شام کی خوں آشام صبح اور مسروقہ موم بتی


\"farnood\"تیونس میں عرب بہار کی پہلی لہر اٹھی تو دھڑن تختہ کرتی ہوئی نیل کے ساحلوں سے جاکر ٹکرا گئی۔ چار عشروں پر محیط آمریت کی سیاہ رات کو جمہوریت کی کرن دکھانے قاہرہ اور اسکندریہ کی سڑکوں پہ خلق خدا امڈ امڈ کر آئی۔ تحریر اسکوائر پہ ایک خلقت بیٹھی تھی کہ اٹھنے کا نام نہیں لیتی تھی۔ تحریک نے طول پکڑا مگر کامیابی لے کر رہی۔ اس کامیابی کا سہرا اخوان المسلمون کی برد بار قیادت کے سر جاتا ہے۔ وجہ؟ اس کے باوجود کہ اس تحریک کو ہوا دینے میں مرکزی کردار اخوانیوں کا ہی تھا، اخوانی قیادت مستقل پس منظر میں رہی۔ آخر دن تک وہ اس تاثر کو قائم رکھنے میں کامیاب رہے کہ حسنی مبارک کے خلاف سڑکوں پہ آنے والی خلقِ خدا کسی ایک جماعت کے ایجنڈے پہ نہیں ہے۔ تحریر اسکوائر کے احتجاج کو عوامی ابھار کا ایک خوبصورت نمونہ کہا جا سکتا ہے۔ ریاست نے انتہا پہ جا کر اپنا جبر آزما لیا، مگر عوام کے صبر کو مات نہ دے سکی۔ جبر و صبر کی اسی کشمکش میں حسنی مبارک کے بوٹ کا تسمہ اکھڑگیا۔ جی کا جانا ٹھہر گیا، اگلا سفر شروع ہو گیا۔ سفر کےآغاز پہ بھی اخوانی قیادت نے کوئی احسان جتاتے ہوئے غیر آئینی حصہ مانگنے کے بجائے عام انتخابات کا مطالبہ کیا۔ انتخابات کا طبل بجا، اخوان کے سیاسی بلاک جسٹس اینڈ فریڈم پارٹی نے معرکہ مار لیا، ایوان نے ڈاکٹر محمد مرسی کو قائد ایوان چن لیا۔ مصر کی نوزائیدہ جمہوریت نے ابھی گھٹنوں کے بل ٹھیک سے چلنا بھی شروع نہیں کیا تھا کہ ایک منتخب صدر کے نیچے سے تخت کھینچ لیا گیا۔ حکومتی کابینہ سلاخوں کے پیچھے چلی گئی، اخوانی قیادت آمر کے پیچھے پڑ گئی۔ قاہرہ کی سڑکوں پہ گھمسان کا رن پڑگیا کیا خواتین اور کیا بزرگ، جوان ہوں کہ بچے سبھی رابعہ العدویہ کی شاہراہوں پہ تھے۔ سامنے ہرکارے، فضا میں طیارے، دائیں سے گولی بائیں سے گالی مگر اخوانی کارکنوں نے نجی وسرکاری املاک کا تحفظ یقینی بنائے رکھا۔ اسی شاہراہ پہ رمضان کی افطاریاں سحریاں اور تراویح بھی آئیں، اسی شاہراہ پہ عید کی صبح بھی ہوئی۔ یہیں گلے ملے گئے یہیں گلے کاٹے گئے۔ محتاط اندازے کے مطابق چھ سے سات ہزار سیاسی کارکن قتل ہوئے۔ اکیس انسان اپنے خیموں میں زندہ جل کر راکھ کا ڈھیر ہوگئے۔ تین دن صبح کی نماز میں اخوانی کارکنوں پہ براہ راست گولیاں چلیں۔ کم وبیش سات مساجد شعلے دکھا کر بھسم کردی گئیں۔ ایک بات پوچھوں؟ اس پورے منظر میں آل سعود کہاں کھڑے تھے؟ امتِ مسلمہ حسبِ روایت بھول چکی ہوگی مگر ہم یاد دلاتے ہیں کہ وہ اخوانی جو چن لیے گئے تھے، انہیں دیوار میں چن دینے کے لیے سعودیہ نے مصر کے جابر وآمر جنرل سیسی کو پانچ ارب ڈالر کا نذرانہ پیش کیا۔ ایران کہاں کھڑا تھا؟ یاد دلائے دیتے ہیں کہ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای نے زاہدان میں ساڑھے تین گھنٹے کے خطبے میں جنرل سیسی کی آمریت پہ لعنت بھیج کر اخوانیوں کی تائید کی تھی۔

عرب بہار لیبیا میں خزاں کے جھونکے چھوڑتی ہوئی شام کی سرحدوں سے جا لگی۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ شام کے عوام آمریت کی طویل رات سے بیزار آچکے تھے۔ وہ شیعہ ہوں کہ سنی، سبھی اس گمان پہ نکلے کہ وہ دن طلوع ہونے کو ہے جس کا وعدہ ہے۔ بشار الاسد کی کابینہ اور ہمسایہِ دیرینہ نے اس منہ زور بہار کو پوری کامیابی کے ساتھ شیعہ سنی تنازعے میں بدل دیا۔ لکیر کھنچ گئ، سنی ایک طرف اور شیعہ دوسری طرف جا کھڑے ہوئے۔ مصر میں چونکہ گھمسان کا رن خدا کے نام پہ نہیں پڑا تھا، اس لیے ٹھیک غلط کی تعریف اپنی تمام تر وسعتوں کے ساتھ واضح تھی۔ مگر یہاں شام کے دنگل میں چونکہ مذھب کو ریفری بنا دیا گیا تھا، تو حق وباطل کا فیصلہ مشکل تو پہلے بھی تھا، اب ناممکن ہوگیا۔ دونوں طرف کے مورچوں میں اہل حق کھڑے ہوگئے۔ سنیوں کی پشتی بانی کعبے کے پاسبانوں کے ہاتھ میں آئی اور شیعوں کی نصرت و مدد کے لیے پاسدارانِ انقلاب چلے آئے۔ ایک طرف کے شیوخ کو خواب میں حضرت علی بشارتیں دینے آرہے ہیں تو دوسری طرف کے سالکین کے خوابوں میں حضرت عمر کے قافلے جنگی ہدایات لے کر پہنچ رہے ہیں۔ احرام میں لپٹے ہوئے مسلم کعبے کے غلاف سے چمٹ کر شام کے مظلوم سنیوں کے لیے آہ وزاری کررہے ہیں، تو قباؤں میں سمٹے ہوئے مومن بی بی زینب کی چادر تھام کراہلِ بیت کے نام لیواؤں کے لیے گریہ کررہے ہیں۔ قطار اندر قطار اترے ہوئے فرشتے کئی برس سے اس کشمکمش میں ہیں کہ فضائے بدر کس جانب بپا ہے؟ کس کی پکار سنیں اور کس کی صدا مسترد کردیں۔ کس روح کو شہید کی مراعات سے نوازا جائے، کس کو نہیں۔ ہر مرنے والا کلمہ پڑرہاے ، ہرمارنے والا نعرہ تکبیر بلند کررہا ہے۔ یہ جلے کٹے معصوم جسموں کے نوحے میں ہم طرفداروں کے ساتھ ہیں۔ آنسو اگر تھم جائیں اور ہچکیاں کچھ سنبھل جائیں، تو ہماری بھی سن لیجیئے گا۔ یاد ہے ڈھائی برس پہلے اسی شام میں کیمیائی گیس کا استعمال ہوا تھا؟ اٹھارہ سو انسان ایک ہی جھٹکے میں تڑپ تڑپ کر مر گئے تھے۔ ایک بات پوچھوں؟ اس پورے منظر میں پاسدارانِ انقلاب کہاں کھڑے تھے؟ امتِ مسلمہ حسبِ روایت بھول چکی ہوگی مگر ہم یاد دلاتے ہیں کہ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ کیمیائی گیس کا استعمال کر کے بشار کی افواج نے کوئی قانونی خلاف ورزی نہیں کی۔ سعودیہ کہاں کھڑا تھا؟ یاد دلائے دیتے ہیں کہ مرحوم شاہ عبداللہ نے اس وقت سلامتی کونسل کے اجلاس میں بشار الاسد کی آمریت پہ چار حرف بھیجتے ہوئے باغیوں کے حق میں قرار داد پیش کی تھی۔

بشار الاسد کی افواج کی طرف سے بربریت نے ایک ہفتہ سے حلب میں قہر ڈھا رکھا ہے۔ ہر دسویں میں منٹ میں ایک شخص زخمی اور چوبیسویں منٹ میں ایک شخص قتل ہورہا ہے۔ اب تک جو بے گناہ اس برریت کا شکار ہوئے ان میں ایک بڑی تعداد بچوں کی ہے۔ سب سے بڑا دکھ بھی انہی بچوں کا ہے۔ ہونا بھی چاہیئے کہ آخر وہ سنی ہیں اور نہ شیعہ۔ خواتین میں بھی بڑی تعداد انہی کی ہے جو اپنا شمار تین میں رکھتی ہیں نہ تیرہ میں۔ ان کے لیے اس جنگ کا اب تک کا خلاصہ یہ ہے کہ آنگن میں بچوں کی کلکاریاں گونجتی تھیں، اب نہیں گونجتیں۔ عقیدے کی اس جنگ میں فریق واضح ہیں۔ اسلام کے لیے دونوں کی قربانیاں دنیا جانتی ہے۔ کسی کی پشت پہ بدرواُحد ہیں تو کسی کی تاریخ میں خیبر و کربلا۔ دونوں میں کون برتر ہے اور کون کمتر، یہ فیصلہ تو وہ خود کرتے کرتے بحیرہ عرب کو خونم خون کرڈالیں گے، ایک بات پہ یہ البتہ اتفاق رکھتے ہیں کہ ہم ایسے راندہ درگاہ دماغوں پر بہر حال دونوں کو ہی برتری حاصل ہے۔ بالکل حاصل ہے کہ آخر دونوں کو مہدی کا انتظار ہے اور مجھے اقبال نے منع کر رکھا ہے۔ ہم نے انسانیت کو سب سے بڑا مذہب جانا۔ سو ہمارا نصیب تو دیکھیئے کہ دونوں میں سے جس کا بھی گال لال ہوتا ہے، بھاگتا ہوا ہم جیسے بے خانماؤں کے پاس ہی چلا آتا ہے۔ یمن میں شیعہ مارے جائیں تو اسد جعفری ہمارا گریبان پکڑ کے پوچھتا ہے کہ تم دوغلے لبرل ہمارے حق میں بولتے کیوں نہیں؟ شام میں سنی کا خون ہو تو جہانزیب صدیقی ہماری گردن دبوچ کر کہتا ہے کہ تم دوہرے سیکولرز کی زبانوں پہ آبلے کیوں پڑ گئے ہیں؟ ہم کیا کریں؟َ کوئی رستہ ہمیں آپ ہی سجھادیں۔ حلب کے چوک چوراہوں پہ انسانیت کو بال بکھیرے ماتم کرتا دیکھ کر خاموشی اختیار کرنا ہماری خواہش نہیں ہے۔ نہ بابا، ہم تو سہمے ہوئے ہیں صاحب۔ خدا آپ دونوں کا طرف دار ہے۔ آسمانی طاقتیں آپ دونوں سے راضی ہیں۔ رسول کی بشارتیں دونوں کو برابرمل رہی ہیں۔ حق کا پروانہ دونوں کو جاری ہوچکا ہے۔ ایسے میں ہم روئیں یا ہنسیں کہ فرحان فاروقی مجھ سے آکر پوچھتا ہے کہ کہاں ہے تمہاری موم بتی مافیا؟ ہم ہنسیں تو یہ مارتے ہیں۔ ہم روئیں تو وہ مارتے ہیں۔ تیرا غم سلامت مجھے کیا کمی ہے۔

آخری تجزیئے میں اسے ہم اپنا اعزاز ہی جانتے ہیں کہ آپ میں سے ہر ایک کو حالات کے تھپیڑے کھانے کے بعد ہمارا ہی کندھا نظر آتا ہے۔ ہندوستان کا مسلمان ہمارے پیچھے ہی پناہ لیے کھڑا ہے، پاکستان کا ہندو ہمیں سے لپٹا کھڑا ہے۔ آپ کی اس محبت کی قدر ہم پر واجب ہے،مگر ہمارے سامان میں مسروقہ موم بتیاں ڈھونڈنے والوں کو یہ بتلانا بھی ہم پر فرض ہوچکا کہ جناب آپ اپنی اگر بتیاں کہیں رکھ کر بھول گئے ہیں۔ کچھ سوالات ہم رکھ دیتے ہیں، شاید کہ آپ کو یاد آجائے کہ آپ اپنا سامان کہاں بھول آئے ہیں۔ کیا جہا نزیب صدیقی کبھی آلِ سعود سے یہ پوچھنا گوارا کریں گے کہ اگر شام میں مرنے والے تمہاری نظر میں مسلمان ہیں اور خاص طور سے سنی مسلمان ہیں تو مصر میں مارے جانے والے اخوانی کیا اثنا عشری ہیں؟ کیا اسد جعفری آیت اللہ خامنہ ای کی جناب میں یہ سوال رکھ سکتے ہیں کہ قبلہ ! مصر کا جنرل سیسی اگر آمر ہے تو شام کے بشار الاسد میں آمریت کی کون سی علامت کم پڑ گئی ہے۔؟ پھر کیا میں جہا نزیب صد یقی سے سوال کر سکتا ہوں کہ میاں! اگر حلب کے مظلوموں پہ نوحہ گری کرنا مجھ پہ واجب ٹھہرا، تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اگر یمن کے شہیدوں کیلئے مرثیہ لکھوں تو آپ مجھ پہ کعبہ ڈھانے کی فرد جرم عائد نہیں کریں گے۔ کیا اسد جعفری سے پوچھ سکتا ہوں کہ حضور! اگر یمن کے حوثیوں کیلئے میری پکار میرے حق کی آخری نشانی ہے، تو کیا حلب کے تڑپتے بچوں کے لیے آپ مجھے میر انیس کے مرثیوں میں سے کوئی مناسب سا مرثیہ منتخب کر کے دیں گے؟ چلیں حضور ہم تو ٹھہرے دوغلے، مگر اس پورے تناظر میں آفتاب قادری اور جنید نقشبندی کسی ایک کا بھی درد محسوس کرنے کے روادار کیوں نہیں ہیں؟ اسی لیئے نا کہ ان کا تعلق رضوی سے ہے نہ فاروقی سے؟ تو ہر بار کی تاریکی میں اگر بتی جلا کر موم بتی ڈھونڈنا کہاں کی دانائی ہے صاحب؟ تو میرا نہیں بنتا تو نہ بن، اپنا تو بن۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

8 thoughts on “شام کی خوں آشام صبح اور مسروقہ موم بتی

  • 02-05-2016 at 3:46 pm
    Permalink

    Maar daala Zalim

  • 02-05-2016 at 4:35 pm
    Permalink

    ایک پر اثر نوحہ مگر بہرے کانوں اور دولخت دماغوں کےواسطے

  • 02-05-2016 at 5:33 pm
    Permalink

    واہ کیا بات ہے،
    شاید اب تھوڑی نفرت کم ہو جائے اس تھوڑے سے لکھے سے ،
    کہ جو ہر وقت موم بتی موم بتی مافیاں کی رٹ لگا کر اپنے دل کی آلودہ نفرت کا اظہار کرتے رہتے ہیں بغیر کسی دلیل کے ، بس دھونس اور دھمکیوں سے ۔۔۔۔۔ !

  • 02-05-2016 at 7:56 pm
    Permalink

    ہمیشہ کی طرح “میں نے یہ سمجھا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے”
    کل سے برملا اسی کا اظہار کر رہا ہوں ، اور احمدی و ملحد تک گردانا جا چکا ہوں 🙂

  • 03-05-2016 at 12:55 pm
    Permalink

    فرنود صاحب نے درست نشاندہی کی ہے۔ یہ المیہ ہے کہ سیاست میں مذھب کے استعمال نے ہمیں کہیں کا نہی چھوڑا

  • 03-05-2016 at 8:09 pm
    Permalink

    سیاست میں مذھب کے استعمال نے ہمیں کہیں کا نہی چھوڑا

    صاحب، یہ ملک خداد تو حاصل ہی اسی اصول اور طریقہ کار پر کیا گیا تھا ۔۔ ہم اجتماعی طور پر اس اصول اور طریقہ کار کی کھلے عام تنقید یا کم از کم اس پر سوال ہی اٹھانے کا رویہ ہی اگر اپنا لیں تو شاید ہمارے بند دماغوں کی کھڑکیا کچھ کھلیں

  • 04-05-2016 at 8:04 am
    Permalink

    بہت پُر اثر لکھا ہے فرنود صاحب۔ انسانی خون نہ لبرل ہوتا ہے نہ رجعت پسند لیکن ۔۔۔۔۔۔
    “دیکھ سکتے ہو تو دیکھو غور سے
    ویرانیاں تاریخ کی ۔۔۔۔۔۔ “

  • 04-05-2016 at 4:43 pm
    Permalink

    مصر میں چونکہ گھمسان کا رن خدا کے نام پہ نہیں پڑا تھا، اس لیے ٹھیک غلط کی تعریف اپنی تمام تر وسعتوں کے ساتھ واضح تھی! ۔۔۔۔۔۔۔۔ اخوان کا قصور اسلام پر اصرار کے علاوہ اور کیا تھا؟

Comments are closed.