خلا سے ریموٹ کے ذریعے روبوٹ کو کنٹرول کرنے کا کامیاب تجربہ


robotسائنس دان اب اس کوشش میں ہیں کہ مریخ پر جب تحقیقاتی روبوٹ کو بھیجا جائے گا تو وہ اس کی ریتلی سرخ سطح پر کس طرح حرکت کرے گا اور اسی کوشش میں انہوں نے زمین پر ایک مریخ کی سطح جیسا نقلی کمرہ بنا کر اس پر خلا سے کنٹرول کرنے والا روبوٹ چلانے کا کامیاب تجربہ کرلیا ہے جس سے انہیں امید ہو چلی ہے کہ وہ جلد مریخ پر اپنا مشن بھیج سکیں گے۔
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود برطانوی خلا باز ٹم پیک کو یہ ٹارگٹ دیا گیا کہ وہ اس روبوٹ کوخلا سے کنٹرول کرے جس کے لیے سائنس دانوں نے لندن کے قریب اسٹیون ایج میں زمین پر ایک انتہائی تاریک اور ریتلے کمرے میں روبوٹ کو چھوڑ دیا جب کہ کمرے کا ماحول مریخ کی سطح جیسا بنایا گیا۔ پیک نے کافی کوشش اور کچھ خامیوں کے باجود اس روبوٹ کو چلا ہی لیا اور اس مقصد کے لیے انہیں 2 گھنٹے کا وقت لگا۔ کمرے میں اس تحقیقاتی روبوٹ کے لیے چھوٹے چھوٹے کئی ٹارگٹ رکھے گئے جیسے ٹارگٹ کا سامنا اسے مریخ پر ہوسکتا ہے۔ یہ یورپین اسپیس ایجنسی کے اس پراجیکٹ کا حصہ ہے جس کے تحت وہ چاہتے ہیں کہ سائنس دان زمین یا پھر خلائی اسٹیشن سے دوسری دنیاو¿ں میں موجود روبوٹس کو کنٹرول کر سکیں۔
اس تحقیقاتی مشن کو میٹروئن (ملٹی پرپز اینڈ ٹو اینڈ روبوٹک آپریشن نیٹ ورک) کا نام دیا گیا ہے جب کہ ایسا ہی ایک تجربہ ڈنمارک کے خلا باز ایندریاس موگینسن بھی کرچکے ہیں۔ ٹم کو اس مشن کو پورا کرنے میں کچھ رکاوٹوں کا بھی سامنا کرنا پڑا اس لیے کہ اس کا لنک خلا سے زمین کی طرف جانا تھا جس دوران اسے زمین پر موجود روبوٹ تک پہنچنے میں کئی قسم کی کیمونی کیشن رکاوٹیں پیش آئیں۔ ہر کمانڈ اور اس کے فیڈ بیک میں کئی سیکنڈ لگے جب کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ یہ روبوٹ ایک بڑی چٹان سے ٹکرایا جسے مداخلت کرکے ہٹایا گیا۔ اس کے علاوہ خلا میں استعمال ہونے والے لیپ ٹاپ پر کچھ ٹیکنیکل سافٹ ویئر غلطیاں بھی سامنے آئیں۔ بہرحال ان تمام کے باوجود ٹم پیک نے اپنے ٹاسک کو پورا کرلیا جس دوران خفیہ رکھے گئے پانچ ٹارگٹ حاصل کیے گئے۔
واضح رہے کہ یورپی خلائی ایجنسی 2018 سے 2020 کے درمیان تحقیقاتی روبوٹ مریخ پر بھیجنے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور اس کے لیے اس طرح کے تجربات کیے جا رہے ہیں تاکہ مشن کامیابی سے مریخ پر پہنچ سکے۔


Comments

FB Login Required - comments