بلوچستان میں قومی صحت پروگرام کا آغاز


\"quetta\"وزیر اعظم نواز شریف نے بلوچستان میں ’قومی صحت پروگرام‘ کا آغاز کردیا، جس سے صوبے کے 4 اضلاع کے 76 ہزار خاندان مستفید ہوسکیں گے۔حکومت کے فنڈز سے چلنے والے اس پروگرام سے کوئٹہ، کَچھ، لورالائی اور لسبیلہ کے غریب عوام فائدہ اٹھائیں گے۔
صحت کارڈ پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ آج عوامی خدمت کے سفر کا ایک اور سنگ میل عبور کر رہے ہیں، ہیلتھ پروگرام عوام کو صحت مند بنانے کا سفر ہے اور اس کا مقصد کم آمدنی والوں کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہیلتھ پروگرام کے تحت خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کو ہیلتھ انشورنس فراہم کی جارہی ہے، علاج کے لیے غریب کو زمین اور جائیداد تک فروخت کرنی پڑتی ہے، لیکن اب وہ جان لیوا اور خطرناک بیماریوں کا مفت علاج کراسکیں گے اور انہیں علاج کے لیے گھر کا سامان بیچنے اور کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ان کا کہنا تھا کہ آج صوبے کے 76 ہزار خاندانوں کو ہیلتھ کارڈز دیئے جارہے ہیں، جبکہ یہ ہیلتھ کارڈز نادرا، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے ڈیٹا لے کر لوگوں کو دیے جارہے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کا مقصد آسانیوں کو عوام کی دہلیز تک پہنچانا ہے، صحت کے ساتھ روزگار کی بھی ضرورت ہے لیکن جس ملک میں احتجاجی دھرنے اور افراتفری ہو وہاں سرمایہ کاری نہیں ہوتی، سرمایہ کاری نہیں ہوگی تو روزگارکے مواقع پیدا نہیں ہوں گے، ہم نے سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے اور جب امن و سیاسی استحکام ہوگا تو ملک ترقی کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک کو کرپشن کی لعنت سے پاک کرنا ہے، آج ملک میں توانائی کے منصوبوں پر تیزی سے کام ہورہا ہے، 2013 میں جگہ جگہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث احتجاج ہوتا تھا لیکن آج ملک میں لوڈشیڈنگ بڑی حد تک کم ہوچکی ہے، لوڈشیڈنگ کا مسئلہ آنے والی حکومت کے لیے چھوڑ کر نہیں جائیں گے اور جلد اس کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں نے کرپشن کے نام پر بحران پیدا کرنے کی کوشش کی، پاکستان چند سال پہلے تک کرپٹ ممالک میں شمار ہوتا تھا، لیکن ہم نے اپنی تمام حکومتوں میں نہ کوئی کک بیک لیا نہ کرپشن کی اور ہم پر ایک پائی کی بھی کرپشن کا الزام نہیں۔
پاناما لیکس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ اپوزیشن کے مطالبے پر کمیشن بنا دیا، اب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا، ہم ترقی کو روکنے کا سیاسی کلچر ختم کردیں گے جبکہ مخالفین 2018 تک صبر کریں بلکہ انہیں اس کے بعد بھی صبر کرنا ہوگا۔
پاک۔ چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری سے بلوچستان کو بہت فائدہ ہوگا، اقتصادی راہداری بلوچستان کے لیے معاشی انقلاب ثابت ہوگی اور منصوبے سے بلوچستان میں ترقی کے دروازے کھلیں گے۔
دہشت گردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی کامیابی سے لڑی جارہی ہے اور پوری قوم ایک ہو کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔