اردشیرکاؤس جی جیسا کوئی دوسرا نہیں


یہ 1996ء کی بات ہے میں سوبھراج میٹرنٹی ہسپتال میں صبح گیارہ بجے حاملہ عورتوں کی پُرہجوم کلینک میں انتہائی مصروف تھا۔ میرے کمرے کے باہر سو سے زیادہ عورتیں اپنی باری کا انتظار کررہی تھیں۔ اس مصروفیت کے عالم میں میرے کمرے میں موجودپرانے کالے ٹیلی فون کی گھنٹی بجی اور آپریٹر نے کہا کہ کوئی کاس جی صاحب آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں عام طورپرفون کا فوری جواب دیتا ہوں لیکن اس دن مریضوں کا بہت بڑا مجمع لگا ہوا تھا لہٰذا میں نے آپریٹر سے کہا کہ انہیں کہو کہ دوگھنٹے کے بعد فون کریں اور ان کا نمبر لے لو، میں خود فون کرلوں گا۔ یہ ہدایت دینے کے بعد میں بھول گیا کہ کسی کاس جی صاحب کا فون آیا تھا۔ تقریباً دو بجے مجھے پھر ٹیلی فون آپریٹر کا فون آیا کہ وہی کاس جی صاحب کا پھر فون آیا ہے۔آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔

میں نے فون پر ہیلو کہا تو کسی نے کہا کہ ’’تیرے ہسپتال کا درخت کون کاٹ رہا ہے سالا۔‘‘

میں نے پوچھا کہ کون بول رہا ہے۔

جواب آیا کہ میں’’کاؤس جی بولتا ہوں۔‘‘ میں نے فوراً ہی پہچان لیا اور سخت حیران بھی ہوگیا۔ میں اور میرے والد صاحب ان کے کالموں کے زبردست مداح تھے، ہر ہفتے صبح صبح ان کا کالم سب سے پہلے پڑھا جاتا تھا پھر اس دن اور اکثر پورا ہفتہ ان کا ہی کالم زیربحث رہتا تھا۔ جیسے ہی انہوں نے کاؤس جی بولا اس وقت کی میری خوشگوار حیرت کا اندازہ کوئی بھی نہیں لگاسکتا ہے۔ میرے دل میں ان کی عزت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ مجھے فون کریں گے۔

اس دن ڈان اخبار میں ایک صحافی نے سوبھراج ہسپتال کے احاطے کی دیوار کے ساتھ لگے ہوئے ایک بہت پرانے درخت کی تصویر چھاپی تھی جسے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن میں موجود کچھ ایم کیوایم کے کارکن کاٹ کر اس جگہ پر روڈ کی طرف ایک میڈیکل اسٹور کھولنا چاہتے تھے۔ سرکاری ہسپتال کے اندر میڈیکل اسٹور ،پھر وہ بھی ایک پرانے سایہ دار درخت کو کاٹ کر، مجھے بہت ہی برا لگا تھا اورمیں نے ہی ڈان اخبار کی رپورٹر ثمینہ مہدی کو حالات سے آگاہ کیا تھا، وہ خود آئی تھیں دیکھا تھا اور ایک اچھی سی خبر دی تھی۔ اس خبر اورکاؤس جی کی زبردست حمایت کے بعد اس وقت تو وہ درخت بچ گیا اور مجھے اندازہ ہوگیا کہ کاؤس جی کو پہل کرنے کی عادت ہے وہ ضمیر پر بوجھ لے کر نہیں گھومتے تھے جو سمجھ میں آتا اور جو ان کے خیالات کے مطابق صحیح یا غلط ہوتا اس کی حمایت اور مخالفت فوراً ہی شروع کردیتے تھے۔ یہ میری ارد شیرکاؤس جی سے پہلی ٹیلی فونک ملاقات تھی۔ وہ ایسے ہی انسان تھے، سچ کی طرح روشن اور سچ کی حمایت میں بے باکی سے بولنے والے۔ نہ ڈرنے والے اور نہ ہی جھکنے والے۔ میں اپنی اس خوش قسمتی پر فخر ہی کرسکتا ہوں کہ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں وقت بے وقت ان سے ملتا رہا، ان سے مشورہ لیتا رہا، ان کے سوالات کا جواب دیتا رہا، انہیں اپنے اور دوسروں کے مسائل سے آگاہ کرتا رہا اور ان کی چند میزبانیوں سے لطف اندوز بھی ہوا۔

ایک دن پھر ان کا فون آیا۔ بحیثیت جنرل سیکریٹری پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کراچی انہوں نے پی ایم ڈی سی کے بارے میں میرا ایک بیان پڑھا تھا۔ وہ وہاں کے معاملات کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔

طویل گفتگو اورکئی سوالات کے جواب دینے کے بعد میں نے کہا کہ سر میں آپ کے پاس آجاتا ہوں تاکہ مزید تفصیل سے آپ کو پی ایم ڈی سی کے مسائل اور اس وقت کے رجسٹرار ڈاکٹر سہیل کریم ہاشمی کی ایماندارانہ جدوجہد کے بارے میں بتاؤں۔ ڈاکٹر سہیل کریم ہاشمی کے خلاف بدعنوان اور بے ایمان ڈاکٹروں کا ایک ٹولہ زبردست طریقے سے سرگرم تھا سب مل کر پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم کوایک بے رحمانہ کاروبار میں تبدیل کرنا چاہتے تھے جس میں وہ کامیاب بھی ہوگئے۔

وہ کہنے لگے ’’کل لنچ پر آجا۔ بول کیا کھائے گا۔‘‘

مچھلی اور سبزی کھاتا ہوں۔ میں نے تھوڑی دیر تکلف کے اظہارکے بعد کہا تھا۔ ٹھیک ہے آ جا۔ پھر انہوں نے اپنے گھر کا پتہ سمجھایا تھا جوکہ بہت ہی آسان تھا۔

ان کے خانساماں نے یورپین طریقے سے مچھلی ابالی ہوئی تھی، ساتھ میں بروکلی اور پسے ہوئے آلو اورابلے ہوئے گاجر تھے۔ میں نے سیر ہوکر کھایا اور تقریباً تین گھنٹوں تک ان سے پی ایم ڈی سی، میڈیکل کی تعلیم، ہسپتالوں کے نام نہاد پروفیسروں کے کرپشن اورمریضوں کے حالت زار کے بارے میں گپ شپ لگاتا رہا۔ وہ بڑی دلجمعی کے ساتھ نوٹس لیتے رہے، سوال کرتے رہے اور بیچ میں اِدھر اُدھر فون کرکے مزید معلومات بھی حاصل کیں۔ بعدمیں انہوں نے پی ایم ڈی سی اور میڈیکل کی تعلیم میں کی جانے والی دھاندلیوں کے بارے میں بہت کچھ لکھا اوردل سے لکھا۔ اس ایک آدمی میں ایک بڑی فوج جیسی طاقت تو نہیں تھی لیکن اس ایماندار انسان میں اصلاح کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور وہ خود ہی ایک بڑی فوج تھے اور وقت پڑنے یہ اعلان جنگ کردیتے تھے اور پوری ایمانداری کے ساتھ اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لا کر جنگ کا آغاز کردیتے تھے۔ اپنے لکھنے کی طاقت کو استعمال کرتے تھے اور ساتھ ہی اپنی دولت کو اچھے کام میں خرچ کرنے کو تیار رہتے تھے۔

ایک دن میں نے انہیں فون کرکے بتایا کہ سولجربازار میں واقع ہندوؤں کے بنائے ہوئے میٹرنٹی ہوم کو پروفیسر کرار صاحب کے بیٹے حیدر کرار نے گود لے لیا تھا اور کئی لاکھ خرچ کرکے اس کی عمارت کوبحال کیا ہے، بحالی کے لیے تعمیر کے دوران ان کا انتقال ہوگیا اور اب پروفیسر کرار کی بہو عذرا کرار صاحبہ اس کام کو مکمل کررہی ہیں۔ عمارت کے پیچھے کی طرف ایک پرانی بہت خوبصورت عمارت کو کئی لاکھ خرچ کر کے انہوں نے دوبارہ سے پہلے جیسا بنا دیا ہے جہاں انہوں نے اپنی ساس کے نام پرسرتاج بانو اسکول آف مڈوائفری کھولا ہے لیکن اس جگہ پر ایم کیوایم کے سیکٹر انچارج نے قبضہ کرلیا ہے کہ وہاں پر ایم کیوایم کا آفس کھلے گا۔ دوسرے دن ہی وہ میرے ساتھ بریٹو روڈ پر واقع ہسپتال چلے تھے۔ چاروں طرف گھوم کر دیکھا اورعمارت کی بحالی پر بہت خوش ہوئے کہ کاسی رام کے خاندان کے بارے میں بتایا جو یہ ہسپتال بنا کر تقسیم ہند کے بعد ہندوستان چلے گئے تھے، انہیں اس بات کی بہت خوشی تھی کہ عمات کی بحالی میں کرار خاندان نے پرانی چیزوں کو اپنی اصل صورت میں بحال کیا ہے وہ کہنے لگے کہ میں اس پر لکھوں گا۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں