بیوی کو خوش رکھنے کے دس طریقے


جنگ اخبار کے آن لائن ایڈیشن میں ایک آرٹیکل پر نظر پڑی۔ نامعلوم افراد کے لکھے گئے اس آرٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ آپ اپنی بیگم کو کس طرح سے  خوش رکھ سکتے ہیں؟ درج ذیل وہ دس طریقے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ کچھ حقیقت کا تڑکا ہماری طرف سے بھی ہے۔ امید ہے مظلوم شوہر اس سے استفادہ فرمائیں گے۔

ان 10 آسان طریقوں میں سے سب سے پہلا یہ ہے کہ اہلیہ کا موڈ خوشگوار رکھنے کے لیے مہینے میں کم از کم ایک مرتبہ کسی بھی قسم کا تحفہ ضرور دیا جائے۔
تشریح:  بیوقوف بننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے جیسے کہ آ پ  اچھی طرح  جانتے ہیں کہ بیوی کی توقعات ہر تحفے کے بعد بڑھتی ہی جائیں گی۔ آج آپ اس کو پھول  لا کر دیں گے تو اگلے مہینے وہ پھول سے مہنگا تحفہ  چاہے  گی۔ بڑھتے بڑھتے  بات یہاں تک جا پہنچے گی کہ محض  پھول لانے پر آپ گھر سے نکالے جائیں گے۔ لہذا بیوی کی توقعات کو انتہائی نیچے رکھیے۔ بہت ہوا تو اس کی سالگرہ  پر تحفے کا وعدہ کر لیجیے اور شادی کی سالگرہ  سے پہلے کچھ چھوٹا موٹا تحفہ لے دیں۔ وہ بھی یہ ثابت کر کے کہ اس کے لئے آپ کو اپنا پیٹ کاٹنا پڑ رہا ہے۔

دوسرے نمبر پر آتا ہے بیوی کی باتوں کو اہمیت دینا، آپ کی اہلیہ جب بھی آپ سے کوئی بات کریں تو اپنی تمام تر توجہ ان کی جانب مرکوز رکھیں اور ان کی بات کو غور سے سنیں تاکہ ان کی بات کو ٹھیک سے سمجھا جا سکے۔
تشریح: اگر آپ اپنی بیوی کی بات کو سمجھ  سکتے ہیں تو پہلے تو آپ کو نوبل انعام ملنا چاہیے۔ لیکن  یقیناً ایسا کچھ نہیں ہے۔ دراصل لکھنے والا یہ کہنا چاہ رہا ہے کہ جب بیوی آپ سے بات کرے تو اپنا موبائل ایک طرف رکھ کر یہ ظاہر کریں کہ آپ غور سے سن رہے ہیں۔ بیچ بیچ میں ”اچھا“، ”سچ میں“، اور ” تم ٹھیک کہتی ہو“ کہتے جائیں۔ بیوی آپ  کی رائے نہیں مانگتی صرف توجہ چاہتی ہے۔ بس آپ یہ ثابت کر دیں کہ خوب توجہ ہے۔ بات سمجھنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں کیوں کہ وہ ویسے بھی آپ کی ذہنی استعداد سے بہت اوپر ہے۔

اس کے بعد باری آتی ہے اہلیہ کی آپ سے اور گھر سے متعلق خدمات کو سرہانے کی، مطلب یہ کہ اپنی اہلیہ کی دن بھر کی مصروفیات سے متعلق کام پر حوصلہ افزائی کی جائے اور ان کی جانب سے پیش کی گئی خدمات کو اچھے لفظوں میں سراہا جائے۔
تشریح: گھر آ کر یہ ہر گز نہ کہیں کہ تم سارا دن کرتی کیا ہو؟ تاہم تعریف کے ڈونگرے برسانے سے بھی اجتناب کریں۔ زیادہ تعریف کرنے سے بیوی سمجھے گی آپ اس کے قتل کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ توازن  برقرار رکھتے ہوے کسی دن کہہ دیں گھر کی سیٹنگ اچھی لگ رہی ہے اور کسی دن کھانے کی تعریف کر دیں۔

چوتھا آزمودہ طریقہ ہے کہ اپنی اہلیہ کو اس بات کا بار بار احساس دلایا جائے کہ ان کی اہمیت آپ کی زندکی میں بہت زیادہ معنی رکھتی ہےاور آپ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہو چکے ہیں۔
تشریح:  بیوی کو مسلسل احساس دلائیں کہ  اس کی اہمیت آپ کی اپنی  ماں سے زیادہ ہے۔

پانچواں طریقہ گو کہ تھوڑا سا مشکل ہے مگر یہ بہت ضروری بھی ہے، طریقہ یہ ہے کہ اپنی اہلیہ کو وقت نکال کر تھوڑی دیر کے لیے کہیں گھمانے ضرور لے کر جائیں۔ اس سے آپ کو ان کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع بھی میسر آئے گا اور ذہنی طور پر وہ تر و تازہ بھی محسوس کریں گی۔
تشریح:  بہت ہوا تو سال میں ایک بار بیوی کو کہیں گھومنے  لے جایں۔ اگر عادت زور پکڑنے لگے تو اپنے بہن بھائیوں اور ماں جی کو بھی ساتھ لے جائیں۔ بیگم آئندہ کہیں جانے کو نہیں کہے گی۔

اس کے بعد باری آتی ہے تجدید عہد وفا کی۔ اس چھٹے طریقے کے مطابق آپ دن میں کم از کم ایک بار اہلیہ سے اپنی محبت کا اظہار لفظوں میں ضرور کریں، کیونکہ پیار بھرے لفظوں کی زندگی میں بہت اہمیت ہوتی ہے۔
تشریح:  بیگم کو شک ہو جائے گا کہ ضرور آپ کا کوئی چکر چل رہا ہے لہذا اس عمل سے جہاں تک ہو سکے  پرہیز کریں۔

ساتویں طریقے کے مطابق مہینے میں ایک دن اپنی اہلیہ کو آرام کے لیے ایک مکمل دن دیں اور اس دن آپ گھر اور بچوں کی ذمے داری خود سنبھالیں۔ اس سے آپ کو بہت کچھ ایسے مسئلوں کا بھی پتہ لگے گا جو آپ کی اہلیہ کو عموماًگھر داری میں پیش آتے ہوں گے۔
تشریح: کوشش کریں کہ تمام کام آپ اس درجہ خراب کریں کہ بیگم  دوبارہ آرام کا دن لینے کے بارے میں  سوچے بھی نا۔ مثال کے طور پر بچوں کو پیمپر الٹا پہنا  دیں، ماسی سے بیٹھ کر گپیں لگائیں، تیزاب والی ٹاکی  کچن کے شیلف پر مار دیں  وغیرہ وغیرہ۔

بیوی کی خوشی آپ کے گھر کے ساتھ ساتھ اپنے والدین اوربہن بھائیوں سے بھی منسلک ہوتی ہے لہذا آٹھویں طریقے پر عمل کرتے ہوئے آپ اہلیہ کو مہینے میں ایک مرتبہ میکے ضرور بھیجا کریں۔
تشریح:  ایک مرتبہ نہیں آپ کئی مرتبہ میکے بھیجیں لیکن یہ یاد رکھیں کھ بیگم کا دماغ کچھ الٹا چلتا ہے۔ اگر آپ اس کو میکے جانے کا کہیں کھ تو وہ کہے گی ”تم تو چاہتے ہی  یہی ہو کہ میں چلی جاؤں“۔ لہذا ریورس انجینرنگ کا استعمال کرتے ہوے بیگم کو سختی سے میکے جانے سے منع کریں۔ آپ دیکھیں کہ بیگم ہر تیسرے دن میکے جائے گی۔

نویں طریقے کے مطابق ان عادات سے اجتناب کریں جو آپ کی اہلیہ کو ناپسند ہیں کیونکہ اپنی بری عادتوں پر ڈٹے رہنا اور اہلیہ کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے زندگی گزارنا بالکل ایسا ہے جیسے ایک رویہ سڑک پر آمنے سامنے گاڑیوں کا آجانا۔
تشریح: عورت بن جائیں

دسویں طریقے کے مطابق ہمیشہ بیوی سے آرام سے بات کریں اور ان کی غلطیوں پر ڈانٹنے کے بجائے پیار سے سمجھائیں کیونکہ سخت لہجہ اور بلند آواز کا استعمال سب کر سکتے ہیں مگر اصل کمال کی بات ہے کہ مدبرانہ انداز اپنا کر تصیح کی جائے۔
تشریح: ہر بات کا ایک جواب آپ کی زندگی کو خوش گوار بنا سکتا ہے ”تم بالکل صحیح کہتی ہو“۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں