کیا عمران خان کی حکمت عملی گمراہ کن نہیں ہے؟


adnan-khan-kakar-mukalima-3

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عمران خان کی عوامی سپورٹ بہت زیادہ ہے۔ خاص طور پر نوجوان طبقہ، اور دیگر روایتی سیاسی پارٹیوں سے نالاں افراد عمران خان کی صورت میں ایک مسیحا دیکھتے ہیں۔ عمران خان گزشتہ الیکشن سے قبل اپنی مقبولیت کے عروج پر تھے لیکن اب ان کی مقبولیت میں کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ اس کا احساس شاید ان کو خود بھی ہو چکا ہے، اسی لیے اس مرتبہ لاہور میں تحریک انصاف کے جلسے کے لیے بہت بڑے ہجوم کی گنجائش رکھنے والے مینار پاکستان کی جلسہ گاہ کی بجائے مال روڈ کے ایک چوک کو جلسے کے لیے منتخب کیا گیا جس میں لاکھوں کی بجائے محض ہزاروں افراد کی گنجائش تھی۔ حالانکہ پچھلے دو لاہوری جلسے مینار پاکستان پر ہی ہوئے تھے۔

اس ناکامی کے کیا اسباب ہیں؟ کیا عمران خان کا ہدف غلط ہے یا ان کی حکمت عملی میں نقص ہے؟ بجائے اس کے کہ موجودہ حکومتوں کی نااہلی اور کرپشن دیکھ کر مزید لوگ ان سے متنفر ہو کر عمران خان کے ساتھ آن ملیں، ان کے حامی ان سے الگ کیوں ہو رہے ہیں؟ کیا لوگ کرپشن سے تنگ ہونے کی بجائے کرپشن کے حامی ہو چکے ہیں؟

وطن عزیز کی روایت کے مطابق عمران خان کے اندھے حامیوں کو ان کا ہر قدم درست نظر آتا ہے، مگر عمران خان کے حامیوں میں بہت سے وہ لوگ بھی شامل رہے ہیں جو کہ پڑھے لکھے، جہاندیدہ اور غیر جذباتی ہیں۔ ان کو عمران خان میں ایک بہت اچھا لیڈر تو نظر نہیں آتا ہے، لیکن پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی قیادت کے مقابلے میں اسے نسبتاً بہتر جان کر اس کے علاوہ کوئی متبادل دکھائی نہیں imran-khan-lahore2دیتا ہے۔

عمران خان کا سب سے بڑا نقص عمران خان کی دوسرے سیاستدانوں کے متعلق بدزبانی ہے۔ ایک موقف کو مہذب الفاظ میں ادا کرنے کی بجائے ’اوئے‘ سے بات شروع کر کے ’گیلی شلوار‘ پر ختم کر دینا، سیاست میں مفاہمت کے امکانات کو معدوم کر دیتا ہے۔ اور جب یہ احساس ہوتا ہے کہ 269 ممبران کی اسمبلی میں تحریک انصآف کے صرف 34 ممبران اکیلے کوئی قانون پاس نہیں کروا سکتے ہیں تو پھر ڈھائی سال بعد اچانک عمران خان صاحب کی پکار بلند ہوتی ہے کہ چیف جسٹس کے تحت پاناما لیکس کے معاملے پر کمیشن قائم کیا جائے اور حزب اختلاف کی تمام جماعتیں ایک آواز میں کمیشن کا مطالبہ کریں۔ جناب ایک آواز ہونے کا مطالبہ کرنے سے دو چار دن پہلے ہی آپ ان کی صوبائی حکومت کے خلاف تحریک چلانے ان کے صوبے جانے کا اعلان کر رہے ہوتے ہیں جن سے آپ مدد چاہتے ہیں۔

عمران خان ڈیل کرنے سے قاصر ہیں جبکہ سیاست ہوتا ہی کچھ لے اور دے کے چلنے کا نام ہے۔ اور ڈیل کو ناممکن بنانے کا سہرا عمران خان کی بد زبانی اور بے سمت مہم جوئی کے سر ہے۔ فرض کیا کہ آج الیکشن ہو بھی جائیں اور عمران خان جیت جائیں تو وہ کیا کر سکتے ہیں جبکہ ان کی حکومت سینیٹ میں دوسری پارٹیوں کی اکثریت کی وجہ سے وہ کوئی بھی قانون بنوانے سے قاصر ہو گی؟ دوسری جماعتیں بھی بدزبانی کرتی ہیں اور مخالفین پر کیچڑ اچھالتی ہیں، لیکن اس کام کے لیے تیسرے درجے کی قیادت سے چند افراد منتخب کر کے انہیں یہ فریضہ سونپا جاتا ہے، اور صف اول کی قیادت مہذب ہونے کا تاثر برقرار رکھتی ہے۔ کسی دوسری پارٹی سے کوئی اتحاد بنانا پڑے تو ان کو دشواری نہیں ہوتی ہے اور اپنے بدزبان افراد کو وہ اتحاد کے ان مذاکرات سے دور رکھتی ہیں۔ مگر عمران خان صاحب خود اپنی ذات میں ہی انجمن ہیں اور پہلے دوسرے تیسرے درجے کی قیادت کے تمام فرائض خود ہی سرانجام دیتے ہیں۔ جبکہ ان کے مقابلے میں تحریک انصاف کی دوسری صف میں کھڑے اسد عمر، جہانگیر ترین، شاہ محمود قریشی صاحبان اپنی زبان کو سنبھال کر استعمال کرنے کے عادی دکھائی دیتے ہیں۔

یہی معاملہ ان کی بظاہر فی البدیہہ تقاریر میں نظر آتا ہے۔ خان صاحب ایک دن پہلے انکشاف کرتے ہیں کہ کل بہت بڑا اعلان کرنے والا ہوں۔ اگلے دن سول نافرمانی کی کال دے دیتے ہیں۔ اس سے اگلے دن ان کو اس کال کا مطلب معلوم ہوتا ہے تو رک جاتے ہیں۔ اگلے دن کے بڑے اعلان میں بیرون ملک پاکستانیوں کو ہنڈی کے ذریعے پیسے بھجوانے کا حکم دیتے ہیں اور جب اس سے اگلے دن ان کو علم ہوتا ہے کہ اس کے کیا قومی و بین الاقوامی مضمرات ہیں تو قوم کو منع فرما دیتے ہیں۔ ایسے ہی بلنڈر وہ دوسرے معاملات میں کرتے ہیں۔ کل کی تقریر میں انہوں نے انکشاف کیا کہ شریف فیملی نے چھے ہزار کروڑ روپے کا قرضہ لیا، اور تین چار مرتبہ بریکنگ نیوز سٹائل میں یہ دہراتے رہے اور بتاتے رہے کہ چھے ہزار کروڑ روپے برابر ہوتے ہیں چھے ارب روپے کے۔ خان صاحب، آپ کی پارٹی میں بہت جہاندیدہ سیاستدان موجود ہیں۔ اپنی تقریر اگر مکمل لکھی ہوئی نہیں بھی کرنی ہے، تو پرچی پر اس کے اہم نکات کے پوائنٹ بنا کر سامنے رکھا کریں، اور تقریر کرنے سے پہلے اپنی پارٹی کے اہم اراکین کو وہ دکھا لیا کریں تو آپ ایسے بلنڈر مار کر خود کو تضحیک کا نشانہ نہیں بنائیں گے۔ سوچ کر بولنا ایک لیڈر کے لیے اہم ہوتا ہے، اس کے ایک ایک لفظ پر پکڑ کی جاتی ہے۔

555f0b60183b8

اب دیکھتے ہیں خان صاحب کی دھرنوں اور جلسوں کی حکمت عملی کو۔ اس بڑی تعداد میں یہ دھرنے اور جلسے الیکشن سے کچھ عرصہ قبل تو اچھے لگتے ہیں لیکن اگر ڈھائی سال متواتر یہ جاری رہیں، تو قوم ان سے بیزار ہو جاتی ہے۔ کرکٹ کو ہی دیکھ لیں، کہ بڑے بڑے کھلاڑیوں کو بھی آرام دیا جاتا ہے ورنہ مسلسل میچوں سے ان کی پرفارمنس متاثر ہوتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت تو 126 دن کا وہ مشہور اسلام آبادی دھرنا ہے جس کے بعد کے ضمنی و بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کا پنڈی سے صفایا ہو گیا تھا۔

جہاں تک ان جلسوں کے حامیوں کا یہ موقف ہے کہ عمران خان چونتیس ممبران کے ساتھ قانون سازی پر اثر انداز نہیں ہو سکتا ہے، تو اسی عددی کمتری کے باعث عمران خان کو دوسری جماعتوں سے اتحاد بنانے کی ضرورت ہے، بجائے اس کے کہ ان سے دشمنی ڈالی جائے۔ عوامی جلسوں اور دھرنوں سے قانون نہیں بنتے ہیں۔ قانون بنانے کے لیے اسمبلی میں جانا پڑتا ہے، اور اسمبلی میں جانے کے لیے خان صاحب راضی نہیں ہیں۔ پھر بہتر ہے کہ اسمبلی سے استعفی دے دیں اور اپنی جگہ کسی ایسے شخص کو منتخب ہونے دیں جو ایوان میں جانے کا روادار ہو۔

خان صاحب ہم پاکستانی عوام یہ بات کہ سیاستدان کرپٹ، نااہل، چور وغیرہ وغیرہ ہیں، 1959 کے ایوب خان کے رسوائے زمانہ ایبڈو قانون کے دور سے ہی جانتے ہیں۔ اس کے بعد سے بے شمار حکومتیں کرپشن کے نام پر برطرف ہوتی رہی ہیں۔ اس میں نئی بات کیا ہے جو کہ قوم کو اتنی بار بتانا پڑ رہی ہے؟ قوم یہ بات پچھلی نصف صدی سے سن سن کر ازبر کر چکی ہے۔ جب ایک بات بار بار دہرائی جائے تو وہ اپنی تاثیر کھو بیٹھتی ہے۔ آپ پچھلے پانچ سال سے یہ بات دہرا چکے ہیں، اور اس کے نتیجے میں تو اب قوم کو آپ کے علاوہ دیگر تمام سیاستدانوں کی کرپشن قابل قبول نظر آنے لگی ہے۔ ’چھوڑیں جی کرپشن کو، کام تو کر رہے ہیں نہ‘ والا عوامی رویہ نظر آنے لگا ہے۔

کرپشن کا خاتمہ کرنے کے لیے بھی جلسے بیکار ہیں۔ آپ نے آواز اٹھانی ہے تو اسمبلی میں اٹھائیں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں متحرک ہوں اور وہاں کرپشن کو پکڑیں۔ اس کمیٹی میں آپ کے شفقت محمود اور عارف علوی صاحبان جیسے پڑھے لکھے افراد موجود ہیں۔ ذرا ان کی کارکردگی سے قوم کو آگاہ تو کریں کہ انہوں نے ڈھائی سال میں کیا کیا ہے؟ کیا وہ کمیٹی کے اجلاسوں میں جانے کی زحمت بھی گوارا کرتے ہیں؟

تبدیلی دھرنوں اور جلسوں سے نہیں آئے گی۔ آپ 126 دن دھرنا دیے بیٹھے رہے، اس سے حکومت کے رویے میں کیا تبدیلی آئی ہے، الٹا آپ کا اپنا وزن ہی کم ہوا ہے۔ تبدیلی آئے گی موثر قوانین کی موجودگی اور ان کے عملی نفاذ سے۔ آپ نے الیکشن ریفارمز، کرپشن کے خاتمے، لوگوں کی صورت حال کی بہتری کے لیے اسمبلی میں کون کون سے بل پیش کیے ہیں؟ چلیں اسمبلی کے بلوں کو چھوڑیں، آپ یہی بتائیں کہ کیا آپ کے صوبے کے اپنے بلدیاتی اداروں کے پاس اتنے اختیارات موجود ہیں جتنے جنرل مشرف کی ضلعی حکومتوں کے پاس تھے؟ آپ اقتدار کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کے دعویدار ہیں تو ذرا صوبہ پختونخواہ کی اسمبلی سے ان بلدیاتی اداروں کو بااختیار کرنے کا قانون ہی پاس کروا دیں۔

ایک مشہور قول یاد آتا ہے، عظیم ذہن نظریات پر بات کرتے ہیں، اوسط درجے کے ذہن واقعات پر بات کرتے ہیں، اور چھوٹے دماغ کے آدمی افراد کی بات کرتے ہیں۔

کاش آپ شخصیات کی بجائے اصلاحات کی بات کریں۔ کاش آپ نواز شریف، آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمان، اسفندیار ولی، الطاف حسین صاحبان کو اوئے اوئے کرنے کی بجائے یہ بات کریں کہ آپ کیا قوانین لا رہے ہیں جن سے کرپشن کے خاتمے میں مدد ملے گی، عام آدمی کو صحت اور تعلیم کی سہولیات ملیں گے، اقتدار نچلی سطح پر منتقل ہو گا، الیکشن اصلاحات ہوں گی جن کے نتیجے میں اگلے انتخابات میں دھاندلی کرنا ناممکن حد تک مشکل ہو جائے گا، کسان کو اس کی محنت کا پھل ملے گا اور وہ حکومتی پالیسیوں کا شکار ہو کر غریب سے غریب تر نہیں ہو گا۔ اگر آپ ایک مضبوط اخلاقی پوزیشن اور بڑی عوامی حمایت کے باوجود نواز شریف کو الیکشن اصلاحات اور کرپشن کے خلاف قوانین بنانے پر مجبور نہیں کر سکتے ہیں تو پھر آپ ایک نااہل سیاستدان ہیں، تو کسی دوسرے نااہل سیاستدان کی بجائے آپ ہی کو ووٹ کیوں دیا جائے؟

ایسی باتوں سے ہی وہ ووٹر آپ کی طرف آئے گا جو اس وقت کسی پارٹی کی حمایت نہیں کرتا ہے اور پاکستان کو بہتر بنانا چاہتا ہے۔ اوئے فلانے ڈھمکانے کی مسلسل تکرار سے وہ پڑھا لکھا ووٹر بھی آپ سے دور بھاگ رہا ہے جو کہ گزشتہ الیکشن میں آپ کا حامی تھا۔ الیکشن ریفارمز نہیں ہوں گی تو پھر اگلے الیکشن میں پچھتر لاکھ ووٹ کی بجائے سات لاکھ ووٹ پا کر آپ اگلے دھرنے کا اعلان کرتے ہوئے ہی نظر آئیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 327 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

5 thoughts on “کیا عمران خان کی حکمت عملی گمراہ کن نہیں ہے؟

  • 02-05-2016 at 3:05 pm
    Permalink

    بہت خوبصورت لکها آپ نے اور بہترین انداز میں عمران خان کی رہنمائی کرنے کی کوشش کی

  • 02-05-2016 at 3:20 pm
    Permalink

    الحمدللہ

  • 02-05-2016 at 5:10 pm
    Permalink

    کاش عمران خان ان باتوں پر عمل کر لے ‘

  • 02-05-2016 at 6:45 pm
    Permalink

    بہت عمدہ او ہمددانہ تجزیہ ہے۔ اے کاش کہ کپتان کی خود پسندی اسے ایسے تجزیے پڑھنے اور ان پر فکر کرنے کی اجازت دیتی۔

  • 03-05-2016 at 10:01 pm
    Permalink

    یہ مقبول عام سیاست ہے . پاکستان میں یہی چلتا ہے

Comments are closed.