واااااہ یوسفی


ابھی زیادہ پرانی بات تو نہیں کہ ہم اپنے گھر کے صحن میں بچھی چارپائی پر گردو پیش سے بے نیاز آب گم میں یوں گم تھے کہ قہقہے لگاتے لگاتے آنکھوں سے آنسوبہہ جاتے اور ہونٹوں پر سسکاریاں ابھی دم نہ توڑنے پاتیں کہ ایک فلک شگاف قہقہہ ارد گرد والوں کو متوجہ کر جاتا۔ نہیں معلوم کون کون آیا اور ہمیں اس دگرگوں حال میں دیکھ کر آنکھوں آنکھوں میں سوال و جواب کرتا نکل لیا۔ آخر امی نے تنگ آکر ہماری محویت کو توڑنے کے لیے تازیانہ برسایا
”تیری مہربانی اندر مر تے اوتھے پڑھ۔ ایہ پاگل پن ویکھ کے محلے آلیاں مینوں جتیاں مارنیاں نے۔ تیرا تے جانا کجھ نئیں لوکاں گلاں کرنیاں تے مینوں کرنیاں“

ہم بھلا ہتھے سے کیسے نہ اکھڑتے کہ اس ساری لن ترانی کا ہمارے پڑھنے سے کیا تعلق سو بھنا کر ادب آداب کے تمام تر تقاضوں کو فراموش کرتے ہوئے گستاخانہ استفسار کیا
”میرے پڑھنے سے کسی کو کیا موت پڑتی ہے؟“
جواب منہ توڑ تھا
”بی بی رانی پڑھنے سے کسی کو مسئلہ نہیں یہ جو پڑھنے کے ساتھ ساتھ رونے ہنسنے کے ڈرامے لگا رکھے ہیں لوگ جوتے مارتے ہیں کہ کڑی پاگل ہے تے ایہدا علاج کیوں نہیں کراندے“

اف اماں یہ بندہ کیا لکھتا ہے ے ے ے میں کیا بتاؤں۔ اچھا سنیں سنیں آپ بھی سنیں
”کہتا ہے کہ قبلہ درخت سے لٹکے کئی پشتوں سے گھوڑے کے شجرہ نسب میں داخلے کی کوشش کر رہے تھے“ ہاہاہاہاہاہہاہاہاہاہ

یہ کیا بات ہوئی؟ اماں کو گھوڑے کے شجرہ نسب میں داخلے کی یہ واردات قطعی سمجھ نہ آئی۔

اوہو ماں بہن کی گالیاں دینے کی بات کر رہے ہیں یوسفی
ایہ اونترا گالاں کدھدا اے تے تو ہچ ہچ لائی ہوئی اے۔ شرم حیا کر کوئی کنواریاں کڑیاں آلی گل ہے تیرے وچ

اماں کا وعظ اور پھٹکار مکس ہو کر جاری رہے اور ہم نے یوسفی کی تحریر میں گم ہو کر رونا ہنسنا یا ہنسنا رونا جاری رکھا۔ یوسفی نے ہم سب کو ایسے ہی پاگل رکھا ہے اس کے ہاں مزاح کب آنکھ کے کنارے نمک چھڑک جاتا ہے پتہ ہی نہیں چلتا حتی کہ آنکھوں میں مرچیں لگنا شروع ہو جاتی ہیں۔ یوسفی یوسف سے بیعت شدہ ہے کہ زلیخاؤں کے دستِ دراز ہی نہیں عزیزانِ مصرکی طلب گار آنکھیں بھی اس کے دامن تک کشاں کشاں جاتی ہیں۔ یوسفی کے چاہنے والوں میں تفریقِ زن و مرد نہیں۔ قدرت نے یہ احتیاط ملحوظ رکھی کہ وہ ایسا وجیہہ اور تنومند یا خوش شکل نہ ہو کہ عورتیں اس کی خاطر ایک دوسرے کی دشمن بنیں یا اسے اپنے مردوں سے چوری چوری چاہیں۔ نہ ایسا شاندار سراپا دیا کہ مرد خواہ مخواہ میں رقابت کے مارے لوٹنے لگیں۔ ہاں اسے دیا تو دماغ دیا جو رسا تھا اور زبان دی کہ جو جادو بیان تھی۔ اس نے اس سحر کو پھونکا تو سویا ہوا محل بس اسی کی پھونک کے سحر میں جاگا سویا کیا۔

اسی جادو بیانی کا اعجاز دیکھا کہ ایک ٹی وی شو میں یوسفی نے ایک نازنیں سے وہ وہ کج ادائیاں کیں اور زبان و بیان کے زور پر ایسے ایسے جملے کہے کہ اگر ذرا سے بھی خوبرو ہوتے تو خاتون نہ صرف خود پیٹتی بلکہ گھر کے مردوں سے بھی پٹواتی۔ لیکن جس فراخ دلی سے وہ نازنیں ہنستی رہی اس سے صاف اندازہ ہوتا ہے کہ وہ جانتی تھی کہ اس کی زبان ہی ہشت پا پے یہ خود تو بے دست و پا پے نہ عملی طور پر کبھی پیش قدمی کرے گا نہ دراز دستی۔

یوسفی کو ہم نے اپنا مرشد جانا کہ ہمارے پنجابی جگت باز مزاج کو اردوئے معلی کے اندر انگریزی کے بگھار کی خوشبو میں بسے بد مست مضامینِ رنگین و سنگین پسند آئے۔ وہ ہمیں ہمیشہ کٹا کٹ بناتے اس دن دنا دن دن دن دن دنا دن دن کرتے اس باورچی کی یاد لاتا جو دہی، ٹماٹر پیاز ادرک لہسن اور ایک بدمست دھن کی ہمراہی میں بکرے کے اعضائے رئیسہ کے ساتھ ساتھ ناگفتنیاں بھی یوں پکا دیتا ہے کہ تو من شدم من تو شدی کے مصداق بکرا بھی چاہے تو گردے کو کپوروں کی گمراہ سنگت سے الگ نہیں کر سکتا۔ یہ شرف کٹا کٹ کے بعد صرف یوسفی ہی کو حاصل ہے کہ انسان گفتنی کے ساتھ ناگفتنیاں بھی اتنے ہی شوق سے قبولتاہے کہ باہم آمیخت ہوتی ہیں۔ تیز مصالحہ کپوروں سے توجہ ہٹادیتا ہے۔

یوسفی سے ملنا ہمارا خواب تھا اور ہر وہ شخص جو انھیں مل کر آیا ہم نے اس کو بھی برابر چاہت سے دیکھا بھلے وہ صدف مرزا ہو کہ رحمان فارس ہم نے دونوں کو ہی یہ سوچ کر دیکھا
کہ تجھ پہ اٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں

کراچی میں دس روزہ قیام کے دوران ہم نے ہر روز کسی نہ کسی کی منت کی کہ یوسفی سے ملوا دیں لیکن اچھا ہوا کسی نے نہ ملایا۔ مزاح کی تیز آنچ پر ہمارا من ہمیشہ سے پگھلاتے یوسفی کو مزید نحیف اور بیمار دیکھنا ہمیں شاید زیادہ تکلیف دیتا۔ ہنستے کھیلتے اور پوری قوت کے ساتھ سٹروک لگاتے یوسفی ہمیں اپنے تصور میں بھی اتنے عزیز اور قابلِ پرستش لگتے ہیں کہ جب شام شعر یاراں آئی تو اس پر تبصروں کو بھی زیادہ دیر نہ پڑھا اور چراغ تلے، آبِ گم، خاکم بدہن اور زرگزشت کے مصنف کو مکمل شکل میں حنوط کر کے دل کے اہرام میں تزک و احتشام سے رکھ لیا۔ شام شعر یاراں کو پڑھا ہی نہیں کہ اس کتاب کے نام نے ہی بتا دیا تھا اسے پڑھنا خطرے سے خالی نہیں۔ یوسفی کے عہد معطر میں سانسیں لینا اپنی خوش بختی تصور کرتے ہوئے اپنی تحریر میں یوسفی کے اسلوب کو دانستہ و نا دانستہ اتنا کاپی کیا کہ کسی طرح ہم اس جیسے تو محسوس ہوں جس کے عشق نے ہمیں اس کے علاوہ کسی کا مزاح پڑھنے جوگا نہ رکھا۔ لیکن مولوی مدن کی سی بات کہاں

یوسفی اپنی نقاہت اور نحیفی کے سبب سنچری پوری نہیں کر سکے لیکن اس عہد میں چورانوے تک بھاگنا کوئی کم کارنامہ نہیں ورنہ ان کی صحت اور جسامت کے اکثر لوگ تو نصف سنچری سے پہلے پویلین لوٹ جاتے ہیں۔ یوسفی نے طویل عمر پائی اور اس طول عمر سے جتنا رس کشید کر کے وہ اردو ادب کو ثروت مند کر سکتے تھے۔ انھوں نے کیا۔ وہ ان معدودے چند ادیبوں میں سے بھی ہیں جنہوں نے زندگی کو اس کی تمام سہولتوں اور آسائشوں سمیت جیا۔

تخلیقی ثروت مندی، دنیاوی آسائشات اور طویل عمر۔ اردو کے کسمپرسی کا شکار ادیب طبقے کو یہ نعمتیں ایک ایک کر کے بھی میسر آئیں تو غنیمت ہے۔ یوسفی کو بوجوہ تینوں میسر ہوئیں۔ سو تھری چیئرز فار یوسفی
آپ نے حسبِ روایت آنکھ نم بھی کی ہے تو ساتھ یک گونہ مسرت بھی دلوں میں اتاری ہے۔ دعا یہ ہے کہ حورانِ جنت بھی محض آپ کے چٹکلوں تک محدود نہ رہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں