بشر ہے، کیا کہیئے


ali arqamکراچی یونیورسٹی سے نیوز لائن آفس کی طرف جاتے ہوئے میں کوچ میں سوار ہوا ، دوپہر کا ٹائم ہونے کی وجہ سے بس میں زیادہ رش نہیں تھا اس لئے مجھے سیٹ مل گئی ۔ نیپا چورنگی سے گاڑی حسن اسکوائر کی طرف بڑھی تو اگلے ہی اسٹاپ پر دو لڑکیاں سوار ہوئیں جو حلیئے سے طالب علم لگ رہی تھیں ۔ انہوں نے کالے رنگ کی عبایا اور اس پر اوپر رنگین اسکارف پہنے ہوئے تھے جس میں چہرے چھپائے ہوئے تھے ۔

ایک لڑکی ڈرائیور کے باہنی جانب سیٹ پر بیٹھ گئی اور پرس سے اسمارٹ فون نکال کر کچھ دیر اس کی اسکرین کو تکتی رہی پھر ہینڈ فری لگا کر اس پر کچھ سننے لگی۔

دوسری لڑکی دو رویہ سیٹوں کی سب سے اگلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ یہ سیٹ خواتین کے لئے مخصوص ہوتی ہے اور ایک جنگلے کے ذریعے پچھلی سیٹوں سے الگ کی گئی ہوتی ہے۔ جنگلے پر عموماً دروازہ ہوتا ہے جسے کنڈکٹر دونوں حصوں میں آمدورفت کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ یہ اکثر کُھلا رہتا ہے اور رسی سے بندھا دیا جاتا ہے جس سے اس کی موجودگی بے معنی ہوتی ہے

اب دوسری لڑکی اسی سیٹ پر درمیانی دروازے کی طرف یوں بیٹھی تھی کہ پچھلی رو میں مخالف سمت پر بیٹھا شخص اس کی حرکات و سکنات کو دیکھ سکتا تھا۔ اور اتفاق سے میں اسی جگہ بیٹھا ہوا تھا۔

ایسے میں اُس نے اپنے پرس سے ہواوے کمپنی کا آنر تھری سی ماڈل نکال لیا اور اگلے لمحے اس نے جو کیا وہ میرے لئے خلاف توقع تھا۔

اُس نے فون ایپس کے ایک آئکن پر کلک کیا اور بلیک اسکرین پر سفید حروف کے ساتھ قرآن پاک کا متن نمودار ہوا۔ جس پر انگلیاں پھیر کر اُس نے تلاوت شروع کردی۔

۔۔۔ ۔۔۔

بیچ لگژری ہوٹل میں وومن آف دی ورلڈ فیسٹیول اٹینڈ کرنے کے بعد میں پورٹ گرینڈ والی سمت سے سیڑھیاں چڑھ کر نیٹی جیٹی کے پُل پر آیا اور بس اسٹاپ پر گاڑی کا انتظار کرنے لگا۔ دفعتاً ایک رکشہ آیا جس میں تین افراد سوار تھے۔ جن میں سے ایک اُترا اور دو بیٹھے رہے۔ ڈرائیور نے آواز لگائی۔

‘گُلبائی؟’ اور میری طرف دیکھا۔ میں نے کہا، ‘شیرشاہ جاؤ گے؟

اُس نے ہامی بھری اور کہا، “لیکن تیس روپے لوں گا” اور میں توقف کیئے بغیر رکشے میں بیٹھ گیا۔

اُس نے گاڑی دوڑانی شروع کردی۔ ڈرائیور بیس بائیس برس کا بلوچ نوجوان تھا حلیئے سے وہ کھیلوں کا رسیا کوئی کھلاڑی لگ رہا تھا۔

اس نے ٹی شرٹ پہن رکھی تھی جس کی پشت پر انگریزی میں بلی کے منہ سے نکلنے والی آواز “میاؤں” ایکسلمیشن مارک (!) کے ساتھ لکھی ہوئی تھی ۔ ٹی شرٹ کے ساتھ اُس نے کراچی کے حالیہ دنوں چلنے والے موسم کی مُناسبت سے شارٹس پہنے ہوئے تھے۔ جس کی لمبائی اس کے گُھٹنوں تک تھی۔

رکشہ چلاتے ہوئے بیچ بیچ میں وہ ایک ہاتھ کان پر رکھ لیتا تھا جیسےکوئی قوال کوئی سُر لگاتے ہوئے رکھ لیتا ہے یا بعض قراٗ حضرات لحن کے ساتھ قراٗت کرتے ہوئے رکھ لیتے ہیں۔

جب میں نے توجہ کے ساتھ اُس کی آواز پر کان دھرے تو وہ قُرآن کے آخری پارے کی سورتوں کی تلاوت کررہا تھا۔

“حافظ قرآن ہو؟” میں نے سوال کیا

“نہیں صرف ناظرہ پڑھا ہے پر سوچتا ہوں کہ کاش کرلیا ہوتا” اس نے جواب دیا۔

“ابھی بھی کرسکتے ہو” میں نے اُس ے لہجے کی حسرت بھانپتے ہوئے کہا۔

“اب کہاں، اس کُتّا خواری سے فُرصت ہی نہیں ملتی۔”

میری دلچسپی دیکھ کر اُس نے بات جاری رکھی۔

“جب میں چھوٹا تھا تو ہماری مسجد کے قاری صاحب نے مسجد کی چابیاں مُجھے دےرکھی تھیں اور میں صفائی وغیرہ کرتا تھا۔”

“ایک مرتبہ قاری صاحب کو دیر ہوگئی اور اذان کا وقت ہوگیا تھا میں نے لاؤڈ اسپیکر آن کیا اور اذان دے دی۔”

“اذان ختم ہوئی تو محلے کے ایک بزرگ آئے اور پوچھا کہ اذان کس نے دی؟”

میں نے بتایا تو مجھے گلے سے لگا کر بولا، “میں نے حجاز میں وقت گزارا ہے ۔ آج تمہاری آواز نے وہ دن یاد دلا دیئے۔

اور پھر وہ اس بارے میں بات کرتا رہا جب کہ میں اپنے لڑکپن کی یادوں میں کھو گیا تھا۔

۔۔۔ ۔۔۔

جن دنوں میں میٹرک کا طالب علم تھا تو ہم نے گھر بدلا۔ سوات کالونی میں اپنے ساٹھ مربع گز کے ایک کمرے کے مکان سے سرحد کالونی کے ایک سو بیس گز کے مکان میں آگئے۔ دوست یار تو چھوٹے ہی ساتھ میں گھر کا واحد ٹی وی سیٹ جو کسی خرابی کے باعث ٹی وی میکینک کے پاس پڑا تھا وہ بھی وہیں رہ گیا اور والد صاحب نے بھی اس کی ریپیرنگ پہ آنے والے اخراجات کا جواز بنا کر وہیں چھوڑ دیا۔ نیا علاقہ، نہ دوست و احباب، نہ ٹی وی، پھر گھر کا مذہبی ماحول سو ہم نے مسجد کی راہ لی۔

ذوق و شوق بڑھتا گیا اور نماز و وعظ سے آگے پیش امام سے رسم و راہ و تعلق بنا۔ اب ہر جمعے کو میں اذان سے پہلے جاتا۔ مسجد سے ملحقہ امام صاحب کے کمرے سے لاؤڈ اسپیکر لاکر منبر کے پاس فٹ کرتا۔ منبر پر چادر بچھاتا جب امام صاحب آکر بیٹھتے تو پہلی صف میں آلتی پالتی مار کر اُن کے سامنے وعظ سننے بیٹھ جاتا۔

اس رسم و راہ، تعلق و عقیدت کا ثمر یہ ملا کہ امام صاحب نے اپنے کتابوں کی الماری کا راستہ دکھا دیا، اور وہ ذہن جو اب تک ڈائجسٹ ، عمران سیریز اور اشتیاق احمد مرحوم کے دیگر جاسوسی کرداروں کا رسیا تھا مذہب کے مطالعے کی راہ پر چل پڑا، کتاب سے اسی دوستی کا حاصل تھا کہ کوئی پڑاؤ مستقل ٹھکانہ نہ بنا اور ذہنی ارتقا کا سفر چلتا گیا۔

لیکن اس پر پھر کبھی بات ہوگی۔


Comments

FB Login Required - comments