ڈیڑھ فٹ چوڑی دیوار


(یہ مضمون تقریباً ربع صدی قبل مشتاق احمد یوسفی نے امریکن سنٹر کراچی کی ایک تقریب میں پڑھا تھا۔)

میں طلوع آفتاب سے قبل SEA VIEW کمپلیکس کے مقابل ساحل سمندر پر جاتا ہوں۔ اس وقت وہاں پانچ چھ سے زیادہ افراد نہیں ہوتے۔ بابر نے اپنی توزک میں بڑے رنج کے ساتھ لکھا ہے کہ ہماری ہندوستانی فوج جب دریا کے کنارے خیمہ زن ہوتی ہے تو اپنی پشت دریا کی طرف کر لیتی ہے۔ یہی رویہ ساکنان کراچی کا ہے۔ جنھوں نے سنت افواج بابری پر عمل کرتے ہوئے اپنی پیٹھ سمندر کی طرف کر لی ہے۔ ہم وہاں چہل قدمی کرتے جاتے ہیں۔ چہل قدمی یعنی چالیس قدم سے یہاں ہماری مراد چار میل ہے۔ البتہ بعض خواتین جس انداز سے چہل قدمی کرتی ہیں اسے پہل قدمی کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔  WALKINGکا موزوں مترادف کم از کم میرے علم میں نہیں۔ ٹہلنا کے معنی لغت میں، آہستہ آہستہ تفریح کے واسطے پھرنا، جدا ہونا اور مر جانا ہیں۔ ہمارے ذہین سامعین نے یہ تو اندازہ لگا لیا ہو گا کہ ہم نے یہ لفظ اپنے مر جانے کے متعلق استعمال نہیں کیا۔ لفظ ”ٹہلنے“ سے آہستہ خرامی کا تاثر قائم ہوتا ہے۔ سبب اس کا یہ کہ ہمارے یہاں شرفا و امراءگھوڑے، فینس اور پالکی میں ہوا خوری کے لیے نکلتے تھے۔ خاندانی رﺅسا زندگی میں صرف ایک مرتبہ اپنی ذاتی ٹانگیں استعمال کرتے تھے۔ میدان جنگ سے بھاگنے کے لیے۔ میں واکنگ کا ترجمہ ہوا خوری بھی نہیں کروں گا، اس لیے کہ اس میں ٹانگوں سے زیادہ پھیپھڑوں کے استعمال پر زورہے۔ یہ لفظ ہمیں یوں بھی اچھا نہیں لگتا کہ ذہن معاً ”خوری“ کی دوسری قسمو ںکی طرف جاتا ہے جو سب کی سب واہیات ہیں، مثلاً رشوت خوری، چغل خوری، سود خوری، حرام خوری۔ حلال خور کا ذکر ہم نے اس لیے نہیں کیا کہ اس کے معنی مہتر یا بھنگی کے ہیں۔ ہمارے ہاں کسی اور پیشے والے کو حلال خور یعنی حلال کی کھانے والا نہیں کہا جاتا۔

دیکھئے قلم چہل قلمی کرتا کہاں سے کہاں جا نکلا۔ میں عرض یہ کرنا چاہتا تھا کہ طلوع آفتاب سے کوئی آدھ گھنٹے قبل تیس چالیس سائیکلوں پر سوار، خاکروبوں کا ایک قافلہ ساحل کی غلاظت، کوﺅں، کتوں اور ٹہلنے والوں پر جھاڑوں سے حملہ آور ہوتا ہے :

ان میں لاغر بھی ہیں، بچے بھی ہیں، ہشیار بھی ہیں

کچھ خاکروب جھاڑو دیتے دیتے اتنے بوڑھے ہو گئے ہیں کہ اب جھاڑو دیتے وقت جھکنا نہیں پڑتا۔ یہ سب سنیک کی لمبی لمبی جھاڑوﺅں سے ایک میل لمبے PROMENADEکی صفائی میں جٹ جاتے ہیں۔ ایک گھنٹے میں ان کا کام ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد محکمہ صفائی کے یہ ملازمین دن میں کوئی کام نہیں کرتے۔ فٹ پاتھ پر بھٹوں کیلے اور کینو کے چھلکوں، سگریٹ کی ڈبیوں، پلاسٹک کے تھیلوں، گنڈیریوں، آدم کی گٹھلیوں، دوسری فصلی کثافتوں اور شبینہ غلاظتوں کے انبار لگے ہوتے ہیں۔ یہ کینک اس کوڑے کو سمیٹ سماٹ کے دس دس قدم کے فاصلے پر ڈھیریاں بناتا ہے۔ پھر ان ڈھیریوں کو ۔۔۔۔ چوڑی دیوار کے اس طرف پھینک دیتا ہے جدھر سمندر کی لہریں دیوار کو چھوتی ہیں۔ صفائی کے عملے کا کام بس اتنا ہے کہ ڈیڑھ فٹ چوڑی دیوار کے اس طرف پڑی غلاظت کو دیوار کے اس طرف پھینک دے۔ اگر یہ دیوار نہ ہو تو یہ سب عملہ بے روزگار ہو جائے۔ دیوار کے اس طرف ٹھاٹھیں مارتا، بھاگ بھرا سمندر ہے، جو اس غلاظت کو پچیس برس سے ۔۔۔۔۔ کر رہا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کا وہ تیز نمک جو لکڑی اور لوہے تک کو گلا دیتا ہے، غلاظتوں کے اس پہاڑ سے بار مان جائے۔ تین تین میل اندر تک کوئی بگلا نظر نہیں آتا، اس لیے کہ اس کے کھانے کے لیے کوئی مچھلی زندہ نہیں رہی۔ سمندر کے لیے اب سانس لینا محال ہو گیا ہے پھر بھی اس کے سینے میں بڑی سمائی ہے۔ آج بھی چاندنی راتوں میں اس کی لہریں اسی طرح اشرفیاں لٹاتی ہیں۔

***    ***

پچھلے پچیس برسوں میں اہل وطن نے تازہ بستیاں آباد کیں۔ ہم تو اپنے ہی شہر خوف و خرابی، اپنے ہی دارالخون خرابہ  یعنی کراچی کی بات کر سکتے ہیں۔ ہماری بستیوں کے ناموں کی فہرست پرایک سرسری نظر ڈالیں تو ہمارے پیارے لوگوں کی بہت سی باتیں ، گھاتیں اور اندیشہ ہائے شہر سمجھ میں آ جاتے ہیں، چند نام ملاحظہ ہوں جو پچھلے پچیس سال میں ابھرے ہیں۔ سیپی اینڈ برار سوسائٹی ، دلی کالونی، پنجاب کالونی، بلوچ کالونی، ہزارہ کالونی، سندھی مسلم سوسائٹی، بہار کالونی، خواجہ اجمیر نگری ، غریب آباد اور ایک بستی کا نام ہے بفرزون، اس کے آگے ہے یوپی موڑ ،اس کے آگے مدینتہ الحکمت۔ صاحب ان کے مقابلے میں بکرا پیڑی ،بھینس کالونی اور مچھر کالونی خاصی بے ضرر او رکاسما پولٹن معلوم ہوتی ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد جرمنی میں اغیار نے ایک دیوار برلن کھڑی کر دی تھی جسے ڈھانے میں کم و بیش نصف صدی لگی۔ عزیزان گرامی ! ہم تو اس دن نہ ہونگے مگر ذرا انگلیوں پر حساب لگا کے تو بتاﺅ کہ اتنی دیواروں کو ڈھانے میں کے برس لگیں گے۔

***    ***

ہمیں اپنی سابقہ نگراں حکومت کا تہ دل سے شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے ہماری قومی زندگی کی شاہراہ پر عرصہ دراز سے پڑے ہوئے کوڑے کے چند انبار اور غلاظت کے کچھ ڈھیر، ڈیڑھ فٹ چوڑی، دیوار کے اس طرف پھینک دئے ہیں کہ اب تمہارا کام ہے ہمارا فرض تو نشاندہی کرنا تھا۔ دیوار کے اس طرف ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے۔ اس کے اتھاہ سینے میں بڑی سمائی ہے۔ یہ سب کچھ دیکھتا ہے اور کچھ نہیں کہتا۔ سب کچھ سنتا ہے اور سہارتا ہے اور شیتل شانت رہنا جانتا ہے، پر جب لوگ ساگر میں جوار بھاٹا آتا ہے تو اپنے اندر پھینکی ہوئی غلاظت کا تھوڑا سا حصہ اپنے کنارے پر دیوار تلے واپس پھینک دیتا ہے کہ اگر تمہاری آنھیں ہوں اور آنکھوں میں روشنی باقی رہی ہو تو دیکھو، تم مجھے کیا دیتے رہے ہو !

اور یہ ڈیڑھ فٹ چوڑی دیوار وہ نوشتہ دیوار والی لوح غیر محفوظ ہے جس پر لکھنے والی انگلی لکھتی چلی جاتی ہے۔ اس دیوار نے بھی کیسے کیسے سفینے غرق ہوتے دیکھے ہیں۔ اس دیوار پر چڑھ کے ایوب خان نے اعلان کیا کہ لوگو ! جسے تم سمندر سمجھ بیٹھے ہو، وہ تو اتھلا جوہڑ ہے جس کا پانی میرے ٹخنوں تک آتا ہے۔ دس سال بعد دیوار میں دراڑ پڑی اور لوگ ساگر اسے نگل گیا۔ اس کے بعد ایک عرق مئے ناب ادنی یعنی یحییٰ خان لڑکھڑاتا ہوا اس دیوار عربت نشان پہ چڑھ گیا اور شہنشاہ نیرو والی بانسری بجانے لگا۔ یکایک سمت غیب سے ایسی ہوا چلی کہ دیوار دو لحت ہو گئی اور سمندر کی نیلی چادر نے اسے ڈھانپ لیا۔ چھ سال نہیں گزرے تھے کہ ایک اور تقدیر کا سکندر ضیاءالحق اس دیوار پہ مذہب کی ایک سیڑھی لگا کے چرھ گیا، اس کی دھاک اور دہشت دلوں پہ ایسی بیٹھی کہ پروفیسر قاضی عبدالقدوس نے اپنا سیاسی مسلک بدلا سو بدلا، اپنا املاءبھی بدل دیا، اور ذیابیطس کو ”ذ“ کی بجائے ”ض“ سے لکھنے لگے۔ ضیاالحق نے ادیبوں اور شاعروں کے ایک کنونشن میں پیغمبروں کی زبان اور فرعون کے لہجے میں اعلان کیا کہ جس نے میرے دست آہن پوش پہ بیعت نہ کی، اس پہ اس زمین کا رزق ، چاندنی اور چھاﺅں حرام ہے

اک انساں تھا کہ اوڑھے تھا خدائی ساری

اک ستارہ تھا کہ افلاک پہن کر نکلا

یہ دیوار چپکی کھڑی سنتی رہی، ناگہاں کسی نے سیڑھی کھینچ لی اور اس کا بھی وہی حشر ہوا جو PTY HUMPTYکا دیوار سے گرنے کے بعد ہوا تھا :

جب کوئی موسیٰ طلسم سامری توڑتا ہے اور کسی فرعون وقت کی لاش بحیرہ جمہور میں غرق ہوتی ہے تو سمندر کی تہ میں سیدھی اس کوڑے اور غلاظت پہ جا کے ٹکتی ہے جو اس نے پھینکا اور پھنکوایا تھا، پھر جب چودھویں کا چاند کھیت کرتا ہے تو بپھرا ہوا سمندر اس لاش کو اچھالا دے کر ساحل عبرت پہ پھینک دیتا ہے اور ڈیڑھ فٹ چوڑی دیوار ڈوبنے والے سے پوچھتی ہے :

ہرا سمندر ، گوپی چندر

بول میری مچھلی کتنا پانی

بول میری مچھلی کتنا پانی

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں