عہد یوسفی تمام نہیں ہوا


مایہ ناز مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی، جن سے ہم نے ہنسنا سیکھا، آج چورانوے سال کی عمر میں دنیا غیرفانی میں ابدی زندگی گزارنے کے لئے منتقل ہو گئے۔ چراغ تلے، خاکم بدہن، زر گزشت،  آب گم اور شام شعر یاراں جیسی شگفتہ کتابیں لکھنے والے چلے گئے۔

ان کا دنیا سے جانا ایسا ہی ہو گا جیسے کوئی بہترین دوست سات سمندر پار چلا گیا ہو۔ طبعی لحاظ سے تو وہ موجود نہیں ہوتا لیکن ہم اس کی موجودگی محسوس کر سکتے ہیں۔ یوسفی صاحب دنیا سے چلے گئے لیکن ان کی موجودگی کا احساس ابدی اور غیر فانی رہے گا۔ مجھے یقین ہے وہ جنّت میں بیٹھ کر ہمیں ہنستا ہوا دیکھنا چاہیں گے۔ چوں کہ وہ مسکراہٹیں بانٹتے رہے اور قہقہے تقسیم کرتے رہے, اس لئے ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے۔ ان کا نام سن کر جو مسکراہٹ سب کے لبوں پر آتی ہے وہی ان کی زندگی کا حاصل ہے۔

بہت پہلے کہیں پڑھا تھا جو کچھ یوں تھا

جب میں مر جاؤں گا

تمھارے آنسو بہیں گے لیکن میں جان نہیں پاؤں گا

تب کے بجائے میرے لئے اب رو لو

تم پھول بھیجو گے لیکن میں نہیں دیکھ پاؤں گا

تب کے بجائے انھیں اب بھیج دو

تم تعریف کے لفظ کہو گے لیکن میں سن نہیں پاؤں گا

تب کے بجائے انھیں اب کہہ دو

تم میری غلطیاں بھلا دو گے لیکن میں جان نہیں پاؤں گا

تب کے بجائے انھیں اب فراموش کر دو

تم میری کمی محسوس کرو گے لیکن مجھے پتہ نہیں چلے گا

تب کے بجائے میری کمی اب محسوس کر لو

تم چاہو گے تم نے میرے ساتھ کچھ اور وقت بتایا ہوتا

تب کے بجائے اب یہ وقت میرے ساتھ بتا لو

مجھے یقین ہے مشتاق احمد یوسفی کے ساتھ ایسا نہیں ہوا ہو گا، انھیں زندگی میں بھی بھر پور پیار ملا اور پیار کا یہ سلسلہ منقطع نہیں ہو گا۔

کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ دنیا کو مزید کامیاب لوگوں کی ضرورت نہیں ہے، دنیا کو شدّت سے ضرورت ہے امن قائم کرنے والوں کی، زخم بھرنے والوں کی، تازہ دم کرنے والوں کی، کہانیاں سنانے والوں کی اور محبّت کرنے والوں کی۔ مشتاق احمد یوسفی سے محبّت کرنے والے ان کی محبّت کو ایسے ہی زندہ رکھ سکتے ہیں کہ لوگوں میں ان ہی کی طرح مسکراہٹیں بانٹیں، ان کی طرح سب کو جوڑیں اور ان کی طرح بد مزگیوں کو ہنس کے ٹال دیں۔

بے شک یوسفی صاحب نے اردو مزاح کو اس بلندی تک پہنچایا ہے کہ بعد میں آنے والے ہائی جمپ لگا کر بھی اس کو چھو نہ سکیں گے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں “زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے” اشارہ اس طرف تھا کہ لوگ انگریزی بولتے ہیں لیکن گالی دینے کے لئے مادری زبان کا انتخاب کرتے ہیں۔ کتنی شگفتگی سے واضح کیا کہ غیر زبان میں شدت جذبات کا مکمّل اظہار نا ممکن ہے۔ جب ہی انگریزی بولتے، انگریزی لکھتے اور انگریزی سنتے جب دل کی بات کہنی ہو تو مادری زبان ہی اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔

یوسفی صا حب نے اپنی برجستہ اور شگفتہ تحریروں کا ایسا چسکا لگایا ہے کہ کسی اور کی مزاحیہ تحریر وہ مزہ ہی نہیں دیتی جو ان کا خاصہ ہے۔ اکثر تو ان کا جملہ سن کر ہنسی پہلے نکل جاتی ہے۔ سمجھ بعد میں آتا ہے۔ بعض اوقات سمجھ نہیں بھی آتا لیکن ہنسی ضرور آتی ہے۔ اگر آپ ان کا لکھا ان کی ہی زبان سے سنیں جو کہ ویڈیوز میں سنا جا سکتا ہے آپ سمجھ جائیں گے کہ ان کی شخصیت میں وہ لطافت ہے جو بات شروع کرنے سے پہلے ہی سب کو مسکرانے پر مجبور کر دیتی ہے۔ آپ جتنے ہی سڑیل موڈ میں بیٹھے ہوں، یہ اپنی ہنستی مسکراتی چھڑی سے آپ کو چھو لیں گے اور آپ دوبارہ زندہ ہو جائیں گے۔

چراغ تلے میں لکھتے ہیں۔ “ہمار ے ہاں باعزت طریقے سے مرنا ایک حادثہ نہیں، ہنر ہے جس کے لئے عمر بھر ریاض کرنا پڑتا ہے۔ اور اللہ اگر توفیق نہ دے تو یہ ہر ایک کے بس کا روگ نہیں“۔ یوسفی صا حب نے احسن طریقے سے یہ ریاض کر لیا تھا۔

زرگزشت میں تحریر کرتے ہیں “اپنی شادی تو اس طرح ہوئی جیسے لوگوں کی موت واقع ہوتی ہے۔ اچانک بغیر مرضی کے۔”

 وہ چلے گئے، لیکن نہیں گئے۔

 جیمز وٹکومب نے بہت خوبصورت انداز میں لکھا تھا۔

وہ مرا نہیں

میں کہہ نہیں سکتا اور میں نہیں کہوں گا

کہ وہ مر گیا ہے، وہ بس دور چلا گیا ہے

ایک خوش گوار مسکراہٹ کے ساتھ، ہاتھ ہلاتے ہوئے

وہ ایک نا معلوم دنیا کی سیر کر رہا ہے

 وہ ہمیں خواب دیکھتا چھوڑ گیا ہے

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں