جمشید مارکر صاحب بھی نہ رہے


یوسفی صاحب اور یارِ عزیز مظہر اقبال شیخ کی رحلت کا صدمہ ابھی تازہ تھا کہ جمشید مارکر صاحب کی سناؤنی آ گئی۔ کوئٹہ کا کون سا باشندہ ہوگا جو زرغون روڈ پر واقع ”مارکر ہاوس“ کے سحر میں مبتلا نہ رہا ہو۔ یہ عظیم الشان بنگلہ اپنے گیٹ پر لگے ”کتوں سے ہوشیار“ کے بورڈ اور دیوار کی سلاخوں اور درختوں کے پیچھے سے جھانکتے ”بُوٹ ہاوس“ کے سبب ہر گزرنے والے کے لیے اسرار و تحیّر کا ایک پہلو لیے ہوتا تھا۔ اس خادم کی خوش قسمتی کہ نوّے کی دہائی کے اواخر میں اس پر اسرار بنگلے تک مستقل رسائی رہی اور اس کے مکینوں سے تفصیلی تعارف حاصل ہوا۔

وہ یوں کہ کوئٹہ کے اس قدیمی زرتشتی خانوادے کی ممتاز رکن ابان مارکر کبراجی پاکستان میں ایک عالمی ماحولیاتی ادارے کی صدر نشین ہیں۔ بیرون ملک تعلیم کے بعد وطن واپس آیا تو پتا چلا کہ اس ادارے نے بلوچستان میں سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ درخواست گزار دی اور ادارے میں متعین ہونا قرار پایا۔ ابتدا میں دفتر صوبائی سیکریٹیریٹ کے ایک تنگ سے کمرے میں تھا مگر جب جب کام کا دامن پھیلنا شروع ہوا تو ابان بی بی نے اپنے آبائی بنگلے کا مہمان خانہ / حجرہ بلا معاوضہ دفتر کو عاریتاً دے دیا۔ چنانچہ اس خادم کو سن چالیس کی دہائی میں بنی اس حسین اسطوری عمارت میں بار پانے کا موقع ملا۔

جب اس خادم کو کرکٹ کے کھیل سے آشنائی ہوئی تو ریڈیو اور ٹی وی پر افتخار احمد کے بلند بانگ، چشتی مجاہد کے پُر از اعداد و شمار اور عمر قریشی کے کھیل کی تاریخ سے مملو رواں تبصرے کا طُوطی بولتا تھا۔ بیچ میں اردو میں اس فن کے پہل کار منیر حسین مرحوم کو بھی کبھی موقع ملتا تھا اور ان کا کرکٹ کی اصطلاح ”بیک فُٹ“ کا برملا ترجمہ ”پچھلا پیر“ آج بھی ہونٹوں پر مسکراہٹ لے آتا ہے۔ بزرگوں سے سنا گیا ہے کہ کرکٹ پر رواں تبصرے کے فن کے اصل امام جمشید مارکر صاحب تھے۔ مارکر ہاوس میں کام کے دوران جمشید صاحب کے سدا کے کنوارے چھوٹے بھائی منوچہر مارکر صاحب سے چندے مجلس ہوئی تو پتا چلا کہ دیگر زرتشتی خاندانوں کے مانند، جب چھٹی صدی عیسوی میں ان لوگوں کو اپنے آبائی وطن ایران سے فرار ہونا پڑا تو اکثر کو جنوبی ہند کے روادارنہ ماحول میں جگہ ملی۔

رفتہ رفتہ ژند و پاژند قصہ پارینہ بنی اور گجراتی بہ تمام و کمال زرتشتیوں کی زبان ٹھہری۔ منوچہر صاحب کی روایت کے مطابق انیسویں صدی کے آخر میں یہ خاندان کاروبار کے سلسلے میں حیدرآباد دکن میں مقیم تھا کہ انگریزوں کو تازہ تازہ فتح کردہ بلوچستان میں ذرائع نقل و حمل کا سلسلہ جاری کرنے کی غرض سے خدمات کی ضرورت پڑی، تو ان کے دادا مواقع کی تلاش میں بلوچستان آ گئے۔ پہلا ٹھکانہ درہ بولان میں ڈھاڈر بنا۔ منوچہر صاحب نے بتایا کہ کام ابتدا میں انگریزوں کے ٹرانسپورٹ کے محکمے سے ملا۔ اس خادم نے پوچھا کہ کیا کام تھا تو بغیر جھجک اور بے جا شرم کے جواب ملا کہ ہمارے بڑے ریلوے لائن کی تعمیر کے کام کے لیے گدھے فراہم کیا کرتے تھے۔ غالبا گدھوں کو ”داغنے“ کے حوالے سے ہی اس خاندان کا لقب ”مارکر“ قرار پایا۔ بعد ازاں دواؤں کی تیاری اس خاندان کا امتیاز قرار پایا اور ”مارکر الکولائیڈز“ بلوچستان، بلکہ پاکستان کے اہم ترین کارخانوں میں شمار ہوتا رہا۔

جمشید صاحب کی حیات کا جائزہ ایک عبقری کی شبیہہ پیش کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کو انگریزی میں ”پولی میتھ“ یا جامع العلوم کہتے ہیں۔ اس خادم کی راے میں ہماری نسل کا بڑا المیہ ”اختصاص“ یا ”سپیشلائزیشن“ کا جبر ہے۔ پرانے بزرگوں کا سنتے تھے کہ بیک وقت کئی علوم پر حاوی ہوا کرتے تھے۔ جیسا کہ مولانا فضلِ حق خیرآبادی بیک وقت اہلِ حدیث کے ہندستان میں امام تھے بلکہ فنِ شعر کے ایسے پارکھ تھے کہ مرزا غالب جیسا اکل کھرا شاعر ان کی تکنیکی رائے پر سرِ تسلیم خم کرتا تھا۔ کسی جگہ پڑھا ہے کہ مزامیر کی بھی گہری سمجھ تھی اور علوم طب و نجوم میں بھی یکتا تھے۔ اٹھارہ سو ستاون کی جنگِ آزادی میں ان کے کردار کا تو زمانہ گواہ ہے۔

جمشید مارکر صاحب اس تیزی سے معدوم ہوتے زمرے کی آخرین نشانیوں میں ایک تھے۔ ایک جانب کرکٹ کے رمز شناس تھے تو دوسری جانب اپنے جہاز رانی کے کاروبار میں بھی اعلی مقام رکھتے تھے، تعلیم انہوں نے سیاسیات کی پائی تھی اور پانچ ایک زبانیں روانی سے بولتے تھے۔ چنانچہ سن پینسٹھ میں حکومتِ پاکستان نے انہیں سفارت کے عہدے کی پیش کش کی۔ اور وہاں سے ایک تابناک کیریئر کی بنا پڑی جو تین دہائیوں پر محیط رہا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی حیثیت سے کام کرتے ہوے انہوں نے اپنے ہم کاروں کو اس قدر متاثر کیا کہ انہیں اقوام متحدہ کے اعلی ترین عہدوں پر فائز کیا گیا۔ سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے کی حیثیت سے مشرقی تیمور کے تنازعے کے پُر امن حل میں ان کے کلیدی کردار کو انڈونیشیا، آسٹریلیا، پرتگال اور مشرقی تیمور کی حکومتوں نے بیک زبان خراج عقیدت پیش کیا۔

اس ملک کی تعمیر و ترقی میں زرتشتی برادری کے تابناک مقام کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ جمشید نسروانجی، اس خادم کی مادر علمی کے بانی نادرشاہ ایدلجی ڈنشا، پاکستان کے ضمیر کی آواز اردشیر کاؤس جی، محترمہ بپسی سدھوا، محترمہ ایمی مینوالا وغیرہ۔ اس خادم کو یہ فخر حاصل ہے کہ اس کہکشان کے درخشاں ترین ستاروں میں جسٹس دراب پٹیل، ابان مارکر کبراجی اور جمشید مارکر کا تعلق اس خادم کے شہر سے تھا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں