف پیدا ہواتو بعد ازاں ایوب خان ا ور نواب امیر محمد خان میں بھی ان بن ہوگئی اور یوں وہ سنگلاخ دیوار جو نواب آف کالا باغ کے روپ میں ایوب خان اور انکے مخالفین کے درمیان حائل تھی وہ بھی ہٹ گئی اور اگلے ہی سال ایوب خان کو بھی اپوزیشن نے زچ کرکے اقتدار چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں